عقیدت زینب علیہ السلام کے تقاضے

محمد ﷺ کی نواسی، فاطمہ و علی علیہ السلام کی دختر، حسن و حسین علیہم السلام کی ہمشیرہ، عون و محمد علیہ السلام کی والدہ ماجدہ زینب علیہ السلام۔ جن کی پہچان کے حوالے بے شمار۔ لیکن دین اسلام کا امتیاز یہ بھی ہے کہ خواتین اپنی پہچان آپ بھی ہیں۔ جن کا علمی و اخلاقی قد انفرادی طور پر اس قدر بلند ہے کہ باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے کے لاحقے ان کے نام کے ساتھ نہ بھی ہوں تو شخصیت کا چراغ نہ بجھے۔ اور اگر یہ نسبتیں ان کے نام سے جڑ جائیں تو چار چاند لگ جائیں۔
زینب وہ خاتون جنت جس نے شہادت امام علیہ السلام کو زندہ رکھا۔ جس نے واقعہ کربلا کو تاقیامت تک انمٹ بنایا۔ جس نے یہ دکھایا کہ جب کسی خاندان کے مرد نہ رہیں تو عورت، عورت رہ کر کیسے بڑے مقاصد کے لئے لٹے پٹے، تنہا، مظلوم، بے کس بچوں، خواتین اور بیماروں کی رہنما بن سکتی ہے۔ جس نے یہ بتایا کہ حالات کیسے ہی نا گفتہ بہ ہوں، دشمن کتنا ہی جابر و طاقتور ہو، اللہ رب العزت ہی اصل سہارا ہے۔ نا مساعد حالات میں، ظالم کے خوف سے باطل کو حق کہنا ناجائز ہے۔
سچائی، ایمان اور وقار کی قیمت آپ کے پیاروں اور خود آپ کی جان ہے۔ جنہوں نے ثابت کیا کہ خاندان اور معاشروں کی بقا مرد اور عورت کے شانہ بشانہ کام کرنے میں ہے۔ جہاں وقت اور حالات کے مطابق دونوں کو لیڈ لینی پڑتی ہے۔ جن کے عمل نے یہ کر دکھایا کہ جب انسانیت کے معیار گر جائیں، تب بھی آپ کو اپنے اخلاقی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔
یہ بات آج سے صدیوں پہلے کی ہے۔ جب سفر اونٹوں پر تھا۔ راستے کٹھن اور دشوار تھے۔ مہینوں، سالوں نہ آنے والوں کی خبر ملتی۔ نہ جانے والوں کا پتہ۔ تکلیف در تکلیف۔ پھر یہ بھی تو دیکھیے کہ جب مدینہ سے روانگی کی تو مقصد صرف ہجرت تھا۔ نقص امن کے خدشے سے رخت سفر باندھا۔ کوفہ اور کربلا میں حالات جس نہج پر پہنچے۔ عداوت اہل بیت ﷺ اپنی آخری حدوں کو گئی۔ کم سن بچے، اور گھروں کی عورتیں میدان جنگ میں رہ گئیں۔ اور ان پسماندگان کو پا بہ زنجیر، اکھڑتے قدموں کے ساتھ ہزاروں میل کا سفر کربلا سے شام تک کروایا گیا۔
زنداں میں قیدی رکھا گیا۔ تب زینب علیہ السلام نے سب کی رہنمائی کی۔ اور جب یزید نے عبداللہ بن زبعری سہمی کے وہ اشعار ان کے سامنے اپنے دربار میں پڑھے، جو اس نے حالت کفر میں کہے تھے۔ بلکہ ان میں اضافہ کیا اور یہ بولا کہ میں فرزندان محمد ﷺ سے اپنے آباء و اجداد کے قتل کا انتقام لینا چاہتا ہوں۔ جو یاران محمد ﷺ کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ جواباً ڈرنے، جھجکنے کی بجائے زینب علیہ السلام نے کھڑے ہو کر بہادری سے یہ کہا:
”اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ کہا کہ جو برے کام کرتے ہیں، ان کا یہی انجام ہوتا ہے۔ کہ وہ خدا کی نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ یعنی تو جو آج خدا کی نشانیوں کو جھٹلا رہا ہے۔ اور ان کا استخفاف کرتا ہے۔ اور جس طرح مکہ کے بت پرستوں نے جنگ احد میں کچھ مسلمانوں کی شہادت سے خوش ہو کر گیت گائے تھے۔ تو بھی فرزندان رسول ﷺ کی شہادت پر خوش ہو کر شعر خوانی کر رہا ہے۔ اور رسول خدا صلی اللہ سے انتقام کی باتیں کر رہا ہے۔ تو تیرا یہ حال کیوں ہے۔ اور یہاں تک نوبت کیسے آئی؟ یہ سب تیرے اعمال کی سزا ہے۔ تو ہے، تیرا باپ ہے اور وہ ہے جسے تجھے عراق کا حاکم بنا کر بھیجا ہے اور اس کا باپ ہے۔ تم لوگ فرزندان پیغمبر ﷺ کو قتل کرتے ہو اور پھر حق و صداقت کا نام لیتے ہو۔“
اس لئے اگر آپ کو زینب علیہ السلام سے محبت ہے۔ ان کی بے چادری کا غم ہے۔ ان کی معصوم اولادوں عون و محمد کی دردناک اور کم سن شہادت کا درد ہے۔ ان کی اجڑی گود آپ کے آنسو رواں کرتی ہے۔ ان کے بھائیوں اور ماں جائیوں کے کٹ جانے کا گریہ ہے۔ ان کا زخم زخم، کوڑے زدہ، لہولہان سفر آپ سے ماتم کرواتا ہے۔ یزید کے ستم، استہزاء اور فرعونیت کے سامنے بنت علی علیہ السلام کی بے چارگی آپ سے نوحے کرواتی ہے۔ تو یہ یاد رکھیں کہ زینب علیہ السلام بہادر تھیں۔ مبلغ اور فصیح تھیں۔ نڈر اور صابر تھیں۔ کارواں کی سربراہی کی اہل تھیں۔ عالمہ اور منتظم تھیں۔ اس لئے ان سے پیار کے داعی کم از کم یہ کریں :
اپنے گھروں میں اپنی خواتین کو حالات حاضرہ اور اس سے متعلقہ گفتگو کا حصہ بنائیں۔
اپنی خواتین کی ساری زندگی صرف کچن سے ڈیفائن نہ کریں۔
اپنی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کو اشرف المخلوقات سمجھیں۔ اور اس کی ذہنی قابلیت کو مانیں۔
ہر عورت ضروری نہیں کھانا بنا کے، گھر کو صاف کر کے مطمئن ہو۔ مولا نے ضرور انھیں اس سے زیادہ کی اہلیت دی ہو گی۔ تو ایسے ریس کے گھوڑوں کو پہچانیں۔ اور انھیں اڑنے کو پر دینے میں شامل ہو جائیں۔
قرآن کی سمجھ ازبر کروائیں۔ دینی اور دنیاوی علوم جو فلاور ارینجمنٹ، ہوم اکنامکس، سیاسی، سماجی، فنی، نفسیاتی ہر رنگ کا احاطہ کریں۔
سائیکل، موٹر کار، گاڑی حتی کہ ہوائی جہاز (اگر ہو سکے تو) وہ بھی چلانا سکھائیں۔
منبر پر بیٹھنے کے قابل بنائیں تو ظاہری حلیے زینب علیہ السلام کی تعلیمات کے عین مطابق کرنے کی تلقین کریں۔
جسمانی اور ذہنی طور پر مضبوط بنانے کے لئے کراٹے، تیراکی، خطابت، اور دوسرے فنون سے بہرہ ور کریں۔
اچھے، برے، چھوٹے، بڑے فیصلوں کا حق دے کر خود انحصاری اور قوت فیصلہ کو پختہ کریں۔
زینب علیہ السلام کا کردار فخر سے اپنائیں۔ تاکہ کڑے وقتوں میں آپ کو مدد کے لئے دوسروں کی بجائے اپنے ہی گھر سے کمک ملے۔
زینب علیہ السلام سے انسیت کی کسوٹی یہ بھی ہے کہ جب آپ کی ماں، بہن، بیٹی، بہو، بیوی یا زیر کفالت کوئی بھی عورت سر اٹھا کر، علمی اور عملی طور پر ان نا مساعد لمحوں اور برسوں کا با وقار انداز میں مقابلہ کرے، جب وہ آپ کے زیر سایہ نہ رہے۔

