سورہ یاسین



’ سوہنا ایتھایں تاں مینڈا دم گھٹدا ای‘ (میری جان یہاں تو میرا دم گھٹتا ہے)
’ ایہہ تاں مٹھی قید آھی‘ (یہ تو میٹھی قید ہے)

پٹھانے خان نے اسلام آباد سی ڈی اے ہوسٹل کے ایر کنٖڈیشن کمرے میں بچھے آرام دہ بستر پر بیٹھتے ہوئے کہا۔

پٹھانے خان جب کسی پروگرام کے سلسلے میں اسلام آباد آتا تو اکثر میرے گھر میں ٹھہرتا۔ میرے گھر میں کوئی مہمان خانہ تو نہیں تھا لیکن ایک بڑا لاؤنج تھا جہاں پٹھانے خان کا ڈیرہ لگ جاتا۔ رات وہیں بستر بچھ جاتے اور وہیں پٹھانے خان اور اس کا ساتھی یاسین سو جاتے۔ میں صبح اٹھتے ہی پہلے لاونج میں جاتا، پٹھانے خان کا حال پوچھتا اور پھر یاسین اور اس کے ساتھ چائے پیتا۔

میرے گھر میں ایر کنڈیشن نہیں تھا اور پٹھانے خان کو غسل خانے کے لیے لاونج سے باہر ذرا چل کے جانا پڑتا تھا جو مجھے اچھا نہیں لگتا تھا۔ میں نے اپنے کسی دوست سے کہہ کر پٹھانے خان کے لیے سی ڈی اے ہوسٹل میں رہنے کا انتظام کیا جو میرے گھر سے پیدل تھوڑے ہی فاصلے پر تھا۔

’ پٹھانے خان‘ میں نے کہا، ’ادھر ائرکنڈیشن ہے، ساتھ ہی غسل خانہ ہے اور بستر اور پلنگ بھی موجود ہے۔ یہاں تم کو آرام رہے گا۔ میں تمہیں دفتر کے بعد گھر لے آیا کروں گا۔‘

پٹھانے خان نے کمرے میں چاروں طرف ایک نظر ڈالی اور پھر مجھے دیکھتے ہوئے کہا، ’سئیں ایتھائیں سبھو کجھ آھی پر سویرے جد مینڈی اکھ کھل سی تاں مینوں اپنے یار دا درشن تاں نہ ہو سی؟‘

( سائیں یہاں سب کچھ ہے مگر صبح جب میری آنکھ کھلے گی تو مجھے اپنے یار کا درشن تو نہ ہو گا۔) ’ناں سائیں ایہہ تاں مٹھی قید آھی۔‘ (ناں سائیں یہ تو میٹھی قید ہے)

پٹھانے خان کو غسلخانے چل کر جانا بھی گوارا تھا اور سخت گرمی بھی گوارا تھی لیکن دوست کی صحبت سے محرومی منظور نہیں تھی۔ اس کے لئے یاروں کی سنگت ایک ایسا موسم تھا جس میں گرمی سردی اثر نہیں کرتی۔

اسی قسم کا واقعہ میرے دوست یاسر نعمان نے بھی سنایا کہ خان صاحب کو ایک بار کسی پروگرام کے سلسلے میں اسلام آباد ہوٹل میں ٹھہرایا گیا لیکن خان صاحب صبح ایک کھلے میدان میں سوئے ہوئے پائے گئے۔ پوچھا تو کہا ’سائیں اوتھائیں راتیں اسمانی تارے نہیں نظریندے۔ ‘

( سائیں وہاں رات کو آسمان پر تارے نظر نہیں آتے)۔

پٹھانے خان کے آنے سے ہمارے گھر میں رونق آ جاتی، رات دیر تک گپ شپ ہوتی، خواجہ فرید اور شاہ حسین کی کافیاں گائی جاتیں اور پھر ہم کھانا کھا کر سو جاتے۔ ہر روز کہیں نہ کہیں کسی کے گھر میں پٹھانے خان کی محفل جمتی، کبھی ہمارے یار آدم نیر کے گھر کبھی وہاب کے ریسٹورانٹ ’ہیر رانجھا‘ میں کبھی ساجد منصور قیصرانی اور کبھی احسن واگا کے گھر۔ ان محفلوں میں ہمارے سرائیکی، سندھی دوست اور پٹھانے خان کے بہت سے اور چاہنے والے جمع ہوتے اور ساری رات پٹھانے خان کے گانے کے سرور میں گزر جاتی۔

یہ غالباً انیس سو ستر کے آس پاس کا زمانہ تھا جب میں نے پہلی بار پٹھانے خان کو لاہور میں شاہ حسین کالج میں سنا تھا۔ یہ کالج پروفیسر منظور حسین صاحب نے پروفیسر ایرک سپرین اور کچھ اور دوستوں کے ساتھ مل کر شروع کیا تھا۔ ہم اس کی تقریبات میں باقاعدگی سے شامل ہوتے تھے۔ میں نے خواجہ فرید کی شاعری تھوڑی بہت تو پڑھ رکھی تھی لیکن جب پٹھانے خان کی آواز میں سنی تو وہ میری ہڈ بیتی بن گئی۔ خواجہ صاحب کو پڑھنے اور سمجھنے میں جو فاصلہ تھا وہ میرے لئے پٹھانے خان نے اپنی گائیکی سے طے کر دیا تھا۔ روہی کی بہار، سسی کا ماروتھل، ہجر و فراق کی تڑپ اور خلقت کا دکھ درد میرے حواس کا حصہ بن گئے تھے۔

اسلام آباد میں پٹھانے خان کے ساتھ طبلے پہ سنگت ہمیشہ صوفی کرم دین کیا کرتے تھے، صوفی صاحب پرانے پکھاوجی تھے اور طبلے میں میرے استاد بھی تھے۔ میرا بیٹا صہیب جسے ہم پیار سے ٹیپو کہتے ہیں وہ تو ان کا باقاعدہ گنڈا بند شاگرد تھا اور ان سے بڑی محنت سے طبلے کی تعلیم لیتا تھا۔ صوفی صاحب کا طفیل نیازی صاحب اور استاد نزاکت علی سلامت علی خان صاحب سے بھی بہت محبت اور احترام کا رشتہ تھا۔ پٹھانے خان سے ان کی دوستی بہت گہری تھی۔ ایک دفعہ پٹھانے خان اسلام آباد آیا تو صوفی صاحب شہر سے باہر کسی پروگرام کے لئے گئے ہوئے تھے۔ پٹھانے خان بہت پریشان ہوا، شام کو اس کا پروگرام تھا اور صوفی صاحب کے آنے کے کوئی آثار نہیں تھے۔ وہ اٹھتے بیٹھتے یہی کہتا، ’اوئے صوفی توں میرے نال بے وفائی کر گیا ایں‘۔ ( اوئے صوفی تو میرے ساتھ بے وفائی کر گیا ہے) پٹھانے خان شام تک صوفی صاحب کا انتظار کرتا رہا۔ آخر میں نے پٹھانے خان سے کہا کہ ہم کسی اور طبلہ نواز کو بلوا لیتے ہیں لیکن پٹھانے خان نے کہا ’سرمد سائیں صوفی باجھ گاؤن نوں رو نہیں کردا‘ (صوفی کے بغیر گانے کو جی نہیں کرتا)۔ یک دم پٹھانے خان کو میرے بیٹا ٹیپو نظر آیا، اس نے اسے پکڑ لیا اور کہا ’بیٹا تم صوفی کے شاگرد ہو، آج کے پروگرام میں تمہیں میرے ساتھ طبلہ بجانا ہو گا۔ تمہارے ساتھ مجھے اپنے یار صوفی کی کمی محسوس نہیں ہوگی۔

پٹھانے خان کا نہ تو کوئی استاد تھا اور نہ ہی اسے کسی راگ راگنی کی باقاعدہ تعلیم تھی، نہ کوئی پلٹا نہ سا رے گا ما کی ریاضت، ہاں کبھی کبھار صوفی صاحب سے پوچھ لیتا کہ اس نے باگیشری صحیح گائی ہے؟ صوفی صاحب یک دم استاد بن جاتے اور پٹھانے خان کو سبق دینا شروع کر دیتے لیکن پٹھانے خان اپنے ہی انداز میں راگ باگیشری گاتا۔ راگ داری کو نہ جانتے ہوئے بھی اس کی آواز ایک کھلی اور فطری آواز تھی جس نے اس دھرتی کے صحراؤں، دریاؤں اور موسموں سے جنم لیا تھا۔ یہاں ”تن طنبور اور رگیں تاریں“ بن چکی تھیں۔ سر اس کی آتی جاتی سانس میں چلتے تھے۔

