بیٹیوں سے بین النسلی بیزاری

بیٹیوں سے بیزاری مائیں اپنی ماؤں سے سیکھ کر آتی ہیں اور اپنی ذات اور ہم ذات سے نفرت باپ، بھائی، شوہر، خاندان، معاشرے، روایات اور من گھڑت دیو مالائی نظریات کروانا سکھاتے ہیں۔
” تم پرائے گھر کی امانت ہو“ ۔ یہ ایسے الفاظ ہیں جس کی تہہ میں موجود توہین اور دھتکار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بیٹی کی ذات کی نفی اس گھر (سسرال) اور (شوہر) کی شان میں شروع ہو جاتی ہے جو ان کی زندگیوں میں ابھی وجود بھی نہیں رکھتے۔
بیٹیوں کی زندگی کو ان کلمات کے گھاؤ سے مسلسل زخمی کیا جاتا ہے کہ ”جب وہ اگلے گھر کی ہوں گی تو ان کو معلوم ہو گا کہ زندگی کیسے گزرتی ہے، کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا کیسا ہوتا ہے، کسی کے ہاتھ کی مار کیسی ہوتی ہے، کسی کا طعنہ کیسا ہوتا ہے“ ۔ مائیں اپنی بیٹیوں سے اپنی اس زندگی کا انتقام لینا چاہتی ہیں جس کا گناہ ان ماں باپ اور خاندان کے سر ہوتا ہے جو بیٹی کا پہلے ہاتھ شادی کی صورت میں بھاؤ لگاتے ہیں، جس کی قیمت بیٹی بیوی، بہو، زچگی سے گزر کر، اگلے گھر اور برادری کی خادمہ بن کر چکاتی ہے۔
غلامی کا یہ آسمان بیٹیوں پر اس نفرت کے برملا اظہار کی شکل میں ہر دن ٹوٹتا ہے جب تک ان بیٹیوں کی قیمت سسرال نما بازار میں نہیں لگتی۔ جبر، غضب، اور دھتکار کا یہ دائرہ دوبارہ سے نسلی زیادتیوں کی لکیر کھنچتا ہے۔ بین نسلی بد سلوکی اتنی محتاط ہے کہ اس کا نشانہ صرف بیٹی کی ذات بنتی ہے، بیٹے اس سے بھی اکثر مستثنی رہتے ہیں۔ بیٹوں کے ہاتھوں بد سلوکی اور زیادتی بھی بیٹی کی قسمت میں آتی ہے، باپ کی روایتی انا اور نسلی حقارت کی سزا بھی اسی بیٹی کو ملتی ہے۔ یہی جبر اور تشدد کا تسلسل اور دھتکار، بد سلوکی کی مکمل صورت میں ایسی بیٹیاں بناتا ہے جو اپنا انتقام لاشعوری طور پر اپنی بیٹیوں سے لیتی ہیں۔ مختصراً، بیٹی سے ہر کوئی بیزار ہے، اس دنیا میں پدرشاہی کے ہاتھوں پختہ کی گئی ہر بنیاد اور فرد، یہاں تک کہ وہ خود بھی۔
نفرت کی دھار اتنی تیز ہے کہ جانتے سمجھتے ہوئے بھی بیٹیوں کو برے لوگوں میں بیاہ (دیا) جاتا ہے۔ جس سسرال نما بازار میں بیٹی کے بھاؤ لگانے کی آس ساری عمر کی جاتی ہے، آخر میں اس کو شادی کی صورت میں بیچا بھی وہیں جاتا ہے۔ اس کو اس بات کا مکمل ادراک کروایا جاتا ہے کہ کسی بھی طرح کی تذلیل پر اف تک نہ کرے۔ وہاں سے مر کر بھی کہیں جائے تو لحد میں اترے۔ بیٹی کو ویسی تعلیم دی جاتی ہے نہ ہی تربیت کہ کہیں زیادتی اور جبر کی کوئی زنجیر توڑنے کی روادار نہ ہو پائے۔
جہاں کوئی بیٹی زیادتی اور مار کی یہ زنجیریں توڑتی ہے وہاں اس سے اس کے جینے کی آس چھین لی جاتی ہے یا عمر بھر کے لئے ملعون قرار پاتی ہے۔ اس کو جینے سے مار دیا جاتا ہے یا جیتے جی مار دیا جاتا ہے۔ جو جینے سے مارتے ہیں تو لوگوں کی باتوں کے خوف سے انا اور غیرت پر مارتے ہیں، اور جو جیتے جی مارتے ہیں وہ کبھی بھولے سے قانون کے خوف سے نہیں مار پاتے یا لوگوں کی نظروں کے احتساب سے بچنے کے لئے۔
بیٹی سے نفرت کی اس سے بڑی اور کیا مثال ہوگی کہ شروع سے ہی بد تمیزی اور جبر کو بیٹیوں کی تربیت کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ جب بیٹے بہنوں پر جسمانی اور زبانی تشدد کریں تو مائیں ان کو روکتی نہیں ہیں۔ اسی تشدد کے خلاف شکوہ کرنے پر مائیں یہ کہہ کر ٹال دیتی ہیں کہ ”تمھارا بھائی ہے۔ کل کو شوہر سے جب مار کھاؤ گی، تب شکوہ نہیں کرو گی۔ آج بھائی کا غصہ برداشت نہیں کر سکتی تو شوہر کے ساتھ گھر کیسے بساؤ گی“ ۔
یہ الفاظ آسمان سے اترتے ہیں نہ زمین کی کسی گہرائی سے آتش فشاں بن کر ابلتے ہیں۔ یہ روزمرہ زندگی میں اسی معاشرے، روایات، خاندان کی تربیت اور عورت ذات سے فطرتی نفرت کی وہ آنت ہیں جس سے شیاطین بھی تائب ہیں مگر اسی معاشرے اور نفرت آلود خاندانی نظام کی اصل جھلک ہیں۔
ماؤں کو اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ ان کی جنی ہوئی بیٹیوں جن کی جگہ بیٹوں نے دنیا میں آنا تھا، وہ بھی ویسی ہی بدتر اور بد صورت زندگی گزاریں گی جیسے وہ خود گزارتی آئی ہیں مگر مائیں بیٹیوں کے لئے وہ سنگین اقدامات نہیں لیتی جو ان کا فطرتی حق ہے۔ جس کی بدولت وہ ویسی بدصورت زندگی نہ گزاریں۔ مگر یہ بہت قلیل ہے کہ کسی ماں نے بیٹیوں کی زندگی کی بہتری کے لئے متشدد حالات کو چھوڑا ہو۔
بیٹوں کی لڑائی میں ماں باپ کو چھوڑ دینے والے بیٹیوں کے گناہ گاروں سے کبھی قطع تعلق نہیں کرتے۔ آج بھی ایسے ہزاروں گھرانے ہوں گے، جہاں بیٹیوں کے جسموں پر ہاتھ ڈالنے والے رشتے دار اور دوست آج تک انہی گھروں میں معزز ہیں اور شان سے میل جول کرتے ہیں۔ ایسے مجرموں اور انسانی گوشت کے بھوکے باپ کے بھائیوں سے باپ رشتے توڑتے ہیں نہ مائیں قطع تعلق کرتی ہیں۔ یہ ان بیٹیوں کا ظرف نہیں ہے کہ وہ آج تک اپنے جسموں کے رہزنوں کے سامنے آتی ہیں اور ان ماں باپ کی شکایت نہیں کرتی، یہ ان کی وہ غلامانہ حیثیت ہے کہ وہ کچھ کر نہیں سکتی۔
وہ اپنے متشدد شوہر اور سسرال نما بازار میں جیتی ہیں جیسے کبھی وہ اس گھر میں جیتی تھیں جہاں ان کو مسلسل جبر اور دھتکار کی تربیت ملی تھی۔ وہ کچھ کہہ نہیں سکتی کہ کوئی یقین نہیں کرے گا۔ وہ بس ایسی زہریلی دھند نما زندگی اس امید پر گزارتی ہیں کہ کبھی ان کے پروں میں جان آئے گی اور وہ اڑ کر کہیں دور ہجرت کریں گی، جہاں وہ اس بین النسلی لاشعوری نفرت اور تشدد کی زنجیر توڑ کر زندگی بسر کریں گی۔

