حالیہ سیلاب اور ہمارے اداروں کا کردار
یہ مضمون 27 اگست کو لکھا گیا تھا۔
مون سون کی حالیہ سیلاب نے ملک کا بڑا حصہ گھیر رکھا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سیلاب سے اس وقت 2 کروڑ کی آبادی متاثر ہے اور ان سیلابی ریلیوں میں اب تک 900 سے زیادہ انسانوں کی اموات واقع ہوئی ہیں۔
سیلاب یا کسی بھی قدرتی آفت کے انتظامات کے تین مرحلے ہوتے ہیں۔ پہلا مرحلہ ایمرجنسی میں لوگوں کو آفت سے بچانا اور نقصان کو کم سے کم کرنا ہوتا ہے۔ دوسرا مرحلہ آفت زدہ لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانا ان کی خوراک اور پناہ گاہ اور امدادی کیمپ کا قیام ہوتا ہے اور تیسرا مرحلہ ان آفت زدہ لوگوں کی بحالی اور آباد کاری کا ہوتا ہے۔ یہ تینوں مرحلے مختلف علاقوں میں مختلف ہوتے ہیں۔ سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے ساتھ پختونخوا کے جنوبی اضلاع بشمول چترال کا کچھ حصہ سیلاب کے پہلے مرحلے یعنی ایمرجنسی سے گزر چکے۔ اس وقت سوات، دیر، کوہستان، چترال، شانگلہ، نوشہرہ، چارسدہ وغیرہ کے علاقے سیلاب کے زد میں ہیں اور ایمرجنسی صورت حال ہے۔
ایمرجنسی مرحلے میں حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے لوگوں کو محفوظ کرنا۔ جہاں لوگ سیلاب میں پھنسے ہو ان کو نکالنا حکومت اور متعلقہ اداروں کا کام ہوتا ہے۔ کوہستان میں چار لوگ بروقت امداد نہ پہنچنے پر سیلابی ریلی میں بہہ گئے اس طرح بہت سارے لوگ مختلف علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی اپر دیر کے صدر پیپلز پارٹی عارف اللہ خان نے کمراٹ میں پھنسے ہوئے 18 سیاحوں کے حوالے سے ایک ویڈیو جاری کی جس میں انھوں نے حکومت سے ہیلی کاپٹر کا مطالبہ کیا۔ لوگوں کو سیلاب سے نکالنے کے لئے وزیر اعلی نے رات کو سرکاری ہیلی کاپٹر کو لوگوں کی مدد کے لئے مختص کیا۔ وہ ہیلی کاپٹر اس وقت امدادی سامان سوات پہنچانے میں مصروف تھا جو وزیر اعلی کا اپنا ضلع ہے۔ اب کمراٹ میں پھنسے لوگوں کو کون ہیلی کاپٹر پہنچائے؟ صوبے میں 2 ہیلی کاپٹرز ہیں جس میں سے ایک امدادی کارروائیوں اور لوگوں کو ریسکیو کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ صوبے کے پاس اور ہیلی کاپٹرز موجود نہیں تو جس ڈیزاسٹر منیجمنٹ محکمے کے ہیلی کاپٹر سے علیمہ خان ( ہمشیرہ عمران) کو 2019 میں بچایا گیا وہ ہیلی کاپٹر اب لاچار سیاحوں کے لئے کیوں موجود نہیں؟ لوگ سیلاب میں مر رہے چیخ چیخ کر مدد کی اپیل کر رہے تو یہ این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کہاں ہیں جو آفات میں لوگوں کی مدد کے لئے بنائے گئے ادارے ہیں۔ یہ کیوں لوگوں کی مدد نہیں کر رہے۔
