بستر میں دھوکا: ایک سنگین جرم

”اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جو مرد بستر میں اپنی ساتھی سے دھوکا کرے گا وہ قانون کا مجرم گردانا جائے گا۔ بھئی واہ، کینیڈا کا قانون۔“
ہمارے دوست چوہدری صاحب نے کینیڈا کی سپریم کورٹ کے اس حالیہ فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا جس کے مطابق مرد اپنی ہم بستر سے وعدہ کر کے بھی جنسی تعلقات کے دوران کنڈوم نہ پہننے پر ریپ یعنی جنسی زیادتی کا مرتکب قراردیا جاسکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ رولنگ اس مقدمہ کے ضمن میں میں دی جس میں کرک پیٹرک نامی ایک شخص نے ایک خاتون سے آن لائن اور پھر ذاتی طور پر ممکنہ جنسی تعلقات کے لیے ملاقات کی۔ عورت کی شکایت کے مطابق، انہوں نے 2017 میں ایک ہی رات میں دو بار جنسی تعلق قائم کیا۔ مرد نے پہلی بار کنڈوم پہنا تھا مگر دوسری بار نہیں جبکہ یہ بات اس نے عورت کو نہیں بتائی۔
چوہدری صاحب نے غالباً مذاق میں لیا تھا اس خبر کو ۔ میں نے عرض کیا کہ یہ مذاق میں اڑانے والی بات نہیں۔ دیگر جمہوری ممالک میں بھی اس ضمن میں پیش رفت ہوئی ہے۔ قانون اور انسانی حقوق سے متعلق ادارے اس فیصلے کو تاریخ ساز عدالتی فیصلہ قرار دے رہے ہیں اس فیصلے سے عورتوں کے بنیادی حقوق اور ذاتی ترجیحات کے فیصلوں میں ان کی مرضی کو یقینی بنانے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ اس فیصلے کے منتظر زیریں عدالتوں میں اب کتنے ہی مقدمات جلد نمٹائے جاسکیں گے۔
”اور کتنے ہی مزید مقدمات عدالتوں کے دروازے پر ہوں گے۔ عدالتوں کا کام تو اور بڑھ جائے گا۔“ چوہدری صاحب نے تشویش ظاہر کی۔
”ظاہر ہے۔ ایسا تو ہو گا کیونکہ قانون واضح نہ ہونے کے سبب ماضی میں پولیس ایسے مقدمات کے اندراج میں پس و پیش سے کام لیتی تھی۔ اب اس کے پاس تاخیر یا تامل کا کوئی جواز نہیں بچا۔ مقدمات درج ہوں گے تو عدالتوں تک بھی پہنچیں گے۔ یہ کینیڈا ہے پاکستان تو نہیں جہاں اب کسی ادارے کو بھی شفافیت کی سند دینا مشکل ہے۔ “ میں نے اپنی سی وضاحت پیش کی۔
ستمبر 1964 میں ہیملٹن کی آٹوا سٹریٹ پر قائم ہونے والے اولین ٹم ہارٹن ( کیفے ) کی بالائی منزل پر میرے ساتھ بیٹھے ”ڈبل ڈبل“ کافی کا بڑا سا ڈسپوزیبل کپ سامنے رکھے چوہدری صاحب اب بھی کسمسا رہے تھے جیسے کوئی بات انہیں اندر ہی اندر کھائے جا رہی ہو۔
”آپ کی ’ڈبل ڈبل‘ ٹھنڈی ہو رہی ہے۔“ میں نے ان کی توجہ کافی کی جانب مبذول کرواتے ہوئے کہا۔ ”کیا بات ہے؟ کیا سوچ رہے ہیں آپ؟“
میں جانتا تھا کہ چوہدری صاحب کی خاموشی ان کی بات سے زیادہ ’پریشان کن‘ ہو سکتی ہے۔
میں یہ سوچ رہا ہوں کہ وطن عزیز میں اس قانونی فیصلے کے کیا اثرات ہوں گے؟ ”آخر وہ بولے تھے۔“
وہی جو پہلے فیصلوں کے ہوئے ہیں۔ ”میں نے صاف کہا۔“
کیا مطلب؟ ”ان کا معصوم استفسار۔“
”مطلب یہ کہ آپ فکرمند نہ ہوں وہاں یہ فیصلہ بھی کسی کا کچھ نہ بگاڑ پائے گا۔ سب کچھ جوں کا توں چلتا رہے گا۔ بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے وہاں بہت سے تحفظات پائے جاتے ہیں۔ ان حقوق کو ’جبری مغربی تحائف‘ قرار دے کر مذہب اور نام نہاد سماجی اقدار کے فل باڈی سکینر سے گزارا جاتا ہے اور پھر مزید معائنے کے لیے سیاسی محکمے کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔“
یعنی ان کا حشر نشر کر دیا جاتا ہے۔ یہی نا؟ ”چوہدری صاحب نے ڈارک روسٹ کافی کی چسکی لیتے ہوئے کہا تھا۔
جی، کچھ ایسا ہی۔ میرے خیال میں اس عدالتی فیصلے سے یورپی مغربی معاشرے ہی قانونی استفادہ کرسکیں گے۔ ”
آپ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں؟ ”“
”بھئی، ان مشرقی معاشروں میں یوں آزادانہ یا شادی کے بندھن کے بغیر جسمانی تعلقات ہی غیرقانونی ہیں اور جب بندھن میں بندھ گئے تو پھر بستر کی بات بستر ہی میں رکھی جانے کو ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ تو ایسے میں کون، کس کی شکایت، کس سے کرے گا؟ آپ ہی بتائیے۔“
”ہوووووووں۔ یہ تو ہے۔ ظاہر ہے جسم کی ملکیت کے ضمن میں مغربی اور مشرقی معاشروں میں زبردست اختلاف پایا جاتا ہے۔ وہاں سبھی کچھ، سمجھ رہے ہیں نا آپ؟ سبھی کچھ اپنی مرضی سے کر گزرنے کی اجازت نہیں۔ نہ قانون اجازت دیتا ہے اور نہ مذہبی، اخلاقی اور سماجی تانا بانا۔“
”اور دکھ کی بات یہ ہے کہ عوام اس تانے بانے کی جکڑ بندیوں میں یوں الجھے یا الجھائے جا چکے ہیں کہ انھیں دائرے سے باہر دیکھنے کی نہ ہمت ہے اور نہ ہی فرصت۔ تبدیلی اور خوش حالی کے نام پر بازی گر مسلسل دھوکہ دے رہے ہیں انھیں اور ڈھکے چھپے انداز میں نہیں بلکہ ’دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا‘ ۔“
”حالات کی دگرگونی کا اندازہ کیا اس بات سے نہیں ہوتا کہ لوگ اب رہنما وغیرہ نہیں بلکہ ’نجات دہندہ‘ دیکھنا چاہتے ہیں اپنے نام نہاد سیاسی ہیرو میں۔“
”اس دھوکا بازی سے بچنے کی کوئی صورت بھی تو دکھائی نہیں دیتی۔ بازی گر کی ٹوپی کا رنگ ذرا سا مختلف ہوتا ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ اب کوئی نیا کھیل ہو گا مگر اندر سے وہی بوڑھا کبوتر برآمد ہوتا ہے جسے برسوں سے اس کام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور اس کی ریٹائرمنٹ کی عمر بھی مدت سے بیت چکی۔ ’
”تو تنقید کر رہے ہیں آپ اس معاشرے پر ؟“
”نہیں، نہیں۔ چوہدری صاحب۔ میری یہ مجال کہاں۔ گزشتہ انتخابات میں سیاسی جماعتوں کے اپنے اپنے مخالفین کی توہین کرنے کے لیے برسر عام بے زبان جانوروں کو جس بے رحمانہ تشدد کا نشانہ بنایا اس کی کراہ یہاں تک سنائی دی۔ میں نے فیس بک پر اس کا حوالہ دیتے ہوئے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا کہ یہ کیسی انسانیت ہے اور کون سا طریقہ ہے اپنی جذباتیت کے اظہار کا کہ جس میں کسی جان دار کو اذیت ناک موت سے ہم کنار کر دیا جائے۔
اس پر میرے کچھ اعلیٰ تعلیم یافتہ، بظاہر جہاں دیدہ، کلیدی عہدوں پر فائز دوست سخت خفا ہوئے اور مجھ سے“ ترک دوستی ”پر اتر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں چونکہ ملک سے دور ہوں اس لیے واضح تصویر نہیں دیکھ پا رہا۔ دوسری طرف میرا خیال یہ تھا اور ہے کہ بعض اوقات واضح تصویر فاصلے سے ہی دیکھی جا سکتی ہے۔ جب آپ دریا کے اندر ہوتے ہیں تو دریا کا وہ نظارہ نہیں کر پاتے جو کنارے پر کھڑا انسان کر پا رہا ہوتا ہے۔“
”اوہو، کیا واقعی انہوں نے؟ “
”جی ہاں۔ ایک دوست نے میری پوسٹ پر لکھا کہ میں بدیسی ہو چکا ہوں اور محب وطن نہیں رہا۔ دوسرے نے کہا کہ میں نے امن پسند قوم پر خواہ مخواہ ظلم کا الزام دھر دیا ہے اور اسے میری قنوطیت پسندی سے تعبیر کیا۔“
”ارے، ارے۔ یہ کیا۔ واقعی ہم بہت جذباتی واقع ہوئے ہیں۔ کمال ہے، سالانہ تیس بلین ڈالر کا زر مبادلہ ملک بھیجنے والے ”ہم کہ ٹھہرے اجنبی“ قرار پائے۔ جذبات مجروح کرنے والی بات تو یہ ہوئی۔ “
”دراصل بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جذبات صرف انہی کے ہوتے ہیں اور یہ کہ انہیں ٹھیس نہیں لگنی چاہیے۔ حالانکہ وہ ان کی جھوٹی انا ہوتی ہے جسے سچ سن کر ٹھیس لگتی ہے اور وہ اسے برداشت نہیں کر پا رہے ہوتے اور غیر حقیقی جواز بنا کراس کا دفاع کر رہے ہوتے ہیں ”
”دوسروں پر تنقید کرنے سے اپنی انا وغیرہ کی جھوٹی اور وقتی تسکین تو ہو سکتی ہے مگر پائدار اور موثر تبدیلی اور بہتری قطعی نہیں۔ وطن عزیز کے باسیوں کو بہت سے فیصلے کرنے ہیں اور بہت اہم فیصلے کرنے ہیں۔ میرے خیال میں تو اگر وہ دھوکا کھانے اور دھوکا دینے سے ہی بچ جائیں تو شاید صحیح سمت دیکھ سکیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح جیسے اصول پرست اور راست گو انسان کا ہے یہ ملک اور یہاں یہ قدریں اب ڈھونڈے سے نہیں ملتیں۔ کچھ تبدیلی تو ہونی ہی چاہیے۔“
”تبدیلی کے نام پر ہمارے ادھر ’عوامی‘ اور ’اسلامی‘ الفاظ کے دم چھلے ہی تو لگائے گئے۔ ان سے کیا معاشرے کی حالت یا اداروں کی کارکردگی بہتر ہو سکتی تھی؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔“
”ہاں واقعی۔ دھوکا منڈی کا نام فیض آباد کردینے سے کیا شہر کی قسمت بدل جاتی ہے؟“
”زندگی میں دھوکا ہوجانا کوئی بڑی بات نہیں مگر اپنوں کے ہاتھوں دھوکا کھانا کہ جن پر آپ کا اعتماد ہو یہ بہت الم ناک بات ہے۔“
”آپ تو ایسے کہہ رہے ہیں جیسے آپ نے کبھی دھوکا نہیں دیا۔“
”میں نے؟ میں نے کس کو دھوکا دیا؟ کب؟“
”مجھے۔ اور کسے۔ پچھلی دو بار سے آپ مسلسل میری کافی کے پیسے ادا کر رہے ہیں۔ حالانکہ طے ہوا تھا کہ ہم باری باری ادا کیا کریں گے۔ کیا یہ صریح دھوکا نہیں۔“
” نہیں۔ میرے خیال میں یہ دوستی ہے۔“
” اور میں اسے دھوکا دہی کہوں تو ؟“
” تو لے جائیے مجھے سپریم کورٹ اور چلا لیجیے مقدمہ۔“
” مقدمہ تو چلے گا اور ضرور چلے گا مگر سپریم کورٹ میں نہیں بلکہ فرینڈ شپ کورٹ میں۔“ چوہدری صاحب نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا۔