کچھ عرصے بعد جب بھٹو صاحب کے اقتدار میں نیشنل ٹی وی پر مہدی حسن، فریدہ خانم اور اقبال بانو کی گائیکی کے علاوہ فیض بلوچ، عابدہ پروین، طفیل نیازی اور بہت سے اور علاقائی گانے والوں کے ساتھ پٹھانے خان کی آواز بھی ملک اور ملک سے باہر بسنے والے تارکین وطن کے دلوں میں گونج رہی تھی تو مجھے استاد سلامت علی خان صاحب نے ایک واقعہ سنایا۔

’سرمد صاحب ایک دن میں ریڈیو پاکستان کے سٹیشن میں داخل ہو رہا تھا کہ میں نے دیکھا سامنے پٹھانے خان کندھے پر ہارمونیم اٹھائے گیٹ کی طرف جا رہا ہے، میرے قریب آیا تو میں اس کے سامنے کھڑا ہو گیا

’اوئے پٹھانے خان تم کیا گانے ہو؟‘ میں نے سختی سے پوچھا

پٹھا نے خان نے ہارمونیم ایک طرف رکھا اور ہاتھ جوڑ کر میرے پاؤں چھوتے ہوئے کہا، ’خان صاحب ہم تو آپ کی جوتیوں کے صدقے گاتے ہیں‘ ’سرمد صاحب اس نے کچھ ایسی عاجزی سے یہ بات کہی کہ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے‘

میں نے کہا، ’خاں صاحب آپ نے علم کا تکبر کیا لیکن پٹھانے خان نے اپنی عاجزی سے آپ کی عالمانہ سنگدلی کو پانی پانی کر دیا۔‘

’آپ بالکل ٹھیک کہتے ہیں سرمد صاحب، مجھے بھی ایسے ہی محسوس ہوا۔ اب بھی جب کبھی مجھے وہ واقعہ یاد آتا ہے تو میں رو پڑتا ہوں‘

پٹھانے خان کوئی بہروپیا ملنگ یا جعلی درویش نہیں تھا جو گلے میں منکے ڈال، ڈاڑھی چھوڑ، الٹے سیدھے کپڑے پہن کر سرکاری پروگراموں یا صارفی تہواروں میں ایک کلچرل جمہورے کی شکل میں لوک ریت کی نمائندگی کرتا ہے، وہ پیدا ہی درویش ہوا تھا۔ پٹھانے خان کو کہیں سے پروگرام کی دعوت ملنی تو ہارمونیم کندھے پر اٹھا کر نکل پڑتا، یہی ہارمونیم اس کا ساز و سامان تھا اور اس کی موسیقی ہی اس کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ اس سارے سفر میں صرف ایک شخص تھا جو ہمیشہ اس کے ساتھ رہتا تھا، یاسین! چھریرا بدن، بھورے بال، روشن ہری آنکھیں، گندمی رنگ، سردیوں میں ایک پھٹا پرانا کمبل اور گرمیوں میں ایک میلی چادر کی بکل میں چھپا، سارے بدن کو ایسے سمیٹے ہوئے کہ جیسے اپنے آٌپ میں ہی گم ہو جائے گا، خاموش اتنا کہ جیسے مراقبے میں ہو، پٹھانے خان کے پیچھے چہرہ چھپا کر ایسے بیٹھتا جیسے موجود ہی نہ ہو۔ اس کی گود میں کپڑے کے غلاف میں لپٹی ایک کتاب رکھی ہوتی جو صرف اسی کو نظر آتی۔ جب پٹھانے خان گاتا تو یاسین کتاب سے پڑھ کر اسے اگلا شعر سرگوشی میں بتاتا۔ یہ عمل اس قدر ٹیلی پیتھک ہوتا کہ کبھی کسی کو احساس ہی نہ ہوتا کہ یاسین بھی کوئی شخص ہے جو پٹھانے خان کے پیچھے بیٹھا ہے۔ وہ ہر محفل میں اپنی موجودگی میں غیر موجود رہتا۔

پٹھانے خان اور یاسین

یاسین کون تھا؟ پٹھانے خان کا دوست، بالکا، شاگرد یا اس کا ہمزاد؟

”سرمد سائیں میں راجپوتاں دا پتر آں۔ میری چنگی بھلی شادی ہوئی، کھاندے پیندے گھرانے دا ساں۔ پڑھیا لکھیا وی ساں۔“ (سرمد سائیں میں راجپوتوں کا بیٹا ہوں، میری اچھی بھلی شادی ہوئی، کھاتے پیتے گھرانے سے ہوں۔ پڑھا لکھا ہوں۔”

’ پھر؟‘

’ فیر کی، بس ہک دیہاڑے پٹھانے دا گانا سنیا تے سوانی تے بال بچے چھوڑ ایہدے مغرے ٹر پیا۔ فیر کدائیاں مڑ کے ویکھن ای نہیں ہویا۔‘

( پھر کیا، بس ایک دن پٹھانے کا گانا سنا اور بیوی بچے چھوڑ اس کے پیچھے چل پڑا۔ پھر اس کے بعد کبھی واپس مڑ کے دیکھنا ہی نہیں ہوا)

’اچھا کیوں؟ ”
’ کدائیاں پچھے مڑن دا مقام ہی نہیں آیا۔‘
(کبھی پیچھے مڑنے کا مقام ہی نہیں آیا)
یاسین نشہ تو کرتا تھا لیکن جب اس نے مجھے بتایا کہ وہ نشوں کا مقابلہ کرتا ہے تو میں بڑا حیران ہوا۔

” ہاں سائیں ملنگ ون سونے نشے کر دے ہن تے ہک دوجے نال مقابلہ کردے ہن، ’ (ہاں سائیں ملنگ نت نئے نشے کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں۔ ‘۔ میں نے جب یاسین سے ان مقابلوں کے قصے سنے تو پتہ چلا بڑے بڑے ملنگ یاسین کے سامنے دم چھوڑ جاتے ہیں۔ شاید اس کے پاس کوئی گر یا کرامت تھی جو اس کو زندہ بچا لیتی تھی۔ وہ دیکھنے میں نہایت مٓعصوم، بھولا بھالا اور پرسکون نظر آتا تھا لیکن اس کے اندر کچھ ایسا اضطراب تھا کہ تھمنے میں نہیں آتا تھا، بھنگ چرس افیم، خواب آور گولیاں، حتی کہ کچلے تک کھا جاتا۔ جسم پر سانپ لڑواتا لیکن زندہ سلامت بچ جاتا، ’سائیں ایہہ سپ تاں اینویں کیڑے مکوڑے ہن، ایناں سانوں کی کہنا۔‘ (سائیں یہ سانپ تو ایسے ہی کیڑے مکوڑے ہیں، انہوں نے ہمیں کیا کہہ لینا ہے) وہ آج تک کسی سے نشے کا مقابلہ نہیں ہارا تھا۔ شاید اس پر کوئی نشہ اثر نہیں کرتا تھا۔

صدر پاکستان جنرل ضیاالحق کی طرف سے چودہ اگست کی تقریب میں بہت سے فنکاروں کے ساتھ پٹھانے خان کو بھی بلایا گیا۔ میں تیرہ اگست کی شام کو پٹھانے خان کو ریلوے سٹیشن لینے پہنچا، سوچا تقریب کی خوشی میں خان صاحب شاید تیار ہو کر آئیں لیکن دیکھا کہ وہی دھول میں اٹے بال، ان دھلے بغیر استری کے کپڑے، کندھے پر ہارمونیم اور پیچھے یاسین ایک پھٹی پرانی چادر میں بکل مارے چلا آ رہا تھا، صرف اس کی ہری ہری آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔

وہ عجیب و غریب رات تھی، پٹھانے خان آج گانا نہیں گا رہا تھا، لاؤنج میں صرف میں، پٹھانے خان اور یاسین تھے۔ آج پٹھانے خان بہت بے چین تھا، کل صبح اس کو جنرل ضیا الحق سے ملنے جانا تھا۔ وہ مجھ سے باری باری یہی کہے جا رہا تھا کہ میں اس کو ایک درخواست لکھ کر دوں جو وہ کل جنرل کے سامنے پیش کر سکے۔ میں کاپی پنسل پکڑ کے بیٹھ گیا، ’ہاں پٹھانے خان، بتاؤ، ‘ اس سے پہلے کہ پٹھانے خان کچھ کہتا اور میں کچھ لکھتا، یاسین کی بکل میں ایک پراسرار سی جنبش ہوئی، اس کی آنکھیں اس کی چادر کے پیچھے سے دو ہری بتیوں کی طرح روشن ہوئیں اور اس نے ایک رازدارانہ لہجے میں پٹھانے خان سے کہا، ”سیں توں تاں شاہین ایں، ایہہ کرگساں کول کی لین جا رہیا ہیں ’ (سائیں تو تو شاہین ہے، کرگس کے پاس کیا لینے جا رہا ہے؟ ٌ)

پٹھانے خان نے ایک لمحے کو سکتے میں چلا گیا لیکن پھر یاسین کی بات کو نظرانداز کرتے ہوئے مجھے درخواست لکھوانی شروع کردی۔ یہی کہ اس کے بارہ بچے ہیں، اس کا گزارہ نہیں ہوتا، وہ کیسے غربت اور پریشانی میں دن زندگی گزار رہا ہے، اگر اس کا کوئی وظیفہ لگ جائے تو وہ ملک کے بادشاہ کو ساری عمر دعائیں دے گا۔ درخواست کے درمیان یاسین نے پھر سرگوشی کی

’عاشق ہوویں تاں عشق کماویں
(اگر تو عاشق ہے تو عشق کمائے گا)
راہ عشق دا سوئی دا نکا
(عشق کا راستہ سوئی کا نکا ہے)
تاگا ہوویں تاں جاویں
(اگر تو دھاگہ ہے تو اس سے گزر سکے گا)
باہر پاک اندر آلودہ،
(تیرا ظاہر پاک نظر آتا ہے لیکن تیرا باطن آلودہ ہے)
کیا توں شیخ کہاویں
(پھر اپنے آپ کو شیخ کیا کہلاتا ہے) ’

’ یاسین میری جند، چپ کر‘ (یاسین میری جان چپ کر!) پٹھانے خان نے ذرا پیار سے سمجھانے کے انداز میں کہا

’چپ کاھدی؟‘ (چپ کیسی؟) یاسین کی گود میں رکھی کتاب کھل چکی تھی۔ یہ وہ کتاب تھی جس میں شاہ حسین اور خواجہ فرید کا وہ سارا کلام تھا جسے ساری عمر پٹھانے خان گا تا رہا۔

’سانوں کوڑی گل نہ بھاؤندی،‘ (ہمیں جھوٹی بات پسند نہیں)
’ سانوں طلب سائیں دے نام دی‘ ( ہمیں تو محبوب کے نام کی طلب ہے)
پٹھانے خان نے یک دم غصے سے کہا، ’میں کہا تیں چپ کر‘ (میں نے کہا تو چپ کر!)

یاسین کو میں نے پٹھانے خان کے سامنے کبھی بولتے نہیں سنا تھا لیکن آج اس کی زبان کی گرہ کھل چکی تھی۔ یاسین کے اندر سے کوئی اور یاسین نکل آیا تھا۔ اس نے پھر ہنس کر کہا۔

’میاں گل سنی نہ جاندی سچی (میاں سچی بات سنی نہیں جاتی)
سچی گل سنیویں کیونکر (سچی بات کیسے سنی جائے)
کچی ہڈاں وچ رچی۔ (ہڈیوں میں تو کچی رچی ہے)
کچی، یعنی کچی شراب، اندر کا کچ، ٓجھوٹ، بزدلی، ناپختگی، بے ایمانی۔

پٹھانے خان کو یک دم بہت غصہ چڑھا لیکن وہ چپ رہا۔ وہ اس وقت کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا، اس لئے کہ اس کی اپنی ہی آواز پلٹ کر اس کے طرف آ رہی تھی۔ یہ عجیب ساعت تھی کہ شاہ حسین، مادھو لال کو پہچان نہیں پا رہا تھا۔

