مطالعہ کتب ضروری ہے


مطالعہ زندگی میں کتنا اہم ہے، ہم میں سے اکثر لوگ غور نہیں کرتے۔ اگر مطالعہ اور عمل یا مشق میں سے کسی ایک کو ختم کر دیا جائے تو سیکھنے اور جاننے کا عمل سست ہو جاتا ہے۔ جس طرح کچھ سیکھنے کے لئے پڑھنا اور تجربات سے گزرنا اہم ہے اسی طرح سیکھے اور جانے بغیر دنیا کو نہیں سمجھا جا سکتا ہے۔

میں نے یہ مضمون انگریزی میں لکھنا شروع کیا تھا لیکن بعد میں ارادہ یہ سوچ کر تبدیل کیا کہ قومی زبان اردو کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا جب بات اکثریت کے دل و دماغ تک پہنچانا مقصود ہو۔ اسی سوچ کی وجہ سے میرے اردو کالمز اور بلاگز کی تعداد انگریزی تحریروں سے نسبتاً زیادہ ہے۔

اب اصل موضوع کی طرف واپس آتے ہیں۔ مطالعہ کرنے سے دماغی سرگرمیوں کو تقویت ملتی ہے۔ جس طرح مشینری کو بہتر کارکردگی کے لئے تیل یا گریس کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح دماغ کو زنگ لگنے سے بچانے کے لئے مطالعہ کی عادت بنا لینا بے حد ضروری ہے۔

جب ہم کچھ پڑھتے ہیں تو الفاظ سے شناسائی ہوتی ہے، ان کے معنی اور پیغام کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، الفاظ کی گہرائی کو تلاش کرتے ہیں، تجزیاتی اور تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور اس دماغی ورزش سے حافظہ اور ذہن بہتر ہوتا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے کی ایک تحقیق پڑھی تھی، سائنسدانوں کے مطابق مطالعہ کرنے سے ہمارے جسم میں موجود بیٹا امیلائیڈ پروٹین کا لیول کم ہوتا ہے جس میں اضافہ الزائیمر کی بیماری اور اس کی شدت میں اضافے کا باعث ہوتا ہے۔

پڑھنا اور لکھنا نہ صرف معلومات میں اضافے کا باعث ہیں بلکہ اظہار خیال کی صلاحیت میں بھی اضافہ کرتے ہیں، دنیاوی فکروں اور پریشانیوں کو وقتی طور پر بھولنے میں مدد کرتے ہیں، شخصیت میں نکھار لاتے ہیں اور اخلاقیات کو بہتر انداز میں سمجھنے کا ذریعہ ہیں۔ ایک قلمکار کی اعلیٰ اور بہترین تخلیقی صلاحیتوں کی موجودگی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ ایک اچھا قاری یا مطالعہ کرنے والا نہ ہو۔

مطالعہ وقت کا بہترین استعمال ہے چاہے بوریت کو دور کرنا ہو یا موڈ کو بہتر کرنا ہو۔ درست سمت اور راستے کا انتخاب مطالعہ کے ذریعے ہی ممکن ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کے فوائد کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے نقصانات بھی دیکھے گئے ہیں جن کا ذکر کرنا میں ضروری سمجھتا ہوں۔ بہت سارے افراد پڑھنے سے زیادہ شیئر کرنے میں مصروف رہتے ہیں چاہے فیس بک ہو، ٹویٹر ہو یا پھر واٹس ایپ۔

ایک جدید تحقیق کے مطابق انسٹھ فیصد افراد سوشل میڈیا پر لنک کلک کیے یا پڑھے بغیر شیئر کرتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ زیادہ تر افراد کی دلچسپی پڑھنے سے زیادہ خود کو قابل ثابت کرنے میں ہوتی ہے۔

ہم زیادہ تر سوشل میڈیا پر وہ شیئر نہیں کر رہے ہوتے ہیں جو حقیقت پر مبنی ہو بلکہ ہمارا مقصد وہ شیئر کرنا ہوتا ہے جس کو ہم خود صحیح سمجھتے ہیں۔ ایک یونیورسٹی پروفیسر ایڈریانا ماناگو کا کہنا ہے کہ کسی تحریر کو بغیر پڑھے شیئر کرنے میں سچائی اور معیار سے زیادہ جذبات اور پسند کا تعلق ہوتا ہے۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ مواد اور تحریر، بھیجنے والے کی شخصیت اور اصلیت کا پتا دیتے ہیں۔

زمانے کی ترقی نے مطالعے کو بہت آسان اور سستا بنا دیا ہے۔ بہت ساری کتابیں اور تحریریں آن لائن مفت دستیاب ہیں جو ماضی میں پیسہ خرچ کر کے حاصل ہوتی تھیں۔ البتہ آن لائن مطالعہ آنکھوں کے لئے کچھ مسائل بھی پیدا کرتا ہے اور جلد تھکاوٹ کا باعث ہوتا ہے۔ اس لئے ہمارے گھروں یا لائبریریوں میں موجود کتابوں کی اہمیت اور افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق آن لائن مطالعہ کرنے کے لئے کسی اخبار یا ہاتھ میں موجود کتاب کو پڑھنے کی نسبت دس سے تیس فیصد زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آن لائن تحریر کو زیادہ تر افراد پڑھنے کی بجائے سرسری سا دیکھتے ہیں اور بغیر پڑھے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اس کا ایک حل آن لائن کتاب کا پرنٹ لے کر مطالعہ کرنا ہے۔

سوشل میڈیا اور موبائل فونز نے ہمیں اتنا مصروف کر دیا ہے کہ دنیا کے گلوبل ولیج ہوتے ہوئے بھی گھر کے افراد میں فاصلے بڑھ گئے ہیں۔ اکثر گھروں میں ایک کمرے میں ہونے کے باوجود بچے اور بڑے اپنے اپنے موبائل فونز اور اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ موجودہ اور آنے والی نسلوں کو مطالعے کی طرف واپس لانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم انٹرنیٹ، موبائل فونز اور ٹیلیویژن کے اوقات میں کمی کر کے کتابوں کے لئے وقت نکالیں، بچوں کو لائبریری کا راستہ دکھائیں، ممکن ہو تو اپنے گھر میں چھوٹی سی لائبریری بنائیں، پڑھنے کے لئے گھر میں الگ اور پر سکون جگہ کا انتخاب کریں، اور یاد رکھیں بچے وہی سیکھتے ہیں جو بڑے ان کے سامنے کرتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments