اولاد کی تربیت کے اجزائے ترکیبی


اولاد کی تربیت کا حاصل اس کی پوری زندگی ہے اسی لیے اس کا زمانہ بچپن سے لڑکپن تک کم و بیش پندرہ برس ابتداء سے انتہاء تک مختلف پیرائیوں، ترکیبوں اور اوقات پر مشتمل ہوتا ہے۔ تربیت کی بے پناہ اہمیت کے پیش نظر اس کی ماہیت اور کیفیت پر ہر وقت تربیت کنندہ کی گہری نظر رہنی چاہیے کیونکہ اس میں کمی بیشی مختلف نتائج کا سبب بنتی ہے جس کا اثر بہت دور رس ہے۔ اگر تربیت کنندہ بظاہر معمولی سے معمولی بات سے غلطی سے بھی صرف نظر کر جائے تو بعض دفعہ اس کا خمیازہ ہر متعلقہ شخص تو بھگتا ہی ہے ساتھ ہی اس کے معاشرتی مضمرات بھی اسی لحاظ سے مرتب ہوتے ہیں جنہیں ہم محسوس کرنے کے باوجود بالعموم اس کی وجوہات کا تعین نہیں کر پاتے جس میں تربیت بنیادی محرک ہے۔

والدین بچوں کی اولین تربیت گاہ ہیں جو عرصہ دراز ان کی تربیت کرتے ہیں اس لیے اس کی اس لحاظ سے اہمیت اور اس کے چیدہ چیدہ پہلو مد نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ تربیت کے اجزاء میں بیشتر آفاقی اصول ہیں جو ہر جگہ ہمیشہ سے رائج ہیں جن کے ساتھ مخصوص معاشرتی تناظر میں کچھ مخصوص باتیں بھی شامل ہوجاتی ہیں۔ اسی طرح تبدیل ہوتے وقت اور حالات کے پیش نظر اس میں سے پرانی باتیں حذف اور نئی باتیں داخل ہوتی ہیں۔ یہاں ان بنیادی باتوں کی وضاحت کرنا مقصود ہے جن کی اہمیت تربیت میں اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ خود تربیت۔

تربیت میں جذبات کا عمل دخل غیر ضروری طور پر ہونے سے اس کا اثر اور مقصد زائل ہوجاتا ہے، لازمی ہے کہ جذبات کے درکار اظہار میں کمی بیشی کسی صورت نہیں ہونی چاہیے۔ بے جا سختی، بے جا چھوٹ، بے جا لاڈ اور بے جا حمایت جیسے عوامل تربیت کے لیے زہر ہیں انہیں ہرگز اپنے رویہ کا حصہ نہ بننے دیں۔ اپنی محرومی یا احساس کمتری اور اس کے نتیجہ میں احساس برتری، بے جا تفاخر، خوشی یا طیش کا حد سے زیادہ اظہار وغیرہ جیسی کی چیز کا اثر بچوں پر نہ پڑنے دیں، اگر ایسا کچھ ہے تو والدین بننے سے پہلے ہی ان بیماروں سے چھٹکارا پائیں ورنہ کم از کم بچوں کے معاملہ میں انہیں کہیں دفن کر دیں۔

ایک زمانہ تھا جب تربیت کا حاصل ایک ایسا شخص تھا جو ادب آداب، وضع قطع، چال ڈھال، نشست و برخاست اور کلام و طعام میں تصنع کی حد تک رکھ رکھاؤ کا خیال رکھتا ہو۔ ظاہری شخصیت کے علاوہ اس کی سوچ کا ماخذ اس کا مذہب، روایات اور اپنی قوم/قبیلہ ہو۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ علم کی نئی راہیں استوار ہوئیں اور سائنسی ترقی کے ساتھ نفسیات کے علم نے جنم لیا تو تربیت کے مقاصد تبدیل ہوئے۔ نئے زمانے میں تربیت کا مقصد ایک مثبت سوچ کا حامل اور معاشرتی لحاظ سے کارآمد شخص کی تشکیل بنا۔ ظاہری رکھ رکھاؤ کی اہمیت اتنی نہ رہی بلکہ مغربی معاشرے میں تو دم توڑنے لگی البتہ ادب آداب کی نئی تعریف نے جنم لیا جس کے تحت تصنع کی جگہ سادگی اور افادیت نے لے لی۔ ایسے میں ظاہر پرستی کے بجائے بہتر طرز اظہار اہم قرار پایا جس کی بنیاد شمائل و خصائل ہیں جن کا ماخذ سوچ ہے۔

جنوبی ایشیائی معاشرے بالخصوص پاکستانی معاشرہ جہاں تعلیم و تحقیق کا فقدان ہے، ہر سنی سنائی آدھی ادھوری بات پر نہ صرف یقین کر لیا جاتا ہے بلکہ بغیر سوچے سمجھے اور جانے اس پر خود بھی عمل کیا جاتا ہے اور دوسروں کو بھی اس کی بھرپور دعوت دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاشرے میں اتائیت پھلتی پھولتی ہے۔ حیرت انگیز طور پر آج بھی یہی چلن عام ہے جبکہ معلومات سمٹ کر ہتھیلیوں میں سما چکی ہے۔ اس چلن کا اثر تربیت پر بھی ہوا ہے کہ والدین جو کبھی ”کھلاؤ سونے کا نوالہ دیکھو شیر کی نگاہ سے“ پر عمل کیا کرتے تھے جو ایک غیر منطقی اور غیر لچکدار طرز تربیت تھا اس کے بجائے اب والدین 180 درجہ مختلف انداز میں اولاد کی طرف سے تقریباً بے فکر ہوچکے ہیں کہ ”ان میں خود اعتمادی پروان چڑھے“ ۔ یہ طرز پرانے طریقہ جتنا ہی غیر منطقی اور اتنا ہی غیر ضروری طور پر لچکدار ہے کہ اکثر اولاد اس کی بے پناہ لچک کا ناجائز فائدہ باآسانی اٹھاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ والدین وہ کیا طریقے اپنائیں جو منطقی، موثر، نتیجہ خیز اور کارآمد ہوں؟

سب سے پہلے والدین اور اولاد کا تعلق اہم ہے، والدین اولاد سے وہ تعلق رکھیں جو یک طرفہ کے جائے مساوی طور پہ دو طرفہ ہو۔ بچہ صرف وصول کنندہ بن کے نہ رہ جائے بلکہ وہ خود کو ایک جاری نظام کا حصہ سمجھے جہاں اس کی حیثیت حقیقی ہو۔ والدین کا اولاد سے اس لحاظ باہمی دوستی کا تعلق بہترین ثابت ہوتا ہے جہاں بچہ ہر بات میں والدین کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ اسے یہ یقین ہوتا ہے کہ وہی ہیں جو اسے بہترین سمجھتے ہیں اور اس کے حقیقی پر خیر خواہ ہیں۔

یہ طرز بچوں کی نفسیات، احساسات اور ترجیحات کو سمجھنے میں بہترین معاون ہے جس سے ان کی ترجیحات کو تربیت کے لیے باآسانی درست سانچے میں ڈھالا بھی جاسکتا ہے جو ان کو بھٹکنے سے روکنے میں بغیر کسی سختی یا پابندی کے کارآمد ہے اسی لیے ایسے بچوں میں مثبت اور تعمیری اوصاف کا پنپنا دیگر کے مقابلہ میں یقینی ہے۔ اس طرح والدین کو کبھی یہ باور کرانے کی بھی ضرورت نہیں رہتی کہ وہ اولاد سے کتنی محبت کرتے ہیں یا ”وہ جو کریں گے اولاد کے بھلے کے لیے ہی کریں گے“ جیسا کہ اکثر والدین کو عام طور پر کبھی نہ کبھی کرنا ہی پڑتا ہے۔

اولاد کی تربیت میں سب سے مقدم اس کی سوچ کی پرورش ہے جس کے ساتھ ساتھ ظاہری افعال سکھانا اور ان کو بہترین انداز میں انجام دینے کی تربیت شامل ہے جو سوچ کو جلا دیں اور سوچ انہیں۔ یہ عمل بچوں کی نفسیات اور احساسات کو سمجھے بغیر انجام دینا ایسا ہی ہے جیسے زمین کی طبعی حالت سمجھے بغیر ہی تعمیر شروع کر دینا یا اس کی پیداواری صلاحیت اور ضروریات سمجھے بغیر بیج بونا۔ والدین بچوں کو تصوراتی کرداروں سے متاثر کرنے کے بجائے کامیاب شخصیات سے تاثر لینے کا عادی بنائیں جس کے ساتھ وہ خود بھی بچوں کے لیے متاثر کن بنیں یا ایسے اوصاف اپنائیں جن سے بچے انہیں تاثر کا ماخذ سمجھیں۔

سوچ کی آبیاری بچہ کے بولنے سے پہلے ہی شروع ہو جانی چاہیے جس میں مختلف حالات سے وقتاً فوقتاً گزار کر اس میں تجسس اور حل تلاش کر کے خود اعتمادی پیداء کرنا ضروری ہے۔ بد قسمتی سے آج دو ڈھائی سال کے بچے کو اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ تھما کر اس کے تیزی سے پنپتے ذہن کو سلانے کا رواج عام ہوتا جا رہا ہے۔ یہ برقی آلات جہاں ایک طرف ذہنی نشو نماء کے قاتل ہیں وہیں ان میں دیکھے جانے والے مواد بچوں کو حقیقت سے ناآشنا رکھنے اور حقیقی زندگی جینے سے محروم رکھنے کا بہترین ذریعہ ہیں جو انہیں ایک طرف تساہل پسند، غیر ذمہ دار اور بے عمل بنانے کا موجب ہیں تو دوسری طرف چیلنج سے گھبرانے اور جلد مایوسی کو پروان چڑھاتے ہیں جن کا منتج صرف منفیت ہے جو بالآخر احساس کمتری کا شکار بھی کر دیتی ہے۔

ان آلات کی لت بچوں میں احساسات و جذبات کی پرورش میں بڑی رکاوٹ ہے، بچہ جہاں انسان اور انسانیت کو جاننے اور سمجھنے سے محروم رہتا ہے وہیں اس میں انسانی جذبات کو سمجھنے، ان کا خیال رکھنے اور ان پر ردعمل دینے سے بھی محروم رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے بچے والدین اور اساتذہ کی باتوں اور ہدایات کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ تخیل جو تخلیقی صلاحیتوں کو نہ صرف جنم دینے کا ذریعہ ہے بلکہ انہیں توانائی بھی فراہم کرتا ہے اسے یہ آلات پیداء ہونے ہی نہیں دیتے جس وجہ سے بچہ میں مطالعہ سے بیزاری پیداء ہوتی ہے۔ ان کے علاوہ ان آلات میں مسلسل مشغول رہنے کے طبی نقصانات اضافی ہیں۔ یہاں ان پر مختصر اور جامع بات کی کوشش کی گئی ہے جس کا مقصد تربیت میں ان کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کی نشاندہی ہے۔

سوچ کی پرورش میں سب سے پہلے حقیقت شناسی کی تربیت ہے جو مختلف انداز اور طریقوں سے دی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تجزیہ اور فیصلہ سازی کی تربیت ہے۔ غلط فیصلوں کے بعد ان کے نتائج کو بروئے کار لاتے ہوئے غلطیوں سے بچنے اور ان سے سیکھنے کی تربیت ہے۔ یہ مکمل فریم ورک سوچ کو بنیاد فراہم کرتا ہے۔ دوسرے مرحلہ میں عمر میں اضافہ کے ساتھ ساتھ آفاقی اقدار مثلاً سچ، دیانت داری، انصاف، رحمدلی، صلح رحمی، میانہ روی، اصول پسندی، نظم و ضبط، تکریم انسانیت سمیت دیگر کارگر سماجی اقدار وغیرہ کی تربیت بہت ہی اہم ہے جو ان کی شخصیت کی تکمیل کے لیے لازم ہے۔

احساس ذمہ داری اور اس کے لیے حاضر دماغی کو پروان چڑھانا، محنت کی عادت اپنانا، مقاصد کے حصول کے لیے جدوجہد کو لازم سمجھنا اور کسی ”معجزے“ یا غیر منطقی بات کا منتظر نہ رہنا اس کا تلازمہ ہیں۔ صحیح اور غلط میں تفریق تربیت کا ایک اور اہم جزو ہے جس کے لیے خود کو غلط سے دور رکھنے اور صحیح پر ثابت قدم رہنے کی مشق بچوں کے لیے مختلف ادوار میں مختلف طریقوں سے حالات کی مناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنا لازمی ہے تاکہ ان میں یہ یقین پختگی اختیار کرے کہ ہر صحیح چیز حقیقت اور غلط چیز ایک سراب ہے، ان حالات میں مصلحت پسندی سے اجتناب کی حتی مقدور کوشش والدین کا کام ہے۔ حفظ مراتب کا خیال رکھنا بھی تربیت کا ایک اہم جزو ہے جو سماجی روابط میں اہمیت رکھنے کے ساتھ عملی زندگی میں بھی ٹیم ورک میں بہت کارآمد ہے۔

ان بنیادی اوصاف کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ زندگی میں کار آمد صفات کا پیداء کرنا اور انہیں توانائی فراہم کرنا تربیت کے تیسرے مرحلہ میں ضروری ہے جس میں سب سے بنیادی عنصر خود اعتمادی ہے۔ خود اعتمادی کے بارے میں عوام میں ایک شدید غلط فہمی یہ ہے کہ یہ وصف دراصل منہ پھٹ ہونے، بلا تامل حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنے یا کسی بھی صورت میں انکار نہ کرنے وغیرہ جیسی صفات کا نام ہے جبکہ یہ غیر دانستہ بے خوفی یا حماقت تو ہو سکتی ہے خود اعتمادی نہیں۔

خود اعتمادی انسان میں اعتماد کے قابل ذکر سطح تک پنپنے کا نام ہے کہ جب وہ گھڑسواری کرے تو وہ گھوڑے پہ سوار ہو ناکہ گھوڑا اس پر سوار ہو۔ یہ خالص آگہی اور شعور کی پختگی کے نتیجہ میں حالات کے بہترین ادراک اور ان میں بہترین فیصلہ سازی کا نام ہے۔ اس سلسلہ میں یہ معلوم ہونا لازم ہے کہ کیا، کیسے اور کہاں سے کرنا ہے؟ حقیقی اور معروضی حالات سے کماحقہ آگہی اور عملی بصیرت کا پیداء ہونا اس کے عناصر ہیں۔

خود اعتمادی کے بعد فیصلہ سازی ایک اہم وصف ہے۔ یہ صفت خود اعتمادی کے نتیجہ میں ہی پیداء ہوتی ہے جو حالات کا بہترین مقابلہ کرنے کے قابل بنانے کے ساتھ ساتھ قائدانہ صلاحیت بھی پیداء کرتی ہے۔ اس کی مشق کے لیے شطرنج کا کھیل بہت مفید ثابت ہوا ہے۔ حالات سے نبردآزما ہونا ایک فن ہے جس میں یہ یقین ہونا کہ گھبرانے یا طیش میں آنے کے بجائے حالات کو درست تناظر میں سمجھنے، متبادل تلاش کرنے اور تبادلہ خیال سے حل نکل آتے ہیں، بہترین انداز میں بات سننے والا ہی بہترین بات کرنے والا ہوتا ہے۔

بچوں کو لڑکپن میں تبادلہ خیال اور مباحث کی تربیت بہت اہم ہے جس کے لیے روز مرہ امور پر ان سے تبادلہ خیال کیا جائے، ان کے پیش آمدہ امور سنے جائیں اور ان پر منطقی و مدلل بات کی جائے۔ یہ طریقہ کار والدین اور بچوں میں جہاں خلیج حائل ہونے نہیں دیتا وہیں مستقبل کی فیصلہ سازی میں ہم آہنگی بھی پیداء کرتا ہے جبکہ عملی زندگی میں اس کے افادیت بہت زیادہ ہے۔

افراد، حالات اور خبروں کی پرکھ کسی بھی انسان کے لیے عمومی طور پر اور عملی زندگی میں بالخصوص بہت ضروری ہے اس لیے یہ گر بھی تربیت کا تلازمہ ہے۔ اوائل عمری میں ہی لوگوں، پیش آمدہ واقعات اور سنی سنائی باتوں کی سرسری پرکھ سیکھنے سے ہر بات اور ہر شخص پر فوری اعتماد نہ کرنے کا خودکار نظام وضع ہوتا ہے جو وقت کے ساتھ اس قدر پختہ ہوجاتا ہے کہ کسی بھی قسم کی لفاظی، مسحور کن ماحول یا حقیقت سے پرے بات ذہن قبول نہ کرنے اور فوری مطلع کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ والدین سے مسلسل تبادلہ خیال اس کی تربیت کے لیے بہت سازگار ہوتا ہے۔ والدین وقتاً فوقتاً بچوں کو عام طور پر بھی اور کسی تناظر میں اس کی تربیت دیتے رہیں تو بیت جلد بچہ اپنا بچپنا کھوئے بغیر سمجھدار ہوتا جاتا ہے۔

یہ وہ چند اہم ترین امور ہیں جن کا تربیت میں شامل ہونا بہت ضروری ہے جس سے ایک کامیاب انسان اور کارآمد شہری بنانے کے امکان بہت زیادہ روشن ہو جاتے ہیں۔ والدین بچوں کی تربیت کو اپنی زندگی میں اتنی ہی اہمیت دین جتنی وہ دیگر ذمہ داریوں کو دیتے ہیں کیونکہ یہ نہ صرف ان کی بنیادی ذمہ داری ہے بلکہ ایک بہتر گھر اور بہتر معاشرہ کی تشکیل کے لیے لازم ہے۔

Facebook Comments HS