معاشی بحران: وہ آگ جس کا دھواں نہیں ہوتا


رکا ہوا ہے جو اکثر رواں نہیں ہوتا
کبھی زمین کبھی آسماں نہیں ہوتا
جو دن گزار کے ہم شام کو پلٹتے ہیں
کبھی شجر تو کبھی آشیاں نہیں ہوتا
عجیب صورت حالات رہتی ہے درپیش
مکین تو ہوتے ہیں لیکن مکاں نہیں ہوتا
ملے گی کیسے کسی اور کو خبر اس کی
یہ آگ وہ ہے کہ جس کا دھواں نہیں ہوتا
یہ ماجرا ہی کچھ ایسا ہے جو ترے آگے
بیاں تو ہوتا ہے لیکن بیاں نہیں ہوتا

ظفر اقبال کے یہ اشعار پاکستان کی معاشی صورتحال پر منطبق کریں تو اس کا ماجرا ایسا ہے کہ بیاں نہیں ہوتا۔ پاکستان کی معیشت جس طرح دگر گوں ہے اس سے ہر ذی شعور آگاہ ہے۔ ملک کی معیشت کو وینٹی لیٹر پر پہچانے میں ہر حکمران نے چند مستثنیات کے ساتھ اپنا اپنا حصہ ڈالا۔ پاکستان کی معیشت کے ساتھ یہ کھلواڑ کبھی اپنے ذاتی مفادات کے لیے کی گئی اور کبھی سیاسی مقاصد کے لیے۔ عمران ان دنوں اپنی سیاست کے جوبن پر ہیں اور ملک و قوم کو عزت دلانے کے بیانیے کے ساتھ متحرک ہیں، وہ نیا پاکستان بنانے نکلے تھے مگر انہوں نے ملکی تاریخ کے سب سے زیادہ قرضے لئے اور عالم یہ ہوا کہ پرانا پاکستان یاد آنے لگا۔

معیشت ان سے سنبھل نہیں رہی تھی اور مہنگائی کے عفریت نے پاکستانی قوم کو جکڑ لیا۔ آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا تو معیشت میں کچھ ٹھہراؤ کے امکانات پیدا ہوئے، مگر عمران خان معیشت سنبھالنے میں ناکام رہے۔ ڈیفالٹ کی باتیں گردش کرنے لگیں۔ انہوں نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کی شرائط کو بالائے طاق رکھ کر سیاسی مفادات کشید کرنے کی کوشش کی۔ پٹرولیم مصنوعات کو سستا کر دیا، جس کی وجہ

شیخ رشید کے بقول یہ تھی کہ ”مجھے آئی بی نے بتا دیا تھا کہ حکومت جا رہی ہے۔ میں نے عمران خان سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ مجھے پہلے سے اس کا علم ہے۔ عمران خان نے بجلی اور پیٹرول سستا کر کے آنے والی حکومت کے لئے بارودی سرنگیں بچھائیں، تاکہ مشکلات میں گھرے، عوام کا جینا مشکل ہو جائے اور آنے والی حکومت ناکام ہو۔“

عمران خان اور شوکت ترین کو حکومت جانے کی خبر ملی تو انہوں نے منصوبہ بندی کے تحت معیشت میں بارودی سرنگیں بچھانے کا آغاز کیا۔

» سب سے بڑی بارودی سرنگ آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط کی خلاف ورزی تھی تاکہ آنے والی حکومت کو ناکام بنایا جا سکے۔

»پٹرول ’ڈیزل پر سبسڈی دی گئی اور اس کا پیسہ ترقیاتی فنڈز سے نکال کر ترقیاتی کام روک دیے گئے۔
» سبسڈی نے معاشی ترقی کا رہا سہا بھرم ختم کر دیا اور مہنگائی بڑھتی چلی گئی۔
» شرائط کی خلاف ورزی پر عمران خان کے وزیراعظم ہوتے ہوئے ہی آئی ایم ایف پروگرام معطل ہو گیا۔

» اس معطلی سے بہت سے مالیاتی اداروں نے پاکستان کے لون پراجیکٹ روک لیے اور مختلف ملکوں نے بھی ہاتھ کھینچ لیا۔

»مارکیٹ کو آئی ایم ایف سے معاہدہ کی معطلی کا اشارہ ملا تو ڈالر غائب ہونے لگا قلت نے اسے اونچی اڑان دے دی۔

»تحریک انصاف کی حکومت ختم ہوتے ہی یہ مہم چلائی گئی کہ بیرون ملک پاکستانی نئی حکومت کو پیسہ نہ بھیجیں۔ اس مہم سے روپے پر دباؤ بڑھا اور ڈالر مزید مہنگا ہو گیا۔

» شوکت ترین کا مقصد ڈالر اوپر جانے اور مہنگائی بڑھنے سے پورا ہونا شروع ہو گیا۔
» ترین منصوبے کے مطابق مہنگائی بڑھنے سے پاکستانی عمران خان کا دور بھول گئے۔

»شوکت ترین خود بھی بینکر تھے اور بینکرز سے اپنے تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے ڈالرز کے ریٹ بڑھوائے۔ اب یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ چھ ماہ میں آٹھ پاکستانی بینکوں نے مصنوعی طور پر ڈالرز ریٹ بڑھانے میں کردار ادا کیا، بلکہ ایکسچینج ریٹ کے ذریعے تقریباً ًساڑھے چار ارب منافع کمایا۔

» شوکت ترین کی پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرائے خزانہ سے ہونے والی آڈیو ٹیپ سن لیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ وہ کیوں آئی ایم ایف سے ڈیل رکوانا چاہتے تھے۔

»آئی ایم ایف سے دوبارہ ڈیل رکوانے کا مقصد یہی تھا کہ ترین جانتے تھے کہ آئی ایم ایف ڈیل نہ ہوئی تو پاکستان سری لنکا کی طرح ڈیفالٹ کر جائے گا اور ہنگامے شروع ہوجائیں گے۔

شوکت ترین اور اس قبیل کے مفاد پرستوں نے ہمیشہ اس ملک اور قوم کے مفادات کو نقصان پہنچایا، انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اگر ایسے لوگ کسی دوسرے ملک میں ہوتے تو انہیں فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کر کے یا پھانسی دے کر انجام تک پہنچا دیا جاتا۔

اس ملک کی وفاداری کا دم بھرنے والے عمران خان کا صرف اپنا بدلہ لینے کے لیے بائیس کروڑ عوام اور ریاست کے مستقبل کو داؤ پر لگانا بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔

عاطف میاں جو عمران خان کے پسندیدہ ماہرین معیشت میں سے ایک ہیں اور وہ انہیں وزارت خزانہ سونپنا چاہتے تھے لیکن ان کی ایک اقلیتی گروہ سے وابستگی اس راہ میں رکاوٹ بن گئی۔

”انہوں نے بھی پاکستان کی بحران میں پھنسی معیشت کے جو اسباب بیان کیے ہیں، ان کا خلاصہ یہ ہے۔

»روس کے یوکرین پر حملے کے بعد بین الاقوامی مارکیٹ میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھیں تو پاکستانی حکومت نے مارچ 2021 میں مقامی قیمتوں کو کم کر کے منجمد کر دیا۔ »بین الاقوامی اور مقامی قیمت میں فرق کو پورا کرنے کے لیے سبسڈی دینا شروع کی جو مئی 2022 کے اختتام تک 200 ارب روپے سے زائد ہو گئی۔

»یہ فیصلہ سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے کیا گیا، تاکہ آنے و الی پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت کی راہ میں بارودی سرنگ بچھائی جائے۔

» سیاست نے قومی مفاد کو روند ڈالا اگر پاکستان مسلم لیگ نواز عقل مند ہوتی تو وہ عمران حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے پیچھے ہٹ جاتی۔ نواز لیگ کو ایسی صورت حال میں ملک کے دیوالیہ ہونے اور تیل کی قیمتیں بڑھانے میں سے ایک فیصلہ کرنا تھا۔ نواز لیگ نے تیل کی قیمتیں بڑھائیں اور عوامی غم و غصے کا سامنا کیا۔ ”

موجودہ حکومت نے اگرچہ مشکل فیصلے کیے مگر حکومتی سطح پر اخراجات کم کرنے کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیا الٹا معاونین کے ساتھ 72 افراد کی کابینہ کچھ اور داستان سنا رہی ہے اور اب تو یہ خبر بھی آئی ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں چینی صدر نے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی پیدا کرنے والی چینی آئی پی پیز کے تین سو ارب روپوں کے واجبات ادا کیے جائیں اور پاکستان میں مقیم چینیوں کی سکیورٹی کو فول پروف بنایا جائے۔

پاکستانی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ چینی سربراہ مملکت نے براہ راست پاکستانی وزیراعظم سے یہ مطالبہ کیا۔ ایسے معاملات سٹاف لیول پر ڈسکس ہوتے رہتے ہیں لیکن سربراہ مملکت کی جانب سے یہ مطالبہ بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ چین کا پاکستان کے شدید مالی بحران میں مطالبہ عالمی سطح پر یہ پیغام دے رہا ہے کہ شاید اب پاکستان کے دیرینہ دوست کو بھی پاکستانی معیشت پراعتماد نہیں رہا ہے۔

بہرحال وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے اپنے بیرونی دورے میں عالمی امداد اور قرضوں میں رعایت کے لیے اقوام متحدہ اور اس کے اجلاس میں شریک رہنماؤں کی حمایت حاصل کرنے کی سرتوڑ کوششیں کیں۔

یو این سیکرٹری جنرل پانی اور قرضوں میں ڈوبے ہوئے پاکستان کے لیے عالمی امداد اور قرضوں میں چھوٹ کے لیے اپیلیں کر رہے ہیں۔ دوسری جانب عمران خان سمیت تحریک انصاف نے سوشل میڈیا پہ اس سفارت کاری کے بخیے ادھیڑتے ہوئے نہایت گمراہ کن پروپیگنڈا مہم چلائی کہ مالی امداد موجودہ حکمران ہڑپ کر جائیں گے جس کا صاف مطلب ہے کہ پاکستان کی مدد نہ کی جائے۔ عدم اعتماد کے بعد معاشی دیوالیہ یقینی بنانے کے لیے عمران حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدہ توڑا، معاہدہ ری شیڈولنگ کو شوکت ترین نے سبوتاژ کرنے کی پوری کوشش کی جس پر شرمندگی کی بجائے غصہ نکالا گیا کہ ان کی ٹیلی فونک گفتگو کیوں اور کس نے ٹیپ کی؟

اس وقت پاکستان پر 97 ارب ڈالرز کا بیرونی قرضہ ہے۔ بلاول بھٹو اور وزیراعظم نے سیلاب اور قرضوں کے بارے میں ماحولیاتی انصاف اور ماحول کی آلودگی کے ذمہ دار ممالک سے اس کے ازالے کا تقاضا کیا۔

وزیراعظم نے آئی ایم ایف چیف سے شرائط میں نرمی اور تین ارب ڈالرز کی یکمشت ادائیگی کا مطالبہ کیا اور وزیر خزانہ نے پیرس کنسورشیم کے ممالک سے 10 ارب ڈالرز کے قرض کی ری شیڈولنگ کی درخواست کی تاکہ ان قسطوں سے سیلاب زدگان کی بحالی کی جا سکے۔ اس تجویز کو پذیرائی ملی، جس کے نتیجے میں فرانسیسی صدر اور یو این سیکرٹری جنرل نے ڈونرز کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا، جو اگلے ماہ اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔

اس صورتحال میں عمران خان کا آرمی چیف کی تقرری اور نئے انتخابات کے لئے اسلام آباد پر چڑھائی کا اعلان اور پاپولر ازم کے نام پر معاشی تباہی کا ایجنڈا کیا ملک و قوم کے مفاد میں ہے؟

Facebook Comments HS