بڑھتی ہوئی جنسی شدت پسندی۔ ذہنی آزادی کا بھیانک روپ؟
بدقسمتی سے آج ہم ایسے معاشرے میں رہ رہیں جہاں کے لوگوں کا وحشت میں جنگل کے درندوں سے مقابلہ ہے اور افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے معاشرے کے لوگ اس مقابلے کو بھاری اکثریت سے جیت رہے ہیں۔
پاکستان میں اس وقت جنسی درندگی کا شکار ہر عمر ہر طبقے کی عورت ہو رہی ہے،
ریاست پاکستان میں کسی بھی قوم، ذات، مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی عورت یا بچے محفوظ نہیں ہیں، قبر میں دفن عورت کی لاش سے لے کر جھولے میں جھولتی بچی تک کو ہوس کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔
حد تو یہ ہے کہ عبادت گاہوں جیسے مقدس مقامات پر بھی بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی رپورٹس دیکھنے میں آتی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ 11 خواتین اور آٹھ بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں، پاکستان میں پچھلی دو دہائیوں میں ایسے کئی واقعات دیکھنے کو ملے ہیں، جن کا تصور کر کے بھی انسان کی روح لرز جاتی ہے۔
شیطان کے پجاری انسان نما درندے معصوم کلیوں اور نابالغ بچیوں کو بھی اپنی ناپاک ہوس کا نشانہ بنانے سے باز نہیں آتے۔
لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق 2015 سے مئی 2022 تک مجموعی طور پر جنسی زیادتی کے 22 ہزار 37 مقدمات درج ہوئے، جن میں سے چار ہزار 60 مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔
اب تک 77 مجرموں کو سزائیں ہوئیں اور صرف 18 فیصد کیسز پراسیکیوشن کی سطح تک پہنچے ہیں۔
یہ اعداد و شمار ایسے جرائم کے ہیں، جو پولیس کو رپورٹ کیے جاتے ہیں، جب کہ ایسے بہت سے جرائم سماجی طور پر بدنامی کے ڈر، خوف یا مجرموں کی طرف سے دھمکیوں جیسی وجوہات کے باعث پولیس کو رپورٹ کیے ہی نہیں جاتے۔
آئیے پاکستان میں بڑھتے ہوئے ریپ کیسز کے اسباب پر کچھ نظر ڈالتے ہیں۔
بیشتر سماجی، نفسیاتی اور ماہرین عمرانیات اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان میں ان جرائم کے ارتکاب کے بڑے اسباب غربت، بے روزگاری، سماجی طور پر عزت اور غیرت کا تصور اور فراہمی انصاف کے نظام میں پائی جانے والی خامیاں ہیں۔ ماہرین کے مطابق انفرادی اور اخلاقی سطح پر خود احتسابی کی کمی، معاشرے میں موجود گھٹن اور محرومی کے احساس کو بھی ایسے جرائم کا سبب بتایا جاتا ہے۔
بے راہ روی اور بڑھتی ہوئی ہوس پرستی کا تعلق کسی ایک کلاس سے نہیں ہے، بلکہ ایسا امیر، غریب، پڑھے لکھے، ان پڑھ اور ہر ذات پات، دین دھرم کے انسان میں پایا جاتا ہے، پاکستان کے اعلی تعلیمی اداروں میں بھی جنسی ہوس پوری کرنے کے کئی واقعات جنم لے چکے ہیں، 2021 میں اسلام آباد کی اسلامک یونیورسٹی میں ایک 22 سالہ لڑکے کو ایک گینگ نے بدفعلی کا نشانہ بنا ڈالا تھا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہاں ہوس ایسے لوگوں کے اوسان پر غالب آ چکی ہے اور ہوس کے پجاری اخلاقیات، سماج اور قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کوئی بھی حد کراس کر سکتے ہیں۔
حال ہی میں سندھ میں کچھ ایسے انسانیت سوز واقعات رپورٹ ہوئے ہیں کہ سن کر انسانیت کانپ اٹھتی ہے، ذرائع کے مطابق کچھ با اثر افراد کی جانب سے سیلاب زدگان کو پناہ دینے اور انھیں امداد فراہم کرنے کا جھانسہ دے کر مصیبت زدہ خواتین کی عصمت دری کی گئی ہے۔
آخر پاکستان میں ریپ یا عصمت دری کے واقعات کیوں بڑھ رہے ہیں؟ اس سوال کا آسان اور دو ٹوک جواب دینا تو مشکل ہے، لیکن اگر ہم اس کا فلسفے کے اصولوں کے یا فلاسفرز کے اقوال کو سامنے رکھ کر تجزیہ کریں، تو ہم اس مشکل سوال کا جواب ڈھونڈ سکتے ہیں۔ سگمنڈ فرائیڈ ایک آسٹرین نیورولوجسٹ اور علوم نفسیات کے بانی تھے، وہ لکھتے ہیں کہ خواب نا آسودہ جنسی خواہش سے پیدا ہوتے ہیں۔
یہ نا آسودہ خواہشات دماغ کے مخصوص حصے میں جنم لیتی ہیں، یہ خواہشات متحرک ہوتی جاتی ہیں۔
اس سماج میں بیشتر اذہان جسمانی ضروریات کو پورا کرنے کی طلب میں مبتلا ہیں، اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کچھ ذہن اس حد تک شدت پسند بن جاتے ہیں کہ وہ اس کے حصول کے لیے مذہبی اور معاشرتی حدود تک کو روند ڈالتے پر آمادہ ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے آئے روز اس طرح کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
آخر کیا وجہ ہے کہ جنسی شدت پسندی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے؟
کچھ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ذہنی آزادی نے ہماری جسمانی آزادی پر حملہ کیا ہے، مطلب یہ کہ آج کے دور میں ایک بچے پر چھوٹی سی عمر میں ہر وہ چیز عیاں ہوجاتی ہے جو اس کی عمر سے مطابقت نہیں رکھتی، اس کے علاوہ بے روزگاری، صحیح غلط کی تمیز نہ ہونا اور سب سے بڑھ اس دور میں بننے والی فلمیں اور ڈرامے، جہاں نہ کوئی حد ہے نہ کوئی پردہ۔ ہمارے معاشرے میں انسانی ذہن اتنی الجھنوں میں ہے کہ وہ اپنا غصہ، ناکامیابی، مایوسی، پریشانی سے چھٹکارا اور ذمہ داریوں سے کنارہ کشی کے لئے اس طرح کے راستے اپناتا ہے۔ کبھی کوئی خود کے ساتھ غلط کرتا ہے، تو کبھی کوئی اس طرح دوسروں کو تشدد، اذیت اور ذلت دے کر تسکین حاصل کرتا ہے۔
دنیا بھر میں شدت پسندی کی بدترین شکل جنسی شدت پسندی ہے، جو کسی بھی معاشرے کو تباہ کر دیتی ہے۔ یہ ایک انسان کی غلطی نہیں بلکہ اس کی مرضی اور منشا ہوتی ہے، جب تک مجرم کو قانون کے مطابق اس جرم کی قرار واقعی سزا نہیں ملے گی، تب تک معاشرے میں عورت کی عزت اور اس کا تحفظ یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔


