خالد سہیل صاحب سے ایک ملاقات


محترمہ و معظمہ و مکرمہ جنابہ راحیلہ خان صاحبہ!

یہ میری خوش بختی کہ آپ کینیڈا تشریف لائیں اور میری ’ہم سب‘ کے ادبی خاندان کی ایک اور ادیبہ سے ملاقات ہوئی۔ ہم نے نہ صرف مل کر کھانا کھایا بلکہ ادبی و فلسفیانہ موضوعات پر تبادلہ خیال بھی کیا۔

دو سال پیشتر میں نے جب ’ہم سب‘ پر آپ کے کالم پڑھنے شروع کیے تھے تو میں ان پر اپنی رائے دینے سے کتراتا تھا۔ مجھے یہ ڈر رہتا تھا کہ آپ کہیں میرے بے لاگ اور بے تکلف تبصرے سے ناراض نہ ہو جائیں لیکن ٹورانٹو کی ملاقات کے بعد اندازہ ہوا کہ آپ اتنی روایتی نہیں ہیں جتنا میں آپ کو سمجھتا تھا۔ آپ کے دل کے نہاں خانوں میں ایک باغی عورت چھپی بیٹھی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو نہ تو آپ میرے کالم پسند کرتیں اور نہ ہی آپ کے دل میں مجھ سے ملنے کی خواہش سرگوشی کرتی۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ایک دن سات پردوں میں چھپی وہ باغی عورت چھلانگ لگا کر باہر آ جائے گی اور پھر آپ ایسی تحریریں لکھیں گی جو آپ کی سہیلیوں کو حیران پریشان کر دیں گی۔

ایک عورت ہونے کے ناتے آپ کو جن مشکلات کا سامنا ہے مجھے ان کا بخوبی اندازہ ہے۔ ہمارا مشرقی معاشرہ اکیسویں صدی میں بھی مردوں کو جو حقوق و مراعات فراہم کرتا ہے عورتوں کو ان سے محروم رکھتا ہے۔

آپ لاڑکانہ میں پیدا ہوئیں ’
میڈیکل کالج میں تعلیم حاصل کی
پھر امراض زچہ و بچہ میں تخصص حاصل کیا

یہ سب کامیابیاں آپ کی ذہانت اور انتھک محنت کی آئینہ دار ہیں۔ اب آپ بہت سی پاکستانی لڑکیوں اور عورتوں کے لیے رول ماڈل ہیں۔

مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ آپ اپنے افسانوں کا مجموعہ تیار کر رہی ہیں۔ مجھے اس مجموعے کا شدت سے انتظار رہے گا۔

آپ کے ساتھ ڈنر پر جن موضوعات پر تبادلہ خیال ہوا ان میں سے ایک علامہ اقبال کی شاعری اور شخصیت تھا۔ مجھے بالکل اندازہ نہ تھا کہ آپ علامہ اقبال سے اس قدر محبت اور عقیدت رکھتی ہیں۔

میں بھی علامہ اقبال کا مداح ہوں۔ میں نے ان کے چھ دانشورانہ لیکچرز سے جو چیزیں سیکھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ ہمیں آسمانی کتابوں کا لغوی ترجمہ کرنے کی بجائے استعاراتی ترجمہ کرنا چاہیے۔ اقبال نے فرمایا کہ آدم اور حوا کی کہانی ہر مرد اور عورت کی کہانی ہے اور جنت اور دوزخ جگہوں کا نہیں کیفیتوں کا نام ہے۔

HELL AND HEAVEN ARE STATES NOT PLACES

میری نگاہ میں ساری دنیا کے ادیب شاعر اور دانشور فرشتے نہیں انسان ہوتے ہیں۔ انہیں اپنی غیر روایتی سوچ ’فکر اور طرز زندگی کی وجہ سے نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مشرق میں میر تقی میر‘ سعادت حسن منٹو اور جون ایلیا کو اور مغرب میں ورجینیا وولف ’ارنسٹ ہیمنگوے‘ ونسنٹ وین گو اور فریڈرک نیٹشے کو نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض ذہنی توازن کھو بیٹھے اور بعض نے اقدام خود کشی کیا۔

علامہ اقبال کو بھی نفسیاتی اور رومانوی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی لیے انہوں نے اپنی مغربی محبوبہ عطیہ فیضی کو خط میں لکھا کہ میں ہندوستان آ کر بہت دکھی ہو گیا ہوں اسی لیے شراب زیادہ پیتا ہوں کیونکہ شراب خودکشی کو آسان بنا دیتی ہے۔ اقبال کا خیال تھا کہ ایسا دکھی خط پڑھ کر عطیہ کو ان سے ہمدردی ہوگی اور جذباتی و رومانی قربت میں اضافہ ہو گا لیکن عطیہ ایک جہاندیدہ خاتون تھیں انہوں نے بڑی اپنائیت سے کہا کہ آپ کو کسی ماہر نفسیات سے رجوع کرنا چاہیے۔

کسی ادیب شاعر یا دانشور کا نفسیاتی مسائل کا شکار ہونا اس کی ادبی عظمت میں کمی کرنے کی بجائے اضافہ کرتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایسے ادیب شاعر اور دانشور نفسیاتی مسائل سے نبرد آزما ہونے کے باوجود ادب عالیہ تخلیق کرتے ہیں۔

بقول سید صادق حسین
تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

میں علامہ اقبال کو میر ’غالب اور فیض جیسے اردو کے بڑے شاعروں کی فہرست میں شامل سمجھتا ہوں۔ مجھے ان کے جو اشعار بہت پسند ہیں ان میں سے دو اشعار سنانا چاہتا ہوں

پہلا شعر۔
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور

دوسرا شعر۔
فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا
یا اپنا گریباں چاک یا دامن یزداں چاک

راحیلہ صاحبہ!

کیا یہ خبر درست ہے کہ اب اقبال کی جو کلیات پاکستان میں چھپتی ہیں ان سے مندرجہ بالا شعر کی طرح اقبال کے باغیانہ اور ملحدانہ اشعار کو سنسر کر دیا جاتا ہے۔

میں اس خط کے آخر میں ان تحفوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو آپ سات سمندر پار سے میرے لیے لائیں۔
آپ کی گفتگو اور آپ کے تحفوں نے ہماری ملاقات کو یادگار بنا دیا
آپ کی شخصیت اور تخلیقیت کا مداح
خالد سہیل
29 اگست 2022

مکرمی خالد سہیل صاحب
آداب

کچھ آپ نے ذرا بھی سوچا کہ اتنے بھاری بھرکم القابات کا بوجھ یہ ناتواں، منحنی سی ہستی کیونکر سہار پائے گی۔ ”معظمہ“ سے تو مجھے سات بیبیوں کی کہانی یاد آ گئی جس میں ایک معظمہ نیک پری کی طرح نمودار ہوتی تھیں۔ یہ کہانیاں منت پوری ہونے پر سنی اور سنائی جاتی تھیں۔ ہماری دلچسپی بس پڑھ کر سنانے اور آخر میں بانٹی جانے والی شیرینی تک محدود رہی۔

خط نویسی کی صنف کو آپ نے ایک بار پھر زندہ و تابندہ کر دیا ہے اور عین ممکن ہے غالب کے بعد خط نویسی میں آپ کا نام تاریخ میں رقم ہو جائے۔ مرزا یاسین بیگ کے ساتھ خطوط کے انداز میں لکھی گئی کتاب ”پاپی“ پڑھنے کا اشتیاق بلند اقبال کے ٹی وی شو کو دیکھ کر ہوا۔ پھر یکے بعد دیگرے خط نویسی کی تکنیک استعمال کرتے ہوئے آپ کی کئی کتابوں سے تعارف حاصل ہوا تو محسوس ہوا کہ شاید یہ آپ کی پسندیدہ تکنیک ہے۔ ہمیں تو خط نویسی کیے زمانے گزرے۔ نوعمری میں ایک کزن کے ساتھ طویل خط و کتابت کی تھی۔

