ثمینہ پگانوالہ اور گجرات کی سیاست


آپ گجرات کے سابقہ رکن قومی اسمبلی میاں مشتاق پگانوالہ کی بہو اور ان کے فرزند میاں فخر پگانوالہ کی بیوی ہیں، ثمینہ فخر پگانوالہ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ان کو 2007 ء میں خود محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے ایم این اے منتخب کیا تھا 2011 ء میں وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان بنائی گئیں آپ کو دختر گجرات کا لقب بھی دیا گیا۔ انہوں نے گجرات میں ریکارڈ ترقیاتی کام بھی کروائے موجودہ حالات میں واحد خاتون ہیں جو ضلع بھر میں اپنی پارٹی کی طرف سے عوامی رابطے میں مسلسل لوگوں کے درمیان پائی جاتی ہیں۔

گجرات کی سیاست پر جب بھی بات ہو گی تو پگانوالہ خاندان کا ذکر لازم ہو گا کیونکہ ان کا سیاست میں اہم کردار رہا ہے۔ گجرات کی سیاست میں نمایاں پگانوالہ فیملی کے سربراہ میاں مشتاق پگانوالہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دیرینہ ساتھی، 1936 ء کو گجرات میں میاں نور الہی پگانوالہ کے گھر پیدا ہوئے، انٹر تک تعلیم کے بعد آبائی پیشہ ٹرانسپورٹ سے وابستہ ہو گئے، پاکستان پیپلز پارٹی، ضلع گجرات کے 18 سال صدر رہے، 1977 ء کے عام انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے انہوں نے چوہدری ظہور الہی کو ریکارڈ شکست دی۔

مشتاق صاحب نے ممبر اسمبلی رہتے ہوئے کوئی کرپشن نہ کی اور کوئی پیسہ نہ بنایا جو کہ سیاست کی تاریخ کا حصہ ہے ان کو صحت کے مسائل بھی تھے لیکن اس کے باوجود تاحیات پارٹی کے ساتھ منسلک رہے۔ ان کے بیٹے میاں فخر پگانوالہ جب 2002 ء میں صوبائی سیٹ ہر کھڑے ہوئے تو وہ صرف گیارہ سو ووٹوں سے ہارے۔ اس کے بعد چوہدری برادران نے پگانوالہ خاندان کو توڑنے کی بہت کوشش کی اور کشمیری برادری کے ووٹ کو تقسیم کیا جو کہ پی پی کے روایتی ووٹر تھے لیکن میاں فخر پگانوالہ اور ثمینہ پگانوالہ بھی آج تک اپنی پارٹی کے ساتھ وفادار رہے کوئی بھی بات ان کو اپنی پارٹی اور ورکرز سے دور نہ کر سکی۔

حقیقت تو یہ بھی ہے جو گجرات کے لوگوں کی زبانوں سے نکلی جاتی ہے کہ قمر زمان کائرہ بھی اس فیملی سے نالاں دکھائی دیتے ہیں ان باتوں کو ختم کرنے کے لئے قمر زمان کائرہ کو چاہیے وہ خود چل کر پگانوالہ فیملی کے پاس جائیں اور اس فیملی کو ساتھ بٹھا کر پارٹی کی بہتری کے لئے احسن طریقے سے اقدامات کریں کیونکہ واحد گجرات شہر ہے جہاں پگانوالہ فیملی کے چشم و چراغ میاں فخر اور ثمینہ پگانوالہ کی کاوش سے گجرات میں چیئرمین صاحب کی ریلی کا کامیاب استقبال کیا گیا اور یہ واحد شہر تھا جہاں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے دو دفعہ ورکرز سے خطاب کیا اور اس کا سارا کریڈٹ اسی فیملی کو جاتا ہے۔

اس کے علاوہ مرکز قائدین بھی تو پارٹی کے تنظیمی دورے پر ڈسٹرکٹ ٹو ڈسٹرکٹ آئیں۔ یہ اب تنکا تنکا جوڑ کر گھر بنانے والی بات ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو، آدھی رات کو شیخ فتح عثمان ( پارٹی کے پہلے ضلعی صدر ) کے گھر پہنچ گئے تھے۔ ایوبی آمریت تھی۔ ایک بندہ ساتھ تھا اور گھر کی بیل خراب تھی۔ گھر والے سوئے ہوئے تھے۔ گھر کی کنڈلی ہلاتے رہے اور کھٹکھٹائے رہے۔ یہ فتح عثمان تا حیات پی پی پی کے ساتھ رہے۔ اس لئے اب پنجاب کے حالات پر نظر رکھتے ہوئے عہدے داران و ذمہ داران کو پارٹی کو فعال کرنے کے لئے اپنی اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھانی ہوگی جس سے آنے والے الیکشن میں کامیابی کی منزل کو پہنچے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments