جنت سے نکالا ہوا انسان

فطرتاً انسان میں مال و دولت، اولاد اور عورت کی محبت ڈال دی گئی ہے۔ جانتے یا نا جانتے ہوئے اس کی زندگی کا محور یہ تین چیزیں ہی ہیں اور یہ ہمہ وقت اسے کسی نا کسی حصار میں رکھتی ہیں۔ زمانہ قدیم سے انسان مال و دولت کا پجاری رہا ہے۔ اسے حاصل کرنے کی خواہش میں وہ ہر طرح کے خطرات مول لے لیتا ہے۔
”کسی شخص کو دو سونے کی وادیاں عطا کر دی جائیں، تو وہ تیسری کی آرزو کرے گا“ (القرآن)
بڑے بڑے بادشاہ اپنی دولت اور رعایا میں اضافہ کرنے کی وجہ سے ساری عمر بے چین و بے قرار رہے، مگر سکون نا حاصل کر سکے۔ ہمارے سیاستدانوں کی مثال ہی لے لیجیے۔ سوئس بینکوں میں ان کے اکاؤنٹس بھرے پڑے ہیں۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا خطہ ہو جہاں ان کی جائیداد نا ہو۔ قومی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا فن ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ مگر پھر بھی غریب عوام کا خون نچوڑنے پر بضد نظر آتے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کے لیے بیرونی ممالک سے آئی امداد کو ہڑپ کر لینا بھی اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔
خیر، بادشاہ تو بادشاہ ٹھہرے۔ میں نے بذات خود بہت سارے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اگر ان کو روٹی، کپڑا اور مکان جیسی بنیادی ضروریات مہیا ہو جائیں تو وہ باقی کی زندگی سکون سے گزاریں گے۔ مگر بعد ازاں میں نے انہیں پہلے سے بھی زیادہ پریشان حال اور بے چین دیکھا۔ جدید تحقیق سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ بہت ہی کم لوگ معاشی طاقت اور سماجی معیار کے لحاظ سے مطمئن پائے گئے ہیں۔ زیادہ تر اسے بڑھانے کے چکر میں جہان فانی سے کوچ کر جاتے ہیں۔
اگر کوئی اس لحاظ سے خود کو مطمئن کر بھی لے تو پھر اسے اولاد کا غم ودیعت کر دیا جاتا ہے۔ گھر میں کوئی نالائق جنم لے لیتا ہے یا پھر کوئی ذہنی طور پر کمزور بچہ والدین کے سکون کو برباد کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اگر ان دونوں محاذوں سے انسان آزاد ہو جائے تو پھر تیسرا محاذ عورت کا ہے، جو سب سے زیادہ کڑا اور جان لیوا ہے۔ میں نے بڑے بڑے عالم فاضل اور ذہین و فطین لوگوں کو عورت کے ہاتھوں سر عام رسوا ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ میڈیا پر آئے دن اس طرح کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔ دراصل، مرد کی فطرت میں کسی نا کسی عورت کو پا لینے کی خواہش ہمیشہ پنپتی رہتی ہے اور اسے حاصل کرنے کی جستجو میں وہ ہر وقت آہستہ آہستہ سلگتا رہتا ہے۔
المختصر، انسان ان تینوں شکنجوں میں بری طرح جکڑا ہوا پایا گیا ہے۔ کوئی مال و دولت اور عظمت و بڑائی کی ہوس میں مبتلا ہے، کوئی تنگ نظر بگڑی ہوئی اولاد کی وجہ سے پریشان حال ہے، تو کوئی عورت کی محبت میں پستا چلا جا رہا ہے۔
درحقیقت، جنت سے نکالا ہوا انسان دنیا میں بھی جگہ جگہ جنت کی تلاش میں بھٹکتا پھر رہا ہے۔ وہ یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ یہ دنیا انسان کی آزمائش کے لیے تخلیق کی گئی ہے۔ اور یہ کہ قدرت نے اسے کسی خاص مقصد کے لیے پیدا کیا ہے، نا کہ وہ ذاتی تسکین اور عیش و عشرت کے لیے ہر طرح کی اخلاقیات کو مجروح کرتا پھرے۔ انسان کو یہ سمجھنا ہو گا کہ سکون صرف اور صرف اللہ کی یاد اور انسانیت کی خدمت میں ہے۔
! نہیں، تو پھر نہیں

