سیلاب زدگان کی مدد اور جعلی کیمپ لگانے والے بے حس لوگ


     

اس بوڑھی ماں کا کہنا تھا کہ اس کا بیٹا اپنے بچوں کی بے جا زد پر انھیں سوات لے جانے پر راضی ہوا تھا۔ اس ماں کو کیا معلوم تھا کہ خوشی خوشی گھر سے سیر و تفریح کے لیے جانے والا اس کا بیٹا اور اس کے بیوی بچے پھر کبھی واپس نہ آ پائیں گے۔ ان کے جانے کے دو روز بعد ہی سیلاب کے باعث ہونے والی تباہ کاریوں اور اس میں شہید ہو جانے والے خاندانوں کی خبریں گردش کرنے لگیں۔ سیلاب کے باعث موت کا شکار ہو جانے والے لوگوں میں اپنے بیٹے اور اس کے بیوی بچوں کی خبر سن کر اس ماں کا دل دھل گیا۔ اسی طرح کی دل دہلا دینے والی خبریں نا جانے کتنے گھروں تک پہنچیں اور انھیں سوگوار کر گئیں۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ انھیں اس قسم کی قدرتی آفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پاکستان کے شمالی علاقہ جات جہاں لوگ قدرتی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے جاتے ہیں گزشتہ ماہ سیلاب کی زد میں آ گئے اور اپنے ساتھ بہت سی زندگیاں بہا کر لے گئے۔ اس سیلاب سے تقریباً تیرہ ملیں افراد متاثر ہوئے جن میں سے چھ ملیں کا کوئی نام و نشان نہیں ملا اور ایک ملیں سے زائد کو اپنے گھر بار چھوڑنے پڑے۔ ہر علاقہ جو قدرتی خوبصورتی کا ایک شاہکار تھا قیامت خیز منظر پیش کر رہا ہے۔ جن مناظر کو دیکھ کر لوگ لطف اندوز ہونے اور ذہنی سکون حاصل کرنے آتے تھے اب دل دہلا دینے والے مناظر پیش کر رہے ہیں۔

قدرتی خوبصورتی سے مالا مال ان علاقوں میں بسنے والے لوگوں نے اپنے گھر بار، اپنی قیمتی اشیاء، مویشی، روزگار اور حتی کے بعض نے اپنی اولاد سے بھی ہاتھ دھو دیے۔ ان لوگوں کے گمان میں بھی یہ نہ تھا کہ یہ سیلاب اس قدر تباہ کاریاں لے کر آئے گا۔ سب نے اپنی قیمتی چیزوں اور گھر بار کی پرواہ کیے بغیر اپنی اور اپنے گھر والوں کی جان بچانے کی تگ و دو کی۔ کچھ اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوئے اور بہت سے ایسا نہ کر سکے۔ جو اپنی جان بچا کر کسی محفوظ مقام پر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ان کے پاس اپنی زندگی کی بقا کے لیے کچھ نہ تھا۔ ایسے میں ایک محفوظ مقام پر ہونے کے باوجود ان لوگوں کو اپنی زندگی کی شمع بجھتی ہوئی محسوس ہونے لگی۔

گلگت بلتستان، سوات، کالام، بلوچستان اور اس جیسے پاکستان کے کئی قابل دید مقامات کے سیلاب کی زد میں آنے کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں جگہ جگہ امدادی کیمپس دیکھنے کو مل رہے ہیں جنھیں دیکھ کر ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ہر شخص کا دل سیلاب زدگان کی مدد کے لیے تڑپ رہا ہے۔ ان کیمپس کو دیکھ کر ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ہر شخص کے دل میں سیلاب زدگان کے لئے ہمدردی اور ان کی مدد کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ اس سب میں مختلف این جی اوز بھی پیش پیش نظر آ رہی ہیں اور اپنی اپنی خدمات انجام دینے کے لیے کوشش کر رہی ہیں۔ جگہ جگہ مختلف این جی اوز کے بینر دکھائی دے رہے ہیں جن کا مقصد لوگوں سے سیلاب زدگان کی مدد کے نام پر امداد اکٹھی کرنا ہے۔

یہ کیمپس مختلف این جی اوز، فوج، سیاسی جماعتوں اور عوام کی جانب سے لگائے جا رہے ہیں۔ ان سب کا مقصد سیلاب زدگان کی مدد کے لیے امداد اکٹھی کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے سب نے الگ الگ طریقہ کار اپنائے ہوئے ہیں۔ این جی اوز اور سیاسی جماعتیں اپنا نام استعمال کر رہی ہیں جبکہ عوام کی جانب سے لگائے جانے والے کیمپس مختلف قسم کے مذہبی احکامات اور قومی نغمے لگا کر لوگوں کی جذباتیت کو استعمال کر رہے ہیں۔ لوگ خوب بڑھ چڑھ کر سیلاب زدگان کی مدد کے لیے ان کیمپس کو امداد دے رہے ہیں یہ سوچ کر کہ یہ امداد مستحق لوگوں تک پہنچے گی اور اس کے ذریعے ان کی مدد ہوگی۔

یہ بات لوگوں کے وہم و گمان میں نہیں ہے کہ کچھ انسانیت سے گرے ہوئے بے حس لوگ اس قدرتی آفت کا فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں۔ آج بھی ہمارے معاشرے میں ہمارے درمیان ایسے بہت سے بے ضمیر لوگ موجود ہیں جو اس آفت کا فائدہ اٹھا کر اپنی لالچی فطرت کی بھوک مٹا رہے ہیں۔ ان کیمپس لگانے والوں میں بہت سے ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو لوگوں کو بیوقوف بنا کر سیلاب متاثرین کے نام پر امداد اکٹھی کر رہے ہیں اور امداد کے نام پر اکٹھا ہونے والا سامان یا تو بیچ دیتے ہیں یا اپنے کام میں لے آتے ہیں۔

لوگ یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ ان کی دی ہوئی امداد سیلاب متاثرین تک پہنچ ہی نہیں رہی۔ اس فریب میں صرف عام لوگ ہی نہیں بلکہ بہت سی این جی اوز بھی شامل ہیں جن کے مالکان اپنا کالا پیسہ صاف کرنے کے لیے اسے لوگوں سے اکٹھی کی ہوئی امداد کا نام دے رہے ہیں۔ یہ کہنا درست نہ ہو گا تمام این جی اوز اور کیمپس اس فریب کا حصہ ہیں لیکن ان میں سے بہت سی کالی بھیڑیں اس فریب میں ملوث ہیں۔ اس بات کی جانچ پڑتال مشکل ہے کہ کون صحیح کام کر رہا ہے اور کون فریبی ہے۔

اگر سیلاب متاثرین کا جائزہ لیا جائے تو اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ امداد کے نام پر جتنا سامان اکٹھا ہو رہا اس کا آدھا بھی ان تک نہیں پہنچ رہا۔ مختلف سیاست دان اور سوشل ورکرز سیلاب متاثرین کا جائزہ لینے کے لیے دورے کر رہے ہیں لیکن ان میں سے بہت کم ایسے ہیں جو اس بات پر غور کر رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو  نے کہا کہ ”انہوں نے امدادی کیمپوں میں کئی انتظامی کمزوریوں کا مشاہدہ کیا ہے، جس میں سیلاب زدگان کے علاج کے لیے ذمہ دار ڈاکٹروں اور طبی عملے کے مناسب ریکارڈ کی عدم موجودگی بھی شامل ہے۔“

وزیر اعظم نے سیلاب متاثرین کا دورہ کرنے کے بعد کہا ”میں ان سے ملا ہوں، بشمول بچے اور بوڑھے لوگ۔ تاہم، مجھے کوئی تصدیق نہیں ہو سکی کہ انہیں کھانا دیا گیا تھا۔ درحقیقت، امدادی کیمپوں کے مکینوں نے ہمیں واضح طور پر بتایا کہ انہیں کھانا نہیں دیا گیا تھا۔“

سوچنے اور غور کرنے کی بات تو یہ ہے کہ اگر امداد کے نام پر اکٹھا ہونے والا سامان سیلاب متاثرین کے پاس نہیں پہنچ رہا تو آخر وہ جا کہاں رہا ہے۔

اگر امداد کے نام پر بے تحاشہ سامان اور رقم اکٹھی ہو رہی ہے تو اس کے باوجود سیلاب متاثرین بھوک سے کیوں مر رہے ہیں۔ درحقیقت یہ امداد تو ان تک پہنچ ہی نہیں رہی۔ اگر یہ امداد بروقت ان تک پہنچ رہی ہوتی تو کم از کم متاثرین میں سے کوئی بھی بھوکا نہ رہتا۔ اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے لگائے گئے میڈیکل کیمپس بھی اپنے کام میں لا پرواہی برت رہے ہیں۔

اس لاپروائی کی وجہ سے سیلاب متاثرین مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ اور ان بیماریوں کے باعث زور کئی لوگ اپنی جانیں گواہ رہے ہیں۔

پاکستان کی بین الاقوامی امدادی ایجنسی مرسی کور، کی ڈائریکٹر فرح نورین نے کہا کہ ”سیلاب زدہ علاقوں میں بے گھر ہونے والے لوگوں میں پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ متعدی امراض کے علاوہ خواتین کی صحت کو خاص اہمیت حاصل ہے۔“

قابل غور بات یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے اور کیسے اس سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے حکومت اور عوام دونوں کو کردار ادا کرنا چاہیے۔ حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ جتنی امداد اکٹھی ہوئی ہے وہ ساری بروقت سیلاب متاثرین تک پہنچے اور جو لوگ ان کیمپس کے ذریعے فریب کر رہے ہیں انھیں پکڑ کر سزا دی جائے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ قابل بھروسا این جی اوز کے ذریعے امداد پہنچائیں تاکہ مستحق لوگوں کو ان کا حق مل سکے اور ہماری امداد زندگیاں بچانے کا باعث بن سکے۔

Facebook Comments HS