کپتان نے ریڈ لائن کراس کر لی
کسی نے پوچھا کہ بطور سیاسی جماعت تحریک انصاف کا مقابلہ کس سے ہے تو ایک جہاندیدہ آدمی نے جواب دیا کہ تحریک انصاف کے مدمقابل تحریک انصاف ہے اور اس جماعت کا مقابلہ صرف اور صرف خود سے ہے۔ سوال کرنے والے نے اس جواب کی وضاحت چاہی تو جہاندیدہ شخص بولا کہ کبھی پرانے موبائل میں سانپ والی گیم کھیلی ہے تو سوال کرنے والے نے حیرت سے جواب دیا کہ ہاں کھیلی ہے مگر اس کا اس سوال سے کیا لینا دینا ہے۔ تو جہاندیدہ شخص بولا کہ اس کا تو بہت گہرا تعلق ہے اس سوال سے اور تمہیں سمجھانے کے لیے اس سے اچھی مثال کوئی اور ہوہی نہیں سکتی۔
تو سوال کرنے والے کی حیرت مزید بڑھ گئی اور اس نے کہا کہ اس کی اب وضاحت بھی کر دیں تو جہاندیدہ شخص بولا کہ موبائل میں سانپ والی گیم کے اندر ہر گزرتے لمحے کے ساتھ سانپ کا سائز بڑا ہوتا جاتا ہے گیم کھیلتے ہوئے ایک وقت ایسا آتا ہے کہ سانپ کا سائز اتنا بڑا ہوجاتا ہے کہ اس کو خالی جگہ نہیں ملتی اور جیسے ہی سانپ کا ایک سرا اس کے دوسرے سرے سے ٹکراتا ہے تو گیم ختم ہوجاتی ہے۔ یہی حال تحریک انصاف کا ہو چکا ہے۔
گزشتہ عام انتخابات میں عطا ہونے والا مینڈیٹ اتنا بڑا تھا کہ مینڈیٹ لینے والے پریشان ہو گئے تھے۔ دینے والے نے حجت تمام کردی اور فرط محبت میں غبارے میں کچھ زیادہ ہی ہوا بھر دی۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اتنا کچھ عطا ہوجاتا ہے کہ دامن چھوٹا پڑ جاتا ہے تنگی داماں کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔ یہی کچھ ہوا اتنا کچھ مل گیا کہ دوبارہ ہاتھ اٹھانے کی یا پھر باب قبولیت کی طرف جانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔ ستم یہ کہ اس کامیابی کو اپنے زور بازو کا نتیجہ سمجھا جانے لگا۔
اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جب طاقت کا نشہ سر چڑھ جائے تو پھر وہی ہوتا ہے جو ہمارے حکمران کرتے آئے ہیں۔ پے درپے غلطیاں اور غلطیاں بھی ایسی کہ سیدھے اقتدار کی جنت سے نکال دیے گئے۔ عرش سے فرش تک آتے آتے کچھ کو تو سمجھ آ گئی اور معافی تلافی سے گزارہ ہو گیا۔ جبکہ کچھ ایسے بھی تھے کہ جیسے قسم کھا لی ہو کچھ نا سمجھنے کی۔ اس کے بعد تو سب کو پتہ ہے کہ پھر غلطی پر غلطی ہوتی ہے اور بالآخر پاؤں کسی بارودی سرنگ پر جا ہی پڑتا ہے۔
یہ سب کچھ ملک کے سب سے بڑے اردو بولنے والے شہر کے ایک سیاسی قائد کے ساتھ ہوا شدت جذبات میں بہت کچھ بول گئے اور منہ سے نکلی بات اور کمان سے نکلا تیر کب واپس آتے ہیں نتیجہ یہ کہ ایک مدت سے دیار غیر میں گوشہ نشینی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور اسی ملک میں رہائش پذیر ایک اور سیاسی شخصیت جن کا تعلق ملک کے سب سے بڑے صوبے سے ہے بظاہر پر آسائش زندگی گزار رہے ہیں۔ مگر ہماری سیاسی قیادت نے سبق نہیں سیکھا اور ہر تجربہ خود کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہی کچھ اب کپتان نے کیا ہے۔ خراب طرز حکمرانی کے سبب اقتدار چھن گیا ستم یہ کہ اپوزیشن بھی ڈھنگ کی نہیں کرسکے۔ خدا جانے کسی کی سنتے نہیں یا پھر ارد گرد سب لوگ ہی اسی مزاج کے ہیں۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے اور خدا جانے یہ پردہ کب ہٹے گا اور معلوم ہو گا کہ غلطی کہاں پر ہے۔
وطن عزیز کی سیاست میں کپتان کا سیاسی سفر بھی کمال کا رہا ہے۔ ہیرو سے لے کر تبدیلی کے علمبردار تک اور پھر نئے پاکستان کے معمار سے لے کر ایک طاقتور سیاسی اپوزیشن کے رہنما تک کا سفر جتنی تیزی کے ساتھ کپتان نے طے کیا ہے اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ یہ سفر کچھ زیادہ ہی تیزی میں طے کیا گیا اور اس جلد بازی میں بارہا کپتان کا پاؤں ریڈ لائن پر پڑتا رہا مگر کسی نے اس کا نوٹس نہیں لیا کسی کو ناگوار نہیں گزار۔ طے شدہ امر ہے کہ اپنے ہاتھوں سے تراشی گئی پتھر کی مورتیوں کو خود ہی پوجنے کی روایت بہت پرانی ہے۔ کپتان کے معاملے میں بھی یہی کچھ ہوتا رہا۔ سچ کہتے ہیں کہ کچھ چاہتیں بہت جان لیوا ہوتی ہیں اور عاشق تو کپتان کے عشق میں عزت سادات بھلا کر میر صاحب کی طرح بہت گنہگار ہوئے۔
فیصل آباد کے جلسہ میں کپتان کی تقریر کے بعد حجت تمام ہوئی، محبتیں اپنے انجام کو پہنچیں۔ کپتان نے تقریر میں کہا کہ آصف زرداری اور نواز شریف اپنا فیورٹ آرمی چیف لگانا چاہتے ہیں اس کے علاوہ بھی تقریر کے مندرجات نہایت قابل اعتراض تھے اس کو بیان کرنا ضروری نہیں بس اتنا کہا جاسکتا ہے کہ اس بار حد کراس کی گئی بلکہ ریڈ لائن کراس کی گئی سادہ الفاظ میں کپتان نے مسلح افواج کی اہم تقرریوں پر غیر ذمہ دارانہ گفتگو کر کے بالآخر اس بارودی سرنگ پر پاؤں رکھ دیا جس کے بعد خیر کی بس توقع ہی کی جا سکتی ہے۔ اس تقریر کے ردعمل میں آئی ایس پی آر کا بیان آ گیا کہ ”ایک ایسے وقت میں پاکستانی فوج کی سینیئر قیادت کو متنازع بنانے کی کوشش انتہائی افسوسناک ہے جبکہ پاکستانی فوج قوم کی سکیورٹی اور حفاظت کے لیے ہر روز جانیں قربان کر رہی ہے۔
جو بھی ہو ایک بات طے ہے کہ فیصل آباد میں کپتان کی تقریر نے اس کے سیاسی سفر شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس نقصان کا اندازہ آنے والے چند ہفتوں میں ہو جائے گا۔ شاید فی الوقت اس کی شدت کا احساس نا ہو رہی بات جماعت کی تو اس کے اراکین وضاحت دے رہے ہیں کہ کپتان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر سمجھا گیا ہے۔ کپتان کو اتنا نقصان شاید کولیشن گورنمنٹ نہیں پہنچا سکی جتنا کپتان کی تقاریر نے اس کو نقصان پہنچایا ہے۔ بات گھوم پھر کر اسی موبائل کی گیم پر آ گئی جہاں ایک سانپ کا سائز اتنا بڑا ہوجاتا ہے کہ وہ خود سے ٹکرانے سے ختم ہوجاتا ہے بلکہ پوری گیم ہی ختم ہوجاتی ہے۔ شاید اس بار کپتان کی یہ سیاسی گیم ہی ختم ہونے جا رہی ہے۔ کپتان کے چاہنے والوں کو افسردہ دل کے ساتھ اطلاع ہو کہ کپتان ریڈ لائن کراس کرتے ہوئے بارودی سرنگ پر پاؤں رکھ چکا ہے


