وحید مراد اور زیبا : پاکستانی پردہ سکرین، پھر ایسی جوڑی نہ دیکھ سکا!


پاکستان کی فلمی تاریخ میں وحید مراد کا نام، ان کی شخصیت اور ان کی فلمیں، گزرتے وقت کے ساتھ، وہ حوالے بن چکے ہیں جن سے کترا کر گزرنا اب کسی مورخ اور نقاد کے لئے ممکن نہیں رہا۔ ان کا فلمی انڈسٹری میں آنا، کم عرصے میں چھا جا نا اور فلم ساز، اداکار اور مصنف کی ہمہ صفت شخصیت کی حیثیت سے اپنا لوہا منوانا اور پھر یکے بعد دیگرے ایک سے بڑھ کر ایک چیلنج سے الجھنا، یقیناً ادب کے ایک طالب علم کی حیثیت سے ان کے لئے، یہ تمام تر ڈرامائی صورت حال، ان کے حاصل شدہ علم کی آزمائش کے مترادف رہی ہوگی۔ یہ نشیب و فراز ہی ہیں جو زندگی کی عکاسی کرتی اسکرین کے اوپر بھی اور اسکرین سے ہٹ کر حقیقی زندگی میں بھی، ایک فنکار کے لئے تغیر اور تحرک پیدا کرتے ہیں اور کسی بھی کہانی اور اس سے جڑے واقعات کو کسی نہ کسی سمت کا پابند بناتے ہیں۔

ان کی فلمی زندگی کی پہلی ( بڑی اور دور رس ) آزمائش درحقیقت اسی کہانی سے جڑی ہوئی ہے جس کا احوال اس مضمون کا موضوع ہے۔

سکرین پر شروع ہونے والی اور لوگوں کے دلوں میں گھر کر جانے والی اس کہانی کی ابتدا اس وقت ہوئی جب 1964 میں ایک ایسی دلکش، جاذب نظر اور دل موہ لینے والی جوڑی وجود میں آئی جو شاید اس سے قبل اس سطح پر اپنا ( اتنا ) تاثر قائم کرنے والی، اگر نایاب نہیں، تو کم یاب جوڑی ضرور قرار دی جا سکتی ہے۔ بجا طور پر اس پہلے تعارف پر ہی، بہ قول نامور شاعر مسرور انور، ( فلم ہیرا اور پتھر کے ایک نغمے کی زبان میں) اس جوڑی کو جاننے والے جان گئے، اور اس پہلے تعارف کے بعد ہی، اس کی شوخ ادا پہچان گئے۔ ہیرا اور پتھر سے جنم لینے والی یہ پہچان ہر نئے ملاپ کے ساتھ اپنا رنگ گہرا کرتی چلی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے، دیکھنے والوں کے لئے پسندیدہ سے پسندیدہ ترین کے خانے میں جا ٹھہری۔

اس جوڑی کی شہرت کا سب سے خوب صورت نقش پاکستان کی اس نغماتی فلم سے اجاگر ہوا جس نے بجا طور پر کامیابی کی نئی تاریخ رقم کی اور اس کے سدا بہار نغموں نے، آج بھی اس کی یاد کو اسی طرح تازہ رکھا ہے، جیسے یہ کل ہی کی بات ہو۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ نسل جس نے یہ فلم، سینما گھروں میں دیکھی، وہ تو اس ناقابل فراموش تجربے کو کسی طور بھولنے یا بھلانے پر آمادہ نہیں، مگر اسی طرح نئی نسل جو اس بڑی فلم کو، بڑی اسکرین پر دیکھنے کے لطف سے محروم رہی، اور جس کی رسائی اس فلم اور اس کے مدھر نغموں تک سوشل میڈیا سے ہوئی، وہ بھی، اس شاہکار سے اسی طرح متاثر دکھائی دیتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال اس فلم کے لئے، احمد رشدی کا گایا وہ سپر ہٹ پوپ سانگ ہے جس پر نئی نسل اب تک اپنے اپنے انداز سے وابستگی کا مسلسل اظہار کرتی رہی ہے اور نئے گلوکار بھی کئی بار اپنے فن کے توسط سے، اسے خراج عقیدت پیش کر چکے ہیں۔

یہ دعوی یہاں بے جا نہ ہو گا، اگر یہ کہا جائے کہ فلموں سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے اس فلم کا نام بوجھنا ایسے ہی ہے جیسے کسی سے یہ پوچھ لیا جائے کہ وہ کہاں رہتا ہے۔ فلمی فضا میں رہنے والے اور اپنے دلوں میں پاکستان کی پرانی فلموں کی چاہت رکھنے والے، جن چند منتخب فلموں پر بلا ہچکچاہٹ اتفاق رائے کے لئے حامی بھر سکتے ہیں، بجا طور پر اسے، ان میں سے ایک تصور کیا جاتا ہے۔ آج بھی اس کے تذکرے میں محو گفتگو، یہی ارمان لئے رہ جاتے ہیں کہ کاش ایسے نغماتی رومانی شاہکار، اور بھی جنم لیتے۔

