اور لڑکی میں جن آ گیا (1)

عروسی جوڑے میں ملبوس، سونے کے زیورات سے سجی، چودہ سال کی معصوم سی ”رجو“ نکاح کے بعد اس وسیع و عریض حویلی میں لائی جا چکی تھی۔ بے شک کاغذات میں اس کی عمر اٹھارہ سال لکھی گئی تھی اور اب وہ ساٹھ سالہ چودھری حاکم کی منکوحہ تھی۔ لیکن ابھی اسے سہاگ رات کے لئے تیار کرنا باقی تھا۔ حویلی کے رسم و رواج کے مطابق اس عمل کی نگرانی بڑی چودھرانی کی ذمہ داری تھی۔ اس حویلی میں ہر نئی دلہن کو خاص طور پر سہاگ رات کے لئے بڑے سلیقے اور اہتمام سے تیار کیا جاتا تھا۔ گو وقت گزرنے کے ساتھ بعض اوقات وہ بعد میں حویلی کے پرانے سامان کا حصہ بن کر رہ جاتی اور کسی کو اس کی جھاڑ پونچھ کا خیال بھی نہیں آتا تھا۔
سب سے پہلی چودھرانی دو بیٹے چھوڑ کر فوت ہو چکی تھی۔ جو اس کے بعد آئی، اس نے ایک سال بعد خلع لے لیا۔ اس لئے تیسرے نمبر والی، یعنی عنایت بیگم ہی اب بڑی چودھرانی کہلاتی تھی۔ بے شک عنایت بیگم کے بعد آمنہ بی بی بھی چار سال پہلے چودھری حاکم کی بیوی بن چکی تھی، جسے چودھری پیار بھی بہت کرتا تھا۔ البتہ اب رجو بھی چودھری کے نکاح میں آ چکی تھی۔
عنایت بیگم کی عمر ابھی بھی مشکل سے بتیس سال ہو گی لیکن چودھری حاکم تو جیسے اب اس کے کمرے کا راستہ ہی بھول چکا تھا۔ پندرہ اور تیرہ سال کی دو بیٹیوں کی ماں، مگر اب جب وہ کپڑے بدلتے ہوئے کبھی سکون سے اپنا سراپا آئینے میں دیکھتی تو حسرت کی ایک لہر سی اس کے بدن کے آرپار ہو جاتی۔ اک ہوک سی دل میں اٹھتی کہ اب آ کر تو وہ اصل میں جوان ہوئی ہے۔ اس وقت ہی تو اسے ایک پیار کرنے والے خاوند کی زیادہ ضرورت تھی۔ لیکن اپنی اس خواہش کا بیان وہ اپنی تنہائی اور بستر کی سلوٹوں کے سوا کسی سے بھی نہیں کر سکتی تھی۔
اس کی زندگی اب رنگا رنگ کے قیمتی ملبوسات زیب تن کرنے، بھاری زیورات پہننے اور حویلی کے نوکروں پر حکم چلانے تک محدود ہو چکی تھی۔ وہ لاکھ خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کرتی مگر نہ تو جسم کی طلب کے شعلے بجھتے اور نا ہی روح کا خلا بھرتا۔ اسی نفسیاتی الجھن میں وہ کبھی کبھی کسی ملازمہ پر خوامخواہ میں برس پڑتی۔ جس پر بعد میں افسوس ہوتا تو اس ملازمہ کو بلا کر معذرت بھی کرتی اور کچھ انعام دے کر اپنا احساس ندامت بھی کم کرنے کی کوشش کرتی۔
سولہ سال پہلے جب عنایت بیگم بیاہ کر اس حویلی میں لائی گئی تھی تو ابھی پورے سولہ سال کی بھی نہیں تھی۔ بے شک وہ تب بھی قد کاٹھ اور صحت کے لحاظ سے اچھی تھی اور سولہ سال سے کچھ بڑی ہی لگتی تھی۔ لیکن رجو بے چاری تو ظاہری طور پر ابھی چودہ سال کی بھی نہیں دکھتی تھی۔ نین نقش تو بہت خوبصورت تھے اور رنگ بھی صاف تھا لیکن جسم کو تو جیسے کبھی پوری خوراک ہی نہیں ملی تھی۔
ایک وسیع غسل ہال کے اس چھوٹے سے حوض میں عرق گلاب ملا پانی بھرا تھا۔ سطح آب پر سفید چنبیلی کے پھول تیر رہے
تھے۔ شرفو نائی کی بیوی سمیت چار عورتیں رجو کو غسل دینے کے لئے تیار بیٹھی تھیں۔ عنایت بیگم کے آتے ہی رجو کو بھی بلوا لیا گیا۔ رجو نے ایسے کپڑے اور زیورات تو خواب میں بھی نہ دیکھے تھے۔ اس لئے وہ خوش بھی تھی اور حویلی کا ماحول دیکھ کر حیران اور سہمی ہوئی بھی۔ اسے تو ابھی تک یہی سمجھ نہیں آ سکی تھی کہ یہ جو اچانک سے اس کی شادی چودھری حاکم جیسے ساٹھ سال کے زمیندار سے کر دی گئی ہے تو یہ آخر ماجرا کیا ہے؟ شادی کے بارے میں اس کی معلومات ابھی تک اتنی کم اور دھند آلود تھیں کہ وہ یہی فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی، اس شادی پر اسے خوش ہونا چاہیے یا دکھی؟
عنایت بیگم نے کام کرنے والی عورتوں کو رجو کے کپڑے اور زیورات اتارنے کے لئے کہا تو رجو رحم طلب نگاہوں سے عنایت بیگم کو دیکھنے لگی۔ عنایت بیگم نے فوراً بھانپ لیا کہ وہ کیا سوچ رہی ہے۔ اس لئے محبت بھرے لہجے میں اس کی ڈھارس بندھاتے ہوئے بولی ”ڈرو مت! یہ کپڑے اور زیورات بلکہ اور بھی بہت سے اچھے اچھے کپڑے سب تمہارے ہیں اور تمہارے پاس ہی رہیں گے۔ ابھی پہلے تمہارا غسل لیکن ضروری ہے۔ بے شک تم ماں باپ کے گھر سے بھی نہا کر آئی ہو مگر اس حویلی کے دستور کے مطابق تمہیں اس غسل سے بھی گزرنا ہو گا۔
جب رجو کے کپڑے اتارے گئے تو اس کا دبلا پتلا اور کمزور سا جسم دیکھ کر عنایت بیگم کو چودھری کے اس ظلم پر بہت غصہ آیا مگر پھر یہی غصہ رجو پر آنے والے شدید ترس میں بدل گیا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اس زمین کے ریشوں میں تو ابھی کہیں کہیں نمی کے آثار پیدا ہوئے ہیں۔ انہیں تو ابھی وقت لگے گا کہ یہ چشموں کی صورت اختیار کریں اور آنے والی زندگیوں کی آبیاری کر سکیں۔ لیکن چودھری تو ابھی سے انہیں ادھیڑ کے رکھ دینا چاہتا ہے۔ وہ تو رجو کے جوبن کی کلی کو کھلنے سے پہلے ہی مسل دینے کی خواہش رکھتا ہے۔ صرف خود کو تسکین دینے کے لئے کہ وہ ابھی تک جوان ہے۔
جب سے عنایت بیگم کو چودھری کی اس نئی شادی کا علم ہوا تھا تو اس کے سینے پر سانپ لوٹ رہے تھے۔ اس کی شدید خواہش تھی کہ جیسے بھی ہو سکے وہ چودھری کی اس سہاگ رات کا ستیاناس کردے۔ ایک تو پہلے ہی گھر میں ایک سوتن موجود تھی دوسرے وہ خود کسی بیوہ کی طرح کی زندگی گزار رہی تھی۔ بے شک اور سب عیش آرام موجود تھا پھر بھی خاوند کی طرف سے نظرانداز کیا جانا اور وہ بھی اتنے لمبے عرصہ تک، اس کے دماغ میں حسد کے شعلے بھڑکا رہا تھا۔ لیکن اب رجو کو دیکھ کر، جو اس کی اپنی بڑی بیٹی سے بھی ایک سال چھوٹی تھی، وہ بالکل اور طرح سے سوچنے لگی۔
جب رجو کو خوشبو دار پانی میں نہلا کر اور اس کے جسم کو مزید عطر و عنبر میں بسانے کے بعد اسے دوبارہ سے دلہن کے کپڑے پہنا دیے گئے تو باقی ہار سنگھار کی ذمہ داری عنایت بیگم نے سنبھال لی۔
رجو کو سنوارتے وقت، جب جب عنایت بیگم نے اس کی آنکھوں میں دیکھا تو ایک انجان سے خیال سے خود اس کی اپنی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہو گئیں۔ مگر اس نے انتہائی ضبط سے کام لیا۔ اس نے کئی بار چاہا کہ رجو کو کوئی نصیحت کرے، یا کوئی رائے دے لیکن ہر بار کچھ سوچ کر خاموش ہو رہی۔ دلہن کو تیار کر کے حجلہ ء عروسی میں بھیجا اور خود اپنے کمرے میں آ گئی۔
اپنے کمرے میں آ کر عنایت بیگم دیر تک ان دنوں کو یاد کر کے روتی رہی، جب اسے بھی ایسے ہی بیاہ کر لایا گیا تھا۔ وہ بھی انہی مراحل سے گزری تھی۔ بے شک وہ رجو کی طرح کسی کھیت مزدور کی بیٹی نہ تھی۔ اس کا باپ ایک زمیندار تھا مگر چودھری حاکم کے مقابلے میں ایک چھوٹا سا زمیندار۔ نجانے کون سی مجبوریاں تھیں کہ سکول سے فارغ ہوتے ہی اس کے باپ نے اسے چودھری حاکم سے بیاہ دیا تھا۔ ایک تو چودھری حاکم اس سے عمر میں اٹھائیس سال بڑا تھا دوسرے مزید تعلیم نہ حاصل کر سکنے کی کسک اس کے دل و دماغ سے جاتی ہی نہ تھی۔ ایسی ہی کچھ حسرتوں کی ٹیسیں سہتی وہ رات کو دیر تک کروٹیں بدلتی رہی۔ کہیں صبح کاذب کو بہرحال اسے بھی نیند آ گئی۔
چودھری حاکم نے رجو جیسی ملوکڑی کے ساتھ سہاگ رات منائی اور خوب گہری نیند سویا۔ صبح نہا دھو کر تیار ہوا اور گھوڑے پر سوار سیدھا اپنے ڈیرے پر جا پہنچا۔ یہ اس کا معمول تھا کہ وہ جب بھی گاؤں میں موجود ہوتا تو سویرے سویرے ایک چکر ڈیرے کا ضرور لگاتا تھا۔ حالانکہ وہ تین تین پجارو کا مالک تھا مگر یہ ایک کلو میٹر کا سفر ہمیشہ اپنے گھوڑے پر کرتا۔ وہ ایک کلومیٹر کی یہ سواری ایسے لباس میں کرتا کہ دیکھنے والوں کو اس کا کسرتی بدن نظر آتا رہے۔ وہ گھوڑا دوڑاتا ہوا جاتا اور اس کے کارندے اس کے پیچھے پیچھے دوڑتے ہوئے آتے۔ وہ ایک اچھا گھڑ سوار تھا اور گاؤں کے لوگوں کو یہ باور کراتے رہنا وہ ضروری خیال کرتا تھا۔
”ڈیرہ حاکم“ بھی کسی زمانے میں ایسا ہی ایک ڈیرہ تھا، جیسے کہ عام طور پر ایسے زمینداروں کے ہوا کرتے ہیں۔ جہاں ایک حصہ چودھری لوگوں کی محفلوں کے لئے مخصوص ہوتا ہے اور باقی پر ڈھور ڈنگروں کو باندھا جاتا ہے۔ ان جانوروں کو سنبھالنے والے کمی بھی رات کو یہیں ان جانوروں کے ساتھ ہی قیام کیا کرتے ہیں۔ شاید اسی لئے ان کمیوں اور ڈھور ڈنگر کی آپس میں پہچان بھی بہت رہتی ہے۔ بلکہ بعض اوقات تو جانور مالکان کی بجائے اپنی دیکھ بھال کرنے والوں سے زیادہ انس رکھتے ہیں۔ لیکن اب یہ ڈیرہ بہت بدل چکا تھا۔
یہ بڑی سی چاردیواری اب دو واضح حصوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ جہاں کبھی ایک بڑا سا کمرہ اور برآمدہ چودھری کے بیٹھنے اور پنچایت لگانے کے لئے مخصوص تھے وہاں اب کئی کمرے بن چکے تھے۔ ایک مکمل پر سہولت خواب گاہ چودھری کے آرام کے لئے مختص تھی اور ایک سجا سنوارا دیوان خانہ خاص دوستوں سے ملاقاتوں کے لئے۔ ایک بڑا سا برآمدہ نما کمرہ پنچایت لگانے یا ضرورت مندوں کی بپتائیں سننے کے لئے مخصوص تھا۔ یہیں ایک بڑی سی اور اونچی جگہ پر رکھی ہوئی تخت نما کرسی چودھری حاکم کے لئے بنوائی گئی تھی۔ کسی کو اجازت نہیں تھی کہ صفائی کرتے ہوئے بھی چند لمحوں کے لئے اس پر بیٹھ سکے۔
ضرورت مندوں اور اپنے حل طلب مسائل کے لئے آنے والوں کے لئے اس کی کرسی کے سامنے چارپائیاں بچھی رہتی تھیں۔ زیادہ رش کی صورت میں باقی لوگ یا تو کھڑے رہتے یا زمین پر ہی بیٹھ جاتے۔
اسی حصے کے باہر اب روشیں بنا کر، اسے بدیسی پودوں سے سجا دیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ ولائتی گلابوں میں گھرے ہوئے تختے پر بھی اب ولائتی گھاس اگائی جا چکی تھی۔ چودھری چاہتا تھا کہ سب آنے جانے والے اس کے ان مختلف بدیسی ملکوں سے لائے
ہوئے پودوں سے مرعوب ہوں۔ جبکہ وہاں آنے والوں کی اکثریت خود اپنے مسائل تلے اتنی دبی ہوئی وہاں آتی تھی کہ وہ کبھی غور سے ان پودوں کو دیکھ بھی نہ پاتی تھی۔
خوش قسمتی سے، جانوروں والے حصے میں ابھی کچھ پرانے درخت باقی تھے۔ نیم کے دو صحت افزا پیڑوں کے علاوہ دو عدد شیشم اور کیکر کا ایک شجر بھی اپنی موجودگی سے گئے وقتوں کی یاد دلاتا تھا۔ ماضی کی سب سے بڑی نشانی وہ بوڑھا اور تن آور برگد تھا کہ جس کی شاخوں سے داڑھیوں کی شکل میں لٹکی ہوئی جڑیں اکثر زمین کے بوسے لیا کرتی تھیں۔ البتہ اب اس کا وہ کونہ بالکل ویران ہو چکا تھا جو کسی زمانے میں ”اہل کتاب“ کا تکیہ کہلاتا تھا۔
بابا جمیل جہاں گرمیوں کی جلتی ہوئی دوپہروں میں بیٹھ کر، اپنی پرسوز آواز میں ہیر کے بول الاپتا اور اہل کتاب کہلانے والے اس کے سب سا تھی ایک عالم استغراق میں اسے سنا کرتے۔ ادھر ادھر لیٹے اور بیٹھے ہوئے جو لوگ وارث شاہ کے ان اشعار کے معنی تک رسائی نہ رکھتے تھے، وہ بھی اس کی لے کے سحر سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ بابا جمیل کئی سال ہوئے فوت ہو چکا تھا اور سائے کی تلاش میں آنے والے، ماحول کی اجنبیت کے پیش نظر اپنے اپنے ٹھکانے ڈھونڈ کر بکھر چکے تھے۔
”ڈیرہ حاکم“ پر اب جب بھی چودھری حاکم کی آمد ہوتی تو ایسے ضرورت مند وہاں پہنچ جاتے جنہیں حویلی کے باہر کھڑے ہونے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ یا پھر جب کبھی پنچایت لگتی تو ہر طرف کی پارٹیوں کو وہاں حاضر ہونا پڑتا۔ سرپنچ ہمیشہ چودھری حاکم ہی ہوتا۔ مگر آج ایسا کچھ نہیں تھا۔ ڈیرے پر موجود تمام لوگ چودھری کو اس نئی شادی کی مبارکباد دینے آئے تھے۔ زیادہ تر تو اس مبارکباد کی آڑ میں بھیک مانگنے ہی پہنچے تھے مگر چند ایک ایسے بھی تھے جو چودھری کی روز روز کی شادیوں اور طلاقوں کو اچھی نظر سے نہ دیکھتے تھے۔ ان کی آمد کا مقصد صرف مبارکباد کی رسم ادا کرنا ہی تھا۔
شرفو نائی بھی وہاں موجود تھا۔ وہ پیسوں کے ساتھ ساتھ داد وصول کرنے بھی آیا تھا۔ اس شادی کے معاملات طے کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ اسی کا تھا۔ وہ تمام خوشامدی اور چاپلوس جو مبارکباد کے ساتھ ساتھ چودھری کی جوانی کی تعریفیں بھی کرتے رہے، ان کی خوب آؤ بھگت کی گئی اور نقد انعامات سے بھی نوازا گیا۔ صرف ”مبارکباد“ دینے والوں کو چائے ضرور پیش ہوئی مگر اس سے زیادہ بات چیت کی بھی ضرورت محسوس نہ کی گئی۔ شرفو نائی کو بھی نجانے کس وجہ سے دوپہر کے بعد حویلی آنے کا کہا گیا اور اسے بھی اس وقت کوئی انعام تو کیا شاباش تک نہیں ملی۔
عنایت بیگم صبح کاذب کے وقت تو کہیں سوئی تھی اس لئے اس کی آنکھ بھی دیر سے کھلی۔ جاگتے ہی اسے جو سب سے پہلا خیال آیا وہ رجو کے بارے میں تھا۔ حویلی کے رسم و رواج کے مطابق، سب سے پہلے نئی دلہن کے کمرے میں جانے کی ڈیوٹی بھی بڑی چودھرانی کی تھی۔ سہاگ رات والی سفید چادر کی نئی حالت کا معائنہ سب سے پہلے وہی کرتی تھی۔ عنایت بیگم نے خود کو بہت سمجھایا تھا مگر پھر بھی یہ سوچ اسے اذیت دے رہی تھی کہ اب وہ اس لڑکی سے ملے گی جو اپنی پہلی رات، اس کے خاوند کے ساتھ گزار چکی ہے۔ وہ خاوند جو مدت ہوئی اس کے ازدواجی حقوق ادا نہیں کر رہا۔

