برادری کے حقوق کا تحفظ کرنا سندھ دشمنی نہیں


ساری دنیا میں برادری سطح پر اتحاد بننا کوئی نئی بات نہیں، پاکستان میں میں بھی ہر صوبے اور ضلع کے اندر مقیم مختلف برادریاں اپنوں کے مسائل کے حل کے لئے تنظیمیں بناتی ہیں، جس میں کوئی حیرت یا پریشانی کی علامت نظر نہیں آنی چاہیے۔ لیکن سندھ میں وقتی گورنر آغا سراج درانی کی زیر قیادت آل سندھی پٹھان یوتھ کے نام سے بنا ہوا اتحاد کافی عرصے سے تنقید کی زد میں ہے اور سندھ میں کچھ مخصوص حلقے اس کو سندھ میں مقیم غیرقانونی افغانیوں کا اتحاد تصور کرتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ اس اتحاد کا مقصد افغانیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

سوشل میڈیا پر منظم طریقے سے اس اتحاد کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے اور آغا سراج درانی کو افغان پناہ گیروں کا سربراہ ہونے کے تانے دیے جا رہے ہیں۔ آغا سراج درانی بار بار وضاحت دیتے رہے ہیں کہ میں سندھی ہوں، میرا خاندان آج سے نہیں کئی سو سالوں سے سندھ میں مقیم ہیں، ہم کبھی بھی سندھ کے مفادات کے خلاف نہیں جائیں گے، میرے خلاف یہ ساری مہم میرے علاقائی سیاسی مخالفین کی سرپرستی میں چلائی جا رہی ہے، کیوں کہ وہ لوگ میرا سیاسی میدان میں مقابلہ نہیں کر سکتے، اس لیے ایسی نیچی حرکتیں کر کے میرے اوپر الزامات لگاتے ہیں۔

آل سندھی پٹھان یوتھ تنظیم قائم کرنے کے مقاصد کے بارے میں بھی آغا سراج درانی نے کئی بار اپنا موقف پیش کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ سندھ میں صرف ہمارا خاندان نہیں کئی پٹھان برادریاں سالوں سے سندھ میں مقیم ہیں، ان کے کاروبار ادھر ہیں، ان کے قبرستان یہی موجود ہیں، وہ خود کو سندھی پٹھان کہلواتے ہیں، انہوں نے سندھ کی ثقافت کا اپنایا ہوا ہے، سندھی کلچرل ڈے اسی طرح مناتے ہیں جس طرح ایک عام سندھی اپنا ثقافتی دن مناتا ہے، کیا ان کے حقوق کا تحفظ کرنا غلط بات ہے؟

انہوں کئی بار یہ بھی سوال اٹھایا ہے کہ سندھ میں شر برادری کا شر اتحاد قائم ہے، میمن برادری کا میمن اتحاد قائم ہے، تنیہ برادری کا تنیہ اتحاد قائم ہے، اوکھائی میمن، کتیانہ میمن، باٹوا میمن، راجپوت برادری، آرائیں برادری، قائم خانی برادری سمیت ہزاروں کی تعداد میں برادریوں کے اتحاد قائم ہیں اور کام کر رہے ہیں، تو آخر آل سندھی پٹھان یوتھ پر اعتراض کس بات کا ہے؟ کیا پٹھان پاکستانی نہیں؟ کیا پٹھانوں کو اپنے علاقائی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کا کوئی نہیں؟

پٹھانوں کو آخر کیوں حقیر نظروں سے دیکھا جاتا ہے؟ آغا سراج درانی کا دعویٰ ہے کہ ہم نے کبھی بھی سندھ میں مقیم افغانیوں کی سپورٹ نہیں کی اور نہ ہی آل سندھی پٹھان یوتھ میں کوئی افغانی شامل ہے، جب کہ یہ اتحاد سیاسی نہیں سو فیصد سماجی تنظیم ہے، جس ایک ہی مقصد ہے برادری کی فلاح و بہبود۔ اتنی وضاحتوں کے باوجود آغا سراج درانی کی کردار کشی اور ایک برادری تنظیم کو افغانیوں کے ساتھ جوڑنے کے مقاصد کو سمجھنا شاید کسی عقل رکھنے والے آدمی کے لئے کوئی فلسفہ سمجھنے جیسا نہیں!

لگ بھگ ایک نہیں پانچ سالوں سے آغا سراج درانی کے خلاف مہم چلتی نظر آ رہی ہے، نام نہاد قومپرست سیاست سے جڑا ہوا ایک سوشل میڈیائی حلقہ درانی خاندان کو ہر حال میں افغانستان کا مقیم ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے، لیکن ان کے ہتھے ابھی تک کچھ نہیں چڑھا۔ کیوں کہ ملکی اور خاص طور سندھ کی تاریخ میں شکارپور کے اس درانی خاندان کا نام قربانیوں سے بھرا ہوا ہے، اسی خاندان نے تحریک پاکستان کی قرارداد پر اپنے لہو سے مہر مسلط کی اور ثابت کیا کہ ان کا جینا مرنا سندھ سے ہے۔

آغا سراج درانی کے دادا آغا شمس الدین تقسیم سے قبل ممبئی اسمبلی کے ممبر رہ چکے ہیں، ان کے چچا آغا بدرالدین پاکستان بننے سے قبل اور بعد سندھ اسمبلی کے اسپیکر رہ چکے ہیں اور انہوں نے ہی قرارداد پاکستان پر اپنے خون سے دستخط کیے۔ آغا سدر الدین درانی ایوب خان کے دور میں مشرقی پاکستان اسمبلی کے ممبر رہ چکے ہیں، جب کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں اسپیکر سندھ اسمبلی رہنے کا اعزاز بھی ان کے پاس ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں آغا سراج درانی بھی گزشتہ پینتیس سالوں سے بطور رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوتے آرہے ہیں، متعدد بار صوبائی وزیر رہ چکے ہیں، گزشتہ دس سال سے سندھ اسمبلی کے اسپیکر کے طور پر خدمتیں سرانجام دے رہے ہیں۔

آغا سراج درانی کے طرز سیاست سے کئی لوگوں کو اعتراض ہو سکتا ہے لیکن اس کی حب الوطنی اور سندھ پرستی سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ ہم پہلے بھی ایک بار بتا چکے ہیں کہ سندھ کی تقسیم کے معاملے پر درانی خاندان ہمیشہ سندھ کے ساتھ کھڑا ہوا دیکھا گیا ہے، چاہے وہ سندھ اسمبلی ہو یا پھر کوئی دوسرا فورم، آغا سراج درانی نے ہمیشہ سندھ کی تقسیم کے خلاف ورزی کی اور سندھ کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

ایسے خاندان کو سندھ دشمن قرار دینا انتہائی شرمناک عمل ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آج کل سوشل میڈیائی قومپرست اور دانشور سمجھتے ہیں کہ سندھ ان کے نظریے سے چلے، اگر وہ ڈکلیئر کریں فلاں بندہ سندھ دشمن ہے تو پوری قوم اسی لائن پر چلیں، ایسا بالکل بھی نہیں ہو سکتا۔ سندھ کے خاندانی قومپرست سید جلال محمود شاہ، ڈاکٹر قادر مگسی، صنعان قریشی، ریاض چانڈیو، ایاز لطیف پلیجو اور دیگر کا ایک بھی بیان آل سندھی پٹھان یوتھ کے خلاف نہیں اور نہ ہی انہوں نے کبھی اس سماجی تنظیم کی مخالفت کی ہے، سندھ کے یہ اصلی قومپرست رہنماؤں کی سندھ میں موجود ہر سیاسی اور سماجی سرگرمی پر گہری نظر ہوتی ہے، اگر انہوں نے آغا سراج درانی کو افغانیوں کا سہولت کار کے طور پر دیکھا ہوتا تو اب تک وہ سڑکوں پر ہوتے، ان کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آنے سے واضح ہو گیا کہ آغا سراج درانی صرف اپنی برادری کے حقوق کے لئے کوشاں ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اپنی برادری سے سیاسی اور سماجی سطح پر کوئی زیادتی نہ ہو، اگر یہ سوچ غلط ہے تو پھر آغا سراج درانی بالکل غلط ہے۔ کچھ عرصہ قبل سندھ میں سندھی۔ پٹھان فسادات کی جو آگ لگانے کی کوشش کی گئی اس کو بھی آغا سراج درانی نے جلال محمود شاہ، ایاز لطیف پلیجو کے ساتھ مل کر بجھایا اور پورے صوبے میں مقیم پٹھان برادری کو کسی بھی فسادی گروہ کا حصہ بننے سے روکا۔

 

Facebook Comments HS

One thought on “برادری کے حقوق کا تحفظ کرنا سندھ دشمنی نہیں

  • 07/10/2022 at 8:30 شام
    Permalink

    ڪم سٺو پٽيو ٿي

Comments are closed.