پسندیدگی کے اس ملاپ اور رفاقت کو جتنی تیزی سے شہرت اور کامیابی کی بلندیاں حاصل ہوئیں، اتنی ہی برق رفتاری سے یہ جوڑی، سکرین کے باہر، بدلتے حالات کے نتیجے میں فلم بینوں کے لئے مزید قابل دید شاہکار تخلیق کرنے سے محروم ہو گئی۔ 1964 سے 1967 تک، یہ وہ دورانیہ ہے جب اس جوڑی نے جی بھر کے داد سمیٹی اور تفریح اور دلچسپی کے نئے اور خوبصورت امکانات کا ماحول بنایا۔ مجموعی طور پر یہ جوڑی، جوڑی کے طور پر محض نو فلموں میں اپنے فن کے جوہر دکھا سکی اور اس جوڑی کی یکجائی کا عرصہ، کم و بیش تین سال بنتا ہے، مگر اسے فلم بینوں میں جس قدر چاہا اور سراہا گیا، شاید کسی پیمانے سے اس کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔

یہیں وجہ ہے کہ ایک طویل ( ترین ) عرصہ گزر جانے کے باوجود ایسی جوڑی، فلم ناقدین اور مبصرین کے مطابق، دوبارہ سکرین کی زینت نہ بن سکی۔ ہاں اس جوڑی کا یہ کمال بھی مثالی ہے کہ اس دورانیے اور مختلف ادوار میں، ہر نئی بننے والی اور پسند کی جانے والی جوڑی کو، اس کی کامیابی کی صورت میں، اس جوڑی سے تشبیہ ضرور دی گئی۔

حالات کی تبدیلی اور سکرین سے علیحدگی، جوڑی کو نظروں سے اوجھل تو کر گئی مگر دلوں سے اس کی یاد نہ نکال سکی۔ اسے دوبارہ یکجا دیکھنے کی آرزو ( اور حسرت ) ، اس کے ٹوٹنے کے وقت سے ہی، فلم بینوں اور فلم سازوں میں، یکساں طور پر موجود رہی مگر اسے عملی طور پر سکرین پر لانے کا اہتمام ممکن نہ ہوسکا۔ بالآخر وہ جوڑی جو 1964 میں متعارف ہوئی تھی، طویل وقفے کے بعد وہ 1974 میں دوبارہ اکٹھی ہوئی مگر اس بار یہ ملاپ، جوڑی کی صورت میں نہ تھا بلکہ، نئے ملٹی اسٹار سسٹم کے تحت، یہاں ستاروں کی جھرمٹ تو تھی مگر ماضی کی رفاقت نہ تھی۔

اسی سسٹم کے تحت کچھ اور فلموں میں بھی یہ اشتراک ہوا جن میں ہدایت کار اقبال اختر کی تین فلمیں ( محبت اور زندگی، پھول میرے گلشن کا اور جب جب پھول کھلے ) خاص طور پر، اس لیے اہم کہی جا سکتی ہیں کہ ان میں نئے ملٹی اسٹار سسٹم میں رہتے ہوئے بھی اس جوڑی کے اشتراک کو ممکنہ حد تک زیادہ سے زیادہ قابل دید بنانے کے لئے شعوری کوشش نظر آتی ہے۔ ان فلموں میں اس اعتبار سے، سب سے اہم فلم پھول میرے گلشن کا کہی جا سکتی ہے کہ اس میں تقریباً ”دس سال بعد اس جوڑی پر ایک گانا فلم بند کیا گیا۔ احمد رشدی کی شوخ پلے بیک پر مبنی چھیڑ چھاڑ ( اور وحید مراد کے ٹھمکے ) فلم بینوں کو احسان، عید مبارک، کنیز، ماں باپ، رشتہ پے پیار کا، انسانیت اور جاگ اٹھا انسان کی یاد تازہ کرانے میں بے حد کامیاب رہے۔

آنے والا عہد ہمیشہ نئے فنکاروں کا ہوتا ہے اور تخلیقی شعبے سے وابستہ افراد فطری طور پر اس بات کے خواہش مند رہتے ہیں کہ ان کے ہم عصر بھی فنون لطیفہ پر اپنے سینیئرز کی طرح ( بلکہ ان سے بڑھ کر ) اپنا سکہ جمائیں اور دیکھنے اور سننے والوں سے خوب داد سمیٹیں۔ یہ یقین رکھنا چاہیے کہ پاکستان فلم انڈسٹری اب جس قدر متحرک نظر آتی ہے، آنے والے دنوں میں ہماری سکرین پر، وحید مراد اور زیبا نئے ناموں سے دوبارہ جنم لیں گے اور اپنے عہد کو اسی طرح متاثر کریں گے جیسے ان کے پیش رو اپنی چھاپ چھوڑ گئے۔

( 2 اکتوبر 2022۔ وحید مراد کی 84 ویں سالگرہ ہے جبکہ انھیں بچھڑے ہوئے اس سال ( نومبر میں ) 39 سال ہو جائیں گے )

Facebook Comments HS