اب این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے جیسے اداروں کے علاوہ ایک اور محکمہ جسے ہم افواج پاکستان کے نام سے جانتے ہے۔ اس محکمے کے پاس ریسکیو کرنے کی تمام سہولیات موجود ہوتی ہیں لیکن اس سیلاب کے ابتدائی ہفتوں میں وہ بھی عوام کی مدد کے لئے آتے دکھائی نہیں دیے۔
فوج کے پاس 23 مارچ، 14 اگست، 6 ستمبر جیسے دنوں پر دن رات اپنے ہیلی کاپٹروں سے کرتب دکھانے کے لئے ہیلی کاپٹرز موجود ہیں لیکن عوام کے لئے نہیں۔ ایک سابق ائر چیف عزیزوں کی قبر پر حاضری کے لئے عوام کی ٹیکس سے خریدا گیا ہیلی کاپٹر استعمال کرتا ہے لیکن سیلاب میں عوام بہہ رے ہیں اور ان کو بچانے کے لئے اس محکمے کا ہیلی کاپٹر موجود نہیں۔ آرمی کا ہیلی کاپٹر آئی ایس پی آر گانے کی شوٹنگ کے لئے فراہم کیا جاتا ہے لیکن یہ ہیلی کاپٹر عوام کو اس مشکل میں فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ آرمی کا ہیلی کاپٹر پی ایس ایل میچز کے دوران گھنٹوں تک فضائی نگرانی کر سکتا ہے لیکن یہ ہیلی کاپٹر غریب عوام کے لئے میسر نہیں۔ ہیلی کاپٹر لاہور کے کرکٹ گراؤنڈ کو خشک کرنے کے لئے 5 منٹ میں پہنچتا ہے لیکن اس وقت کمراٹ سیلاب میں پھنسے لوگوں کے لئے نہیں پہنچتا۔
ہیلی کاپٹر امریکہ کے سفیر کو پشاور سے تورخم تک سفر کا فضائی دورہ کروا سکتا لیکن یہ ہیلی کاپٹر اپنے لوگوں کو بچانے کے لئے ایک انچ پرواز نہیں کر سکتا۔ ہیلی کاپٹر وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے لئے کھانا پہنچانے کے کام آ سکتا ہے لیکن سیلاب میں غریب لاچار لوگوں کی مدد کے لئے نہیں آ سکتا۔ ہیلی کاپٹر وقت کے وزیراعظم عمران کو بنی گالا سے وزیراعظم ہاؤس روزانہ لے جاسکتا لیکن یہ ہیلی کاپٹر غریب عوام کو بچانے کے لئے موجود نہیں۔
ایسے ہزاروں واقعات ہیں جس میں ہیلی کاپٹر صرف الیٹ کلاس لوگوں کی خدمت میں مصروف نظر آیا۔ غریب کا اس ملک کے وسائل پر کوئی حق نہیں۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ اس ملک میں دو قومیں آباد ہیں ایک وہ جو اس ملک کو جاگیر بنا کر اس پر قابض ہے اور دوسری قوم وہ ہے جو اس قابض اور جاگیردار طبقے کے ظلم کا شکار ہے۔
آخر میں ایک نظر افغانستان پر ڈالتے ہے جو 40 سال سے جنگ زدہ ہے اور ایک سال سے طالبان کے قبضے میں ہے وہاں پر جب عام لوگ سیلاب میں پھنسے تھے تو ان کو ریسکیو کرنے کے لئے افغانستان حکومت نے ہیلی کاپٹر کا استعمال کر کے ان کو بچایا۔ ایک بھائی نے پوسٹ کیا تھا کہ حالیہ سیلاب میں افغان حکومت نے 130 سے 150 ہیلی کاپٹروں کو لوگوں کی ڈیوٹی پر لگا دیا۔ افغانستان جیسا برباد ملک اس آفت میں اپنے شہریوں کا اتنا خیال رکھ سکتا ہے تو پاکستان جیسا ایٹمی ملک اپنے شہریوں کو کم سے کم افغانستان جتنا مدد کیوں فراہم نہیں کرتا؟ سوچیئے گا ضرور



Right bro