مصوری کی روایت

زمانہ قدیم میں دیواروں اور روز مرہ کے استعمال کی چیزوں پر تصاویر بنائی جاتی تھیں بتوں پر بھی رنگ و روغن کیا جاتا تھا تا کہ وہ اصل کے مطابق ہو سکیں۔ یونانی اپنے گلدانوں وغیرہ پر اپنی روز مرہ کی زندگی کے متعلق تصاویر بناتے تھے۔ چین بھی مصوری میں مشہور رہا ہے۔ ایشیائی ممالک میں مانی اور بہزاد کا نام اس سلسلے میں زندہ جاوید ہے۔ جدید طرز کی مصوری اٹلی میں تیرہویں اور چودھویں صدی میں

Read more

مصوری اور ادب ایک مطالعہ

تاریخی پس منظر میں جھانکا جائے تو مصوری (آرٹ) ایک نمایاں حیثیت کے طور پر سامنے آتی ہے۔ یہ نہ صرف ثقافتی، سماجی اور مذہبی حالات کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اقوام کی تہذیب و تمدن پرکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مصوری کو ایک تصویری زبان بھی کہا جا سکتا ہے جو ہر دور میں بولی جاتی رہی ہے۔ زمانہ قدیم سے اب تک تھوڑے بہت فرق کے ساتھ اس کے مقاصد میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔

Read more

مختار صدیقی کی نظم ”ٹھٹھہ“ ایک مطالعہ

مختار صدیقی نے نظم ”ٹھٹھہ“ میں دو باتوں کا تذکرہ کیا ہے : ایک تو آباد تہذیبوں کے ویران ہونے کا نوحہ اور دوسرا بابِ فنا یعنی موت کا ذکر۔ اور ان دونوں موضوعات کو مختار صدیقی کے ہاں بنیادی حیثیت بھی حاصل ہے۔ ان کے ہاں مناظر فطرت کی عکاسی بھی بھر پور انداز سے نظر آتی ہے۔ اس حوالے سے ان کی نظم ”جہلم کا بہتا پانی“ عمدہ مثال ہے۔ مگر اصل المیہ یہ ہے کہ زندگی کی

Read more

راجہ گدھ کے کرداروں کا نفسیاتی تجزیہ

بانو قدسیہ کا ناول راجہ گدھ اُردو کے ان چند ناولوں میں سے ایک ہے جن پر تنقید بھی کی گئی اور اس کے ساتھ اُسے مقبولیت بھی حاصل ہوئی۔ لیکن اسے محدود معنوں میں لیا گیا۔ کہیں اسے رزق حلال و حرام کی بحث قرار دیا گیا تو کہیں اسے ناکام محبت کی داستان کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ اس بات سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ دونوں موضوع اس میں موجود ہیں۔ لیکن اگر

Read more

عبداللہ حسین کے ناولوں میں انسانی استحصال کی پیش کش

انسانی استحصال ایک ایسا عمل ہے جو صدیوں سے چلا آ رہا ہے۔ اور یہ طوفانِ نوح کہیں تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ یہ ایک ایسی چکی ہے جو ہمیشہ سے چلتی آ رہی ہے اور انسان اس میں پستا  آ رہا ہے۔ کیونکہ اسے چلانے والے طاقتور اور پسنے والے مظلوم ہیں۔ کئی انسانی زندگیوں کے چراغ اس استحصال نے گُل کر دیے۔ اور وہ اپنی ناآسودہ خواہشات کو دامن گیر کیے چل بسے۔ بہت سے ادیبوں نے

Read more

انیس اشفاق کا ناول ”پری ناز اور پرندے

محبتوں کا قصہ ”پری ناز اور پرندے“ انیس اشفاق کا ناول ہے۔ یہ ناول واجد علی شاہ کے زمانے کے لکھنو کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔ ایک طرح سے یہ نیر مسعود کے افسانے ”طاؤس چمن کی مینا“ کے قصے کو ہی آگے بڑھاتا ہے۔ اس سے پہلے اردو میں ایک تجربہ کیا گیا تھا جب سریندر پرکاش نے منشی پریم چند کے ناول ”گؤدان“ کے ایک کردار ہوری کو لے کر اس پر افسانہ لکھا تھا، لیکن افسانے پر ناول لکھنے کی یہ پہلی مثال ہے۔

Read more

افسانہ: بلا عنوان

ہمیشہ کی طرح آج بھی اسے دیر ہو رہی تھی۔ اس نے ایک بار خوفزدہ نظروں سے اپنے بیگ کو دیکھا اور بیتابی سے اپنے اسٹیشن کے آنے کا انتظار کرنے لگی۔ اس کے ذہن میں بہت سے خیالات گھومنے لگے۔ ایک لمحے کے لیے اسے یوں محسوس ہوا جیسے کائنات کی ہر چیز اس کی داستان سن رہی ہو، اور اسے تسلی دے رہی ہو۔ وہ خود سے باتیں کرنے لگی۔ ”شاید وہ اس کی بات سننا چاہتے ہوں،

Read more

خدیجہ مستور کا ناول: ”زمین“

تقسیم ہند نے بہت سے مسائل کو جنم دیا۔ ایک طرف قتل و غارت گری کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا تو دوسری جانب فرقہ ورانہ فسادات نے جنم لیا۔ اس صورت حال نے انسانوں کے دلوں پر اور خصوصاً ادیبوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اور انھوں نے ان واقعات کو قلم بند کرنا شروع کیا۔ جہاں مردوں نے اس صورت حال پر لکھا وہیں عورتوں نے بھی اس موضوع پر قلم اٹھایا۔ چونکہ عورت کا دل نازک

Read more