روبوٹس کی دنیا


تپتی سڑک پر ٹوٹا جوتا پہنے، جو اپنے اندر آگ کی حدت جذب کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا تھا، وہ رکشے کی تلاش میں چلے جا رہا تھا۔ مہینے کا آخر تھا اور جیب میں موجود پیسے رکشے والوں کے مطالبے سے بیس فیصد کم تھے۔ جس کے کارن کوئی بھی اسے اس کی منزل تک پہنچانے کا کشٹ اٹھانے کو تیار نہ تھا۔ بالآخر اس نے اپنی خودداری کو اپنی قمیض کی اکلوتی جیب میں رکھا اور دو ایک رکشے والوں کی منتیں کرنے لگا لیکن جلد ہی اسے احساس ہوا کہ وہ ایک روبوٹ کے سامنے گڑگڑا رہا ہے کیونکہ مدمقابل پر کوئی اثر ہوتا دکھائی نہ دے رہا تھا۔

اب وہ پچیس منٹ کا فاصلہ رکشے پر طے کرنے کی بجائے پیدل طے کرنے پر مجبور تھا۔ سورج اپنا قہر ڈھا رہا تھا گویا آج ہی قیامت کی نشانیاں ظاہر کرنے پر مصر ہو۔ اس کا جسم پسینے سے شرابور اور چہرہ سرخ ہونے کے بعد اب سیاہ ہونے کی طرف مائل نظر آ رہا تھا۔ وہ پچیس منٹ کا فاصلہ اس کے لیے پل صراط کے مترادف بن چکا تھا۔ راستے کی طوالت کو شکست دیتا جب وہ ہانپتا کانپتا فیکٹری میں داخل ہوا تو مقررہ وقت سے خاصی تاخیر کا شکار ہو چکا تھا۔ وہ دل میں ڈھیروں خدشات کو پناہ دیے اور دماغ میں جمع تفریق کرتے اپنی جگہ پر جا رہا تھا کہ اسے اپنے نام کی گرجتی ہوئی آواز سنائی دی۔ ”اصغر جاوید“ کے الفاظ فضا میں گونج رہے تھے جو اس کے لیے صور اسرافیل کے مترادف تھے۔

بلاشبہ وہ آواز اس کے مالک کی تھی جو اس کے کانوں کے پردے چیرتی ہوئی ایک خنجر کی مانند اس کے دل پر لگی۔ اس کے خدشات سچ ہونے کو تھے کہ وہ اس گرجتی آواز کا مطلب بخوبی جانتا تھا۔ دراصل وہ پہلے بھی ایک مرتبہ بیٹی کی بیماری کی وجہ سے کچھ تاخیر سے فیکٹری پہنچا تھا اور اسے آئندہ کبھی تاخیر سے نہ آنے کی تنبیہ کی جا چکی تھی۔ اصغر مرے قدموں سے چلتا مالک کے سامنے پیش ہوا۔ اس کی وفاداری، محنت، لگن اور پابندی وقت کو سرے سے نظر انداز کرتے ہوئے، آج کی غلطی کو سب پر مقدم سمجھتے اسے نوکری سے خارج کرنے کی سزا سنا دی گئی۔ اس نے ایک بار پھر اپنی خودداری کا قتل کیا اور مالک کے سامنے گڑگڑانے لگا، منتیں کیں، واسطے دیے اور بالآخر قدموں میں گر گیا۔

وہ یہ کرنے پر مجبور تھا کیوں کہ جانتا تھا کہ گھر میں تین افراد کا کنبہ اس کا منتظر ہے اور راشن کے نام پر گھر میں مٹھی بھر دال اور ایک پیالی آٹے کہ سوا کچھ نہ تھا۔ دو مہینے کا بجلی کا بل ادا ہونے والا تھا اور مالک مکان سے کرایہ کی مہلت مانگتے اسے تیسرا مہینہ تھا اور یقیناً آخری بھی کہ اس کے بعد مہلت کی کوئی امید باقی نہ تھی۔

مگر فیکٹری کا مالک گویا آنکھوں سے اندھا اور کانوں سے بہرہ ہو چکا تھا۔ اسے نہ ہی اس کی حالت زار دکھائی دی اور نہ ہی اس کی پر درد آواز اس کے کانوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکی۔ بے حسی کی یہ انتہا دیکھتے ہوئے اصغر کو خیال آیا کہ کیا یہ واقعی انسان ہے کہ انسان میں انسانیت بہرحال کہیں نہ کہیں موجود ضرور ہوتی ہے۔ اسے یہ یقین ہو جانے کے بعد کہ وہ کسی انسان سے نہیں بلکہ ایک روبوٹ سے منت سماجت کر رہا ہے، مایوسی اور نا امیدی کی اتھاہ گہرائیوں میں گرتا ہوا فیکٹری سے نکلا اور یہ سوچتا ہوا کہ یہ دنیا تو انسانوں کی تھی روبوٹوں کی کب سے ہو گئی؟ ، گھر کی راہ پر ہو لیا۔

گھر میں داخل ہوتے ہی سب سے چھوٹی بیٹی نے باپ کی ٹانگوں سے لپٹ کر اس کا استقبال کیا مگر یہ محسوس کرتے ہوئے کہ آج باپ کے انداز میں پہلے جیسی گرمجوشی نہیں جلد ہی الگ ہو کر کھڑی ہو گئی۔ چھوٹی دونوں بچیاں قدرے کم عمر تھیں اس لیے زیادہ محسوس نہ کر پائی تھیں لیکن بڑی بیٹی جو خود بھی محض تیرہ چودہ برس کی تھی باپ کی حالت دیکھ کر پریشان اور قدرے خوفزدہ ہو گئی۔ اس نے باپ کے چہرے پر وہ یاسیت اور موت کی پرچھائی دیکھی تھی جو اس کی بیمار ماں کے چہرے پر مرنے سے کچھ دن پہلے چھا گئی تھی۔

خیر آج کی شام مٹھی بھر دال اور پیالی بھر آٹے سے کٹ گئی اور دونوں چھوٹی بچیاں سو گئیں۔ بڑی بیٹی باپ کی حالت کو سمجھنے کی کوشش کرتے نیند کی وادی میں اتر گئی لیکن باپ کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ تاریک رات میں اسے اپنا مستقبل اسی تاریکی میں تحلیل ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔ دن ہوتے ہی دل میں ایک امید جگائے کہ شب کی تاریکی کو بھی تو سورج نے اپنی کرنوں سے شکست دے دی ہے، نئی نوکری کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا لیکن رات کو مایوس واپس لوٹنا پڑا۔ دوسرا دن بھی پہلے سے مختلف نہ تھا۔ دو دن سے کسی کے حلق سے پانی کے علاوہ کچھ نہ اترا تھا۔

تیسرے دن سورج طلوع ہوا تو اس کی سرخی کو دیکھتے ہوئے یوں محسوس ہو رہا تھا گویا اس سے خون چھلکنے کو بے تاب ہو۔ بچیاں بھوک سے نڈھال نیم مردہ حالت میں اپنے بستروں میں پڑی تھیں کہ اٹھنے کی سکت باقی نہ تھی۔ اتنے میں دروازے پر دستک کی آواز آئی۔ اصغر نے دروازہ کھولا تو ایک اور روبوٹ کو دروازے پر منتظر پایا جو اسے مکان خالی کرنے کا عندیہ دینے آیا تھا۔ بے بسی سی بے بسی تھی۔ صحن سے گزرتے ہوئے اچانک اس کی نگاہ فرش پر گری چھری پر پڑی۔

نیم دیوانگی میں چھری پکڑے وہ کمرے میں داخل ہوا۔ بچیاں دروازے سے داخل ہوتے باپ کو منتظر نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں کہ شاید کھانے کو کچھ آیا ہو۔ لیکن اس سے پہلے کہ کسی کو کچھ سمجھ آتا وہ ایک ایک کر تینوں بچیوں کا گلا کاٹ چکا تھا۔ یہ کرتے ہوتے اس کا اندر اور باہر چیخیں مار رہا تھا اور پھر اسی جنونی کیفیت میں اس نے خود کو بھی قتل کر دیا۔ اب اندر اور باہر ہر جگہ سکوت تھا۔ مکمل سکوت۔

روبوٹس کی دنیا میں سے چار انسانوں کا جنازہ اٹھنے کو تیار تھا۔ خون ٹپکاتے سورج نے دیکھا کہ روبوٹس بڑی شان سے ان کا جنازہ لیے جا رہے تھے۔

Facebook Comments HS

One thought on “روبوٹس کی دنیا

  • 25/09/2022 at 4:10 شام
    Permalink

    Fantastic 👌

Comments are closed.