میچ کو یادگار بنانے والے نسیم شاہ کو طارق جمیل کی پہنچ سے دور رکھا جانا چاہیے

پریشانی اور انتہائی دکھ کی اس گھڑی میں نسیم شاہ کے دو یادگار چھکے جس کی بدولت پاکستانی ٹیم کی فائنل تک رسائی ممکن ہو پائی کسی بمپر خوشی سے کم نہیں ہے، ویسے بھی ہم بڑے صابر شاکر قسم کے لوگ ہیں جو چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے بہل جاتے ہیں اور فرط جذبات میں آ پے سے باہر ہو کر حکمرانوں کے تمام گناہ تک بھول جاتے ہیں۔ ہم اتنے سیدھے سادے لوگ ہیں کہ ہر آفت کے وقت میں ہمیں اپنے گناہوں کی فکر لاحق ہوجاتی ہے مگر حکمران طبقہ کی مس مینجمنٹ دکھائی ہی نہیں دیتی یا پھر ہم ذہنی طور پر کہیں نہ کہیں اس مولویانہ فکر کو تسلیم کرچکے ہیں کہ آسمانوں سے عذاب کا نزول ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہوتا ہے، اگر ایسا ہے تو پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ کفار کی سرزمین جنت نظیر کیوں ہے؟
کیا وہاں قدرت کا کوئی ڈسکاؤنٹ پیکج چل رہا ہے؟ حالانکہ ہماری سرزمین خانقاہوں، درگاہوں یا مساجد سے مزین ہے اور اس کے علاوہ شہر اولیاء ملتان شریف بھی ہماری سرزمین کا حصہ ہے مگر ان برکات و تبرکات کے باوجود بھی سیلاب ہر سال تباہی مچا کر چلا جاتا ہے آخر ہمارے اوپر یہ عذاب امڈ امڈ کر آ نے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ خیر عقل و شعور کی باتوں سے ہمارا کیا لینا دینا ہم تو ٹھہرے روبوٹ جن کا کنٹرول بھی ہمارے پاس نہیں ہے جسے ہم مکمل اتفاق رائے سے پارسان مذہب کے سپرد کر چکے ہیں۔
کرکٹ کے میدان سے ایک اچھی خبر ملی مگر کامیابی کے بعد جو نفرت کا دور چلا اور سوشل میڈیا پر ابھی تک چل رہا ہے وہ اسپورٹس مین شپ کی روح کے بالکل منافی ہے اور محبتوں کے سفیروں کی نفرت انگیزیوں نے جیت کا مزہ کرکرا کر دیا ہے۔ اچھی بھلی گیم کو نفرت کی بھینٹ چڑھا دیا مگر نفرت نے جو سب سے بڑا سوال کھڑا کیا ہے وہ بہت قابل غور ہے کہ
افغانی قوم ہم سے اتنی زیادہ نفرت آخر کیوں کرتے ہیں؟
جبکہ دوسری طرف ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ بطور ہمسایہ ہم نے ہر آفت و مصیبت کی گھڑی میں ان کی خوب مدد کی ہے اور یہاں تک کہ انہیں اچھا کرکٹرز بنانے میں بھی ہمارا بنیادی کردار ہے تو پھر ایک دوسرے کو آنکھیں دکھانے کے پیچھے وجہ کیا ہو سکتی ہے؟
میچ کے بعد افغان شائقین نے نے پویلین میں جس قسم کے رویے کا مظاہرہ کیا ہے وہ کوئی صحت مند یہ نارمل رویہ بالکل نہیں تھا بلکہ ایک بیمار ذہنیت کا آئینہ دار تھا مگر نفرت کا اتنا شدید اظہار وہ بھی ایک میچ ہارنے پر؟
معاملہ کہیں نہ کہیں بہت سنگین ہے جس کی تپش کرکٹ کے میدان تک پہنچ چکی ہے، اگر سیاسی پنڈتوں کی نفرتیں اور پروپیگنڈے کھلاڑیوں سے ان کا اصل جوہر جسے اسپورٹس مین شپ کہتے ہیں وہی چھین لے تو پھر دونوں طرف کے بڑوں کو سوچنا ہو گا۔ ایک ہی خدا اور رسول کے ماننے والوں کو مذہب نہیں جوڑ سکا تو پھر کون سا واسطہ یا تعلق جوڑ پائے گا؟
یہ وہ بنیادی سوال ہیں جن پر اہل خرد و نظر اور خاص طور پر سیاسی پنڈتوں کو غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس قسم کے اجڈ اور جنگلی رویوں کی آج کی دنیا میں کوئی گنجائش نہیں ہے اور مفادات کی دنیا میں سستے جذبات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی مستقل دوست یا دشمن ہوتا ہے بلکہ ملکوں کے بہترین مفادات ایک دوسرے کو مضبوط بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ باقی پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے اچھی پرفارمنس کا مظاہرہ کیا اور ایک طرح کے چہروں کا جمود ٹوٹنے سے اور نیا ٹیلنٹ سامنے آنے سے حقیقت کھلنا شروع ہوئی کہ اس دھرتی پر باصلاحیت افراد کا بہت زیادہ سرمایہ موجود ہے مگر وسائل نہ ہونے کی وجہ سے بیچارے گلیوں میں رلتے رلتے ختم ہو جاتے ہیں اور جو قومی ٹیم کا حصہ بن کر جونہی کارکردگی دکھانے لگتے ہیں تو ان کے ڈریسنگ روم میں مولانا انضمام الحق، مولانا مشتاق احمد اور اور مولانا سعید انور ہمراہ مرشد عالی مقام سیٹھ طارق جمیل سمیت گھس جاتے ہیں اور اچھے خاصے پروفیشنلز کو مذہبی بنا ڈالتے ہیں۔
کچھ کھلاڑی تو اپنی مذہبی لائف اور پروفیشنل لائف میں فاصلہ برقرار رکھ پاتے ہیں لیکن زیادہ تر اپنی پروفیشنل لائف کو داؤ پر لگا کر مشنری بن جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ دنیا کی کامیابی کو سیکنڈری اور آخرت کی کامیابی کو اولیت دینے لگتے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ جب آپ ذہنی طور پر اپنی ترجیحات طے کر لیتے ہیں تو عقل نمبر 1 کو فوقیت دے گی نمبر 2 کو نہیں۔ جس کا ثبوت ہم کرکٹر رضوان کی صورت میں مشاہدہ کر سکتے ہیں وہ میچ کی اگلی اسڑیٹجی پر فوکس کرنے کی بجائے گراؤنڈ میں ہی عبادت میں مشغول ہو جاتا ہے۔
نجی لائف میں آپ جو مرضی کریں کوئی مضائقہ نہیں مگر اگر پروفیشنل لائف میں پرفارمنس پر فوکس کرنے کی بجائے آپ عبادات میں مگن ہوں گے تو یہ عمل ایک طرح سے دکھاوا کرنے یا پھر ورچو سگنلنگ کے زمرے میں آئے گا اور اس سے زیادہ ایسا رویہ پروفیشنل ڈس اونیسٹی کہلائے گا۔ نسیم شاہ ہمارا فریش ڈسکور ہونے والا اثاثہ ہے اور ابھی اس نے اپنے شاندار کیریئر کا آغاز کیا ہے۔ انرجی اور بھرپور جوانی کا اچھا خاصا سرمایہ موجود ہے ہماری نیک خواہشات آپ کے ساتھ ہیں مگر ذرا بچ بچا کے۔ کیوں کہ قبیلہ طارق جمیل تک آپ کی یہ کارکردگی پہنچ چکی ہوگی اور قافلے چل پڑے ہوں گے۔ فی الحال ہمیں اس نوجوان کو طارق جمیل کی پہنچ سے دور رکھنا چاہیے اور نسیم شاہ سے بھی گزارش ہے کہ اپنی پروفیشنل لائف پر فوکس کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو مزید ڈسکور کرتے ہوئے خود کو منوائیں۔

