برطانوی سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کی تجویز فلسطین کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار


فلسطین
PA Media
فلسطینیوں نے برطانیہ کی جانب سے اسرائیل میں قائم اپنے سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کی تجویز کو 'بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی' قرار دیا ہے۔

برطانوی وزیرِ اعظم لِز ٹرس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اُنھوں نے اپنے اسرائیلی ہم منصب یائر لاپید کو اقوامِ متحدہ کے اجلاس کے دوران اس نظرِ ثانی سے آگاہ کیا۔

ایسا کوئی بھی اقدام انتہائی متنازع ہو گا۔ سنہ 2018 میں امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلم منتقلی پر بھی عرب دنیا میں شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا تھا۔

یائر لاپید نے بھی ایک ٹویٹ میں ’مثبت غور‘ کے لیے لِز ٹرس کا شکریہ ادا کیا۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈ لائنز میں ملاقات کے بعد اُنھوں نے لِز ٹرس کو اپنی ’اچھی دوست‘ قرار دیا۔

برطانوی وزیر اعظم نے یہ تو نہیں بتایا کہ منتقلی کب ہو گی مگر اس نظرِثانی کی تصدیق کی ہے۔

برطانوی حکام نے کہا ہے کہ وہ اس اقدام کے متوقع نتائج پر تبصرہ نہیں کریں گے۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ لِز ٹرس اس معاملے کی حساسیت سے خبردار اور اسرائیل میں برطانوی سفارت خانے کے محلِ وقوع کی اہمیت سے آگاہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’خدا کا غضب‘ فلسطینی گروپ کے خلاف اسرائیل کا خفیہ آپریشن

اسرائیل اور ایران کی خفیہ جنگ جو اب کُھل کر سامنے آ رہی ہے

سر ظفراللہ کی مسئلہِ فلسطین پر جنرل اسمبلی میں تقریر اور وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا چیلنج

غزہ پر راج کرنے والا فلسطینی عسکریت پسند گروہ حماس کیسے وجود میں آیا؟

اسرائیل نے سنہ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد مقبوضہ غربِ اردن، غزہ کی پٹی اور مشرقی یروشلم پر قبضہ کر لیا تھا۔ ان علاقوں کو تب سے اب تک عالمی طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقے تصور کیا جاتا ہے۔

ٹوئٹر پر برطانیہ میں فلسطین کے سفیر حسام زملط نے کہا کہ یہ ’انتہائی افسوس ناک‘ ہے کہ لِز ٹرس نے اقوامِ متحدہ میں بطور وزیرِ اعظم اپنے پہلے دورے کو ’عالمی قانون کی ممکنہ خلاف ورزی کا وعدہ‘ کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ سفارت خانے کی منتقلی ’برطانیہ کی تاریخی ذمہ داریوں‘ کی ’سنگین خلاف ورزی‘ ہو گی جس سے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر مبنی دو ریاستی حل خطرے میں پڑ جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’ایسا وعدہ غیر اخلاقی، غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ‘ ہے۔

https://twitter.com/hzomlot/status/1572968026575900673

اب تک دیگر زیادہ تر ممالک کی طرح برطانیہ نے بھی اپنا سفارت خانہ متنازع یروشلم کے بجائے تل ابیب میں رکھا ہے۔ برطانیہ کا موقف رہا ہے کہ وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان حتمی امن معاہدے کے بعد ہی سفارت خانہ اس مقدس شہر میں منتقل کرے گا۔

برطانیہ کا مشرقی یروشلم میں قونصل خانہ ہے۔

لِز ٹرس نے مبینہ طور پر کنزرویٹو پارٹی کی قائدانہ مہم بھی میں سفارت خانے کی منتقلی کا تصور پیش کیا تھا۔

جب سنہ 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارتی مہم کا وعدہ پورا کرتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تھا تو اس معاملے پر عالمی سطح پر مذمت سامنے آئی تھی۔ اس کی وجہ سے پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے تھے جن میں درجنوں فلسطینی افراد کو اسرائیلی فورسز نے ہلاک کر دیا تھا۔

اس وقت برطانوی وزیرِ اعظم ٹیریزا مے نے امریکی اقدامات کی مخالفت کی تھی۔

تب سے اب تک صرف تین ممالک ہونڈوراس، گوئٹے مالا اور کوسووو نے امریکی تقلید کرتے ہوئے اپنے سفارت خانے تل ابیب سے یروشلم منتقل کیے ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے حال ہی میں دو ریاستی حل کے لیے واشنگٹن کے عزم کا اعادہ کیا ہے تاہم اُنھوں نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس نہیں لیا ہے۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp