پوٹھوہار، خطہ دل ربا: اک کتاب جو میرے دل سے لکھی گئی
کہتے ہیں وطن سب کو پیارا ہوتا ہے اس لیے اظہار الحق صاحب کی کتاب عاشق مست جلالی کی تقریب بمقام بک کارنر جہلم پر جب گگن شاہد نے کہا کہ شاہد صدیقی صاحب کی کتاب پوٹھوہار: خطہ دل ربا آ رہی ہے جس میں جہلم کا بھی ذکر ہے تو مجھ جیسے شخص کے لیے، جو اپنے علاقے اور گاؤں کی محبت کا شکار ہے، یہ اک بہت بڑا لالچ تھا اور سچی بات ہے کتاب کے حوالے سے صرف دو باتیں یاد رہ گئیں، اک شاہد صدیقی، دوسرا پوٹھوہار
کتاب چھپ گئی، واٹس ایپ اور فیس بک پر کتاب کا چرچا ہونے لگا تو میں بھی اک شام بلکہ رات، جب کہ بک کارنر شوروم کی بتیاں تک گل کر دی گئی تھیں، کتاب لینے جا پہنچا، گگن کی محبت کہ دوبارہ بتیاں روشن ہوئیں اور کتاب منگوائی گئی، جبکہ بقایا اک ہمدرد سے لے کر دیا، یوں اس کتاب کا اور ہمارا تعلق قائم ہوا۔
پہلے کتاب کے نام ”پوٹھوہار: خطہ دل ربا“ نے دل کھینچ لیا اور اس کے بعد جب کتاب کھلی تو غدر میچ گیا
غدر تو مچنا ہی تھا کہ کتاب کیا ہے، ”میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے“
آپ خطہ پوٹھوہار میں رہتے ہوں اور عمر کی 40 بہاریں دیکھ چکے ہوں، محنت آئندہ زندگی کے لیے اور محبت گزشتہ زندگی کے لیے رکھ چھوڑی ہو، اور اس گزشتہ زندگی میں آپ نے پوٹھوہار کی عظمتوں کے نشان، شیرشاہ کا قلعہ رہتاس، سارنگ خان کا روات قلعہ اور پنجاب کی سرحد پر پہرہ دیتا اکبر بادشاہ کا اٹک قلعہ دیکھ رکھا ہو، اس کے علاوہ دوستوں کے ساتھ نہ سہی کسی سکول یا کالج ٹرپ میں ٹیکسلا کے کھنڈرات پر بیٹھ کر وقت کی بے رحمی کا مطالعہ کیا ہو کہ کیسے چندر گپتا کی سلطنت اجڑ گئی۔ راجہ پورس جیسا بادشاہ ہو یا پھر ارتھ شاستر لکھنے والے چانکیہ کی بات ہو، ٹیکسلا کی قدیم یونیورسٹی ہو یا پھر گورڈن کالج کے کمرے، کٹاس راج جیسی متبرک جگہ ہو یا پھر راولپنڈی کا اندرون، وہ سب جو ناپید ہو گیا اس کو اس کتاب میں پھر زندہ کیا گیا۔
ایسا نہیں ہے کہ اس کتاب میں بڑی بڑی باتیں ہیں، بلکہ آپ کی اور میری زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں اور غم بھی ہیں۔ یہ وہ ہی خوشیاں اور غم ہیں جو اپ کی اور میری زندگی میں بھی اس ہی طرح آتے ہیں جس طرح شاہد صدیقی صاحب کی زندگی میں آئے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ شاہد صاحب نے ان کو لفظوں میں پرو کر سب کے سامنے رکھ دیا اگر چہ باتیں آپ کی اور میری ہی ہیں۔
کیا ہم دیہاتوں کی زندگی میں ”میرا گاؤں میری دنیا“ نہیں ہوتا، یا پھر ہماری مائیں ”میری ماں میری استاد“ کا کردار ادا نہیں کرتی، ”انعام بھائی“ کا کردار میری زندگی میں میرے ماموں مرزا اسجد نے ادا کیا، آپ کی زندگی میں بھی کوئی ایسا کردار ہو گا۔ جبکہ ”مری کی کرشمہ سازی“ تو اہل پوٹھوہار پر وحی کی طرح اترتی ہے جب وہ وہاں پہلی دفعہ جاتے ہیں اگرچہ آج کل مال روڈ پر چلنے والے بادلوں میں نہیں، رش میں گم ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ جس طرح ہم نے فصلوں کی کٹائی، گاؤں کے میلے، بچپن میں ڈھڈیاں جائیں کی کہانیاں سنی ہیں، رمضان کی برکتیں اور ننھیال کی رونقیں دیکھی ہیں، اسی طرز پر شاہد صدیقی صاحب نے نہ صرف دیکھی ہیں بلکہ لکھ بھی دی ہیں اور یہ کتاب کا پہلا حصہ ہے۔
اس کے بعد کتاب میں شروع ہوتا ہے ”باوا جی پنڈی“ اگرچہ یہ اصطلاح کتاب میں موجود نہیں لیکن سینہ گزٹ بہت مشہور ہے۔ یہ اصطلاح یاد اس لیے آ گئی کہ جب صدیقی صاحب نے راولپنڈی کا ذکر کیا تو پھر دل کھول کر رکھ دیا، راولپنڈی کی گلی گلی، محلہ محلہ، الفاظ میں پرو دیا، ”راولپنڈی ؛ پوٹھوہار کا جھومر“ میں ذکر ہے راولپنڈی کے علاقوں کا، ان کے رنگ روپ کا، ان کی رونقوں کا، ان کے سکون کا، تاریخ کا اور اس دور کا جب مریڑ سے کچہری تک جانے والی سڑک پر تانگے، سائیکلیں اور اکا دکا گاڑیاں چلتی تھیں۔ جب گوالمنڈی کے ایگل ہوٹل پر ادھار چائے ملتی تھی اور ہارے سٹریٹ کے گورے قبرستان میں اک سر کٹا گورا گھومتا تھا۔ لیکن یہ وہ کہانیاں اور باتیں ہیں جو کہ بعد میں خود شاہد صدیقی صاحب کے لیے اجنبی بن گئی۔ اس لیے انھیں اپنا دکھ بیان کرنے کے لیے اک کالم ”اپنی گلی میں اجنبی“ لکھنا پڑا۔
جس طرح مجھے جہلم پسند ہے کہ میں نے اس شہر میں چلنا پڑھنا سیکھا، دوست اور دشمن بنائے، اس شہر نے مجھ پر خوشیاں واریں اور دکھ بھی دیے، دکھ دیے تو پھر در و دیوار سے لپٹ کر رونے بھی دیا، اسی طرح راولپنڈی صدیقی صاحب کے دل میں بستا ہے۔ صدیقی صاحب راولپنڈی کے علاقوں سے نکلے تو اس کے تعلیمی اداروں میں جا پہنچے، جہاں انھوں نے ٹاٹ پر بیٹھ کر ماسٹر فضل صاحب سے شہتوت کی چھڑیاں کھا کر پڑھا اور جہاں آج کل ٹینٹ سروس کی دکان ہے۔ نہ صرف ان تعلیمی اداروں کا ذکر ہے بلکہ جہاں انھوں نے پڑھایا بھی۔ لیکن گورڈن کالج پر تو جیسے بہار ہی لے آئے کہ صدیقی صاحب نے اک پورا باب ہی گورڈن کالج کی قوس قزح پر باندھ دیا ہے۔ اس باب میں ان تمام رنگوں کا ذکر ہے جن کی وجہ سے گورڈن کالج کی قوس قزح میں رنگ آئے۔
اس کے بعد شاہد صدیقی صاحب نے پوٹھوہار کا نوحہ لکھا ہے ان لوگوں کی زبانی جو پیدا تو پوٹھوہار میں ہوئے مگر پوٹھوہار اک دل ربا کی طرح ان سے بچھڑ گیا، گلزار صاحب جب ”ذکر جہلم کا ہے بات ہے دینہ کی“ لکھتے ہیں تو نوحہ ہی لکھتے ہیں نا! اس کے علاوہ من موہن، سنیل دے، بلراج ساہنی جیسے لوگ جو پوٹھوہار کی مٹی میں پیدا ہوئے مگر اس مٹی میں دفن ہونے کی حسرت میں مر گئے۔
یہ کتاب حقیقت میں ”خواب ہوتے گلی کوچوں اور دل بروں کی کہانیوں“ پر مشتمل ہے جس پر مجھ جیسا طالب علم لکھنا چاہتا ہے تاکہ لوگ ان خواب ہوتے گلی کوچوں اور دل بروں کی کہانیاں پڑھیں کہ یہ اب نایاب ہوتے جا رہے ہیں لیکن کتاب پر مضمون تو لکھا جا سکتا ہے کتاب نہیں۔
اس کتاب میں پوٹھوہار کے نیلم و مرجان کا بھی ذکر ہے، دادا امیر خان جیسے ہیرے جو وقت کی گرد میں دب گئے ہیں اور ابھی کل کی بات ہے کہ مارچ کے مہینہ میں صدیقی صاحب شاہد حمید کو اے عشق جنوں پیشہ میں یاد کرتے ہیں۔ ان ہیروں میں کالا گوجراں جہلم کے مرزا ابراہیم جیسے لیبر لیڈر کی کمی محسوس ہوئی جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان نے مزدوروں کے حقوق کے لیے انگریز سے لے کر ضیاءالحق تک سب کی جیل کاٹی تھی۔
اس کے ساتھ ساتھ پوٹھوہار کے تاریخی خزانے بھی اس کتاب میں بیاں کیے گئے ہیں جن کا ذکر میں شروع میں کر چکا ہوں۔ غرض یہ کہ اس کتاب میں پوٹھوہار کی دل ربائی سمو کر رکھ دی گئی ہے۔
اس بات کا فیصلہ اپ نے خود کرنا ہے کہ یہ کتاب تاریخ رقم کرتی ہے یا تاریخ بیان کرتی ہے لیکن اک بات میں کامل یقین سے کہ سکتا ہوں کہ اس کتاب کو پڑھ کر اپ کو پوٹھوہار سے محبت ہو جائے گئی کیونکہ پوٹھو ہار خطہ دل ربا ہے۔



