بلوچستان کی کہانی میری زبانی: محمد حسین عنقا کی کتاب

میر بخش بزنجو کہتے ہیں کہ جب بلوچستان کی قومی تحریک کی سچائی پر مبنی تاریخ رقم کی جائے گی تو محمد حسین عنقا کو اس کا جائز مقام مل جائے گا۔ بزنجو صاحب کے اس ایک جملے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ محمد حسین عنقا نے نا صرف بلوچ قوم کے لئے بلکہ بلوچستان کی آزادی کے لئے جتنی سیاسی جدوجہد کی ہے یہ اپنے آپ میں فقید المثال ہے۔ محمد حسین عنقا انتہائی مخلص سیاسی سرگرم جنگجووں کے منتخب گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔
زیر نظر کتاب جو محمد حسین عنقا کی آپ بیتی ہے اس میں انہوں نے اپنی بچپن سے لے کر ایک استاد اور پھر ایک عام استاد سے بلوچ قوم کے لئے ایک سیاسی استاد بننے تک کا سفر بیان کیا جا چکا ہے۔ یہ ان کی ہمت اور جدوجہد ہے کہ انہوں نے انگریزوں کے اس جابرانہ دور میں اخبارات میں اور اپنے اخبارات کے لئے کام کیا۔ بلوچستان کے حالات سے اپنے لوگوں کو باخبر رکھنے کے لئے کئی اخبار جاری کیے جس میں خاص اخبار کا نام ”بلوچستان“ ہے جو کتاب کے سرورق پر نمایاں ہے۔
واجہ محمد حسین عنقا بلوچ قوم کی آزادی کے ساتھ ساتھ آزاد بلوچستان (قومی بلوچستان) کے لئے جدوجہد کرتے تھے اور اس مقصد کے لئے انہوں نے جیل بھی کاٹی ہے اور کافی مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ ان مشکلات کا ہم صرف تصور کر سکتے ہیں ورنہ اتنی ہمت اور برداشت بہت کم لوگوں کے حصے میں ہوتی ہے جو صرف قوم کے لئے سہ سکے۔ انہوں نے کامریڈ آمین کھوسہ سے لے کر خان عبد الصمد خان اچکزئی اور اس کے بھائی عبد السلام اچکزئی کے ساتھ بھی سیاسی کام کیا ہے اس کے ساتھ ساتھ آغا عبد الکریم، خاں قلات میر محراب خان، یوسف علی مگسی (جسے اس کی بے مثال سیاسی جدوجہد پر یوسف اعظم کہتے تھے ) کے ساتھ بھی کام کیا ہے اور اسی وقت اخبارات کا سلسلہ بھی جاری تھا۔
ان اخبارات کے سلسلے میں چونکہ عنقا کی مالی حالت کمزور تھی اس کے باوجود انہوں نے یہ سلسلہ روکا بلکہ ہر دور اور ہر مشکل حالت میں جاری رکھا۔ بلوچ قومی تحریک کی سیاست میں عنقا صاحب نے جتنی ٹھوکریں اخبارات کے سلسلے میں کھائی ہے عملی سیاست مثلا احتجاج اور جلوس کے سلسلے قید و بند کی صعوبتیں یہ تو بالکل علیحدہ ہے مگر اس کے باوجود انہوں نے ہار نہیں مانی اور اپنی قوم سے محبت کرنے میں اس قدر غافل تھے کہ سیاست میں سمجھوتہ کرنا تو درکنار بلکہ ان لوگوں سے بھی دوریاں اختیار کی جو لوگ معمولی سی رکاوٹ کے لئے بھی سمجھوتہ کرتے تھے۔ یہ عنقا کی بدنصیبی سمجھے یا قومی تحریک کا المیہ کہ ایک ساتھ جدوجہد کرنے والے تمام ساتھی اپنی مشترکہ مقصد کی پایہ تکمیل تک اکٹھے نہیں رہ سکے بلکہ کسی نہ کسی اختلاف کے سبب ایک دوسرے سے دور ہوئے اور علیحدہ علیحدہ سیاست کرنے لگے۔ جیسا کہ عنقا کے ساتھ کئی بار ہوا۔
انجمن بلوچستان قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی، اس پارٹی کی بنیاد عنقا اور خان عبد الصمد خان اچکزئی نے رکھی۔ اس پارٹی کو صوبہ بھر میں تقریباً ہر ضلع میں اس پارٹی کے یونٹس کھولے اور اکثر اضلاع سے لوگ اس پارٹی میں شامل ہوئے اور پارٹی کے کارکنوں کو مسلسل متحرک رکھا۔ مذکورہ دونوں کی کوششوں سے یہ پارٹی پورے بلوچستان میں متحرک تھی، عنقا چونکہ اس پارٹی کے جنرل سکریٹری تھے، عنقا اور خان عبد الصمد اچکزئی کے درمیان اختلافات کی وجہ سے یہ پارٹی اختلافات کے سبب کمزور ہوتی چلی گئی اور بالآخر اس پارٹی کا بھی وہی حال ہوا جو نیپ کا ہوا۔ ان دونوں سیاستدانوں کا مقصد ایک ہی تھا مگر ان کی جدوجہد کا پھل نئے نسل تک نہیں پہنچ سکا جو کہ ہمارے لئے ایک المیہ ہے۔
واجہ محمد حسین عنقا نے نا صرف خان عبد الصمد خان اچکزئی کے ساتھ بلکہ دیگر سیاسی لوگوں کے ساتھ بھی جدوجہد کی ہے اور ان کی پوری زندگی سیاست میں گزری ہے تقریباً بلوچستان کے ہر ضلع میں احتجاجی جلسے کیے ہیں دیگر احتجاجی جلسوں میں شرکت کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کراچی میں بھی ان لوگوں کے خلاف سیاسی جدوجہد کی ہے جو کسی نہ کسی حوالے بلوچ قومی تحریک کے مخالف تھے۔
محمد حسین عنقا نے اس کتاب میں ریاست قلات کا پاکستان کے ساتھ الحاق کیسے ہوا کن حالات میں ہوا اس کا بھی ذکر کیا ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس طرح بزور طاقت قلات کا پاکستان کے ساتھ الحاق کیا اور ساتھ میں یہ بھی کہتے ہیں کہ موجودہ دور میں اگر کچھ زیادہ ہی سچائی لکھ دیں چاہے وہ جس صورت میں بھی پیش کیا جائے تو نتیجتاً اس کی ہر حوالے سے مخالفت کی جاتی ہے اور لوگوں تک مکمل سچائی نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔ لہذا بہتر یہی ہے کہ اتنا ہی لکھیں تاکہ کم از کم یہ تو صحیح انداز میں لوگوں تک عوام تک پہنچ سکے۔