میں نے سوچا میں کیا کروں؟ پٹھانے خان کی درخواست پھاڑ کر باہر پھینک دوں؟ یا یاسین کے ساتھ بکل مار کر بیٹھ جاؤں۔ لیکن میں نہ تو یاسین تھا نہ پٹھانے خان، یہ عاشق معشوق کا مکالمہ تھا، یہ ایک ایسا مقام تھا جسے میں دیکھ تو سکتا تھا لیکن وہاں پہنچ نہیں سکتا تھا۔

’میریئے سوہنیئے سورہ یاسینے، بس کر‘ (اے میری سوہنی سورۂ یاسین اب بس کر”) پٹھانے خان یاسین کو جب یاسین پر بہت پیار آتا وہ اسے اپنی ’سورہ یاسین‘ کہتا

’بس؟ ہن تیری میری بس سائیں‘ (بس؟ اب تیری میری بس ہو چکی؟)

یاسین اپنے وجد میں خواجہ فرید، شاہ حسین اور بلھے شاہ کا کلام پڑھے جا رہا تھا۔ یہ آسیب کی رات تھی جس میں یاسین کا ورد جاری تھا۔ اس رات شاید وہ آنے والی صبح نہیں دیکھنا چاہتا تھا، مکروہ اور بدنما صبح، وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کا مرشد کسی غیر کے سامنے ہاتھ پھیلائے۔ وہ اس لمحے کو وہیں روک دینا چاہتا تھا، وہ اس رات کلام نہیں پڑھ رہا تھا کسی آنے والی بلا کو ٹالنے کے لئے دم پھونک رہا تھا۔

پٹھانے خان جب بہت عاجز آ جاتا تو اپنی بے بسی میں صرف اتنا کہتا، ’جا تیں سوں جا۔‘ (جا اب تو سوجا) اس کے بعد یاسین بغیر کچھ کہے سنے سونے کو چلا جاتا۔ یہ اس کی سعادت مندی اور اپنے گرو کی سیوا تھی۔

پٹھانے خان نے نہایت ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہا، ’جا تیں سو جا۔‘ یاسین یک دم خاموش ہو گیا۔ اس کی چمکتی ہوئی آنکھیں مدھم پڑ گئیں۔ وہ آہستہ سے اٹھا اور کونے میں جا کر چادر اوڑھ کر سو گیا۔

دوسرے دن صبح جب میں اٹھا اور حسب معمول لاؤنج میں گیا تو دیکھا لاؤنج بالکل خالی پڑا تھا۔ دونوں یاسین اور پٹھانے خان غائب تھے۔ پٹھانے خان کو تو ایوان صدر اپنی درخواست کے ساتھ حاضر ہونا تھا لیکن یہ یاسین کہاں چلا گیا۔ نہ کچھ کھایا نہ پیا بغیر کسی سلام دعا کے؟ رات کی بات میرے ذہن سے اتر چکی تھی۔ میں نے سوچا شام کو دونوں واپس آ جائیں گے اور میں پٹھانے خان سے اس کی جنرل ضیا سے ملاقات کی روداد سنوں گا۔ لیکن اسی دن دوپہر کے بعد مجھے کسی نے فون کیا اور یہ دلدوز خبر سنائی کہ یاسین مر گیا ہے۔ پتہ چلا کہ جب پٹھانے خان ایوان صدر گیا، یاسین نشوں کا مقابلہ کرنے ملنگوں کے پاس چلا گیا تھا۔ یک دم میرے سامنے رات کا سارا منظر گھوم گیا۔ یاسین تو نشوں کے مقابلے میں کبھی کسی سے ہارا نہیں تھا، شاید اس نے اس دن زندہ بچنے کا کوئی گر استعمال نہیں کیا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنے مرشد کو کسی غیر کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہوئے دیکھے وہ خود مر جانا چاہتا تھا۔ لیکن یاسین کی موت ایک بددعا تھی۔

جنرل ضیاالحق کا طیارہ تین دن بعد ہوا میں پھٹ کر تباہ ہو چکا تھا۔
’ او میریئے سوہنیئے سورہ یاسینے‘ (اے میری سوہنی سورہ یاسین)


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments