مولوی، خواجہ سرا اور گل خان


خواجہ سرا اللہ کی تخلیق ہے جبکہ مولوی مدرسوں میں بنتے ہیں۔ مولوی کے علاوہ خواجہ سرا ہر اس شخص سے ڈرتا ہے جس سے اسے ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ تھوڑا سا فرشتہ چٹکی بھر شیطان تھوڑا سا مرد تھوڑی سی عورت، ڈھیر ساری نسوانیت اور بہت سارا نخرہ اور دنیا بھر کی تنہائیاں ملا کر خالق نے مرد عورت فرشتہ اور شیطان سے الگ اور منفرد مخلوق بنائی تو ہمارے لئے مسئلہ پیدا ہوا کہ ہم اسے کیا نام اور کون سا مقام دے دیں۔ عورتیں جنہیں دیکھ کر بدکتی ہیں اور مرد جنہیں پاکر کنفیوز ہوتے ہیں جبکہ مولوی اسے اپنے محدود علم اور فتویٰ پرور طبعیت کی بنا پر گردن زدنی سمجھتے ہیں جس کے معاشی وجوہات بھی ہیں۔

یوں مدت ہوئی پختونخوا میں، مولوی کی وجہ سے خواجہ سرا اور پختون دونوں امن کی بھیک مانگتے پھر رہے ہیں۔ جس طرح خواجہ سرا کبھی بادشاہوں کے مشیر، رازدار اور حرم کے محافظ ہوا کرتے تھے اسی طرح پختون بھی کبھی ہندوستان کے بادشاہ تھے جو جنگجو اور خوفزدہ کردینے والے کہلائے جاتے تھے۔ ان کے نام لے کر مائیں شریر بچے ڈرایا کرتی تھیں، لیکن اب وہی پختون بلوچستان سے لے کر وزیرستان اورکزئی کرم خیبر مہمند باجوڑ سوات اور مالاکنڈ میں نامعلوم ہیولوں سے سہمے ہوئے امن کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ خواجہ سرا کا قاتل پکڑا بھی جاتا ہے اور سزا بھی ہو جاتی ہے لیکن پختونوں کا قاتل پکڑا جاتا ہے تو سزا نہیں ہوتا اور سزا کی امید ہو تو پکڑا نہیں جاتا۔

دوغلے قوم پرست مسلم لیگیوں نے تقسیم کے وقت پنجابیوں کو پنجابی سے کٹوایا لیکن اس جذباتی چرکے سے اس کے اندر پیدا شدہ طیش کو ہندوستان کے خلاف کشمیر میں استعمال کرنے کی بجائے گل خان کو مجاہد سمجھا کر وہاں بھیجا گیا۔ جس کو ویسے بھی دوسروں کو اپنی ایمانداری بہادری اور سیاسی شعور ثابت کرنے کی شدید خواہش رہتی ہے۔ کوئی کہ دے کہ گل خان بڑا بہادر ہے تو وہ اپنی تعریف پر اکتفا کرنے کی بجائے قریبی پہاڑ پر چڑھ کر وہاں سے چھلانگ لگا کر ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اسے اپنی جان بچوں اور والدین کی کوئی پرواہ نہیں بس اس نے تعریف کرنے والے کو سچا ثابت کرنا ہے۔

یہی حالت گل خان کے ایمان کی ہے۔ کوئی کہ دے کہ گل خان بڑا ایماندار ہے تو وہ بولنے والے کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے گھر جاکر وہاں سے بستر لیتا ہے اور اپنے ایمان کی برکات سے شرق و غرب کو منور کرنے سالوں بے فکر ہو کر گھر اور روزگار چھوڑ دیتا ہے۔ اسی طرح اس کے سیاسی شعور کا بھی یہ کہہ کر اعتراف کیا جائے کہ وہ کسی حکومت کو دوبارہ ووٹ نہیں دیتا، تو اپنے اچھے خاصے مفید امیدوار اور سیاسی پارٹی کو دوبارہ ووٹ نہ دے کر اپنے معترف کو ہزار تکلیفیں اٹھا کر سچا ثابت کر دیتا ہے۔ مشہور پختون دانشور رشید یوسفزئی گل خان کو مفت کا خواجہ سرا کہتا ہے، جو پرائے جلوسوں اور جلسوں میں فری ناچتا اور لڑائیوں میں فری مرتا ہے۔

خواجہ سرا کی اصل زندگی اس کے چاہنے والے تماشبینوں کے درمیان ہوتی ہے، ورنہ وہ تنہا رہتا اور اکیلے مرتا ہے۔ مولوی کو اچھا خواجہ سرا وہ لگتا ہے جو مرا ہوا ہوتا ہے اور جس کے جنازہ پڑھانے کا محنتانہ وہ یکمشت وصول کرچکا ہوتا ہے۔ ایسے جنازے مسافر اور لاوارث بتا کر مولوی مغرب کے وقت مسجد کے قریب پڑھاتا ہے۔ ایسا ہی ایک جنازہ پڑھنے کے بعد چار لوگوں نے اٹھایا ہوا تھا کہ چار گل خانوں کی اس پر نظر پڑ گئی۔ دینی حمیت کے مارے چاروں نے جنازے کو کاندھا دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد باقی لوگ اندھیرے میں آہستہ آہستہ غائب ہو گئے اور جنازہ گل خانوں کے کاندھوں پر رہ گیا۔ وہ حیران تھے کہ مردہ کون ہے؟ اس کے رشتہ دار اور قبرستان کہاں ہے؟ اور وہ اس کا کیا کریں کیونکہ وہ تو یہ بھی نہیں جانتے کہ مردہ کو دفن کہاں کرنا ہے؟

ان کنفیوز گل خانوں کی طرح ہمارے گل خانوں کو بھی معلوم نہیں کہ چالیس سالوں سے جہاد کا جنازہ کاندھے پر رکھے ہوئے وہ اب کیا کریں؟ عرب یورپین اور امریکی تو کب کے کھسک چکے ہیں۔ پیسے کھانے اور کمانے والے مولوی بنگلوں میں رہتے بھاری جیپوں میں پھرتے مدرسوں اور جائیدادوں کے مالک اب مقدس علماء کرام کہلائے جاتے ہیں۔ ان کے ہینڈلر بھی ڈالروں کے چشمے خشک ہوتے ہی اپنے بجھے ہوئے سگار دوبارہ سلگا کر جنوبی ایشیا کے ماہرین بن کر مغربی تھنک ٹینکوں میں پالیسی پیپرز لکھنے میں مصروف ہیں۔ لیکن گل خان مرے ہوئے خواجہ سرا کی بے آسرا لاش کاندھے پر ڈال کر کچھ پانے کی امید میں لگا ہے۔ خواجہ سرا کی کمائی اس کی جوانی میں ہوتی ہے بڑھاپے میں وہ بوجھ ہوتا ہے لیکن گل خان اب بھی مولوی کی باتوں میں آ کر لاش سے کوئی فائدہ ملنے کی توقع کر رہا ہے۔

باچا خان کی بات نہ مان کر اور مولوی کی مان کر جو نقصان وہ اٹھا چکے ہیں ان میں کچھ کو منظور پشتون کی بات میں اب وزن محسوس ہو رہا ہے اس لیے جنگ پسند گل خان اب جنگ گریز مظاہروں میں نظر آنے لگا ہے۔

کابل کے ہوٹل میں چائے کا کپ پینے والی پالیسی اب ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہے۔ مسعود اظہر کا روپوشی سے انکار ہو یا بارڈر اور کرکٹ میچ کی وجہ سے بظاہر ظہور پذیر ہونے والی وقتی ٹینشن، حالات ویسے نہیں جیسے ہم نے سوچا تھا۔ پاکستان جیسے نظریاتی ملک کو ہر قیمت پر ایک دشمن چاہیے ہوتا ہے۔ اسرائیل کی طرح پاکستانی بھی ہمہ وقت دشمن کی خوف کی وجہ سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہوا دکھائی دیتے ہیں۔ دو قومی نظریہ اب مزید ہندوستانی بارڈر پر وارا نہیں کھاتا، اس لیے اسے مشرقی بارڈر سے مغربی بارڈر پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

اس کی ابتدا چند سال پہلے انگلینڈ میں کرکٹ سٹیڈیم کے باہر مبینہ افغان تماشائی کا پاکستانی جھنڈے کی توہین سے ہوا ہے۔ جس کو ہفتہ پہلے شارجہ میں ٹورنامنٹ کے دوران تماشبینوں اور کھلاڑیوں کے درمیان بنتی بگڑتی صورتحال سے مزید صیقل کر کے مستقبل میں مزید بھڑکایا جائے گا۔ وزیر داخلہ نے کرکٹ ٹورنامنٹ سے چند دن پہلے ایک پریس کانفرنس کے دوران عمران خان کی مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح کی باتیں تو دشمن ملک افغانستان بھی پاکستان کے خلاف نہیں کرتا۔

جس کی نشاندہی پر اس نے وضاحت کرتے ہوئے بعد میں کہا کہ مجھ سے غلطی ہوئی میں بھارت کہنا چاہ رہا تھا۔ جبکہ جس پرسکون انداز میں افغانستان کو دشمن کہہ کر اس نے ذکر کیا تھا اس میں بھارت کا کہیں ذکر تک نہیں تھا۔ یہ سرکاری طریقہ کار ہوتا ہے، پہلے فیلر چھوڑتے ہیں ردعمل شدید آئے تو پھر وضاحت یا تردید کی جاتی ہے۔

حالات کو پیش نظر رکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ افغانستان جلد پاکستان کا دشمن نمبر ون بنے گا۔ وہاں پر موجود حکومت اسی طرح ڈسٹ بن میں پھینکی جائے گی جس طرح ان کی پہلی حکومت پھینکی گئی تھی۔ امریکی طالبان پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات الظواہری کی لاش کے ثبوت کی شکل میں لگا رہے ہیں۔ طالبان معاہدے کے اگلے مرحلے میں روس اور چین کے خلاف حسب منصوبہ عمل نہیں کریں گے تو وہ دن دور نہیں جب ڈرونز کے ساتھ بی باون بھی آسمان سے موت برسائیں گے۔ یورپ کو یوکرین میں روس کی اور امریکہ کو تائیوان میں چین کی توجہ بٹانے کے لئے طالبان کی ضرورت ہے۔ طالبان مغربی منصوبہ میں حصہ دار بنتے ہیں اور پاکستان ساتھ دیتا ہے تو پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات کمرہ امتحان میں مہمان بنتے ہیں اور پاکستان ساتھ نہیں دیتا تو پھر ہمارے لیے تپش مزید شدید ہو جائے گی۔

پاکستان کے منصوبہ سازوں کا امتحان ہے، طالبان بنا کر جو وقت لیا گیا تھا وہ ختم ہونے والا ہے۔ خزانہ جیبیں اور پھیلے ہوئے ہاتھ خالی ہیں۔ کوتاہ بین فوجی آپریشن کا مزہ چکھ کر عوام نے سبق سیکھ لیا ہے وہ بندوق برداروں کو اور نہ جنگ کو مزید برداشت کرنے کے روادار ہیں۔ لیکن اصل مسئلہ گل خان اور خواجہ سرا کا ہے جو اپنی سرزمین پر سہمے ہوئے بیٹھے ہیں جو امن یا شاید امان چاہتے ہیں۔

Facebook Comments HS

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 140 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani