واجپائی دور کا کشمیر: اے ایس دولت کی زبانی
آج کل ٹیوٹر سپیس ایک سماجی پلیٹ پلیٹ فام کے ساتھ ساتھ معلومات کا بھی ایک ذریعہ ہے۔ جہاں اکثر لوگ اہم موضوعات، جیسا کہ حالات حاضرہ، مذہب یا تاریخ پر گفتگو کرتے پائے جاتے ہیں۔ کچھ دن قبل مجھے کشمیر سے متعلق سپیس میں مجھے بطور ’کو ہوسٹ‘ کے لیے مدعو کیا گیا۔ میں نے موضوع کی مناسبت سے مختار بابا جن کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہے کو بھی لنک بھیج دیا۔ میرے لنک بھیجنے پر مختار بابا نے سپیس جوائن کی اور مختار بابا نے ہی گفتگو کا آغاز کیا۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبر کے باعث دبی ہوئی تحریک اور موجودہ مزاحمت کی صورت حال سے آگاہ کیا۔ ایک سپیکر کے سوال کے جواب میں مختار بابا نے بتایا کے ہندوستان ہمیں 1953 ء کی حیثیت دینے کے لئے بھی رضامند تھا اور ساتھ ہی بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق چیف اے۔ ایس۔ دولت کی کتاب ’Kashmir: My Day With ’کا حوالہ بھی دیا اور مجھے مخاطب کرتے ہوئے کتاب پڑھنے کو کہا۔ میں نے تجسس میں کتاب سرچ کی تو کتاب کا نام ’
Kashmir: The Vajpaee Years ’تھا۔
یہ کتاب نوائے کی دہائی سے 2014 تک کے واقعات پر مشتمل ہے اور دولت صاحب کی کشمیر پر نظریات اور واقعات کا احاطہ کرتی ہے۔
کتاب کو ابتدا میں پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ایک مخلص افسر کشمیر ایشو کا پرامن حل چاہتا ہے۔ مگر دوسرے ہی صفحہ پر کشمیری قوم کی تضحیک کی گئی ہے۔ سابق را چیف نے بغیر کسی جھجک کے پوری کشمیری قوم کو جھوٹا، اپنے دکھوں کی نمائش کرنے والا اور پیسوں کا بھوکا قرار دیا ہے۔ اکیسویں صدی میں کسی قوم کی اس طرح تعریف بیان کرنا کسی بھی انسان یا قوم کے مہذب ہونے پر سوالیہ نشان ہے۔
کتاب کے شروع میں دولت صاحب نے اپنے ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچنے، ریٹائرمنٹ کی عمر یعنی 60 سال ہونے، اضافی سال بطور آئی۔ بی افسر خدمات انجام دینے اور پھر را چیف اور خاص طور پر کشمیر گروپ میں خدمات کی روداد بیان کی ہے۔ کتاب 80 کی دہائی میں مقبوضہ وادی میں ہونے والے انتخابات اور پھر انتخابات کے نتیجے میں عوامی ناراضگی اور عسکریت پسندی کی منظر کشی کرتی ہے۔ دولت صاحب نے بہت جامع انداز میں بطور آئی۔ بی سربراہ 80 کی دہائی میں عسکریت پسندی اور غیر مستحکم سیاسی حالات کی وجہ سے امن قائم کرنے کے دوران اپنی مشکلات کا خوب احوال بیان کیا ہے۔
دولت صاحب مفتی سعید کی صاحبزادی کے اغوا کا واقعہ اور پھر اشفاق مجید وانی کے والد سے ہونے والی گفتگو اور ڈاکٹر عبدالاحد گورو سے مدد نہ ملنے تک کی تفصیل پیش کرتے ہیں۔ چیف صاحب نے مفتی سعید کی صاحبزادی کی بازیابی کے لیے مفتی سعید کی طرف سے پریشر پر عسکریت پسندوں کے مطالبات کو قبول کرنے اور ریاستی بے بسی کا اظہار بھی کیا ہے۔ دولت صاحب نے اس وقت کے وزیر اعلی فاروق عبداللہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا اظہار بھی کھل کر کیا ہے۔ بھارت سرکار کا فاروق عبداللہ پر اعتبار نہ کرنا اور کشمیر میں نئی قیادت کی تلاش کا بھی کھل کر ذکر موجود ہے۔
کتاب میں وادی میں عسکریت پسندی کے باعث جگ موہن کی بطور گورنر تعیناتی اور نیشنل کانفرنس کے تلخ ماضی کے باعث فاروق عبداللہ کا جگ موہن پر تحفظات اور پھر فاروق عبداللہ کی برطرفی کے اہم واقعات بھی درج ہیں۔ کتاب میں پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کو وادی میں عسکریت پسندی کو فروغ دینے اور کشمیری مسلمانوں کو پیش آنے والی مشکلات کے لیے قصوروار ٹھہرایا گیا ہے ۔
کتاب کا دلچسپ پہلو دولت صاحب کی حریت رہنماؤں کے ساتھ گفتگو ہے۔ چیف صاحب کے شبیر شاہ سے مذاکرات، 53 کی ریاست کی بحالی، شبیر شاہ کے بھارت پر عدم اعتماد، شبیر شاہ کے خود پر اعتماد کی کمی اور نوبل انعام حاصل کرنے کو بہت ہی دلچسپ انداز میں تحریر کیا گیا ہے۔ دولت صاحب نے شبیر شاہ سے مذاکرات کی وجہ شبیر صاحب کی پاکستان سے قربت نہ ہونا قرار دی۔ بقول سابق را چیف شبیر شاہ کا خیال تھا کہ پاکستان سے قربت کا مطلب پاکستان کے حکم پر چلنا ہے جبکہ شبیر شاہ صاحب سے دولت صاحب کے مطابق انتخابات میں حصہ لینے پر گفتگو بھی ہوئی جو شبیر شاہ کے بھارت پر عدم اعتماد کی وجہ سے منطقی انجام تک نہ پہنچ سکتی۔
دولت صاحب آگے چل کر پاکستان سے دلبرداشتہ عسکریت پسندوں کا ذکر بھی کرتے ہیں، جس میں سب سے نمایاں نام فاروق صاحب کاہے۔ بقول دولت صاحب فاروق صاحب جب لائن آف کنٹرول کراس کر کے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر مدد لینے گئے اور وہاں کا ماحول اور پھر پاکستان میں امن اور خوشحالی دیکھ کر فاروق صاحب تھوڑے دلبرداشتہ ہوئے۔ فاروق صاحب کی سابق کشمیری آرمی افسر سے ملاقات اور پھر ان کی فاروق کو خود مختار کشمیر کی جدوجہد کی نصیحت، پھر نوائے وقت کے اس وقت کے چیف ایڈیٹر کا دوقومی نظریے کی رو سے پاکستان سے ملنا اور پاکستان کے پانیوں کے مسائل نے فاروق کو مزید پاکستان سے متنفر کیا۔ بقول دولت صاحب فاروق کے مطابق پاکستان خودمختار کشمیر کسی بھی صورت نہیں چاہتا۔ چیف صاحب مزید لکھتے ہیں کہ فاروق نے نہ صرف آئی ایس آئی کے ناروا سلوک کا اظہار کیا، بلکہ جہاد کے پیسوں میں کرپشن کا بھی ذکر ہوا۔
کتاب میں دولت صاحب بیان کرتے ہیں کہ ان کا کام پاکستان سے مایوس عسکریت پسندوں کے ساتھ گفتگو کرنا اور ان کے دکھوں کو بہت پرسکون انداز میں سننا تھا۔ چیف صاحب نے ایسے بہت سے پاکستان سے مایوس عسکریت پسندوں کا ذکر کیا ہے، جس میں ہاشم قریشی اور عبدالماجد صاحب کے نام نمایاں ہیں۔ ہاشم قریشی کا ذکر کرتے ہوئے کتاب پڑھنے والوں کو ماضی کا بھی سفر کرواتی ہے، جہاں پڑھنے والوں کو گنگا طیارہ اغواء اور پھر مقبول بھٹ کی پھانسی تک کی داستان ملتی ہے۔
ہاشم قریشی کی انڈیا واپسی، گرفتاری اور ذاتی مشکلات بہت دلچسپ انداز میں بیان کی گئی ہیں۔ اسی طرح ماجد صاحب کا پاکستان میں گزرا وقت، آئی۔ ایس۔ آئی سے غلط بیانی کر کے وادی میں واپسی اور پھر دن کی روشنی میں بقول چیف صاحب پاکستان نواز عسکریت پسند گروپ کے ہاتھوں قتل دلچسپ اور افسوس ناک انداز میں بیان ہوا ہے۔ اسی طرح کتاب میں ڈاکٹر عبدالاحد کے قتل کے لیے بھی پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے ۔
چیف صاحب کے مطابق ڈاکٹر صاحب کو جے کے ایل ایف سے نظریاتی تعلق رکھنے کی وجہ سے پاکستان نواز عسکریت پسند گروہ نے قتل کیا۔ دولت صاحب نے میرواعظ مولوی فاروق کے قتل کی داستان بیان کی ہے اور ساتھ یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ عسکری جدوجہد کی مخالفت پر مولوی صاحب کو قتل کیا گیا۔ نوے کی دہائی میں کشمیر میں غیر یقینی صورت حال اور ساتھ ہی اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم کا دورہ پاکستان اور بس سروس کے آغاز کا بھی ذکر موجود ہے۔ اسی عرصے میں کارگل جنگ اور بھارتی حکمت عملی پر بھی کتاب میں گفتگو کی گئی ہے۔ چیف صاحب نے مشرف کے نواز شریف کو برطرف کرنے اور واجپائی کے نواز شریف کے لیے فکر مند ہونے کا بھی ذکر کیا ہے۔
چیف صاحب اسی دوران مقبوضہ وادی میں عسکریت پسندی کی شدت میں کمی کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ عسکریت پسندی کی بھی سیلف لائف ہوتی ہے، جو وادی میں آہستہ آہستہ کم ہو رہی تھی۔ اسی عرصے میں بھارتی طیارہ اغوا کر کے کابل لے جانا اور ساتھ ہی شیخ عمر اور مولانا مسعود اظہر کی ہندوستان سے رہائی کے واقعات بھی کتاب کا موضوع ہیں۔
اسی طرح امریکہ کے مشرف پر اعتماد کے گرین سگنل پر پاک بھارت مذاکرات اور آگرہ مذاکرات کی ناکامی کا ذکر بھی موجود ہے۔ را چیف دولت صاحب واجپائی کو عمدہ، کم گو اور اعلی پائے کا سیاست دان سمجھتے ہیں، جو زیادہ سننے اور کم بولنے پر یقین رکھتے تھے۔ چیف صاحب کے مطابق اس وقت کے پاکستان کے صدر جنرل مشرف واجپائی کے اس انداز سے واقف نہ تھے اور ساتھ ہی ایڈوانی کو مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار بھی قرار دیا ہے۔ آگرہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد بھی جنرل مشرف کشمیر کے حل کے لیے پرعزم تھے اور آؤٹ آف باکس سلوشن پر یقین رکھتے تھے۔ ادھر وادی میں بھارتی حکومت فاروق عبداللہ کا متبادل نوے کی دہائی سے تلاش کر رہی تھی اور اسی وجہ سے ماضی میں شبیر شاہ سے مذاکرات بھی کیے گئے۔
چیف صاحب لکھتے ہیں کہ بھارت نے کبھی بھی فاروق عبداللہ پر اعتماد نہیں کیا۔ اس حقیقت کے باوجود کہ پاکستان نے دادی میں ہمیشہ اپنے حامی لیڈر شپ کی بھرپور حوصلہ افزائی بھی کی، مگر فاروق عبداللہ واحد شخصیت تھے جن کو پاکستان نے اپنے کیمپ میں شامل کرنے کے لیے کبھی رابطہ نہیں کیا۔ کیوں کہ پاکستان کو اس بات کا اندازہ تھا کہ فاروق عبداللہ کبھی پاکستان کا ساتھ نہیں چلے گا۔ فاروق عبداللہ ہمیشہ یہ شکوہ کرتے نظر آئے کہ بھارت ان پر اعتماد نہیں کرتا۔
چیف صاحب نے مفتی سعید کے بطور وزیراعلی کشمیر دور کو بھی زیربحث لایا ہے۔ اسی عرصے کی دلچسپ ترین بات پروفیسر عبدالغنی لون کا پاکستان سے متنفر ہونا اور سجاد لون کے انتخابی سیاست میں شمولیت کرنے پر غور و فکر بھی شامل ہے۔ اگرچہ اس وقت تک سجاد لون کا سیاست کی طرف کوئی رجحان نہ تھا۔ سجاد لون کی جے کے ایل ایف کے سربراہ امان اللہ خان کی صاحبزادی سے شادی، دورہ پاکستان اور مقبوضہ وادی میں پاکستان کی عسکریتی پالیسی پر پروفیسر صاحب کے موقف کا بھی ذکر ہے۔ دولت صاحب نے پروفیسر صاحب کے قتل، سجاد لون کے آئی۔ ایس۔ آئی پر الزام اور پھر اپنی والدہ کے دباؤ اور خوف کی وجہ سے اپنا بیان واپس لینے کے واقعات بھی درج ہیں۔
دولت صاحب مزید تحریر کرتے ہیں کہ آئی۔ ایس۔ آئی سے اختلاف کرنے پر وادی میں لوگوں کو مار دیا جاتا ہے اور اس کی مثال ماجد، غنی لون، مولوی فاروق وغیرہ کی صورت میں موجود ہے۔ دولت صاحب نے جنرل پرویز مشرف کے آؤٹ آف دی باکس حل چار نکاتی ایجنڈا، حریت رہنماؤں کی پاکستان آمد، صدر مشرف کا حریت لیڈر شپ کو انتخابی عمل میں شمولیت کا مشورہ اور سید علی شاہ گیلانی کے ساتھ صدر مشرف کی غیر مناسب گفتگو کا بھی ذکر ہے۔
کتاب میں ایوب ٹھاکر کے ذریعے پاکستان کی طرف سے سید علی گیلانی کو رقوم بھیجنے کا بھی ذکر ہے اور یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین کی جانب سے ایک بار مقبوضہ کشمیر واپس جانے کے لئے رابطہ کرنے اور اپنے بیٹے کے میڈیکل سیٹ پر داخلے کے معاملے پر بھارتی حکومت کا شکریہ ادا کرنے کا بھی ذکر ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب دہلی سرکار عمر عبداللہ کو وادی میں بطور متبادل دیکھ رہی تھی، وہیں پر جنرل مشرف کی جانب سے بھی عمر عبداللہ کی پسندیدگی تھی اور اسی وجہ سے مشرف بھی چاہتے تھے کہ میرواعظ بھی انتخابی سیاست کا حصہ بنیں۔ بقول دولت صاحب مشرف اس بات کو تسلیم کر چکے تھے کہ بھارت کبھی کشمیر سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ کتاب میں دہلی سرکار سے حریت کی ملاقاتوں، بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے باعث بی۔ جے۔ پی کے الیکشن ہارنے کی روداد بھی درج ہے۔
دولت صاحب نے مشرف کے بطور صدر استعفیٰ اور کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد مذاکرات میں سرد مہری اور اس کے نتیجے میں ممبئی حملے کی تفصیلات بھی درج کی ہیں۔ دولت صاحب نے یاسین ملک کو متکبر، ڈائریکشن لیس قرار دیتے ہوئے پاکستان کی ایجنسیوں کے مطابق ملک صاحب کی مشال سے شادی کے پلان کی تھیوری اور یاسین ملک کی ساس کا ان پر اثر انداز ہونے کا ذکر بھی کیا ہے۔
دولت صاحب کے مطابق زیادہ تر حریت ایک آزاد و خود مختار کشمیر چاہتی ہے۔ دولت صاحب کے مطابق 2014 ء کے انتخابات کے بعد اب کشمیری قیادت مسئلے کا سیاسی حل چاہتی ہے جو کہ اب ہوتا نظر نہیں آتا۔ دولت صاحب نے مسئلہ کشمیر میں بھارتی سرکار کی طرف کسی نہ کسی طرح شمولیت کی وجہ سے کچھ نچوڑ بھی پیش کیا ہے۔ جیسا کہ پاکستان کو حریت رہنماؤں کو اپنی مرضی کے فیصلے کرنے کی آزادی دینی چاہیے، خاص طور پر میرواعظ عمر فاروق، سجاد لون کو وائیڈ کارڑ کے طور پر محفوظ رکھنا چاہیے۔ حریت قیادت کو انتخابات میں شمولیت اختیار کر نی چاہیے۔
دولت صاحب کی کتاب نوجوان نسل کی مسئلہ کشمیر سے آگاہی کے لیے بہت اچھی کتاب ہے، مگر کتاب پر میرے بطور ریڈر کچھ اعتراضات ہیں۔ دولت صاحب نے پوری کشمیری قوم کو جھوٹا، پیسوں پر بکنے والا قرار دیا ہے۔ بات یہاں نہیں رکتی، دولت صاحب کے مطابق جو بڑی قیمت ادا کرنے والا ہو گا، کشمیری اس کا ساتھ دیں گے۔ پوری قوم کو مظلومیت دکھانے والا، ایجنٹ کہنا اور بکاؤ کہنا کسی بھی مکالمے پر یقین رکھنے والے انسان کا رویہ نہیں ہو سکتا۔
دولت صاحب کے مطابق کشمیری خواتین ووٹ بھی دیں گی اور ساتھ آزادی کا نعرہ بھی نہیں چھوڑیں گی۔ سابق چیف صاحب شاید کتاب تحریر کرتے ہوئے کنن پوشپورہ بھول گئے تھے۔ جمہوریت اور مذاکرات پر یقین رکھنے والے شخص کو ایسی تضحیک آمیز گفتگو زیب نہیں دیتی۔
ایک طرف Sky is limit to self rule اور پھر ساتھ ہی یہ کہنا کہ میں نے کبھی انڈین آئین سے باہر کوئی بات نہیں کی، اپنے آپ میں ایک بہت بڑا مذاق ہے۔ یہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ مذاکرات جھوٹی امیدوں اور حریت قیادت کا وقت ضائع کرنے کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ اس کا واضح اشارہ کتاب میں درج واجپائی اور حریت کی ملاقاتوں سے ملتا ہے۔ علی گیلانی صاحب کے لیے جس طرح کتاب میں تبصرہ کیا گیا ہے، وہ قابل مذمت ہے اگر یہ گفتگو کسی پاکستان کے نمائندہ سے ہوئی ہے، تو خاص طور پر علی گیلانی کے چاہنے والوں کو تکلیف پہچانے کے مترادف ہے اور پاکستانی قوم کے لیے افسوس کا مقام ہے۔
اسی کتاب میں پاکستان کو کشمیریوں کو دھوکہ دینے والا اور علیحدگی پسند حلقوں کو انڈین بنا نے کی کوشش کی گئی ہے۔ یوں تو کتاب پر بہت سے سوال اٹھتے ہیں مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ دولت صاحب نے خود کو کشمیروں کا ہمدرد ظاہر کر کہ کشمیری قوم کی نہ صرف تضحیک کی ہے بلکہ تحریک کو بدنام کرنے کی زبردست کوشش کی ہے۔ میرے لیے حیرت کا مقام یہ ہے کہ کشمیری چاہے کسی بھی نظریے سے تعلق رکھتے ہوں، نہایت فخر سے اس کتاب کا حوالہ دیتے ہیں۔ شاید کشمیریوں کو یہ کتاب سمجھ نہیں آئی یا پھر انہوں نے پڑھی ہی نہیں۔ ورنہ اس کتاب میں ایسی کوئی بات نہیں جس پر فخر کیا جا سکے۔
خیر آخر میں مختار بابا کا شکریہ جنہوں نے مجھے یہ کتاب تجویز کی۔ کتاب میں ابھی میرے بہت سے اعتراضات اور سوالات، کتاب میں موجود ہر حلقے کے لیے ہیں، جو اس وقت تحریر کرنا مناسب نہیں۔


