ایاز امیر کی گرفتاری اور plea of Alibi


کہتے ہیں بیٹی رحمت ہے جبکہ بیٹا نعمت اور پھر دونوں کے لئے کہا گیا ہے کہ اگر اولاد ایک جانب نعمت تو دوسری جانب آزمائش اور فتنہ بھی ہے۔

بچے بگڑتے لارڈ پیار سے ہیں اور اس لارڈ پیار کے پیچھے زیادہ تر ماں کی شخصیت چھپی ہوئی ہوتی ہیں جو انجام کے بعد سامنے آجاتی ہے۔

بڑے باپ کا بیٹا ہونا بھی کوئی چھوٹی بات نہیں ہوتی ہے اور ان کا یہ جملہ ہر جگہ ان کے کام آتا رہتا ہے جب تک کوئی غلط کام نہ کر گیا ہو اور وہ ہے ”تم جانتے ہو میں کون ہوں“ ۔ ”میں کس کا بیٹا ہوں“ ۔ اس پر مجھے حال ہی میں ایک مقبول ڈرامے میرے ہم نشیں کا ڈائیلاگ یاد آیا جس میں ایک سیدھی سادی لڑکی جو گاؤں سے میڈیکل کالج میں اسلام آباد آئی ہوئی ہوتی ہے اور اس میڈیکل کالج کے ڈاکٹرز مالکان کا بگڑا ہوا بیٹا میڈیکل کا طالب علم ہوتا ہے جو جان بوجھ کر اس لڑکی سے ٹکراتا ہے تو وہ لڑکی جب رد عمل میں اس اوباش لڑکے پر غصہ ہوتی ہے تو وہ اوباش لڑکا ان سے کہتا ہے جانتی ہو میں کون ہوں تو جواباً وہ لڑکی انھیں کہتی ہے کہ بظاہر تو انسان کا بچہ لگتے ہو تم بتاؤ کس کے بچے ہو۔

تو میں بات بچوں کے بگڑنے کی کر رہا تھا شاید شاہنواز بھی ماں کے لارڈ پیار کی وجہ سے بگڑ گیا تھا جو بتایا جاتا ہے کہ نشے کی لت میں بھی پڑ گیا تھا اور شادی پر شادی کر کے پچھلی والی کو چلتا کرتا تھا لیکن پشتو میں کہاوت ہے کہ دہرے ونے مہ خورہ د یوے بہ دے زہر شی یعنی ہر درخت کا پھل مت کھاؤ کوئی زہریلا بھی ہو سکتا ہے۔

مبینہ طور پر سارہ شاہنواز کی تیسری بیوی تھی جس کو پاکستان آنے پر شاہنواز کی دوسری شادیوں کا بھی پتہ چلا اور وہ یہاں مستقل رہنے کے لئے آئی تھی جبکہ شاہنواز مبینہ طور پر ان سے دبئی سے پیسے منگواتا تھا اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ پاکستان آئے اور جو گاڑی سارہ نے مبینہ طور پر پاکستان میں خریدی تھی وہ بھی شاہنواز نے اپنے نام کی تھی۔ یہ سب کچھ وجہ اختلاف اور پھر سارہ کی وجہ موت بھی بنا۔

اب اس مرڈر کیس میں شاہنواز کے ساتھ ساتھ ان کی والدہ ثمینہ شاہ اور سینئیر صحافی ایاز امیر کو بھی ملوث کیا گیا ہے۔ شاہنواز اور ایاز امیر گرفتار ہو کر پولیس ریمانڈ پر ہیں جبکہ ثمینہ شاہ نے عبوری ضمانت کر رکھی ہے۔

شاہنواز کے مرڈر کیس میں ایاز امیر کو ملوث کرانے کے بعد ان کا موقف سامنے آیا ہے کہ وہ قتل کے وقت چکوال میں تھے اور ان کا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں۔

قانون کے اصطلاح میں ایسے موقف کو جو ایاز امیر نے اپنایا ہے پلی آف الیبائی کہتے ہیں۔ جو لاطینی اصطلاح ہے جس کا انگریزی ترجمہ ایلس وئیر اور اردو میں کہیں اور کا نکلتا ہے یعنی واردات کے وقت جب ملزم کہے کہ میں اس وقت کہیں اور تھا اور میں اس واردات میں ملوث نہیں ہوں تو ایسے اصطلاح کو قانون میں پلی آف الیبائی کہتے ہیں۔

اس موقف کے اپنانے کے بعد بار ثبوت ملزم پر آ جاتا ہے۔ اور ملزم شہادتوں سے کسی سقم کے بغیر ثابت کرے گا کہ وہ واقعی واقعے کے دن وہاں نہیں تھے اور نہ صرف وہاں نہیں تھے کافی نہیں اس واقعے میں ملوث نہ ہونے کا بھی ثبوت دیں گے کیونکہ آج کل صرف کسی جگہ پر نہ ہونا کافی نہیں دیگر ذرائع سے بھی کسی واردات میں بندہ ملوث ہو سکتا ہے۔

یہ بتاتا چلوں کہ اگر ایاز امیر اس پلی میں کامیاب ہو گئے تو نہ صرف ضمانت پر رہا ہو جائیں گے بلکہ وہ اس کیس میں ٹرائل کے بعد بری بھی ہو جائیں گے یا شاید پولیس رپورٹ میں دفعہ ایک سو انہتر میں شواہد نہ ہونے کی وجہ سے ان کو چھوڑا بھی جا سکتا ہے یا پھر شہادت کی کمی کی وجہ سے دفعہ چار سو ستانوے دو بی میں رکھا جا سکتا ہے۔

لیکن چاہتا ہوں کہ پلی آف الیبائی پر بھی مختصر سی بات کروں تاکہ قانون کے طالب علموں کے لئے جان کاری کا سبب بنے۔

الیبائی ایک لاطینی لفظ ہے جس کا انگریزی ترجمہ ایلس وئیر اور اردو ترجمہ کہیں اور کا ہے۔ یہ ایک مسلمہ ڈیفنس پلی ہے جو بطور رول گواہی تسلیم کی جاتی ہے نہ کہ بحیثیت مستثنیات کے۔ یہ پی ایل ڈی انیس سو ستاون ڈھاکہ پیج پانچ سو تین سے مقسد ملا بنام کراؤن سے رولنگ بنا۔ جو بعد میں پاکستان کریمنل لاء جرنل انیس سو اکہتر ڈی بی پیج نو سو چوالیس، پاکستان کریمنل جرنل ڈی بی انیس سو اکیاسی پیج چار سو چار، پی ایل جے دو ہزار سی آر سی لاہور پیج سولہ سو انچاس، دو ہزار دو وائی ایل آر ایک سو تیس سے لے کر اب تک فالو کیا جاتا رہا ہے۔

اس کے علاوہ قانون شہادت آرڈر انیس سو چوراسی کے آرٹیکل چوبیس میں بھی پلی آف الیبائی یا عذر ملزم غیر موجودگی کو صراحت سے ڈسکس کیا گیا ہے جو کہ عام طور پر مندرجہ زیل طریقوں سے ثابت کیا جاسکتا ہے۔

الف۔ یہ کہ اس کے لئے مبینہ جرم کا ہونا چاہیے جو کہ قانون میں قابل سزا ہو۔
ب۔ وہ۔ شخص جو الیبائی پلی لیتا ہے وہ لازمی طور پر اس جرم میں ملوث ملزم ہو گا۔

ج۔ یہ ایک دفاعی پلی ہے۔ جس میں ملزم کہتا ہے کہ وہ کسی اور جگہ تھا یا تھی جب یہ واردات ہو رہی تھی۔ جس کے لئے ٹھوس ثبوت کا ہونا درکار ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS