بیماری کا علاج کروائیں، ذریعہ معاش نہ بنائیں
راوی ٹال پلازہ لاہور جب کالا شاہ کاکو کے مقام پہ منتقل ہوا تو ٹریفک کی رفتار کم ہونے کے باعث وہاں مانگنے والوں کہ کثرت سے بہتات رہنے لگی۔ ان مانگنے والوں میں ایک ایسا شخص بھی تھا جس کے سر اور چہرے میں بہت زیادہ رسولیاں تھیں جن کے باعث اور کے سر کا سائز بہت زیادہ بڑا ہو گیا تھا۔ لوگ اس کو سائیں امتیاز کہتے تھے اس سے دعائیں کرواتے اور اس کی اس معذوری اور شکل و شباہت کے باعث اسے باقی بھکاریوں سے زیادہ بھیک ملا کرتی تھی۔
یہ کوئی مخصوص بیماری تھی جس کے باعث اس کے سر کا سائز ابنارمل حد تک بڑھ گیا تھا جب سائیں امتیاز کی معلومات جیوگرافک چینل والوں کو موصول ہوئیں تو انہوں نے اس پہ ڈاکیومنٹری بنانے کا فیصلہ کیا ان کے نمائندے نے سائیں سے رابطہ کیا کہ اگر وہ خود کو ڈاکیومنٹری کے لیے پیش کرے تو چینل والے اس کی رسولیوں کا آپریشن کروا دیں گے۔ وہ ڈاکیومنٹری کے لیے آسٹریلیا بھی لے جایا گیا اس پہ ڈاکیومنٹری بھی بنی لیکن سائیں امتیاز نے اپنا آپریشن کروانے سے انکار کر دیا اور بڑا دلچسپ جواب دیا کہ یہ میری روٹی روزی کا ذریعہ ہے اگر یہ ٹھیک ہو گئیں تو میں کھانے پینے کا بندوبست کہاں سے کروں گا۔ کچھ سال پہلے وہ اسی بیماری سے چل بسا۔
پاکستان میں بہت بڑے پیمانے پہ سیلاب آیا ہے۔ گاؤں کے گاؤں صفہ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔ سینکڑوں ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن چکے پیں۔ لاکھوں ایکڑ کے رقبہ پہ فصلیں تباہ ہو چکی ہیں جو غذائی قلت کا باعث بن سکتیں ہیں۔ درجنوں دل خراش مناظر ٹی وی کی سکرین پہ دیکھ کر لوگوں کی بری حالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں پے۔ یہ پہلی بار ہے نہ آخری بار۔ 2009 اور 2010 میں بھی سیلاب اسی پیمانے پہ تباہی مچا چکا ہے مگر ہم نے اس کا انتظام نہیں کیا۔ بلکہ اربوں ڈالر کی آنے والی امداد کو محفوظ ٹھکانوں پہ پہنچا دیا۔
ہر آٹھ دس سال کے بعد ہمارے ہاں سیلاب آتا ہے اور تباہی مچا دیتا ہے مگر ہم اس پہ کوئی انتظام نہیں کرتے۔ اگر بڑے آبی ذخائر بنانا ممکن نہیں ہے تو چھوٹے چھوٹے ڈیمز بنا کر اس سے بچا جا سکتا ہے۔ دریاؤں، نہروں اور ندی نالوں کی صفائی کا بروقت ہونا، کناروں کو پختہ بنانا اور کناروں پہ درخت لگانے سے بھی کٹاؤ کا عمل رک جائے تو تباہی کے لیول کو گھٹایا جا سکتا ہے۔ وبائی امراض جیسے ڈینگی پھوٹ پڑتی ہم ان کا پیشگی کوئی بندوبست نہیں کرتے۔
دنیا بھر سے پولیو ختم ہو چکا لیکن ہم ابھی تک اس کی حفاظت پہ پہرہ دیے بیٹھے کہ اس کے بہانے پاکستان دنیا کو یاد رہتا۔ سرد جنگ کے زمانے میں ہم غیر جانبدار رہنے کی بجائے امریکی بلاک کا حصہ بنے یہ سوچے بغیر کہ اس کے ہمارے معاشرے پہ کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ امریکہ کی جنگ میں ڈالرز کی کشش ہمیں کھینچ لائی۔ کرونا کی وبا دنیا بھر میں پھیلی ہر ملک نے اس سے بچاؤ کے لیے انتظامات کیے مگر ہماری پہلے دن سے سوچ اس وبا کے نتیجے میں حاصل ہونے والی امداد پہ تھی جس کے نہ ملنے کا افسوس ہمیں دو سال رہا۔ کیوں ہماری سوچ بھی اس سائیں امتیاز جیسی ہے ہم نے ان آفات کو اپنی روٹی روزی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔
اقوام متحدہ کا سیکرٹری جنرل پاکستان آیا ہے ہماری کوشش ہے کہ ہمیں آفت زدہ علاقے کے طور پہ تسلیم کر لیا جائے، بل گیٹس 75 لاکھ ڈالرز پاکستان کو دے رہا ہے۔ امریکی حکومت نے 30 ملین ڈالرز، یورپی یونین ن 350000 یوروز، 5 لاکھ یورو کا ائر لینڈ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے۔ پاکستانی فلاحی تنظیمیں بھی لوگوں کے ساتھ ملک کر حکومتی کاموں میں اپنی صلاحیتوں سے بڑھ کر مدد کر رہے۔ 33 ملین متاثرہ لوگوں کے لیے اگر کوئی کچھ نہیں کر رہا تو وہ حکومت ہے جو صرف سپیکر میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالنے کی اپیلیں کر رہی ہے۔
سیلاب کو قدرتی آفت سمجھ کر اس سے دامن نہ چھڑائیں یہ بد انتظامی کا نتیجہ ہے جس سے بچا جا سکتا ہے۔ دنیا جب تک ہماری بیماری کے نام پہ ہماری مدد کرتی رہے گی ہم کبھی صحت مند نہیں ہوں گے کیوں یہ بیماری نہیں بلکہ ہمارا روزگار ہے۔ سائیں امتیاز اس بیماری کے ساتھ زیادہ دیر زندہ نہیں رہا اس لیے ہمارا بھی مستقبل سائیں امتیاز کے مستقبل سے مختلف نہیں ہو گا۔



