پیرو کے میگا پورٹ سے کیا چین لاطینی امریکہ میں اپنا دبدبہ قائم کرنا چاہتا ہے؟
چند سال پہلے لاطینی امریکی ملک پیرو کے ساحل پر دارالحکومت لیما کے قریب واقع چانکے ہجرت کرنے والے سمندری پرندوں کی آماجگاہ ہوا کرتا تھا۔ یہ پرندے کینیڈا اور امریکہ سے چند ماہ کے لیے یہاں آتے تھے۔ یہ ساحل ماہی گیروں کی روزی روٹی کا ذریعہ بھی ہوا کرتا تھا۔
صرف 63,400 کی آبادی پر مشتمل یہ شہر بحرالکاہل سے متصل ساحلی علاقہ ہے۔ یہاں کے رہنے والوں کو اندازہ نہیں تھا کہ چند سالوں میں اس شہر کی شکل بالکل بدل جائے گی اور یہ شہر ایک میگا پورٹ کے لیے جانا جائے گا جو لاطینی امریکہ اور چین کے درمیان تجارت کا ایک اہم لنک بن جائے گا۔
یہاں سڑک کے کنارے لکڑی کے بنچ پر بیٹھ کر باتیں کرنا یا کسی دکاندار کا کیس سیاح سے یہ کہنا عام ہے کہ یہاں بہترین مچھلیاں ملتی ہیں۔ یہ بات آج بھی درست ہے۔
لیکن سنہ 2021 کے آخر سے یہاں کے شہری زمین کو برابر کرنے کے لیے مشینوں اور دھماکوں کی مسلسل آوازوں کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں۔
چین کی ایک بڑی کمپنی کوسکو شپنگ پورٹس دارالحکومت لیما سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر چانکے میں ملٹی پرپز پورٹ ٹرمینل یعنی میگاپورٹ بنا رہی ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ ایک ایسا ڈھانچہ ہو گا جس کے ذریعے چین پیرو میں اپنی موجودگی کے ساتھ ساتھ لاطینی امریکہ میں بھی اپنے پاؤں پھیلا سکتا ہے۔
اس بندرگاہ کے ذریعے پیرو میں پائے جانے والے تانبے اور دیگر معدنیات کو بڑی مقدار میں چین برآمد کیا جا سکتا ہے۔ اپنے بڑے پھیلاؤ اور کام کرنے کی صلاحیت کے باعث یہ میگا پورٹ جلد ہی بین الاقوامی تجارت کا مرکز بن سکتا ہے۔
دی ڈائیلاگ میں ایشیا اور لاطینی امریکی امور کی ماہر مارگریٹ مائرز نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ ‘چانکے کی بندرگاہ کتنی بڑی ہو گی اس کا تصور کرنا مشکل نہیں کہ آنے والے وقت میں چین اور ایشیا کو برآمدات میں اس کا کردار اہم ہو گا۔’
چینی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق کوسکو شپنگ پورٹس کمپنی چانکے میں جو میگا پورٹ بنا رہی ہے وہ تقریباً 3.6 ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیا جائے گا۔ پیرو کی حکومت کو توقع ہے کہ اس بندرگاہ سے ہر سال چین اور جنوبی امریکہ کے درمیان 580 ارب ڈالر کی تجارت ہو سکے گی۔
تاہم یہ حوصلہ مندانہ منصوبہ تنازعات کا شکار ہے۔ پیرو اور چین کی حکومتیں جو اس کی حمایت کر رہی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس سے خطہ ترقی کرے گا، نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی اور کاروبار میں اضافہ ہوگا۔ لیکن اس کی مخالفت کرنے والے یہ دلیل دے رہے ہیں کہ اس کا اثر یہاں کی دیسی کمیونٹی پر پڑے گا، ساتھ ہی یہاں کے ماحول کو بھی نقصان پہنچے گا۔
- پیرو کی سرحدیں بولیویا، برازیل، چلی، کولمبیا اور ایکواڈور کے ساتھ ملتی ہیں۔
- پیرو کے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار چین، امریکہ، جنوبی کوریا، کینیڈا اور جاپان ہیں۔
- چین بہت سی چیزیں برآمد کرتا ہے جیسے کانسہ، سونا اور ریفائنڈ کانسہ۔
- سنہ 2020 میں پیرو دنیا میں سلفائیڈ کا سب سے بڑا برآمد کنندہ تھا۔
- وائٹ ہاؤس کی رپورٹ کے مطابق کولمبیا کے بعد پیرو سنہ 2019 میں دنیا میں سب سے زیادہ کوکین پیدا کرنے والا ملک بھی تھا۔
پیرو میں قدم رکھنے کے بعد چین کا سب سے بڑا منصوبہ
پیرو کی حکومت ایک نئی بندرگاہ بنا کر ملک کی مرکزی بندرگاہ ایل کلاو میں جہازوں کی بھیڑ کو کم کرنا چاہتی ہے۔ ایل کلاو بندرگاہ زیادہ تر درآمدات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے؟
لیکن حکومتی منصوبے پر کام اس وقت شروع ہوا جب چین نے اس میں دلچسپی ظاہر کی اور اس میں سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا۔ کوسکو شپنگ کی آمد کے ساتھ ہی چیزیں تیزی سے ہونے لگیں۔
چانکے پورٹ پر دنیا کے سب سے بڑے کارگو بحری جہازوں سے سامان لے جانے کی سہولت ہوگی جو ایک وقت میں 18000 کنٹینرز لے جا سکیں گے۔ یہاں ابتدائی طور پر مال برداری کے لیے چار پوائنٹ بنائے جائیں گے، بعد میں اسے بڑھا کر 15 کر دیا جائے گا۔ بحری جہازوں کے دو سٹینڈنگ پوائنٹس کے درمیان ایک کلومیٹر لمبی جگہ ہوگی جہاں سامان کو ذخیرہ کرنے کی سہولیات ہوں گی۔
اس بندرگاہ کو بنانے کے لیے پیرو کی پہاڑیوں سے گھری جگہ کو برابر کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، قریبی پین امریکن ہائی وے سے جوڑنے کے لیے بنائی جا رہی سڑک کے لیے 1.8 کلومیٹر لمبی سرنگ کھودی جا رہی ہے۔ یہ سرنگ چانکے شہر کے نیچے سے گزرے گی۔
اس سڑک پر عام گاڑیوں کے لیے تین لین اور مال گاڑیوں کے لیے دو لین ہوں گی۔ اس میں کنٹینرز کو ذخیرہ کرنے کے لیے بڑے سٹوریج حصے، بھاری گاڑیوں کو پارک کرنے کے لیے ایک وقف جگہ، اور دفاتر اور کسٹم دفاتر بھی ہوں گے۔
چین کا منصوبہ کیا ہے؟
پیرو کے سابق وزیر ٹرانسپورٹ اور کمیونیکیشن خوآن برانزویلا کے مطابق چانکے درحقیقت ہمسایہ ممالک چلی، کولمبیا اور ایکواڈور کو جوڑنے والا ‘علاقائی سطح کا ایک مرکز’ بن جائے گا۔ پیرو میں چین کے سفیر لیانگ یو کا کہنا ہے کہ ‘اس سے پورے ملک کی ترقی میں بہت مدد ملے گی اور یہاں سے سامان پوری دنیا میں برآمد کیا جا سکے گا۔’
چین کا یہ تمام کام اس کے حوصلہ مندانہ نیو سلک روڈ منصوبے کے تحت کیا جا رہا ہے جسے وہ سرکاری طور پر ‘بیلٹ اینڈ روڈ پراجیکٹ’ کہتا ہے۔ یہ سرمایہ کاری کا ایک بہت حوصلہ مندانہ منصوبہ ہے جس کا آغاز چینی صدر شی جن پنگ نے سنہ 2013 میں کیا تھا۔ اس کے تحت چین دوسرے ممالک میں بڑے تعمیراتی کاموں کے لیے رقم دیتا ہے۔
مارگریٹ مائرز کہتی ہیں: ‘پیرو طویل عرصے سے چین کا ایک اہم اتحادی رہا ہے۔ اس نے چین کا کھلے دل سے خیر مقدم کیا ہے اور پیرو بھی چینی سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتا ہے۔’
وہ کہتی ہیں: ‘چین نے ایک سال کا وقت لے کر ایک خاص حکمت عملی بنائی ہے۔ وہ اپنی کمپنیوں کو ایسے ممالک میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دیتا ہے جہاں سے وہ قدرتی وسائل حاصل کر سکیں اور جن کی منڈی میں وہ اپنا سامان فروخت کر سکیں۔ پیرو اس کے لیے اہم ہے کیونکہ وہ معدنیات سے مالا مال ملک ہے۔ یہاں تانبا وافر مقدار میں پایا جاتا ہے جس کی چین میں بہت مانگ ہے۔’
پیرو کا کیا فائدہ ہے؟
سنہ 2021 کے اعداد و شمار کے مطابق چلی دنیا میں سب سے زیادہ تانبے پیدا کرنے والا ملک تھا، اس کے بعد پیرو دوسرے نمبر پر رہا۔ سنہ 2021 میں پیرو میں 220 ملین میٹرک ٹن تانبا پیدا ہوا۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ چین امریکہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پیرو کا سب سے بڑا درآمدی برآمدی اتحادی بن گیا ہے۔ سنہ 2020 میں چین کے ساتھ اس کی تجارت تقریباً 10.3 ارب ڈالر تھی۔
مائرز کا کہنا ہے کہ آنے والے وقتوں میں چانکے بندرگاہ بننے کے بعد دونوں کے درمیان تجارت میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
پیرو کے ایک سابق وزیر خوآن برانزویلا نے دفتر چھوڑنے سے کچھ دیر پہلے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ ‘چانکے کا منصوبہ ان کے ملک کو چلی جیسے دیگر ممالک سے بین الاقوامی تزویراتی لحاظ سے ممتاز کرتا ہے، جس کا ایشیا پیسیفک کے علاقے میں تجارتی غلبہ رہا ہے۔’
ان کے مطابق یہ میگا پورٹ ملکی معیشت کو آگے بڑھانے کا کام کرے گا اور پیرو کو بین الاقوامی سطح پر ایک خاص مقام پر لے جائے گا۔
لاطینی امریکہ میں چین کی سرمایہ کاری
- سنہ 2000 اور 2018 کے درمیان چین نے لاطینی امریکہ میں خام مال میں 73 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔
- چین برازیل میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ برازیل سے چين خام لوہا بڑی مقدار میں خریدتا ہے۔
- جنوری سنہ 2015 میں چینی صدر شی جن پنگ نے آنے والی دہائی میں لاطینی امریکہ میں 250 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔
- سنہ 2016 میں چینی صدر شی جن پنگ پیرو، چلی اور ایکواڈور کے دورے پر گئے تھے۔
- ارجنٹائن نے چین کے ‘بیلٹ اینڈ روڈ’ منصوبے میں شمولیت کے معاہدے پر دستخط کیے۔ ایکواڈور اور یوراگوئے نے بھی اس منصوبے کے لیے چین کے ساتھ ہاتھ ملایا ہے۔
- پیرو نے سنہ 2019 میں باضابطہ طور پر چین کے اس منصوبے میں شامل ہونے کی رضامندی دی۔
- چین نے سنہ 2013 میں ایشیا انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (AIIB) کا آغاز کیا۔ ایک سال بعد اس نے اپنا بیلٹ اینڈ روڈ پروجیکٹ شروع کیا۔
- یہ خیال کیا جاتا ہے کہ AIIB بیلٹ اینڈ روڈ کے تحت ہونے والے بنیادی ڈھانچے کے کام کے لیے مالی مدد فراہم کرتا ہے۔ تاہم سنہ 2017 میں فوربس سے بات کرتے ہوئے اے آئی آئی بی کے کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے سربراہ نے کہا تھا کہ یہ ضروری نہیں کہ بیلٹ اینڈ روڈ کے تحت ہر پروجیکٹ کو منظور کیا جائے۔
سنگین ماحولیاتی مسائل
پیرو کی حکومت نے بارہا دعویٰ کیا ہے کہ یہ منصوبہ اسے بین الاقوامی منڈی میں پڑوسی ملک چلی کے مقابلے میں قدرے برتری دے گا۔ صدر پیڈرو کاسٹیلو کا رواں سال مارچ کے مہینے میں چانکے کا دورہ اس بات کا مظہر تھا کہ حکومت اس منصوبے کے بارے میں کس قدر سنجیدہ ہے۔
پیرو میں چینی سفارتخانے کے اندازوں کے مطابق اس بندرگاہ کی تعمیر سے پیرو میں براہ راست 1300 ملازمتیں پیدا ہوں گی اور یہاں سے کام شروع ہونے پر 5000 سے زائد براہ راست اور بالواسطہ ملازمتیں پیدا ہوں گی۔
لیکن پیرو میں ہر کوئی اس منصوبے سے خوش نہیں ہے۔ ملک میں ماضی میں غیر ملکی کمپنیوں کے حوالے سے تشویش رہی ہے اور اب بحث کا مرکز یہ بندرگاہ ہے جو چین کے تعاون سے بنائی جارہی ہے۔
سنہ 2018 میں سول تنظیموں کے ایک گروپ نے یہاں کوسکو شپنگ کمپنی کی جانب سے کیے گئے ماحولیاتی مطالعہ کے خلاف اپیل کی تھی۔
اس نے ماحولیات پر اس منصوبے کے اثرات کو سمجھنے کے لیے ایک جرمن سمندری حیاتیات کے ماہر سٹیفن آسٹرمل کی مدد لی۔
انھوں نے ایک رپورٹ تیار کی جس میں انھوں نے کہا کہ اس بندرگاہ کی تعمیر سے اس سے ملحقہ سانتا روزا ویٹ لینڈ میں بنائی گئی پناہ گاہ کو شدید نقصان پہنچے گا۔ یہ پناہ گاہ سینکڑوں اقسام کے پرندوں کا گھر ہے لیکن گاڑیوں اور بھاری مشینوں کے شور اور فضائی آلودگی سے انھیں نقصان پہنچ سکتا ہے۔
انھوں نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ کمپنی نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں ماحولیات پر پڑنے والے اثرات کو کم سمجھا ہے۔ کمپنی نے رپورٹ میں لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والے کٹاؤ اور زمین کو برابر کرنے کی کوشش میں بھاری بحری جہازوں کی آمد سے سمندری حیات کو ممکنہ نقصان کے بارے میں درست معلومات نہیں دی ہیں۔ انھوں نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت اسے قبول نہ کرے۔
سٹیفن اوسٹرمل نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ ‘کمپنی نے اپنی تحقیق میں ماحولیاتی نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے ناکافی طریقے استعمال کیے اور پیرو حکام کی ناقص معلومات کا فائدہ اٹھایا۔’
یہ بھی پڑھیے
مشرقی یورپ کے ممالک کیسے چین کے قرضوں کے جال میں پھنسے
چین کا بیلٹ اینڈ روڈ فورم ہے کیا؟
لاطینی امریکہ: پہلا پیار پیرو سے
پیرو کی ’منشیات کی وادی‘ جہاں مخصوص راستوں اور اوقات میں ہی سفر کیا جاتا ہے
ان کی رپورٹ کی بنیاد پر، پیرو نیشنل انوائرمنٹل سرٹیفیکیشن فار سسٹین ایبل انویسٹمنٹ (Cines)جو اس منصوبے کے لیے ماحولیاتی کلیئرنس کی تنظیم ہے، نے کمپنی سے اپنی رپورٹ پر نظر ثانی کرنے کو کہا۔ اس کے بعد منصوبے میں کچھ تبدیلیاں بھی کی گئیں۔ اس کے تحت چانکے ساحل پر کٹاؤ کو روکنے کے لیے بڑے جیو ٹیوب بچھائے گئے ہیں۔
آسٹرمیل کا کہنا ہے کہ ‘یہ جیوٹیوبز اس وقت مدد کرتے ہیں جب پانی تیزی سے بڑھتا ہے۔ وہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی ساحلی علاقوں میں کٹاؤ کو روکنے میں مدد دے سکتی ہے۔’
تاہم حالیہ دنوں میں یہ جگہ ایک اور مشکل سے اس وقت دو چار ہوئی جب ہسپانوی کمپنی ریپسول کی ایک ریفائنری سے تیل کا اخراج ہوا اور سمندر میں پھیل گیا۔ رواں سال جنوری میں ایک انڈر واٹر کمپنی کی پائپ لائن اس وقت پھٹ گئی جب ایک اطالوی ٹینکر ریفائنری میں سامان اتار رہا تھا۔
پیرو میں چین کے سفارت خانے نے بی بی سی کے سوالات کے جواب میں لکھا کہ ‘کمپنی کی جانب سے بندرگاہ کے حوالے سے حکومت کو پیش کی گئی ماحولیاتی رپورٹ پیرو کے تمام قوانین اور ضوابط کی حدود میں ہے اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق ہے۔’
چینی حکام کا کہنا ہے کہ اوسٹر میل کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا ‘تکنیکی طور پر جواب’ دیا گیا ہے اور پیرو کے ماحولیاتی ادارے نے اس رپورٹ کو ‘مسترد’ کر دیا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ انوائرمنٹ رپورٹ جو بالآخر منظور کی گئی ہے اس میں سانتا روزا کا علاقہ بھی شامل ہے جو بالواسطہ طور پر پروجیکٹ سے متاثرہ علاقے میں آتا ہے اور اسے محفوظ رکھنے کے لیے کئی اقدامات کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
منصوبے کی مخالفت کی دیگر وجوہات
اس منصوبے کی مخالفت کی واحد وجہ ماحولیات پر پڑنے والے اثرات نہیں ہیں۔
چانکے بندرگاہ کے قریب رہائشی علاقوں میں رہنے والے مکینوں نے ایسوسی ایشن فار دی ڈیفنس آف ہاؤسنگ اینڈ دی انوائرمنٹ کی صدر مریم آرچی سے مطالبہ کیا ہے کہ انھیں کسی دوسرے مقام پر منتقل کیا جائے۔
وہ کہتے ہیں: ‘یہاں رہنے والے بہت سے لوگوں کے گھروں کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ زمین کو برابر کرنے کے لیے روزانہ دھماکے کیے جاتے ہیں اور اس کے لیے پورے علاقے کو خالی کرایا جاتا ہے۔
‘یہ ہمارے لیے ذہنی زیادتی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ہر روز دھماکے کے درمیان جینا کیسا ہوتا ہے؟’
مریم آرشے نے یہ مسئلہ صدر کاسٹیلو کے سامنے بھی رکھا ہے۔ صدر نے ان سے کہا کہ وہ اپنی مشکلات وزیر ٹرانسپورٹ اور مواصلات تک پہنچائیں۔ لیکن آرشے کا کہنا ہے کہ ان کی تمام کوششیں رائیگاں گئیں۔
مقامی لوگ کیا کہتے ہیں؟
چانکے میں لوگ بندرگاہ پر جاری کام کے شور کے درمیان اپنے دن گزار رہے ہیں۔ بندرگاہ کا کام شہر کے ایک بڑے حصے تک پھیلا ہوا تھا۔
پہاڑی کے ایک حصے کے ساتھ کھڑے ولیم جوراڈو ساحل سمندر پر مچھلی پکڑنے والی کشتیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: ‘ہم یہاں ماہی گیری اور سیاحت کے ذریعے برسوں تک سکون سے رہتے رہے ہیں، لیکن یہ سب اب ختم ہو جائے گا۔’
انھیں اس بات پر تشویش ہے کہ بندرگاہ کو مزید وسعت دی جائے گی اور یہ کہ پناہ کی تلاش میں آنے والے بگلے، بابون، سینڈپائپرز، کوٹ اور بطخوں جیسے پرندے اس علاقے میں آنا بند کر دیں گے۔
لیکن ایسا لگتا ہے کہ ولیم کی طرح چانکے اداس نہیں ہے۔ حالیہ دنوں میں بندرگاہ کی جانب سے فراہم کیے جانے والے نئے مواقع کی وجہ سے باہر سے بہت سے لوگ کام کی تلاش میں یہاں آئے ہیں۔
ڈیویلا کہتی ہیں: ‘قریبی ویٹ لینڈز میں رہنے والے بہت سے خاندان بھی مستقبل قریب میں اپنی زمین بیچنے کا سوچ رہے ہیں۔’
ایک گاؤں سے نکلتے وقت ہگاؤں کے باہر ایک بورڈ لگا ہے جو بدلتے وقت کی تصویر بتاتا ہے۔
بورڈ پر لکھا ہے کہ ‘ہم میگا پورٹ کے قریب زمین خریدتے ہیں۔’


