اسلام آباد: کمسن لڑکی کے ریپ کے الزام میں چینی کمپنی کا مالک گرفتار
پولیس نے یہ مقدمہ متاثرہ لڑکی کی مدعیت میں درج کیا ہے۔ اسلام آباد کے تھانہ کورال میں درج ہونے والے مقدمے میں متاثرہ لڑکی نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے بتایا کہ وہ نویں کلاس کی طالبہ ہے اور گھریلو حالات کی وجہ سے غوری ٹاون میں ایک چینی کمپنی کے دفتر میں کام کرتی تھی۔
متاثرہ لڑکی کے بیان کے مطابق یہ کمپنی دفاتر اور گھروں میں سکیورٹی کیمرے لگانے کا کاروبار کرتی ہے۔ متاثرہ لڑکی کے مطابق اس کو ماہانہ پندرہ ہزار روپے تنخواہ ملتی تھی۔
تھانہ کورال میں درج ہونے والے مقدمے میں متاثرہ لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ اس کمپنی کے مالک نے اس سال جنوری سے ہی اسے جنسی تنشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا اور متاثرہ لڑکی کے بقول ملزم نے اسے ریپ کرنے کے ساتھ ساتھ اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دینا شروع کر دیں کہ اگر اس نے اس بارے میں کسی کو بتایا تو یہ اس کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکی نے اپنے بیان میں کہا کہ اس عرصے کے دوران اس کی طبعیت خراب رہنے لگی لیکن ملزم کی طرف سے سنگین تنائج کی دھمکیوں کے پیش نظر اس نے اپنے گھر والوں کو بھی نہیں بتایا۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان میں ریپ جیسے جرائم کے لیے کیا مزید قانون سازی کی ضرورت ہے؟
’وہ شاید ریپ کے بارے میں کسی کو بتاتا لیکن اسے مہلت ہی نہیں ملی‘
نوکری کا جھانسہ دے کر گوجرہ موٹروے پر لڑکی سے مبینہ ریپ، مرکزی ملزم گرفتار
پاکستان میں ریپ کا شکار افراد سامنے کیوں نہیں آ پاتے؟
اس مقدمے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ جب متاثرہ لڑکی کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو اس کی بڑی بہن اسے لے کر ہسپتال چلی گئی جہاں پر ڈاکٹروں نے بتایا کہ متاثرہ لڑکی 31 ہفتوں کی حاملہ ہے۔
اس مقدمے کے تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ ملزم کو گرفتار کر کے اس سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملزم کو متعلقہ عدالت میں پیش کر کے اس کا جسمانی ریمانڈ لینے کی استدعا کی جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ چونکہ ملزم کا ڈی این اے کروانا ہے اس لیے اس کا جسمانی ریمانڈ بہت ضروری ہے۔

