اوسلو: فلسطین اور اسرائیل کے مابین 1995 کے امن معاہدے پر فلم


مئی 1948ء کو ڈیوڈ بن گوریان نے تل ابیب میوزیم میں اپنے خطاب کے دوران ریاست اسرائیل کے قیام کا اعلان کیا، تو چند روز بعد ہی سوویت یونین اور امریکہ نے اسے تسلیم کر لیا۔ جب یہ خبر عرب ممالک تک پہنچی تو انھوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس نومولود ریاست کو فنا کر دینے کا عہد کیا۔ جس کی تکمیل کے لئے پانچ عرب ممالک نے اتحاد کیا اور بنا کسی منصوبہ بندی کے اسرائیل پر حملہ کر دیا، نتیجتاً انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس حملے کے ردعمل میں ارگن نے فلسطینیوں کا قتل عام کیا تقریباً چار سو سے زائد عرب بستیوں کو مسمار کیا گیا، گھروں کو جلا دیا گیا اور سات لاکھ سے زائد فلسطینی اپنے وطن سے نکال دیے گئے جن کی وطن واپسی پر پابندی لگا دی گئی۔

کیرن لکھتی ہیں کہ ایک پناہ گزین نے کہا تھا کہ ”بارہ گھنٹے کے اندر اندر ہم وقار سے محروم ہو کر ذلت کا شکار ہو گئے“ ۔

اس واقعے کے بعد دونوں فریقین کے درمیان مختلف مقامات پر جھڑپیں ہوئی اور بہت سا جانی و مالی نقصان ہوا۔ عرب ممالک پہلے کی نسبت زیادہ متحرک ہو گئے، 1964ء میں قاہرہ میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں عربوں نے ایک تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او ) قائم کی، اس تنظیم کا چیئرمین احمد شکری کو بنایا گیا۔ پی ایل او نے اعلان کیا کہ فلسطین کی آزادی تک اسرائیل سے جنگ جاری رہے گی، معمولی جھڑپیں اب جنگ کا منظر پیش کر رہی تھیں اور حالات روزبروز کشیدہ ہوتے چلے گئے۔ اسی اثناء میں 5 جون 1967ء کو اسرائیلی فورسز نے شام، مصر اور اردن پر حملہ کر دیا۔ یہ جنگ چھ روز تک جاری رہی اور اسرائیل  نے جولان کی پہاڑیوں، جزیرہ نمائے سینائی اور غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لیا۔

اس حملے کے بعد پی ایل او کے ممبران  نے اپنی قیادت پر سخت تنقید کی۔ دسمبر 1967ء کو احمد شکری اپنے عہدے سے دستبردار ہوا تو پی ایل او (فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن) کی قیادت یاسر عرفات نے سنبھال لی۔ یاسر ایک سیکولر ریاست کا قیام چاہتا تھا اس لیے پی ایل او سیکولر نظریات کی حامل جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی۔ لیکن پی ایل او کے چند ممبران یاسر کی حکمت عملی سے ناخوش تھے۔ انھوں نے دوسری جہادی تنظیموں کے ساتھ مل کر اسرائیل پر متعدد بار حملے کیے۔ اسی دوران 1972ء میں جرمنی میں منعقد ہونے والی اولمپک گیمز میں شریک گیارہ اسرائیلی اتھلیٹس کو قتل کر دیا گیا۔ اسرائیل نے کہا کہ اس حادثے کے پیچھے پی ایل او کا ہاتھ ہے یوں پی ایل او کو دہشت گرد جماعت قرار دیا گیا۔

اس واقعے کے بعد اسرائیلی حکومت نے ایک قانون تشکیل دیا جس کے مطابق کسی بھی اسرائیلی شہری کے لئے پی ایل او کے ممبر سے ملنا اور بات کرنا جرم تھا۔ ایک طویل عرصے تک دونوں فریقین ایک دوسرے سے بات کرنے سے انکار کرتے رہے۔ 1988ء میں دو ریاستی منصوبہ پیش کیا گیا تو یاسر عرفات نے اسے قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکرات کے لئے تیار ہے، دوسری جانب اسرائیل کے وزیر خارجہ شمعون پیریز نے کہا کہ اسرائیل بھی امن کا خواہاں ہے۔

لیکن اس کے باوجود دونوں فریقین ایک دوسرے سے بات چیت کرنے کو تیار نہ تھے۔ 1991ء میں دونوں فریقین نے بات چیت کا آغاز کیا لیکن پھر یہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔ بالآخر ناروے نے دونوں فریقین کے درمیان خفیہ مذاکرات کی پیشکش کی جس کے بعد جنوری 1993ء میں ناروے کے شہر اوسلو میں مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہوا یہ سلسلہ کئی ماہ تک جاری رہا جسے ”اوسلو اکارڈ“ کہا گیا۔ اس دوران بے شمار نشیب و فراز آئے لیکن تیرہ ستمبر 1993ء کو یاسر عرفات اور اسرائیلی وزیراعظم اسحاق (یہتزاک) رابن کے مابین ایک معاہدہ طے پایا۔ فلسطین، اسرائیل، امریکہ اور روس نے اس معاہدے پر دستخط کیے جسے ”اوسلو ون“ کہا گیا۔

اس معاہدے کے تحت یاسر عرفات نے اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کیا جبکہ اسرائیل نے پی ایل او کو فلسطینیوں کی نمائندہ جماعت تسلیم کر لیا۔ اس معاہدے میں طے پایا کہ اسرائیل غزہ اور مغربی حدود سے دستبردار ہو گا۔ اور اسرائیلی فورسز کے انخلاء کے بعد ایک خودمختار حکومت قائم کی جائے گی۔ اسرائیل نے مطالبہ کیا کہ فلسطینی حکومت ان علاقوں میں امن و امان قائم کرتے ہوئے ریاست کے ہر فرد کی جان و مال، صحت، تعلیم، روزگار، ثقافت اور سماجی بہبود کا خیال رکھے گی۔ اس معاہدے میں یہ بھی طے پایا کہ دونوں فریقین آئندہ پانچ سال کے دوران فلسطینی سرحدوں، مہاجرین کی واپسی اور یروشلم کے مسئلہ پر مذاکرات کریں گے۔

اس معاہدے کے دو سال بعد ہی ستمبر 1995ء کو دونوں فریقین کے مابین مذاکرات ہوئے اور دوسرے معاہدے پر دستخط کیے گئے جسے ”اوسلو ٹو“ کہا گیا۔ اس معاہدے کے تحت اسرائیلی فورسز نے چھ بڑے شہروں اور چار سو سے زائد قصبوں سے انخلاء کا کہا، ساتھ ہی یہ بھی طے پایا کہ مغربی کنارے کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔

1۔ ایک حصہ پر فلسطین کا مکمل اختیار ہو گا۔
2۔ دوسرے علاقوں پر اسرائیل کی حکومت ہو گی۔
3۔ شہری علاقوں کا نظام فلسطین کے پاس ہو گا اور دیہی علاقوں کی سیکورٹی اسرائیلی فورسز سنبھالے گی۔

آج ہماری زیر بحث فلم ”اوسلو“ انھیں واقعات کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ فلم امریکی ڈرامہ نگار جے ٹی راجرز کے ڈرامے پر مبنی ہے۔ یہ فلم اوسلو اکارڈ سے پہلے ہونے والے خفیہ مذاکرات اور ان کے فوراً بعد رونما ہونے والے واقعات کے متعلق ہے۔ فلم کی کہانی ان لوگوں پر مرکوز ہے جو ان مذاکرات میں شامل تھے جس کے نتیجے میں اوسلو معاہدے پر دستخط ہوئے۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کس طرح نفرت، ڈر اور مخالف خیالات رکھنے کے باوجود دونوں فریقین ملاقات پر آمادہ ہوئے۔

اور اس معاہدے کو حتمی شکل دی۔ فلم کی کہانی، سکرین پلے، سینماٹوگرافی اور اداکاری متاثر کن ہے۔ فلم کی ایڈیٹنگ کے ساتھ ساتھ فلم کا سکور نہایت جاندار ہے۔ ہر اداکار اپنے رول میں ڈوبا ہوا دکھائی دیا۔ سلیم داؤ تو اس پوری فلم میں چھائے رہے انھوں نے ہر سین میں حقیقت کا وہ رنگ بھرا ہے کہ ہر مکالمہ قابل داد اور باعث تحسین ہے۔ مجموعی طور پر یہ عمدہ فلم ہے جو اوسلو اکارڈ کے پس پردہ مشکلات کو منفرد انداز میں بیان کرتی ہے۔

American President Bill Clinton watches as the Israeli Prime Minister Yitzhak Rabin (1922 – 1995) shakes hands with the Palestinian leader Yasser Arafat in the garden of the White House after the signing of the deal transferring much of the West Bank to Palestinian control. (Photo by MPI/Getty Images)

فلم کی کہانی:

یہ سن 1993ء کی ایک سرد، خون آلودہ اور نفرت کی سفیدی میں لپٹی شام ہے۔ مونا جو کہ ایک سینئر نارویجن سفارتکار ہے اپنے شوہر لارسن کے ساتھ غزہ کی سڑکوں پر تشدد کو قریب سے دیکھ رہی ہے۔ ہر سو خوف و ہراس پھیلا ہے۔ دو نوجوان ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں، وہ ایک دوسرے کو مارنا نہی چاہتے۔ لیکن ان کی آنکھوں میں خوف اور پچھتاوے کے تاثرات واضح دکھائی دے رہے ہیں۔ اسی اثناء میں فضا گولیوں کی آواز سے کونج اٹھتی ہے یہ منظر دیکھ کر مونا افسردہ ہو جاتی ہے اور عہد کرتی ہے کہ وہ اس جنگ کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔

جب وہ وطن واپس آتی ہے تو اپنے شوہر کے ساتھ مل کر پی ایل او کے ایک اعلیٰ عہدیدار احمد قری (سلیم داؤ) کو اسرائیلی نمائندے سے امن مذاکرات کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ابتداء میں احمد اسرائیلی حکام سے ملاقات کے لئے انکار کر دیتا ہے لیکن مونا اسے یقین دلاتی ہے کہ ان مسائل کا واحد حل مذاکرات ہیں۔ جب وہ اس ملاقات کے لئے آمادہ ہوتا ہے تو ایک یہودی پروفیسر، احمد سے ملاقات کرتا ہے۔ وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر حیران ہوتے ہیں کیونکہ اس سے قبل کسی اسرائیلی اور پی ایل او کے ممبر کی ملاقات نہی ہوئی تھی۔ مذاکرات کا آغاز ہوتا ہے تو مونا طے کرتی ہے کہ وہ ان مذاکرات میں مداخلت نہی کرے گی دونوں فریقین کو مل کر اس مسئلہ ٔ کا حال تلاش کرنا ہو گا۔

یوں ایک ایسے سلسلے کا آغاز ہوتا ہے جو ناظر کو پردہ سکرین پر جامد کر دیتا ہے۔ فلم میں ہر اداکار اپنے فن کی معراج پر دکھائی دیتا ہے فلم دیکھتے ہوئے جذبات کی تند روانی سینے میں محسوس ہوتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان مذاکرات سے منتطقی نتائج حاصل نہیں ہوں گے لیکن مونا اور لارسن ان مشکل حالات میں بھی ثابت قدم رہتے ہیں اور مذاکرات کی راہ میں حائل ہر رکاوٹ کو ختم کرنے کی کوشش جاری رکھتے ہیں۔ فلم یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ کسی بھی مسئلے کا حل مذاکرات کے آغاز سے ہوتا ہے۔ یہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے خاص طور پر جب بات بین الاقوامی مسائل کی ہو۔

اوسلو معاہدے نے امن کی ایک آشا قائم کی کہ دہائیوں پر محیط یہ تنازع ختم ہو جائے گا۔ لیکن دونوں جانب سے شدت پسند نظریات کے حامل افراد ( جو مکمل آبادی کے تناسب کا چند فیصد تھے ) نے اس معاہدے کی مخالفت شروع کر دی۔ اسرائیل میں دائیں بازو کے شدت پسند یہودیوں نے اوسلو معاہدہ کی سخت مخالفت کی۔ نومبر 1995ء کو ایک تقریب کے دوران اسرائیلی وزیراعظم اسحاق رابن نے اوسلو اکارڈ کے حق میں کھل کر بات کی تو دائیں بازو کے انتہا پسند صہیونی ایگال عامر نے انھیں قتل کر دیا۔ انور سادات کے قتل کے بعد یہ دوسرا واقع تھا جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔

دوسری جانب فلسطینی عوام نے بھی اس معاہدے کی مخالفت شروع کر دی۔ جس میں حماس اور چند دوسری جہادی تنظیموں نے حصہ لیا۔ یوں معاملات کشیدہ ہوتے گئے۔ نومبر 2004ء کو خبر نشر ہوئی کہ یاسر عرفات کو قتل کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے پیرس کے ایک ہسپتال میں وفات پائی ان کی اہلیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ یاسر عرفات کو زہر دے کر قتل کیا گیا تھا۔

کیرن آرمسٹرانگ لکھتی ہیں کہ

” ہم مکمل طور پر عقلی مخلوق نہیں ہیں۔ ہم اپنے تشخص کے لئے بنیادی تقدس کی حامل اساطیر سے چمٹی غیر منطقی اور جذباتی مخلوق ہیں۔ جب عقیدے کو خطرہ ہو تو ہم عقل اور کامن سینس کی طرف سے آنکھیں مکمل طور پر بند کر لیتے ہیں۔ ہم نہ تو سامنے موجود حقیقتوں کو دیکھ سکتے ہیں نہ ہی اپنے غیر منطقی رویے کا مشاہدہ کرتے ہیں“ ۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments