بچیوں کی طفل کشی اور ہم


کسی بھی انسان کا قتل ایک وحشیانہ جرم ہے اور اس حقیقت سے کسی کو بھی انکار نہیں۔ حضرت انسان نے پہلی جنگ عظیم سے لے کر دوسری اور پھر وار آن ٹیرر کے نام پر کیے گئے ہر قتل کا حساب رکھا ہے۔ لیکن یہاں بات بڑے پیمانے پر خاموشی سے ناک کے نیچے ہونے قتل عام کی ہو رہی ہے جو صدیوں سے جاری ہے۔ لیکن چونکہ یہ قتل عام ایک لمبے عرصے پر محیط ہے اور مقتول نوزائیدہ بچیاں ہیں تو کیا اس سے کسی کو فرق نہیں پڑ رہا اور نہ ہی کوئی بھی قاتلوں کی بربریت پر دہائی دیتا نظر آتا ہے؟

ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں لڑکیوں کی پیدائش سے پہلے ہی ان کا قتل کر دینا ایک اہم اور حساس مسئلہ ہے۔ ایک ایسا مسئلہ جس پر دنیا کے کچھ خاص حصوں میں کوئی بھی بات کرنا پسند نہیں کرتا۔ انسان کے پاس طاقت ہے کہ وہ ایک معصوم روح کو قتل کر دے اس لئے وہ چاہے تو پیدا ہوتے ہی گلا گھونٹ کر، زمیں میں دبا کر یا پانی میں ڈبو کر اس کی جان لینے کی طاقت رکھتا ہے کیونکہ اس کے پاس یہ فیصلہ کرنے کا اختیار ہے کہ آیا وہ مردانہ جنین رکھنا چاہتا ہے یا زنانہ۔

بھارت کی وومین اینڈ چائلڈ ڈویلپمنٹ منسٹر مونیکا گاندھی کے مطابق بھارت میں ایک اندازے کے مطابق روزانہ دو ہزار بچیاں پیدائش سے پہلے ہی قتل کر دی جاتی ہیں۔ میرا حساب ذرا کمزور ہے لیکن میں اب اسے ایک نعمت خیال کرتی ہوں کیونکہ یہ مجھے دو ہزار کو سال کے تین سو پینسٹھ دنوں سے ضرب دینے سے روکتا ہے۔ مستقبل کے معاشی دیو چین میں سال دو ہزار بارہ تک دو سو ملین نوزائیدہ بچیوں کو مار دیا گیا کیونکہ جب آپ کو ایک ہی بچہ پیدا کرنے کی اجازت ہو تو کون بیٹی پیدا کرنا چاہے گا۔ گو کہ یہ ون چائلڈ پالیسی سال دو ہزار سولہ میں ختم کر دی گئی لیکن اپنی اس انتہا پسندی کا بھگتان چین کو زبردست صنفی فرق کی شکل میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ جہاں ہر سو لڑکیوں کے مقابلے میں 121 لڑکے موجود ہیں۔

مملکت خداداد میں گو کہ لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دینے کا رواج نہیں ہے لیکن بعد کے سالوں میں کوشش کی جاتی ہے کہ لڑکی کو اس بات کا احساس دلایا جائے کہ اگر وہ پیدا ہوتے ہی مار دی جاتی تو اس کے سر پر احسان ہوتا۔ اس ساری صورت حال کی ذمہ دار مرد جاتی سے کہیں زیادہ عورت جاتی ہے۔ شادی ہوتے ہی اٹھتے بیٹھتے پوتے، نواسے کی وہ رٹ لگائی جاتی ہے کہ رہے نام خدا کا۔ اور یہ راگ الاپنے والی زیادہ تر گھر کی بزرگ خواتین ہوتی ہیں۔

کم ازکم اس ناچیز نے اپنی اب تک کی زندگی میں کسی کو کہتے نہیں سنا کہ ”بہو اب تو چاند سی پوتی کا منہ دیکھ لوں تو چین سے آنکھیں بند کر سکوں گی“ ۔ دوران حمل جنس کا پتہ لگوانے کے لئے بے قرار عورتیں لیڈی ڈاکٹرز اور ریڈیالوجسٹس کی ناک میں دم کر دیتی ہیں۔ اگر خدا کی مہربانی سے اولاد نرینہ کا اشارہ مل گیا تو ٹھیک ورنہ حاملہ خاتون کا بعض کیسز میں خدا ہی حافظ ہے۔ لڑکی کی پیدائش پر باقی لوگ ایک طرف خود ماں کے چہرے پر اس قدر مردنی چھائی ہوتی ہے کہ مبارک باد دینا جرم لگنے لگتا ہے اور اگر دل کڑا کر مبارک دے دی جائے تو آس پاس کی اکثر خواتین آپ کو ضرور سمجھائیں گی کہ لڑکی کی پیدائش پر مبارکباد نہیں دیا کرتے۔ نوزائیدہ بچی کو گود میں اٹھا کر کہا جائے گا کہ کوئی بات نہیں بیٹا اگلی بار سہی دل چھوٹا نہیں کرنا۔

ایک سے زائد لڑکے کسی بھی گھرانے میں بہو کے پاؤں جمانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور بالشت برابر لڑکوں کی ماؤں کی چال میں ایک عجب قسم کا غرور آ جاتا ہے۔ ایک سے زائد لڑکی پیدا کرنے والے باپ کے کاندھے اور ماں کی گردن ایسی جھکی ہوتی ہے مانو کوئی جرم سرزد ہو گیا ہو۔ اگر کسی کے ہاں ایک لڑکا اور دو لڑکیاں ہیں تو خاندان بھر کی خواتین اس کو جوڑیاں ملانے کا ضرور کہیں گی۔ پاکستان میں ون چائلڈ پالیسی کا دور دور تک امکان نہیں اس لئے دل بھر کے جب تک دل چاہے جوڑیاں ملائی جاتی ہیں۔ اس لئے اگر کسی کو لگتا ہے کہ وہ ایک بیٹا پیدا کر کے چین کا سانس لے سکتا ہے تو ہمیں سابقہ وزیراعظم کے الفاظ یاد رکھنے چاہیے کہ سکون صرف قبر میں ہے۔ دنیا کے کچھ حصوں میں نسوانی اعضاء کے ساتھ پیدا ہونا واقعی جرم سا لگتا ہے۔

پدرسری معاشروں میں لڑکیوں کو پیدا ہونے کی اجازت تو ہے لیکن صرف جھکے سروں اور ہونٹوں پر ایک مستقل انگلی کے ساتھ۔ ہماری عورت علم، احترام، عزت، صحت، طاقت، معاشرتی رتبے، اور احساس خودی کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ہم انہیں پیدائشی غلاموں کی طرح پروان چڑھاتے ہیں۔ ان سے توقع رکھی جاتی ہے کی وہ اپنی نگاہیں زمین پر گڑی رکھیں کیونکہ ہم اپنے خود ساختہ اصولوں کی بدولت کسی کو بھی صنفی امتیاز کی سولی پر چڑھا کر جانچ سکتے ہیں۔

میرے نزدیک ایک نوزائیدہ مقتول بچی اور بنیادی حقوق سے محروم بالغ لڑکی برابر ہیں۔ بلکہ کچھ پہلوؤں سے دیکھا جائے تو پیدائش سے پہلے مار دینا حقوق سے محروم رکھے جانے کے مقابلے میں کم ظالمانہ فعل ہے۔

پڑھا لکھا کر زبان بند، کان کھلے اور دماغ پر تالے لگا کر نفسیاتی مریض بنا دینے سے جاہل رکھنا بہتر ہے۔

آنکھیں خواب دیکھیں اس سے پہلے زبردستی ان آنکھوں کو بند کر دینا بہتر ہے۔

لڑکی کے گلے میں اپنی نام نہاد عزت کا طوق ڈالنے سے بہتر ہے کہ اس نوزائیدہ بچی کو تکیے کے نیچے دبا کر مار دیا جائے۔

ایک روح کو فرسودہ اور بیکار رسم و رواج کے قلعے میں قید کرنے سے بہتر ہے کہ اسے خالق کے پاس واپس بھیج دیا جائے۔

بھوک کے ڈر سے ان کو قتل کر دینا کم ظلم ہے بہ نسبت اس وقت کے جب ان کو آدھی روٹی ملے اور بھائی کو پیٹ بھر کر۔

اور آخر میں خاندان کی عزت کے نام پر قربان کر دینے سے بہتر ہے کہ ان کو پہلی سانس ہی نہ لینے دی جائے۔

اس ظلم کے پیچھے ہزاروں معاشی، معاشرتی، روایتی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن ہمیں صرف ایک وجہ کی ضرورت ہے ان معصوم روحوں کو زندہ رکھنے، ان سے محبت کرنے، اچھی پرورش کرنے کی۔ اور یہ وجہ ہمیں خود تلاش کرنی ہوگی۔ یہ لڑکیاں بھی بیٹوں کی طرح قابل عزت، قابل احترام ہیں۔ یہ بھی بیٹوں کی مانند والدین کا سر فخر سے بلند کر سکتی ہیں۔ ضرورت صرف ایک حساس اور خوف خدا رکھنے والے دل کی ہے۔

Facebook Comments HS