خود کلام سندھ اور پیپلزپارٹی
میں سندھ ہوں، میری تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے، جس کی گواہی موہن جو دڑو بھی دے گا، جو خود اس وقت تباہ حالی کے باوجود میرے ماتھے کا جھومر اور میری شناخت بنا ہوا ہے، میری زمین اتنی زرخیز اور شاداب ہے کہ یہاں جو بھی پناہ لینے آیا وہ یہیں کا ہو کر رہ گیا، کسی نے مجھے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر بیچنے کی پوری کوشش کی تو کسی مخلص سپوتوں نے مجھے بچانے اور تحفظ کے لیے نہتے وقت کے ظالم حکمرانوں سے دست گریبان ہوئے۔
موہن جو دڑو سے ملنے والے آثار قدیمہ سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کبھی میں (سندھ دھرتی) خوشحال ہوا کرتی تھی اور اسی خوشی میں ٹہلتے ہوئے میرے بچے میری گود میں سر رکھ کر لوریاں سنا کرتے تھے، اور میں ایک ماں جو ہر حال میں اپنے بچوں کی خیر و عافیت ہی چاہتی ہے، بھلے اس کی چند اولادیں نافرمان ہی کیوں نہ ہو۔ ماضی کے ادوار میں مجھ پر کئی سلطنتیں مسلط ہوئیں، لیکن جب سے میرے وجود پر سیاسی سایہ پڑا ہے اس وقت سے لے کر آج تک مجھے ایک پل کے لیے سکوں نہیں آیا، کیونکہ موجودہ حکمرانوں نے کبھی بیماریوں کے نام پر مجھے لوٹ کا سامان بنایا تو کبھی سیلاب کی تباہ کاریوں کی آڑ میں میری دکھ بھری داستانیں زبان زد عام بیان کر کے مجھے رسوا کیا، مگر مجھ میں اتنی طاقت ہے کہ اگر میری مٹی سے جنم لینے والے سچے سپاہی بیٹے چاہیں تو میں ایک بار پھر اپنی خوشحالی کے خواب کی تعبیر کو سچا ثابت کر سکتی ہوں۔
میرے بچے جو اس وقت سیلاب کی زد میں ہے، ان کے سروں سے چھت کا سایہ چھن چکا ہے، بھوک ان کا مقدر بن چکی ہے، ایک پل کے لیے سکوں ان کو میسر نہیں ہے، اور وہ آج بھی لوری سننے کے لیے مجھے سسکیوں بھری آواز سے پکار رہے ہیں کہ ماں آؤ اپنی وشال آغوش میں گھڑی بھر کے لیے سر رکھنے دو اور لوری سناؤ، تاکہ جی بھر کے سکوں کی نیند پوری کر کرسکیں۔ مگر میرے بچو میں اس وقت زخموں سے چور چور ہوں، سیاستدانوں نے میرے وجود پر نہتے وار کیے ہیں، جو مرہم سے نہیں بلکہ تمہاری مستقل خوشیوں سے ختم ہوسکتے ہیں، کیونکہ میں تمہاری ماں ہوں اور کوئی ماں کب تک خوش و خرم رکھے سکتی ہے جب تک اس کے بچے شادمان ہوں۔
آج میں (سندھ) اپنے بچوں سے اپنا وجود بچانے کے لیے مدد مانگتی ہوں، آؤ آگے بڑھو اور چند سیاستدانوں کے مفاد پرست گروہوں سے مجھے ہمیشہ سے نجات دلاؤ، جنہوں نے عوام کے حقوق کے نام پر اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے میرے جسم کو نوچا ہے اور مجھے رسوا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اٹھو اور ان سے بھڑ جاؤ جنہوں نے میری رنگوں میں دوڑنے والے دریائے سندھ کے پانی کے قدرتی راستوں پر بند باندھ کر وہاں پر اپنے محلات اور جاگیریں بنا کر روئے زمیں سے میرا وجود تک مٹانے کی ناپاک کوشش کی ہے۔
اگر میرے بچو تم یہ سب کچھ کر کے دکھاؤ گے تو پھر میں (سندھ) قسم کھاتی ہوں کہ میرا مستقبل خوشحالی کی ضمانت ہو گا اور امید کی کرن ایک بار پھر مجھ پر مہربان ہوگی۔ سندھ کی قسمت پر جو داغ لگائے گئے ہیں، اس پر موجودہ حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کا اچھا خاصہ حصہ شامل ہے، کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی گزشتہ 14 برس سے مسلسل سندھ پر حکمرانی کر رہی ہے اور ماضی میں بھی اقتدار کے مزے لے چکی ہے، لیکن سندھ آج بھی تباہی کی داستان بن گئی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ میں نے تو پینے کے لیے صاف پانی، بجلی اور گیس کی فراہمی پر کوئی خاطر خواہ کام کیا ہے اور نہ ہوئی انفراسٹرکچر پر کوئی خاص توجہ دی ہے، شعبہ صحت کی حالت یہ ہے کہ سینکڑوں ہسپتالوں میں علاج و معالجہ کی سہولیات میسر نہیں ہے، تزئین و آرائش سے لیس اسکولوں کی عمارتیں تو تعمیر ہیں لیکن وہاں پر بجلی، پانی اور بیت الخلا جیسی سہولیات ناپید ہیں۔
سندھ بھی پاکستان کا صوبہ ہے اور یہاں کے وزراء اور منتخب نمائندگان اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کروانے سے خوفزدہ ہیں، مضر صحت پانی عوام کو زہر کی صورت میں دیا جا رہا ہے، لیکن اپنے بچوں کو پیاس بجھانے کے لیے منرل واٹر کے دیا جا رہا ہے۔
سندھ میں آبپاشی کا نظام برسوں قبل پرانا ہے، جس کو نئے سرے سے تشکیل دینے کے لیے کسی قسم کے منصوبے پر کام نہیں ہو رہا ہے، دریاء، کینالوں اور شاخوں کی صوبے بھر کو صورتحال ہے اس پر افسوس کی کیا جاسکتا ہے۔ صوبہ سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے وزراء اور رہنماء چند کلومیٹر کی سڑک کی تعمیر پر بلند و بانگ نعروں کے تلے خراج کی مستحق بن سکتی ہے یا پھر سیلاب متاثرین کو راشن کا ایک بیگ اور ایک عدد خیمہ دینے پر مبارکباد وصول کرنے سے ذرا بھی پشیماں نہیں ہوتے تو پھر سندھ میں سیلاب سے جو تباہی آئی ہے اس کو اپنی جھولی میں ڈالنے سے کیونکہ کترا رہی ہے، اگر کسی اچھے کام پر چاہتے ہیں کہ آپ کی واہ واہ ہو تو سندھ کو کھنڈر بنانے اور اس کو تباہی کی آگ میں جھونکنے کے سنگین جرم کیوں ماننے سے انکار کر رہے ہو۔
اس وقت سیلاب کی تباہ کاریوں سے سندھ کی بڑی آبادی صوبائی حکومت سے نالاں ہے، اور وہ اپنے حلقے کے منتخب نمائندگان کا گریبان پکڑ کر اپنے حقوق مانگ رہے ہیں، سندھ اس وقت تباہی سے دوچار ہے اور غلط پلاننگ کے باعث اگر ایسی مصنوعی آفات آتی رہیں تو پھر شاید پیپلز پارٹی صوبہ سندھ سے ایسے ہی غائب ہو جائے گی، جیسے پنجاب اور کے پی کے سے ہوئی ہے، البتہ بلوچستان میں بھی ان کے نمبرز نہ ہونے کے برابر ہیں۔


