موت آخری فیصلہ
میں نے زندگی کے بڑے بڑے خسارے ہنس کے سہ لیے پر اب لگتا ہے جیسے مجھے زندگی پر ہنسی آنے والی ہے۔ ہر انسان کا ظرف اس کے دماغ کی اوقات کے مطابق ہوتا ہے۔ جس کے مطابق وہ دوسرے کو پرکھتا ہے یا اس کی درجہ بندی کرتا ہے اصل میں وہ دوسروں کی درجہ بندی نہیں وہ اپنی تربیت یا اپنی سوچ کی ترجمانی کر رہا ہوتا ہے۔ یاری یا دشمنی بے نسلوں سے ہو جائے تو اللہ ہی بچائے اس لمحے میں اشرف المخلوقات کی تربیت فیصلہ کرتی ہے کہ کنارہ کشی کی جائے یا بدلہ لیا جائے پھر سالی تربیت آڑے آ جاتی ہے۔
جیسے جیسے آپ کا شعور بڑھتا ہے آپ بہت سی چیزوں سے کنارہ کشی کرتے جاتے ہیں جن میں بے شمار وہ چیزیں ہوتی ہیں جن کے بغیر آپ نہیں رہ سکتے تھے آپ کے لیے بے معنی ہو جاتی ہیں۔ مگر اس معاشرے کا المیہ بہت عجیب ہے کہ جس کے گھر دانے اس گھر کے کملے بھی سیانے میں نے مہنگے کپڑوں میں سستے لوگ اور سستے کپڑوں میں مہنگے لوگوں کو ملبوس دیکھا ہیں۔ یہی سوچتی ہوں کہ زندگی سے اتنا سارا تجربہ لے کر آخر ہم سب نے فوت ہی تو ہو جانا ہے۔ پھر یہ ذہنی الجھنیں کل کی پریشانیاں اپنے جسم کے ساتھ یہی چھوڑ جائیں گے۔
پھر؟
کون ہماری الجھنوں اور پریشانیوں کا وارث ہو گا؟ زر زمین زیور بنٹنے والے تو ہزاروں اکٹھے ہو جائیں گے۔ ہم آج جن چیزوں کے لئے پریشان ہو کر غلط صحیح کام کر رہے ہیں اور خود کو مشقت میں ڈالے ہوئے ہیں کہ کل کو ہمارے بچے یہ ہمارے پیچھے رہنے والے ہمارے وارث ہمیں یہ نہ کہیں کہ ہمارے ماں باپ نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا۔ ایک گھر کی چھت تو دینا سکے۔
میں نے اپنی زندگی سے سیکھا ہے کہ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے اور اب جب اس چیز کی قیمت ادا کر دیتے ہیں تو کچھ ہی عرصے میں وہ آپ کے لئے بے مول ہو جاتی ہے خواہش تب تک خواہش ہے جب تک اس کی جستجو پایہ تکمیل تک نہ پہنچے اور یہ انسانی فطرت ہے کہ جب کوئی چیز حاصل ہو تو مٹی ہونے میں دیر نہیں لگتی۔
جب حاصل ہو جائے تو خاک برابر، رزق بھی، عشق بھی، نصیب بھی، رقیب بھی۔
غرض انسان کی پیدائش سے لے کر کھانا پینا پڑھائی لکھائی دوست یار یہاں تک کہ دشمن بھی آپ کی زندگی کا بہت بڑا تجربہ ہوتے ہیں۔ سیکھنا اور آگے بڑھنا انسانی فطرت کا ایک حصہ ہے۔ مگر کتنی عجیب بات ہے کہ ہر صورت ہر تجربے اور دنیا کی ہر مہنگی سے مہنگی چیز کو آخر زوال آن لیتا ہے۔
پھر میرے مالک اے پاک پروردگار پھر اس انسان کی اتنی آزمائش کیوں؟ اسی دنیا میں اپنے ہی ہاتھوں سے بنائے ہوئے انسانوں کے ہاتھوں دوسرے انسان کی آزمائش کیوں؟ جبکہ آزمائش دینے والے اور لینے والے دونوں کو آخر موت نے آ گھیرنا ہے تو یہ اتنی لمبی زندگی دے کر ایسی آزمائش کیوں؟ خیر ہم تو یہ سوال بھی نہیں کر سکتے؟ پر پاک پروردگار تیرے ان بنائے ہوئے بندوں سے بڑے شکوے ہیں جو فرشتوں اور مسیحاؤں کے روپ میں کسی درندے سے کم نہیں۔
یہاں لوگوں کو پتہ چل جائے کہ مرنے کا موسم ہے تو کفن مہنگے ہو جاتے ہیں۔ آفتوں کے دور میں مستحق لوگوں کا حق کھانے والے خیر خواہوں سے زیادہ سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ یہ گلہ نہیں ہے اپنے رب سے یہ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ ہر انسان اپنے دائرے کا فرعون ہے۔ مگر بات صرف تب تک ہے جب تک پکڑ نہیں ہے ہر روز ہم اپنے سامنے بڑے بڑے برج گرتے ہوئے دیکھتے ہیں ایسی ایسی صورتیں مٹی میں ملتی ہوئی دیکھی کہ ذہن ماننے کو تیار ہی نہیں تھا کہ ان کو بھی زوال آ سکتا ہے مگر اگلی صبح خود پر مسلط کی ہوئی مجبوریوں کی نام نہاد ٹوکری اٹھائے اس دنیا کی بھیڑ میں پھر مگن ہو جاتے ہیں۔
انسان جو بھی کرے مگر مسلمان ہونے کے ناتے ہمارا ضمیر ہمیں بار بار بیدار کرتے ہوئے یہ ضرور یاد کراتا ہے کچا ہے تم کسی کے ساتھ غلط کرو یا کوئی تمہارے ساتھ غلط کرے بس یہ یاد ضرور رکھو کہ وہ رب دیکھ رہا ہے۔ ان تمام اعمال کو بھی جو تم شاید اپنے آپ کو بھی بتانا نہ چاہتے ہو اور اس رب کا فیصلہ آخری ہے جس کے سامنے ہماری سب دلیلیں بے کار ہیں۔ اس نے دنیا پر ہی مکافات عمل تو فیصلہ دیا ہوا ہے تو بس بے فکر ہو کر اپنے اعمال کو اپنے مطابق درست رکھو اور غلط ہونے کا شکوہ نہ کرو۔


