قلم، کتاب کی دوستی


آج ایک بار پھر احساس ہوا کہ قلم کی اہمیت کم نہیں ہو سکتی، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور سب سے بڑھ کر سمارٹ فون جدید تقاضوں کی موجودگی میں کاغذ اور قلم کہیں ایک طرف چلے گئے۔ اب تعلیم اور اس سے زیادہ تفریح کے لئے موبائل فون کا سہارا لیا جاتا ہے، ہر دس میں سے کم از کم آٹھ افراد یا کبھی تمام فون استعمال کرتے نظر آئیں گے۔ کھانا کھاتے، کام کرتے، عبادت کے ساتھ یا فوراً بعد سفر کے دوران، پیدل چلتے، آرام کرتے حتی کہ سونے سے پہلے اور اٹھتے ہی یہی کام کیا جاتا ہے۔

ہماری زندگیوں میں اس کا عمل دخل بہت زیادہ بڑھ گیا۔ گھریلو خواتین کچن میں کام کرتے، فراغت کے اوقات میں یہاں تک کے حالت استراحت میں بھی فون تھامے ہوتی ہیں۔ کچھ ایسا ہی حال بچوں بلکہ کمسنوں کا ہوتا ہے، ان کے کارٹونز، موویز اور گیمز بھی اب ٹی وی پر نہیں ہوتے ہیں۔ پلے گراؤنڈز اور میدان اب بہت زیادہ رش والے نہیں رہے، تفریحی مقامات بھی اتنے بھرے پڑے دکھائی نہیں دیتے، وجہ یہی کہ سمارٹ فون نے گھر، دل و دماغ بلکہ زندگیوں میں اپنا مقام بنالیا ہے۔ یہ جیسے آکسیجن کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

گزشتہ دنوں ایک حادثے کے دوران میرا سمارٹ فون ٹوٹ گیا۔ اگرچہ میں اس میدان میں بڑی تاخیر سے آیا تھا یہ سہولت حاصل کیے ابھی ڈیڑھ پونے دو سال کا عرصہ گزرا ہو گا میں اس کے فوائد سے کسی حد تک مستفیض ہو رہا تھا سب سے بڑھ کر قلم اور کاغذ کا متبادل خوب تلاش کر لیا تھا کسی حد تک تفریح اور معلومات تک رسائی کا ذریعہ بھی بن گیا تھا۔ اس سب کے باوجود اردگرد ہر کسی کو بہت زیادہ استعمال کرتے دیکھ کر کوفت سی ہوتی۔

جس پر فون کو ترک کرنے کا کئی مرتبہ عزم بھی کیا مگر سہولت کی افادیت سے انکار نہیں کر پایا۔ ابھی ان دنوں کم استعمال کی سوچ ذہن میں آئی تھی کہ حادثے نے یہ سب ممکن بنا دیا۔ آج بارہواں روز ہے۔ صرف کال کرنے کے لئے متبادل فون لیا، حالانکہ پہلی رات ہی سب نے پیشکش کردی کیونکہ میں زیادہ استعمال آفس سے واپسی پر کرتا ہوں۔ یہ پیشکش اس لئے تھی کہ کہیں میں کوئی محرومیت سی محسوس نہ کروں۔

اس فون کی حقیقت بھی دلچسپ ہے میں کبھی اس کے حق میں نہیں تھا مجھے بچوں نے والد صاحب نے قریبی دوستوں نے کئی بار کہا۔ بیرون ملک مقیم دوست نے بڑے طریقے سے قائل کیا کہ رابطے اور سوشل میڈیا تک رسائی اور پھر کچھ لکھنے لکھانے کے قابل ہو جاؤ گے۔ میں نے اصرار کرنے پر بطور تحفہ اس فون کو قبول کر لیا۔ اللہ بھلا کرے میرے دوست کا ، وہ ہمیشہ میرا خیال رکھتا ہے کہ کہیں میں پریشان نہ ہو جاؤں۔

آج وہ فون خراب حالت میں پڑا ہے، مطلب قابل استعمال نہیں لیکن ماہرین کی رائے میں فون ٹھیک ہو جائے گا یہ بات مجھے زیادہ پرکشش نہیں لگی جتنا میرے اہل خانہ کا اس بات کا خیال ہے کہ میرا احساس محرومی جلد از جلد ختم ہوجانا چاہیے، جبکہ میں فی الحال خوش ہوں کہ بار بار کی توجہ اور جب بھی استعمال کرو اس دوران بالکل خاموشی، کسی سے کوئی تعلق واسطہ نہیں۔ بات چیت کے جیسے موضوع ختم ہو گئے۔

گھر میں بیٹھے محسوس ہوا کہ اگر فون نہ ہو اور والد صاحب نہ ہوں تو میرے جیسوں کو بچوں کے سامنے چپ کا روضہ رکھنا پڑے۔ وہ سب تو اس فون سے باہر نکلتے نہیں۔ بیگم اپنے کام کاج میں مصروف اس عمر میں کتنا بات کر لیں گے۔ اب بھی میں اس تحریر میں مصروف ہوں، میرے والد موبائل فون پر پاکستان بھارت کا کرکٹ میچ دیکھ رہے ہیں۔ مجھے خود بھی کرکٹ کا جنون رہا ہے لیکن ٹی وی بھی خراب ہونے اور اب فون بھی نہیں ایسے میں اس سہولت سے بھی محروم ہوں۔ تھوڑے وقفے سے ابا جی کوئی نعرہ لگا کر معلومات پہنچا دیتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ خواہش کے باوجود میں میچ نہیں دیکھ رہا اور ایک عرصے بعد قلم کاغذ کے کھیل ملیں خود کو مصروف کر کے وقت گزار رہا ہوں۔ ایسے میں تازہ ترین سکور اور کچھ تبصرے کے الفاظ میرے تک پہنچانے میں لگے ہیں۔

ایک بات کی بے حد خوشی ہے، سمارٹ فون سے کچھ دنوں کے لئے آزادی مل گئی، یہ کب تک رہتی ہے کوئی دعوی، نہیں کیونکہ عادی میں بھی اس کا ہو گیا ہوں۔ بہت زیادہ نہیں سہی لیکن اپنے کئی کام اسی فون کے ذریعے کرتا ہوں، سب سے بڑھ کر اس تحریر کو بھی کاغذ سے سافٹ پیپر تک منتقل کرنے میں لیپ ٹاپ مددگار ثابت ہو گا۔ ابا جی مسلسل میری طرف دیکھ رہے ہیں اور انہیں کاغذ کے اوپر قلم کے ساتھ مجھے لکھتا دیکھتے حیرت ہو رہی ہے۔ وہ اس عمل کو میری ایسی محرومی تصور کر رہے ہیں جیسے میں بیڈ پر لیٹ کر اپنے صحت یاب ہونے کا انتظار کر رہا ہوں اور دیکھنے والے کو ایسا لگ رہا ہو کہ یہ کبھی بھاگتا دوڑتا تھا، اپنے قدموں پر بھلا چنگا چلتا تھا، اب دیکھو کیسے بستر سے لگ گیا ہے۔

سمارٹ فون کے بغیر قلم ہاتھ میں پکڑنا بھی شاید ایسا کوئی تاثر دے رہا ہو، حالانکہ ایسا کچھ نہیں یہ قلم اور ذہن کا تال میل کمپیوٹر اور سمارٹ فون کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط اور موثر ہے۔ میں کسی قسم کی بوریت کا شکار نہیں بلکہ کہہ لیں کسی کی نگاہ اور محسوسات کی پروا کیے بغیر اپنے اس شوق کی بھرپور طریقے سے تسکین میں لگا ہوا ہوں جسے چند برسوں قبل کیا کرتا تھا اس کام سے پہلے میں نے قلم سے لکھی اپنی کئی تحریروں پر نگاہ ڈالی اور اس عمل کے دوران مجھے وہ دن لمحے اور حالات سب کچھ یاد آ گیا، یہاں تک کہ میں کئی کیفیات سے دوبارہ واقفیت کر گیا۔

قلم کا ساتھ زبان کے چلنے نے جیسے ترک کر دیا، لیکن حقیقیت یہی ہے کہ پڑھنے کا شوق چھوڑنے والے اب لکھنے کی جانب زیادہ راغب نہیں ہوتے، ہماری بے جا قسم کی مصروفیات اس عمل سے دور کر رہی ہیں، سمارٹ فون اور کمپیوٹر ضرور استعمال کریں لیکن کتاب اور قلم کی دوستی کا لطف دوبالا کرتے رہیں۔

Facebook Comments HS

نعمان یاور

نعمان یاور پرنٹ اور الیکٹرانک صحافت میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ان دنوں ایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں

nauman-yawar has 153 posts and counting.See all posts by nauman-yawar