اسلام اور عالمی یوم عدم تشدد


دنیا کا کوئی بھی قبیلہ، قوم یا مذہب ہو، ان کے ہاں تشدد کو ہمیشہ معیوب ہی سمجھا جاتا رہا۔ اس کے باوجود اس خطہ ارض کا کوئی حصہ اس عیب سے پاک نظر نہیں آتا۔ کہیں ایک ملک دوسرے ملک پر چڑھ دوڑنے کو تیار ہے، تو کہیں ایک قوم دوسری قوم کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ کہیں تعلیمی اداروں میں طلبہ پر تشدد نظر آتا ہے، تو کہیں گھروں میں عورتیں اور بچے تشدد کا شکار ہیں۔ کہیں ذہنی تشدد تو کہیں جسمانی تشدد اور کہیں نفسیاتی تشدد تو کہیں جنسی تشدد، گویا ہر جگہ کسی نہ کسی حد تک تشدد کی اک فضا قائم ہے۔ اسی تشدد کی ذہنیت کو دفن کرنے کے لیے لوگوں میں شعور پیدا کرنے اشد ضرورت ہے۔

عالمی سطح پر سب سے پہلے دو اکتوبر کو عدم تشدد کا دن منانے کی تجویز دینے والی ایرانی نوبل انعام یافتہ شخصیت شیریں عبادی تھیں۔ دو اکتوبر ہی کو بھارت میں گاندھی جی کا یوم پیدائش بھی منایا جاتا تھا۔ جن کی بنیادی تبلیغ بھی عدم تشدد تھی۔ اسی لیے دو اکتوبر کو عالمی یوم عدم تشدد منانے کی تجویز کو بھارت میں بہت پذیرائی ملی۔ انہیں کی جانب سے اس تجویز کو اقوام متحدہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ پندرہ اکتوبر 2007 ء کو جب اس تجویز پر ووٹنگ کا عمل ہوا تو 143 ممالک نے متفقہ طور پر اسے منظور کر لیا۔ اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق اس کا بنیادی مقصد قوموں کے درمیان امن کے قیام اور عدم تشدد کو فروغ دینا تھا۔ ایک ایسا امن قائم کرنا تھا کہ ہر کسی کو بلاتفریق و امتیاز جینے کا حق ملے۔ ہر کسی کو بنیادی انسانی حقوق میسر ہوں، کہ وہ آزادانہ زندگی بسر کر سکے۔

باقی ممالک کو چھوڑ کر اگر انہی تین ممالک ایران، بھارت اور امریکہ کو دیکھا جائے جو دو اکتوبر کو عدم تشدد کا عالمی دن قرار دلوانے میں بنیادی کردار رکھتے ہیں، تو پتہ چلے گا کہ یہی لوگ عدم تشدد کے فلسفے پر عمل پیرا نہیں۔ عرصہ دراز سے ایران کا سنی علما اور عوام کے ساتھ جو رویہ رہا ہے، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ چن چن کر جید علماء کرام کو شہید کیا گیا۔ انہیں اپنے معاملات میں آزادی حاصل نہیں۔ وہ وہاں غلامی اور قید کی سی زندگی بسر کر رہے ہیں۔

دوسری طرف گاندھی جی کے نام لیوا بھارت کی حالت دیکھی جائے تو اس سے بھی زیادہ تشویش ناک ہے۔ جہاں عرصہ دراز سے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ حتی کہ انہیں اقلیت والے حقوق بھی نہیں دیے جاتے۔ اسی بھارت نے کشمیر میں خون کی ندیاں بہائی ہیں۔ انہیں کرفیو لگا کر قید کر رکھا ہے۔ ان سے آزادانہ زندگی کے حقوق سلب کر لیے گئے ہیں۔ تیسری طرف امریکہ ہے، جس کی اقوام متحدہ پر اجارہ داری ہے۔ اس وقت سب سے بڑا دہشت گرد یہی ہے۔ جو کہیں بھی مسلمانوں کو سر اٹھانے نہیں دے رہا۔ جو ہر ملک پر اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتا ہے۔ کہیں بھی ہونے والے فساد کو ہوا دے کر بھڑکانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی اقوام متحدہ جو عدم تشدد کا دن تو مناتی ہے، مگر آج تک فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کر سکی۔ بلکہ یہ قاتلوں کے محافظ کا کردار ادا کرتی ہے۔ بیس سال تک افغانستان میں کارپٹ بمباری پر خاموش رہی۔ شام، لبنان، برما اور الجزائر سمیت کئی ممالک میں خون کی ہولیاں کھیلی گئیں، مگر ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ یہ نام نہاد عدم تشدد کے علمبردار امریکہ میں نسلی امتیازی سلوک کنٹرول نہیں کر سکے، جہاں کالوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ حال ہی میں ملک الزبتھ دوئم کی موت کے بعد منتخب ہونے والے شہزادہ چارلس کا عوامی دورے کے دوران کالے سے ہاتھ نہ ملانا، اسی نظریے کی اک کڑی ہے۔

مگر اسلام جو چودہ سو سال پرانا مذہب ہے۔ جن کے پیغمبر کی ساری زندگی ہی رحم اور درگزر پر گزری۔ جن کے بارے میں اللہ رب العزت خود فرماتے ہیں کہ ”ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا“ ۔ جن پر محلے کی عورت کوڑا پھینکتی تھی، مگر کبھی جواب نہیں دیا۔ لوگ پتھر مارتے تھے، کبھی بددعا تک نہیں کی۔ اپنے چچا کے جسم کے ٹکڑے کرنے والے کو صدق دل سے معاف کر دیا۔ مکہ میں طرح طرح کی تکالیف دینے والوں پر جب حاکم بن کر لوٹے تو عام معافی کا اعلان کیا۔ یہ تھا عدم تشدد کا فلسفہ، جسے صرف بیان نہیں کیا گیا، بلکہ کر کے دکھایا۔

اسلام نے ایسے دور میں عدم تشدد کی تبلیغ کی جب گھاٹ سے پہلے پانی پلانے پر جنگ چھڑتی تو نسلوں تک چلتی۔ گھوڑا آگے نکل جانے پر جھڑپ ہوتی تو اس کا خمیازہ کئی قبیلوں کو بھگتنا پڑتا۔ جہاں عورت کی حقیقت، اس سے نفسانی خواہشات کی تکمیل تھی۔ جہاں سے بڑے بڑے قافلے کبھی بے خوف نہیں گزرتے تھے۔ مگر تئیس سال ان کی ایسی تربیت کی کہ صنعا سے حضر موت تک ایک عورت اکیلی سفر کرتی، اسے کوئی جانی و مالی نقصان نہ ہوتا۔ جو جنگ کے اندر زخمی حالت میں پانی کی طلب میں مرتے وقت بھی دوسروں کو پانی پلاتے۔ جو دشمن کو اپنی تلوار کے نیچے پا کر بھی اس لیے چھوڑ دیتے کہ اسے قتل کرنے میں جذبات کی پیروی نہ ہو جائے۔ اسلام نے صدیوں پرانی دشمنیاں ختم کر کے انہیں ایک صف میں لا کر کھڑا کر دیا۔ کالے حبشی غلام کو کعبہ کی چھت پر چڑھا کے دنیا کو پیغام دے دیا کہ یہاں معزز وہی ہے، جو زیادہ متقی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فرمان کا مفہوم ہے کہ ”کوئی شخص تب تک مسلمان ہی نہیں ہو سکتا، جب تک اس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمانوں محفوظ نہ رہ سکے“ ۔ دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ رحیم ہیں، وہ رحم کرنے کو پسند کرتے ہیں (او کما قال) ۔ یہ ہے شریعت محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فلسفہ عدم تشدد۔ معاشرے سے عدم تشدد کو فضا ختم کرنے کے لیے اسلام کا اصل پیغام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حیات مبارکہ اور ان کا اخلاق حسنہ کو لوگوں میں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ نوجوان نسل کو سیرت النبی اپنانے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ظلمتوں کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں محبتوں کے دیپ روشن ہو سکیں۔

Facebook Comments HS