ٹھہریئے ؛ نتیجہ اخذ کرنے میں شتابی نہ کیجیئے۔ بات یہ تھی کہ ہمارے اماں ابا نے پہلوٹھی کی بیٹی پیدا کرتے وقت ذرا ہمارے جذبات کا خیال نہ کیا کہ ہمیں بڑے بھائی جان کا کتنا شوق ہو گا اور سہیلیوں کے بڑے بھائیوں کی رشک آمیز شفقت سے دل کتنا رنجور ہو گا۔ جب ہمیں علم ہوا کراچی میں ہمارے ایک کزن جن سے ہم کبھی نہیں ملے تھے مگر وہ ہم سے بڑے ہیں تو ہم نے انہیں خط لکھ مارا کہ وہ ہی بس ہمارے بھائی جان ہیں۔ انہوں نے سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہماری خواہش پر آمنا صدقنا کہہ دیا اور یوں بالمشافہ ملاقات ہونے تک قلمی ملاقاتیں ہوتی رہیں۔

میرے لئے باعث نازش ہے کہ آپ جیسے دانشور، ادیب اور نفسیات دان نے اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود میرے لئے وقت نکالا۔ سچ کہوں تو آپ سے ملنے سے پہلے آپ کا رعب طاری تھا۔ عین ممکن ہے ابتدا میں ایک نفسیات دان کی مشاق نگاہوں نے میری گھبراہٹ کو بھانپ لیا ہو۔ لیکن ذرا سی دیر میں ہی آپ کے مشفق اور سہل برتاؤ نے تمام حجاب اٹھا دیے اور گفتگو سیل رواں کی مانند بہتی چلی گئی۔ ہم نے ادب، معاشرت اور ذاتی موضوعات پر گفتگو کی۔ مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ میری تحریر و تصویر سے ایک سفاک خاتون کی شبیہ ابھرتی ہے کہ آپ جیسا بے لاگ تبصرہ کرنے والا بھی ٹھٹھک جائے۔ چلیے اچھا ہوا ملاقات سے یہ غلط فہمی تو دور ہوئی۔

آپ نے فرمایا کہ میرے اندر ایک باغی عورت مستور ہے ورنہ آپ سے ملنے کی خواہش نہ کرتی۔ چلیے پہلے دوسرے حصے کا جواب دیتی ہوں۔ میں ”ہم سب“ کی مشکور ہوں جس نے اپنے لکھنے والوں کو ایک خاندان کی شکل دی ہے کہ مختلف النوع خیالات و رجحانات رکھنے کے باوجود ایک رشتہ ایک تعلق محسوس ہوتا ہے اور ہر تعلق ملنے کا مشتاق ہوتا ہے۔ اس لئے آپ سے ملنے کی تمنا کینیڈا کے لئے ٹکٹ بک کرنے کے ساتھ ہی بیدار ہو گئی تھی۔ جہاں تک بغاوت کی بات ہے تو ہر عورت میں تھوڑی سی بغاوت تو ہوتی ہے جیسے تھوڑا سا مردانہ ہارمون ہوا کرتا ہے۔ بس بغاوت کو روایت پر حاوی نہیں ہونا چاہیے ورنہ شناخت میں کجی آتی ہے۔

مجھے علامہ اقبال سے ہی نہیں غالب فیض اور فراز سے بھی عقیدت ہے۔ ان کے بشری عیوب میری پسندیدگی کو متاثر نہیں کرتے کیونکہ میں انہیں انسان سمجھتی ہوں، فرشتے نہیں۔ عیوب سے چشم پوشی کرنا ہی محبت کی دلیل ہے۔

آپ کے ایک اور استفسار کا جواب یہ ہے کہ میرے پاس پاکستان سے خریدی گئی کلیات اقبال ہیں اور ان میں کوئی قطع و برید نہیں کی گئی ہے۔ اقبال کے دو شعر آپ نے لکھے، میں بھی اپنی پسند کے دو اشعار لکھتی ہوں۔

نگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پر سوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لئے

اور
اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

جناب خالد صاحب۔ میرے معمولی ہدایہ کو شرف قبولیت بخشنے کا شکریہ۔ آپ کی تحفتا دی گئی کتابیں میرے لئے مشروب خاص ہیں اور ہر ایک سے جرعہ جرعہ چکھ لیا ہے۔ بچوں کے ساتھ مصروف ہوں۔ فراغت ملتے ہی پوری نوش جاں کرپاوں گی۔

والسلام
مخلص راحیلہ خان

Latest posts by راحیلہ خان، مسقط (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments