مکاتیب اقبال بنام خان نیاز الدین خاں


علامہ صاحب کے خطوط کا یہ مجموعہ ڈاکٹر عبداللہ شاہ ہاشمی کا مرتب کردہ ہے اور اسے اقبال اکادمی پاکستان نے تیسری بار 2019 ع میں شایع کیا ہے۔ قبل ازیں یہ مجموعہ بالترتیب 1986 ع اور 2006 ع میں چھپ چکا ہے۔ کتاب کا انتساب ملک حق نواز (حضرو ضلع اٹک ) اور ممتاز اقبال شناس پروفیسر ڈاکٹر صابر کلوری (مرحوم ) کے نام کیا گیا۔ ناظم اقبال اکادمی پاکستان جناب محمد سہیل عمر نے خان نیاز الدین خاں کے پوتے خان فصیح الدین خاں سے اظہار تشکر کرتے ہوئے لکھا :

” قابل تحسین بات یہ ہے کہ ان خطوط کے لیے انھیں خاصی رقم کی پیش کش ہوئی لیکن خان نیازالدین خاں کے لواحقین نے خطوط ’فروخت‘ کرنے سے انکار کر دیا۔“ (ص 4 )

فہرست پر نظر دوڑائیں تو اس کے مندرجات کی تفصیل کچھ یوں ہے :

حرف اول : عبداللہ شاہ ہاشمی * پیش لفظ : ایس اے رحمان * ملاحظات : پروفیسر محمد منور * مقدمہ : عبداللہ شاہ ہاشمی * مکاتیب اقبال مع حواشی و تعلیقات * کتابیات * ضمیمہ جات (مکتوبات گرامی بنام نیاز، مسئلہ خلافت کی حقیقت، اقبال کے دست نوشت چند مکاتیب کے عکس ) * اشاریہ

ڈاکٹر عبداللہ ہاشمی نے آغاز میں اس بات کی وضاحت کی کہ مکاتیب اقبال بنام نیاز درحقیقت ان کے ایم فل اردو کا موضوع تھا اور یہ خطوط مقالہ کی صورت 1993 ع میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد میں جمع ہوا۔ نگران مقالہ شعبہ اقبالیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر رحیم بخش شاہین تھے۔ اس مجموعے میں اقبال کے 79 خطوط کو زیر بحث لایا گیا ہے جو انھوں نے اپنے دوست خان نیاز الدین خاں کو تحریر کیے۔ مرتب نے ترتیب و تدوین اور حواشی و تعلیقات کے باب میں درج ذیل امور کو ملحوظ خاطر رکھا :

(الف) مکاتیب بنام نیاز کا تعارف، خطوں کی اہمیت، اقبال اور نیاز کے مابین تعلقات کی نوعیت کے اظہار سے ان خطوط کے پس منظر کا پتا چلتا ہے۔

(ب) اقبال بنام نیاز کے نام سے اس تصحیح شدہ نسخے سے قبل 1954 ع میں طبع اول کے طور پر شایع ہو چکا تھا مگر اس میں کئی اغلاط پائی گئیں۔ مذکورہ اغلاط کی درستی علامہ اقبال کے اصل دست نوشت خطوط کی روشنی میں کی گئی۔

(ج) حواشی و تعلیقات کے ذیل میں شخصیات، معاملات اور افکار و نظریات کو کھول کر بیان کیا گیا۔
(د) خطوط میں درج اشعار کی تخریج کی گئی ہے اور فارسی اشعار کو ترجمے اور مفہوم سے آراستہ کیا گیا۔

(ہ) حواشی و تعلیقات بے جا اختصار اور طوالت کا شکار نہیں بلکہ ان کے بیان میں ایک جامعیت اور توازن نظر آتا ہے۔ ان کے ساتھ مآخذ بھی درج ہیں۔ مآخذ میں مکمل حوالے کے بجائے کتاب اور صاحب کتاب کے نام پر اکتفا کیا گیا ہے البتہ ان کتابوں کے مکمل حوالے ”کتابیات“ میں ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔

مجموعے میں شامل خطوط کا عرصہ ء تحریر جنوری 1916 ع تا جون 1928 ع، ساڑھے بارہ سال بنتا ہے۔ بالعموم علامہ کے خطوط میں سنجیدگی اور علمی متانت کا رنگ غالب رہتا ہے تاہم وہ اپنے خاص الخاص دوستوں سے کھل بھی جاتے ہیں مثلاً جہاں کہیں مولانا گرامی کا ذکر آیا ہے وہاں ان کی طبعی ظرافت قاری کے سامنے آئی ہے۔ خان نیاز الدین خاں کے نام ان خطوط کا نمایاں وصف یہ ہے کہ علامہ صاحب نے کبوتر داری جیسے مشغلے کا ذکر جگہ جگہ کیا ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ علامہ کو کبوتر پالنے کا کس قدر شوق تھا۔ سیالکوٹ کی تہذیب و ثقافت میں کبوتر داری ایک سلجھا ہوا مشغلہ سمجھا جاتا تھا اس لیے اقبال کو بچپن سے ہی کبوتروں کا شوق پیدا ہوا اور یہ سلسلہہ جاوید اقبال کے سمجھ دار ہونے تک جاری رہا۔ اس مشغلے کا تذکرہ ان کے خطوط میں دیکھیے :

” کچھ مضائقہ نہیں اگر شیخ عمر بخش صاحب کبوتر نہیں لائے، میں چاہتا ہوں کہ کبوتر یہاں اکتوبر میں آئیں۔ اس سے پہلے نہ آئیں، میں چند روز تک سیالکوٹ جانے والا ہوں۔ “ (مکتوب نمبر 16، ص 72 )

ایک اور مکتوب بڑا دلچسپ ہے، اس مکتوب کو ایک طرح سے ’کبوتر نامہ‘ یا ’نامہ ء کبوتر‘ قرار دیا جا سکتا ہے، وہ لکھتے ہیں :

” کبوتروں کے دو جوڑے جو آپ نے باکمال عنایت عطا فرمائے تھے، ان میں سے ایک جوڑا بچے نہیں دیتا، انڈے توڑ دیتا ہے اور دوسرے کبوتروں کے نیچے بھی اس کے انڈے رکھے جائیں تو بچے نہیں نکلتے۔ دوسرے جوڑے نے بچے نکالے مگر ان میں دو جو بہت اڑتے تھے، شکاری جانوروں کا شکار ہو گئے۔ ایک باقی ہے، جوڑے میں نر ضعیف اور کمزور ہے۔ میں نے لدھیانے بھی لکھا ہے اور شاہ جہان پور سے بھی ان شاء اللہ کبوتر آئیں گے۔

آپ کے صاحبزادے نے ذکر کیا تھا کہ فیروز پور میں کوئی شخص ہے جو کبوتروں کو مستقل رنگ دے سکتا ہے، جو رنگ ان کے بچوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ مہربانی کر کے صاحبزادے سے دریافت کیجیے کہ اس آدمی کا پتا کیا ہے، کل کرنل سٹیفن صاحب سے کبوتروں کے متعلق بہت گفتگو ہوئی۔ (مکتوب نمبر 29 ص 88 )

کبوتر داری کے ذکر کے ساتھ ہی وہ مغربی تہذیب پر چوٹ کرنے سے نہیں چوکتے :

” آپ کے کبوتر بہت اچھے ہیں مگر افسوس کہ زمانہ ء حال کی مغربی تہذیب سے متاثر معلوم ہوتے۔ مقصود اس سے یہ ہے کہ بچوں کی پرورش سے بہت بیزار ہیں۔ “ (مکتوب نمبر 51 ص 120 )

اقبال کے ان خطوط میں مذہب اور تصوف پر بھی بات کی گئی ہے، شاید وہ تصوف کی تاریخ مرتب لکھنے میں مصروف تھے، ان کے بقول :

”تصوف کی تاریخ لکھ رہا ہوں، دو باب لکھ چکا ہوں یعنی منصور حلاج تک پانچ چار باب اور ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی علامہ ابن جوزی کی کتاب کا وہ حصہ بھی شایع کر دوں گا جو انھوں نے تصوف پر لکھا ہے۔ تصوف کے ادبیات کا وہ حصہ جو اخلاق و عمل سے تعلق رکھتا ہے، نہایت قابل قدر ہے کیوں کہ اس کے پڑھنے سے طبیعت پر سوز و گداز کی حالت طاری ہوتی ہے۔ فلسفے کا حصہ محض بے کار ہے اور بعض صورتوں میں میرے خیال میں تعلیم قرآن کے مخالف۔“ (مکتوب نمبر 2 ص 50 )

اسلامی فلسفہ قومیت اور مغربی فلسفہ ء قومیت میں بعد المشرقین کا فرق پایا جاتا ہے۔ اقبال نے اس امر کی پیشین گوئی کی کہ مغربی فلسفہ قومیت اپنی موت آپ مرے گا اور حتمی طور پر اسلامی فکر غالب ہو گی۔ جب وہ مثنوی رموز بے خودی تخلیق کر رہے تھے تو اس کے دوران میں ان پر خیالات کی یلغار تھی گویا غالب والی کیفیت سے اقبال بھی دوچار تھے یعنی پردہ غیب سے مضامین اترنے کا خیال۔ اقبال اپنے خط میں لکھتے ہیں :

”۔ مگر ایسے ایسے مطالب ذہن میں آئے ہیں کہ خود مسلمانوں کے لیے موجب حیرت و مسرت ہوں گے کیونکہ جہاں تک مجھے معلوم ہے، ملت اسلامیہ کا فلسفہ اس صورت میں اس سے پہلے کبھی اسلامی جماعت کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔ نئے سکول کے مسلمانوں کو معلوم ہو گا کہ یورپ جس قومیت پر ناز کرتا ہے وہ محض بودے اور سست تاروں کا بنا ہوا ایک ضعیف چیتھڑا ہے۔ قومیت کے اصول حقہ صرف اسلام نے ہی بتائے ہیں جن کی پختگی اور پائیداری مرور ایام و اعصار سے متاثر نہیں ہو سکتی۔“

(مکتوب نمبر 10 ص 65۔ 66 )

اقبال مسلمانان ہند کی قیادت عملی سطح پر بھی کر رہے تھے۔ بعض معاملات اور تحریکات پر انہیں کچھ تحفظات تھے۔ ان تحریکوں میں ایک تحریک خلافت کی تحریک بھی تھی، جس سے انہوں نے 31 جولائی 1922 ع میں ان تین وجوہات کی بنا پر استعفا دے دیا :

1۔ علامہ تحریک خلافت میں ہندوؤں کی شمولیت کو خطرناک سمجھتے تھے۔
2۔ خلافت وفد کو انگلستان بھیجنے پر انہیں اتفاق نہیں تھا۔

3۔ خلافت کمیٹی کے بعض ممبران کو وہ مفاد پرست سمجھتے تھے۔ (بحوالہ اقبال اور انجمن حمایت اسلام ص 55۔ 60 )

اس ضمن میں وہ خان نیاز کو لکھتے ہیں :

”۔ گرامی صاحب کی خدمت میں السلام علیکم عرض کیجیے۔ سنا ہے وہ مجھ پر ناراض ہیں کہ میں نے خلافت کمیٹی سے کیوں استعفا دیا۔ وہ لاہور آئیں تو ان کو حالات سے آگاہ کروں۔ جس طرح یہ کمیٹی قائم کی گئی اور جو کچھ اس کے بعض ممبروں کا مقصد تھا، اس کے اعتبار سے تو اس کمیٹی کا وجود میری رائے میں مسلمانوں کے لیے خطرناک تھا۔“ (مکتوب نمبر 37 ص 98 )

اقبال کے کچھ دوستوں نے طے کیا تھا کہ اقبال کو فکر معاش سے آزاد کیا جائے، اس کے لیے انہوں نے ایک امدادی فنڈ قائم کرنے کا پروگرام بنایا لیکن اقبال کے پیش نظر اپنی ذات نہیں تھی بلکہ امت مسلمہ کی خیر خواہی کے جذبات کارفرما تھے۔ ، ان کے خیالات ملاحظہ ہوں :

”۔ آپ کے دوست ضرور آپ کے ہم خیال ہوں گے مگر اقبال فنڈ قائم کرنا میری رائے میں، جس میں، میرے ضمیر کی آواز بھی شامل ہے، درست نہیں۔ مسلمان غریب قوم ہیں (کذا) اور باوجود اس غریبی کے گزشتہ دس بارہ سال میں ایک کروڑ روپے سے زیادہ چندوں میں دے چکی ہے۔

میں خود تو یہاں تک احتیاط کرتا ہوں کہ جو لوگ کتاب کو پڑھ نہیں سکتے، وہ اسے خرید بھی نہ کریں کیونکہ ان کو اس کی خریداری کی ترغیب دینا ایک قسم کی نا انصافی ہے۔ باقی رہا میں، سو میری طرح امت مرحومہ میں سیکڑوں آدمی آگے گزر گئے ہیں جنہوں نے رکاوٹوں کے ہوتے ہوئے کام کیا ہے۔ مجھ سے بھی جہاں تک ہو سکے گا، انھی کی تقلید کروں گا۔ ” (مکتوب نمبر 64 ص 131 )

دنیاوی مفاد اور دوستی میں سے اقبال نے ہمیشہ دوستی کو اپنے ذاتی مفادات پر ہمیشہ ترجیح دی۔ اقبال اپنے دوست میاں عبدالعزیز کے مقابلے میں انتخابات لڑنے سے انکار کر دیتے ہیں اور وجہ بتاتے ہیں :

” لاہور کے لوگ مجبور کرتے ہیں اور بہت سے ڈیپوٹیشن ان کے آ چکے ہیں، مگر میاں عبدالعزیز سے مقابلہ کرنا میں نہیں چاہتا۔ ان سے دیرینہ تعلقات ہیں۔ اگرچہ مقابلے کے بعد انتخاب ہو جانا قریباً یقینی ہے، تاہم یہ بات میرے نزدیک مروت کے خلاف ہے کہ ایک موہوم دنیوی فائدے کی خاطر دیرینہ تعلقات کو نظرانداز کر دوں۔ “ (مکتوب نمبر 65 ص 132 )

زیر نظر مضمون کا اختتام اقبال کے اس مکتوب پر کرتے ہیں جس میں علامہ کے حیات النبی ﷺ کے عقیدے اور ان کے عشق مصطفے ﷺ پر پڑتی ہے۔ یہ خط اپنی نوعیت میں بہت اہم ہے :

” نبی کریم ﷺ کی زیارت مبارک ہو۔ اس زمانے میں یہ بڑی سعادت کی بات ہے۔ دوسری رویا کا بھی مفہوم یہی ہے۔ قرآن کثرت سے پڑھنا چاہیے تاکہ قلب، محمدی نسبت پیدا کرے۔ اس نسبت محمدیہ کے لیے یہ ضروری نہیں کہ قرآن کے معانی بھی آتے ہوں۔ خلوص و محبت کے سا محض قراءت کافی ہے۔ میرا عقیدہ ہے کہ نبی کریم ﷺ زندہ ہیں اور اس زمانے کے لوگ بھی ان کی صحبت سے اسی طرح مستفیض ہو سکتے ہیں جس طرح صحابہؓ ہوا کرتے تھے، لیکن اس زمانے میں تو اس قسم کے عقائد کا اظہار بھی اکثر دماغوں کو ناگوار ہو گا، اس واسطے خاموش رہتا ہوں۔ “ (مکتوب نمبر 54 ص 122 )

اگرچہ اقبال کے خطوط مختلف مجموعوں اور کلیات کی شکل میں چھپ چکے ہیں تاہم تلاش و جستجو کا عمل کہیں بھی نہیں رکتا مثلاً پروفیسر محمد منور نے جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال کے خطاب 21 اپریل 1981 ع کے حوالے سے بتایا کہ حضرت علامہ نے اپنے والد بزرگوار (شیخ نور محمد صاحب ) کو لکھے اور جن میں حضرت علامہ نے اپنے روحانی احوال و مسائل کا ذکر تھا۔ یہ اور اس طرح کے کئی غیر مطبوعہ خطوط اقبال منصہ شہود پر آنے کے منتظر ہیں۔ عبداللہ ہاشمی کے نزدیک اقبال کے اس وقت تک سترہ سو سے زائد مدون و غیر مدون خطوط دریافت ہو چکے ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ اقبال کی شخصیت اور ان کے فکرو فن کا مطالعہ مکاتیب اقبال کے مطالعہ کے بغیر ادھورا اور گمراہ کن ہو گا۔

 

Facebook Comments HS