تصورِ خودی اور علامہ محمد اقبال

”خودی“ فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں خود مختاری، خود پرستی، انانیت، خود سری اور خود رائی۔ اقبال کے ہاں خودی کا لفظ تکبر یا غرور کے معنوں میں نہیں آیا۔ ان کے ہاں خودی احساس غیرت مندی کا نام ہے۔ اپنی انا کو شکست سے محفوظ رکھنے کا، حرکت و توانائی کو زندگی کا ضامن سمجھنے کا دوسروں کا سہارا تلاش کرنے کی بجائے اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کا نام ہے۔ تصور خودی کو اقبال کے ہاں مرکزی حیثیت حاصل ہے ان کا فلسفہ خودی دراصل فلسفہ حیات ہے۔
علامہ اقبال پر سب سے زیادہ ظلم اسی موضوع کے متعلق ہوا۔ اس موضوع سے ہر شخص نے اپنے مطابق معنی نکالے۔ اس موضوع کی وجہ فارسی کی ایک مثنوی ”اسرار و رموز“ ہے۔ مثنوی کے دو حصے ہیں : اسرار خودی اور رموز بے خودی۔ اس مثنوی میں اقبال نے بتایا ہے کہ خودی ہاتھ پھیلانے سے کمزور ہو جاتی ہے۔ اس لیے غیر کی منت اٹھانے سے دور رہو۔ تم شیروں سے خراج لیتے تھے اب ضروریات کی وجہ سے تم لومڑی بن گئے ہو۔ ضرورت نے تم سے تمہارا منصب چھین لیا ہے۔
تمہاری ناداری ہی تمہاری اصل بیماری ہے۔ جس کی وجہ سے تمہیں ہاتھ پھیلانا پڑتا ہے۔ اس سے بلند فکری ختم ہو جاتی ہے اور خیال کی شمع بجھ جاتی ہے۔ آخر کب تک اپنی ذات کا یہ پیالہ لیے لیے پھرو گے۔ جب تم مانگتے ہو تو تمہاری مفلسی تمہیں ذلیل کرتی ہے مفلسی ویسے انسان کو کچھ نہیں کہتی۔ گدائی تمہیں اور زیادہ نادار کر دیتی ہے۔ اپنا رزق اپنے پہلو سے خود تلاش کرو اور کسی کا احسان مت اٹھاؤ۔
”بال جبرئیل“ میں اقبال اس کا تذکرہ یوں کرتے ہیں :
خودی کو نہ دے سیم و زر کے عوض
نہیں شعلہ دیتے شرر کے عوض
”ساقی نامی“ میں اس کا تذکرہ یوں کیا ہے :
خودی کیا ہے راز درون حیات
خودی کیا ہے بیداری کائنات
ازل اس کے پیچھے ابد سامنے
نہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنے
خودی کی وسعت کے بارے اقبال کہتے ہیں :
خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں
تو آب جو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں
علامہ محمد اقبال نے خودی کے تصور کو جو معنی دیے ہیں وہ اس سے مختلف ہیں جو صوفیا نے دیے تھے۔ صوفیا کے ہاں خودی کے احساس کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔ اس کے برخلاف اقبال کے تصورات کا مرکزی نقطہ خودی کی تربیت اور استحکام ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر انسانی شعور آزادی اور حرکت کے اصول سے بے گانہ رہے گا۔
بقول اقبال:
غافل نہ ہو خودی سے کر اپنی پاسبانی
شاید کسی حرم کا تو بھی ہے آستانہ
(غزل۔ بال جبرئیل)
تری نگاہ میں ثابت نہیں خدا کا وجود
مری نگاہ میں ثابت نہیں وجود تیرا
(افرنگ زدہ۔ ضرب کلیم)
فرشتہ موت کا چھوتا ہے گو بدن تیرا
تیرے وجود کے مرکز سے دور رہتا ہے
(موت۔ ضرب کلیم)
ہو اگر خود نگر و خود گیر خودی
یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے
(حیات ابدی۔ ضرب کلیم)
خودی سے تعمیری کام لینے کے لیے اس کی تربیت ضروری ہے۔ گوئٹے کی طرح اقبال بھی خودی کو تخلیق کی عظیم الشان قوت خیال کرتے ہیں جو صراط مستقیم سے بھٹک گئی ہے اور اس کی تربیت کرنا ضروری ہے۔
اقبال کے نزدیک خودی کے تین مراحل ہیں :
1۔ اطاعت
2۔ ضبط نفس
3۔ نیابت الٰہی
تربیت خودی کا پہلا مرحلہ اطاعت ہے۔ یہ مرحلہ انسان کے لیے سب سے مشکل ہے۔ کیونکہ وہ انکاری ہے اور اطاعت کے دائرے میں نہیں آتا۔ بشر کے اندر کوئی خرابی ہے اور یہی ان کی آزمائش ہے۔ اس پہلے مرحلے میں اقبال نے اونٹ کی مثال دی ہے :
نفس تو مثل شتر خود پرور است
خود پرست و خود سوار و خود سر است
یعنی تمہارا نفس اونٹ کی مانند ہے جو خود اپنے آپ کو پالتا ہے۔ اور پھر اونٹ کی کچھ خوبیاں بیان کی ہیں :
محنت کرتا ہے، صبر کرتا ہے، خدمت کرتا ہے، راہ میں چلتا ہے تو شور نہیں کرتا، مستقل مزاج ہے وغیرہ۔ اقبال نے وضاحت کی ہے کہ جو اطاعت نہیں کرتا اس میں یہ خوبیاں نہیں ہوتیں۔ اقبال یہاں مشورہ دیتے ہوئے کہتے ہیں :
تو ہم از بار فرائض سر متاب
برخوری از عندہ حسن آلماب
در اطاعت کوش اے غفلت شعار
می شود از جبر پیدا اختیار
اقبال کہتے ہیں کہ اگر تم حکم کے جبر کو مانو گے تو تمہارے اندر اختیار پیدا ہو گا۔ انسان کے اندر اختیار خدا تعالیٰ کے سامنے جھکنے سے پیدا ہوتا ہے۔ اور پھر اس ضمن میں نیچر سے چند مثالیں دی ہیں :
1۔ کوئی اگر چاند اور تاروں کو فتح کرنا چاہتا ہے تو ان تک پہنچنے کے لیے اسے راستے کے اصولوں کو اپنایا پڑے گا۔
2۔ تارے آ سمان پر کسی آئین کے سامنے سر جھکا کر چلتے ہیں۔
3۔ اطاعت کے دائرے میں رہنے میں تمہاری بھلائی ہے۔ اگر اس دائرے سے نکلو گے تو ٹوٹ جاؤ گے۔
خودی کی تربیت کا دوسرا مرحلہ ضبط نفس ہے۔ اس دوسرے مرحلے میں بھی اقبال نے اونٹ کی ہی مثال دی ہے۔ یعنی تمہارا نفس اونٹ کی مانند ہے جو خود پرست ہے اور جو اس کے جی میں آتا ہے وہ کرتا ہے۔ اونٹ کا کینہ مشہور ہے۔ انسان کا نفس بھی ایسا ہے۔ اقبال یہاں مشورہ دیتے ہوئے کہتے ہیں :
مرد شو آورد زمام او بہ کف
یعنی مرد بنو اور اس کی لگام ہاتھ میں لے لو تاکہ تم سیپی میں سے موتی نکال سکو۔
دو چیزیں ایسی ہیں جو انسان کے نفس کو بے قابو کرتی ہیں : محبت اور خوف۔ یعنی خوف دنیا اور خوف آخرت۔ خوف جان اور خوف الام زمین و آسماں۔ اور مال و دولت کی محبت، وطن کی محبت۔ اقربا کی اور زن کی محبت۔ یہ خوف اور محبت ضبط نفس کے درمیان رکاوٹ بنتے ہیں۔ اور اگر کوئی شخص ان پر قابو پا لے گا تو وہ اپنے نفس یعنی خودی پر قابو پا لے گا۔
تربیت خودی کا تیسرا مرحلہ نیابت الٰہی ہے۔ اگر تم اپنے نفس پر قابو پا لو گے تو دنیا پر حکمرانی کر سکو گے۔ اور تاج سلیمانی تمہارے سر پر رکھ جائے گا۔ لیکن اس کے لیے شرط ہے کہ تم پہلے شتربان بنو۔ اونٹ پالنا سیکھو۔ یعنی اپنے نفس کو قابو کرنا سیکھ جاؤ۔
حدیث پاک میں اس کا تذکرہ یوں آیا ہے :
ترجمہ: ”جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا گویا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا“
جو شخص اپنے نفس پر قابو پا لے گا پھر وہ نائب حق ہے۔ اور وہ اس دنیا کے بھیدوں سے آگاہ ہو جاتا ہے۔
خودی کا تصور اقبال کی شاعری کا بنیادی تصور ہے۔ اس کے بغیر ہم اقبال کی شاعری کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ یہ اقبال کے فلسفہ حیات کی بنیادی اینٹ ہے۔ خودی سے علامہ نے غرور و تکبر نہیں بلکہ احساس نفس مراد لیا ہے۔ اقبال نے ہمیں اپنی ذات کو پہچاننے کا جو درس دیا ہے وہ دراصل اپنے رب کو پہچاننے کا دوسرا نام ہے۔

