حیات بلوچ کے نام


ستم ظریفی ہے؟ انتہائے ظلم ہے؟ جبر ہے؟ یا شاید یہ الفاظ بھی بلوچستان کے دور ماندہ حصے میں اس گزرے واقع کو بیان کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔

دوسروں کی حیات کو اس طرح بے دردی اور سر عام ختم کرنے کے اختیاری گھمنڈ والی رسم کوئی نئی نہیں ہے۔ یہ دہائیوں سے چلی آ رہی ایک ذہنیت کا نام ہے۔ جسے سماجی و تہذیبی دائرے میں لانے کے لیے فلاحی ریاستوں کا تصور پیش کیا جاتا ہے۔ ریاست اپنے باسیوں کے تحفظ کی ضامن ہوتی ہے۔ ان کے لیے قانون و انصاف کے بول بالے کو یقینی بناتی ہے۔ انہیں بنیادی ضروریات زندگی فراہم کرنا اس کا فرض عین ہوتا ہے۔ وہ اس کی قانوناً اخلاقاً پابند ہوتی ہے۔

مگر ایسی باتیں یا تقاضے محض اب خواہشات کی ریتلی دیوار سی معلوم ہوتے ہیں۔ جنہیں ہم شاید بار بار اجڑے ویرانوں و بیابانوں میں تلاش کرتے کرتے مر جاتے ہیں، مارے جاتے ہیں یا مار دیے جاتے ہیں۔ ظلم و جبر و بربریت کی نشاندہی ضرور ہوتی ہے مگر اس کو جڑ سے اکھاڑنے کی وہ انگار، وہ جذبہ، وہ ارادہ، وہ حیثیت، وہ استطاعت سرے سے ہے ہی نہیں۔

کوئی سوال نہیں پوچھا جا سکتا۔ بس سر تسلیم خم کرنے میں ہی عافیت ہے۔ معصومیت کی حد صرف گونگا پن ہے۔ اس سے آگے خیال، سوچ، ارادہ، بیانیہ یا نظریہ صرف آپ پر مسلط ہو گا۔ حالات کے عین موافق سکھایا جائے گا۔ آپ کو بس ان حالات کے موافق اپنے آپ کو ڈھالنا ہو گا۔ اور یہ کوئی آج کا دستور نہیں ہے۔ انسانوں کی بھیڑ اسی میں جیتی آ رہی ہے۔ کرہ ارض پر گزرے تمام زمانوں میں، زمانوں کا سردار صرف ایک ہی تھا۔ وہ جب انسانیت کو، انسانی تہذیب و تمدن کو، سماج کو، معاش و معاشرت کو معراج بخشی گئی۔ اس ہستی مبارک کی کامل ترین ذات نے زندگی کے ہر انفرادی و اجتماعی معاملات و پہلوؤں سے لے کر اسلامی فلاحی ریاست کا جو بہترین و عملی نمونہ و کردار اعلیٰ پیش کیا اور بہ عمل پیش کیا وہ انسانی وجود پر بہت بڑا احسان ہے۔ بہت کامل احسان۔

مگر افسوس صد افسوس آج کا داعی بھی حاکم وقت کی نیک نامی و دیانت کی سندیں بانٹا پھرتا ہے اور عین ممکن ہے کہ حاکم وقت کی خواب گاہ میں کوئی ایسی فلاحی ریاست کا خیالی وجود قرار پا رہا ہو۔ منصب منصفی کے ہاں بھی عدل و انصاف کا ترازو بالکل ٹھیک تولا جا رہا ہو۔ آئین و قانون کے رکھوالوں کا راوی بھی چین لکھ رہا ہو۔ مگر

حقیقی سماج میں یہ اندھیر نگری سی کیوں محسوس ہوتی ہے؟ یا شاید غلط محسوس ہوتی ہو۔ کہیں پورا سماج اندھے کنویں میں اوندھے منہ تو نہیں پڑا ہوا؟! دل نا امید تو نہیں ہے مگر بعض دفعہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید دل ہی نہیں ہے۔ دل شاید کہیں کھو گیا ہے۔ دل نا جانے کب رحم کھائے گا۔ دل کب خود کو معاف کرے گا؟ دوسروں کی حیات، فلاح، ترقی، خوشحالی، رواداری و برداشت کے لیے وہ دل کب لوٹ کر آئے گا؟! وہ دل کہاں سے آئے گا؟ شاید وہ دل ہی نہیں ہے۔ وہ دل ہی نہیں ہے۔ کسے خبر کبھی نہ کبھی تو وہ دل آئے گا ہی!

Facebook Comments HS