نذر محمد راشد اور ”ایران میں اجنبی“


نذر محمد راشد اردو کے شاعر ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ راشد پاکستانی شاعر ہیں۔ شاعر اپنی سفارتی پیشہ کی وجہ سے وہ ایک دہائی سے بھی کم عرصہ پاکستان میں رہے۔ شاید راشد کے لئے پاکستان ایک دور دراز کے رشتہ دار کی مانند ہے جس کے ساتھ پدرانہ تعلقات ہوتے ہوئے بھی گہرے تعلقات نہیں ہیں۔ اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ بے شک فیض احمد فیض پاکستانی شاعر ہیں لیکن راشد صرف اور صرف اردو کے شاعر ہیں۔ بہر حال، راشد کی ادبی شخصیت ایک بین الاقوامی شکل رکھتی ہے۔

اگر چہ راشد کے نظریات کو کسی ایک مکتب فکر میں ڈالنا مشکل ہے، لیکن وہ اس بات پر یقیں رکھتے ہیں کہ فنکارانہ آزادی اخلاقی شعور اور سماجی ترقی کو روشن کرنے کا یہ ایک بہترین طریقہ ہے۔ راشد نے اپنے ادبی پیشہ کے ساتھ ساتھ سفارتی پیشہ کی بدولت اپنے فلسفیانہ افق کو ہمیشہ وسعت دی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کا انداز فکر زیادہ ہمہ گیر ہوتا چلا گیا۔ نذر محمد راشد اپنے مجموعے ”ایران میں اجنبی“ میں ایران کے ماضی، حال اور مستقبل کو پیش کرتے ہیں جو عصری دنیا میں مذہبی قدامت پسندی اور دنیاداری جدیدیت کے درمیان ہونے والے تنا‏ؤ میں الجھا ہوا تھا۔

شاعر برصغیر کو ٹکڑے ٹکڑے ہوتے ہوئے دیکھ کر کہتے ہیں کہ جب تک روحانی پاکیزگی کی جستجو کو ہم برقرار نہ رکھیں، ایران مغرب کی ایک اور کٹھ پتلی بن جائے گا۔ اگر آج نذر محمد راشد یہاں ہوتے، تو اس مجموعہ کی سیاسی مضمرات اور عمیق پن ایک جیسا ہرگز نہیں ہوتا۔ شاید شاعر آج کے ایران کو دیکھ کر خوش ہوں، یا وہ قدرے مایوس ہو جائیں۔

اس مجموعے میں تین موضوعات ہیں : مشرقی اور مغربی کے درمیاں کشیدگی، ہجرت کا درد، اور ایران کا ماضی، حال اور مستقبل۔ سب سے پہلے، دوسرے شاعروں کے بر عکس جو مغرب کے استحصال پر کڑی تنقید کرتے ہیں، راشد نہ ہی مغرب کا ہمدرد ہے اور نہ ہی مشرق کا ۔ شاعر کے نزدیک، جب کہ سامراجی حکومت کی نوآبادیاتی نفسیات ایشیا کی پسماندگی کی حقارت پر مبنی ہے، جبکہ ہندوستانیوں کی قومی نفسیات احساس کمتری اور بزدلی پر مبنی ہے، اور یہ دونوں نفسیاتی پہلو ایک دوسرے کے متضاد ہونے کے بجائے، ایک دوسرے کے لئے سازگار ہیں۔ یہاں قومی تذلیل کی تاریخ ان دونوں پہلوؤں کے بغیر نہیں لکھی جا سکتی ہے۔ شاعر ایران کے لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہتے ہیں کہ سیاسی ترقی کے دھارے کی تبدیلی کے بغیر ایران کو جنوبی ایشیا کے اسی المیے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی تمامیت سامراجی حکومت کی ہمیشہ حکمت علمی رہی ہے۔

دوسری بات، راشد اپنے مجموعہ میں تقسیم ہند کے دوران کمزور لوگوں پر ہجرت کے جذباتی اثرات کے حوالے سے فکرمند ہیں۔ وہ ان طریقوں سے واقف ہیں جس کے ذریعے ہجرت کا تشدد بے بس خاندانوں اور معصوم عوام کو بکھیر دیتا ہے۔ راشد کا ادبی شعور معروضی حقیقت پر مبنی نہیں ہے بلکہ ان موضوعی تجربات پر مبنی ہے جس میں ان کی شناخت اپنی زندگی میں ہونے والے ثقافتی جھٹکے سے متاثر ہوتی ہے۔ ہجرت موضوعی تجربے کی ایک مثال ہے جو ملک، قوم اور خودی کے درمیان تعلق کا تجزیہ کرنے میں راشد کی ادبی دلچسپی کو متاثر کرتی ہے۔

اگرچہ شاعر کا پاکستان سے مضبوط جذباتی تعلق نہ بھی ہو، لیکن اپنے وطن سے ان کا جذباتی لگاؤ انتہائی شدید ہے۔ اگر چہ برطانیہ ان کی زندگی کی آخری منزل ہے، لیکن ان کی نظموں سے پتہ چلتا ہے کہ وطن سے ان کا جذباتی لگاؤ اتنا ہی مضبوط ہے جتنا کہ ان کی جوانی میں تھا۔ یہاں راشد کے لیے ہجرت ایک جسمانی حرکت ہونے کے ساتھ ہی ساتھ ایک روحانی و دینی سفر ہے جس میں نقل مکانی کے بعد لوگ وجودی اضطراب کا شکار ہوتے ہیں گویا وہ ایک زمین سے مجبوراً اکھڑا گیا پودا ہوں۔

تیسرے، ایران شاعر کے سفارتی فرائض کی وجہ سے اپنی فنی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ شاعر ایرانی قوم کو یاد دلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ فارسی اپنی ادبی دولت اور مذہبی پاکیزگی کی وجہ سے مشرقی اور اسلامی تہذیب کا مرکز تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی حکومت کی حمایت کے تحت محمد رضا پہلوی کو شاہ کے طور پر نام زد کیا گیا تھا۔ جہاں اقتصادی حالت میں کافی بہتری آئی، ایران کی اخلاقی حالت ابتر ہوئی جس پر مذہبی رہنماؤں نے تنقید کی تھی۔

اس لئے ایران کو اس امکان سے گریز کرنا چاہیے کہ مغرب کے بچھائے گئے جال میں پھنستے ہوئے ہندوستان کی غلطی کو یہاں نہ دہرایا جائے۔ اس کے علاوہ، راشد پاکستان میں ہونے والی مشکلات کی طرف سے ایران کی بے حسی سے مایوس ہیں اور اس بات پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ فرقہ وارانہ تقسیم ایک متحدہ اسلامی قوم کے قیام کے امکانات کو محدود کر دیتی ہے۔

راشد ادبی صناع و بدائع کا نفیس استعمال کرتے ہوئے نہ صرف شاعر کی جمالیاتی انفرادیت کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ اپنے متعلقہ مسائل کو پوری طرح سے پیش بھی کرتے ہیں۔ نذر محمد راشد ایران کو لعنت لذت گری کے باعث رستگاری معنوی کی سرزمیں سے خود شیفتگی کے زندان میں تبدیل ہوتے ہوئے دیکھ کر ”ایران میں اجنبی“ میں طنز آمیز لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے ایرانیوں کو اس بات پر خبردار کرتے ہیں کہ جب تک ایران مغرب کی سراسر منافقت سے آگاہ نہیں ہوتا اور اپنی روایتی اخلاقیت کو پر قرار نہیں رکھتا، وہ برصغیر کی تنزلی جیسے المیے میں مبتلا رہے گا۔

میرا خیال ہے کہ طنز کا استعمال راشد کی ادبی جمالیات کا امتیازی نشان ہے، جو دوسرے مشہور شاعر جیسے علامہ اقبال کے جمالیاتی اسلوب سے بہت مختلف ہے۔ اگر چہ نذر محمد راشد اور علامہ اقبال دونوں مشرق اور مغرب کے درمیان ہونے والے سیاسی اور نظریاتی کشمکش پر زور دیتے ہیں، یہاں ان کے اسلوب بیان میں کافی فرق ہے۔ جبکہ اقبال مشرقی معاشرے کو مغربی ثقافتی بالادستی میں الجھا ہوا دیکھ کر فن شورشی خطابت کے ذریعہ اس کو اسلامی قوم کی تشکیل اور اہمیت پر قائل کرتے ہیں، راشد کا خیال یہ ہے کہ طنزیہ انداز بیان مغرب کی سازشوں اور منافقت کا انکشاف کر سکتی ہے، جو خاموشی سے مشرقی معاشرے کے اخلاقی ساخت کو تباہ و برباد کر رہی ہے۔

اگر اقبال قائل کرنے کی ادبی جمالیات کی بنیاد پر اپنے آپ کو ممتاز کرتے ہیں تو راشد دلیل پیش کرنے کی ادبی طاقت کی بنیاد پر اپنی ساکھ بناتے ہیں۔ اگر اقبال عظیم الشان تھیٹر میں ایک مقرر کی مانند ہیں، تو راشد محلے کے قصہ گو ہیں۔ لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ جہاں اقبال کے سامعین دانشور طبقہ ہے، وہیں راشد کے سامعین عام لوگ ہیں جب راشد نے اپنی پریوں کی کہانی کے ذریعہ قارئین کے ساتھ احساس مزاح پیدا کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے۔

اس مضمون میں مجموعہ کے دوسرا حصے کا تجزیہ کرتا ہوں۔ یہ مجموعہ نظم ”من و سلویٰ“ سے شروع ہوتا ہے۔ اگرچہ سامراجی حکومت اپنے ظلم اور جوڑ توڑ کے لئے بدنام ہے، لیکن شاعر سامراجی حکومت کو ایک شیطان کامل کے طور پر تصور کرنے کے بجائے اس کو ایک ہوشیار ”راہزن“ تصور کرتے ہیں جو برصغیر کی مادی دولت اور عوام کی نفسیاتی ضعف سے بخوبی واقف ہے۔ آیا یہ ایک ایسی ”امیر بیوہ“ کی مانند ہے جو اپنی دولت کو تقسیم کرنے کے لئے بے چین ہے لیکن سامراجی حکومت کے مطابق ہندوستانی قوم ایک ایسی ”خواجہ سرا“ کی مانند ہے جس کی فرمانبرداری نہ صرف مشہور ہے بلکہ وہ صرف ہاں میں ہاں ملانا جانتی ہے۔

سامراجی حکومت دوسری بات سے واقف ہے کہ نسل اور مذاہب کی پیچیدگی خطے کو تقسیم کرنے اور بدامنی پھیلانے کا باعث بن سکتی ہے اور اس طرح سے خطے کو آسانی سے فتح کیا جا سکتا ہے۔ ”نژاد کمتری“ سامراجی حکومت کے ”عنکبوت کے جال“ سے بچ نہیں سکتے ہیں۔ تاہم، شاعر کے نزدیک صرف سامراجی حکومت کو مورد الزام نہیں ٹھہر آیا جا سکتا۔ در حقیقت ”ابن الوقت“ ہی اصل مجرم ہیں جو ”من و سلوی“ کی آرزو کی وجہ سے اپنی عزتوں کو ترک کرتے رہتے ہیں۔

یہ ابن الوقت منافق ہیں جو کبھی ”بھیڑیوں“ کی مانند نظر آتے ہیں جو مغرب والوں سے خوشنؤدی تلاش کرتے ہیں اور کبھی اس ”سائل“ کی مانند ہوتے ہیں جن کے پاس کوئی اخلاقی بنیاد نہیں ہوتی اور جو شرمندگی کو نہ جانتے اور نہ پہچانتے ہیں۔ چاپلوسی ان کی واحد عادت بن جاتی ہے۔ وہ سراسر ”بزدل“ ہیں جو اپنی اخلاقی سالمیت کو ”بخشش“ کے عوض بدل دیتے ہیں۔ تاہم، انہیں صرف وہی ”دوا“ ملے گی جو انہیں خود کو اخلاقی سرزنش سے دیے گئے ”درد“ سے نجات دلائے گی۔

نظم ”تیل کے سوداگر“ سے بہتر کوئی نظم نہیں جو ایران پر امریکی تسلط سے پہنچے ہوئے نقصان کی عکاسی کرتی ہے۔ اس نظم میں ایک دلچسپ تضاد دیکھا جا سکتا ہے، جب راشد ایران کو ایک بوڑھا آدمی قرار دیتے ہیں جس کی ”خمیدہ کمر“ پر ایک ہوشیار امریکی تیل کا سوداگر بیٹھا ہوتا ہے۔ یہ تیل کے سوداگر نہ صرف ایران کا تیل نکالتے ہیں، بلکہ تہران کو ”سیال سایوں“ میں گھول دیتے ہیں۔ ایران کی رفعت، وقار اور شان کو منافقت اور جہالت کے قہقہے اور ہرزہ زنی کے نیچے مدفون کرتے ہوئے۔ صرف مسجد کا دروازہ کھلنے کے بعد اذان، فحش موسیقی کے سحر میں مبتلا کرتے ہوئے لوگوں کو سنائی دیتی ہے۔

نظم ”میزبان“ میں، راشد ”میزبان“ اور ”مہمان“ کے درمیان شرمناک تعلق سے شیعہ اور سنی کے مابین ناخوشگوار تعلق کا موازنہ کرتے ہیں۔ نظم کا کردار ”نوروز“ ایک ”خوش بخت“ میزبان ہے۔ ایک دن وہ کئی مہمانوں سے ملتا ہے جو پاک بھارت تقسیم سے صدمے کا شکار ہوئے ہیں۔ نوروز ایک شیعہ ہے جس کے پاس دو نوجوان بیویاں ہیں۔ اپنی مہمان نوازی کے باوجود وہ ایک خوددار آدمی ہے جو اخلاقیات کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کر سکتا ہے۔ بدقسمتی سے، ایک مہمان، اپنی بیوی سے جدائی کے درد میں مبتلا ہوتے ہوئے اخلاقی حدود کو پامال کرتا ہے اور میزبان کی ایک بیوی زلیخا سے اسے ”دلجوئیاں“ ملتی ہیں۔

شاعر ابہام کا استعمال کرتے ہوئے مغرب کی زہریلی شراب میں ڈوب جانے والے ایران اور جدائی کے صدمے میں مبتلا ہونے والے پاکستان کے درمیان مشکل تعلقات کو بیان کرتے ہیں۔ نوروز کی کہانی یہیں نہیں رکتی۔ اس نظم ”خلوت میں جلوت“ میں شاعر اپنے جذباتی درد کا اظہار کرتے ہیں جب وہ ان مجاہدین کو یاد کرتے ہیں جو شاہ کے دور میں اسلامی انصاف کے لئے جدوجہد کرتے رہے ہیں۔ شاعر نوروز کو ایک کم تر آدمی کے طور پر پیش کرتے ہیں جس کا درد اپنی بہن، اپنی قوم اور اپنے مذہب کے بارے میں اس قدر پیچیدہ ہے جو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا ہے۔

اس لئے، اپنے شعور سے لا تعلق ہونا نوروز کے زندہ رہنے کا واحد راستہ ہے۔ اس نظم میں جعفر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو جنگ موتہ میں اپنی جان کو قربان کرتا ہے۔ شاعر کے نزدیک، جب کہ ایران کے اسلامی مجاہدین، جن کے چہرہ پر لگنے والی نیلی خراش سے ہمیں ان کی تکالیف کا اندازہ ہوتا ہے، وہ جنگ موتہ کے دوران ہونے والی مشکلات کا سامنا نہیں کر سکتے تھے، لیکن شاعر کو اس بات پر یقیں ہے کہ وہ مجاہدین ان ظالموں سے ”بدلہ“ لینے کے بجائے اللہ پاک اور نبی ﷺ کے نام پر اسلامی انقلاب کے لئے جہاد کر رہے ہیں۔

شاعر کے نزدیک جلاوطنی ہجرت سے زیادہ تکلیف دہ تجربہ ہے کیونکہ جلاوطنی نہ صرف ایک روحانی اذیت کے مانند ہے جو جلاوطن اور وطن کے درمیاں جذباتی بندھن کو منجمد کر دیتا ہے بلکہ ایک ایسا المیہ بھی ہے جو جلاوطن کو تیرگی میں ڈال دیتا ہے جس پر ان کے ساتھی انہیں خائنان اور ‏غدار قرار دیتے ہیں۔ شاعر کا خیال یہ ہے کہ خمینی ہرگز ایران کے خائنان نہیں، بلکہ ایک ”درویش“ ہیں جن کے اسلامی نظام کے تقاضے کو شاہ کی حکومت سختی سے مسترد کرتی ہے۔

اسلامی انقلاب میں خمینی کا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے اور ان کے پاس اپنے لئے صرف ”تہی دست“ ہی ہے۔ شاہ کی حکومت کبھی نہیں سمجھ پائے گی کہ کیوں خمینی ایسی ”زنگ آلودہ اوہام“ کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اسلامی نظام کے چاہنے والے سمجھتے ہیں کہ شاہ کی حکومت گر نہیں سکتی۔ اسی لئے ان کا تقاضائی متوسط یہ ہے کہ وہ حکومت کی تبدیلی کے بجائے موجودہ نظام کے ساتھ ساتھ اسلامی نظام متعارف کروانا چاہتے ہیں۔ راشد خمینی سے التجا کرتے ہیں کہ ہمت نہ ہاریں کیونکہ اسلامی انقلاب کی بازگشت دنیا کے مختلف حصوں میں پھیل رہی ہے اور ایران کے محلوں کے گرد بھی سنائی دے رہی ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ اسلامی مجاہدین کی جاری جدوجہد کے باوجود، شاعر ایرانی مستقبل کے حوالے سے امید نہیں ہیں۔ نظم ”نارسائی“ میں، شاعر اس درخت سے ایران کا موازنہ کرتے ہیں جس کی جڑیں نفاق کے زہر سے گل سڑ چکی ہیں۔ ایرانی خواہ جتنی بھی کوشش کر لیں، درخت کا دوبارہ پنپنا ممکن نہیں کیونکہ مغرب کا پہنچایا ہوا نقصان مستقل ہے۔ ایران پچھتاوے سے شرمندہ اور نادم ہو گا اور یہ اس قدر ‏غم انگیز ہے جس قدر رستگاری اور ایرانی کا نصیب دو خط متوازی کی طرح ہیں اور کبھی نہیں مل سکتے ہیں۔

مجموعے کی آخری نظم ”تماشا گہہ لالہ زار“ میں شاعر اپنے آخری خواب کا اظہار کرتے ہیں کہ شاید صرف ”آدم نو“ ہی ایک نئی قوم تعمیر کر سکتا ہے جو مغرب اور مشرق کو کشیدگی سے جدا کر سکتا ہے۔ شاعر کے نزدیک ایران کو اب ایشیائی تہذیب کا حصہ تصور نہیں کیا جا سکتا ہے اور ماضی کی طرف پلٹنا صرف ایک خود فریبی کی حکمت عملی نظر آتی ہے۔

Facebook Comments HS