مبینہ سازشی بیانیہ اور عمران خان کی ساکھ

27 مارچ کو (سابقہ) وزیر اعظم عمران خان نے جلسے عام میں ایک خط لہرا کر پر زور دعوی کیا کہ اس کے خلاف اپوزیشن کی طرف سے لائی گئی عدم ”اعتماد کی تحریک کے پیچھے ایک بیرونی ملک ہے جس کا ثبوت وہاں کے پاکستانی سفیر کا 7 مارچ کو بھیجا گیا یہ مراسلہ ہے“ ۔
پی ٹی آئی کے کارکنوں نے اس دعوی کو بہت اچھالا
اگرچہ اس جلسے میں عمران خان نے امریکہ کا نام تو نہیں لیا تھا تاہم تاثر یہی رہا کہ یہ مبینہ سازشی ملک امریکہ ہے
امریکی کی مبینہ ناراضگی کے اسباب میں ایک ( 1 ) تو اپنے انٹرویو میں عمران خان کا ایبسولوٹلی ناٹ ”دوسرا ( 2 ) امریکہ کو ممکنہ اڈے نہ دینے اور تیسرا ( 3 ) ، فروری میں اس کا روس کا دورہ کرنے کو بتایا گیا۔
عمران خان کے کے حامیوں نے اگرچہ اس کا بڑا پروپیگنڈا شروع کیا مگر زیادہ تر سیاسی اور صحافتی حلقوں نے اس کو محض ایک سیاسی حربہ قرار دیا
تاہم حساس نوعیت کا معاملہ ہونے کے پیش نظر ملک کے ذمہ دار حلقوں نے اس مبینہ سازش کے الزام کی تحقیق کرنے کو ضروری سمجھا
ملکی سلامتی کمیٹی کے اعلی سطح اجلاس میں اس مراسلہ کی بنیاد پر مبینہ سازش کا جائزہ لیا گیا۔ تو اس کا متفقہ فیصلہ یہ تھا کہ مراسلہ کی زبان اگرچہ غیر سفارتی ہے مگر یہ کسی ایسے غیر معمولی مواد کا حامل نہیں جس کو ملکی حکومت کے خلاف سازش کا باعث قرار دیا جاسکتا ہے ہو۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اس وضاحت کے باوجود پی ٹی آئی کے کارکنوں نے اس مبینہ سازش کے بیانیہ کو اچھالنا جاری رکھا۔
پھر اوائل مئی میں عمران خان نے ایک انٹرویو میں اپنے روایتی اعتماد کے ساتھ بتایا کہ اس کو گزشتہ سال 2021 جولائی میں معلوم ہو گیا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں اس کی حکومت کو گرانے کا پلان بنا رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے بقول اس کے وہ آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ جنرل فیض حمید کو تبدیل کرنے کے خلاف تھا۔
عمران خان نے اپنے متذکرہ بیان سے اپنے امریکی سازش والا بیانیہ کی خود تردید کر دی تھی۔ وہ یوں کہ ایک تو اس وقت اس نے ”ایبسولوٹلی ناٹ“ والی بات نہیں کی تھی، نہ اڈے نہ دینے کا ذکر ہوا تھا اور نہ روس کے دورے کرنے کا کوئی پلان سامنے آیا تھا۔
دوسرا یہ کہ اس وقت جوبائیڈن نہیں بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر تھے اور جس کے ساتھ عمران خان کے بڑے دوستانہ تعلقات تھے وہ اس کی حکومت کے خلاف کسی پلان کے موئید نہیں ہو سکتے تھے۔
تاہم اس کے بعد عمران خان اپنے عوامی جلسوں میں اپنے خلاف امریکی سازش کے بیانیہ کو ہوا دینا جاری رکھا۔ وہ کبھی امریکہ کو کبھی اپوزیشن کو کبھی نیوٹرل کو مورد الزام ٹھہراتا رہا ہے۔
اب گزشتہ دنوں جو آڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ اپنے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے ساتھ اس مراسلہ کو سیاسی مقاصد کے لیے بروئے کار لانے کے بارے گفتگو کرتا سنا جا سکتا ہے۔ اس کے سازشی بیانیہ کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
اس کے علاوہ امریکی سفیر کی طرف سے تازہ ترین بیان میں عمران حکومت کے خلاف امریکی سازش کیے جانے کی پر زور تردید بھی عمران خان کے بیانیہ کے خلاف ایک موثر دلیل ہے
مذکورہ تمام صورت حال اور واقعات نہ صرف عمران خان کے سازشی بیانیہ کے کھوکھلا بنانے کا باعث ہو رہے ہیں بلکہ اس کی اپنی ساکھ کو بھی شدید متاثر کرتے ہیں
عمران خان کا ایک بڑا مسئلہ یہ رہا ہے کہ وہ بہت سارے معاملات میں موقف تبدیل کر دیتا ہے (جس کو یو ٹرن کہا جاتا ہے ) یا پھر مختلف موقعوں پر اس کی مختلف بلکہ متضاد توجیہ کرتا ہے
عمران خان کا کسی معاملہ پر غیر ہم آہنگ موقف ”سے مخالفین کو تو تنقید کا موقع مل جاتا ہے مگر اس سے وہ اپنے مخلص کارکنوں اور سپورٹرز کو بھی بڑے الجھن میں ڈال دینے کا باعث بنتا ہے
ان کو سمجھ نہیں آتا ہے کہ اپنے لیڈر کے متضاد بیانات یا تشریحات میں ہم آہنگی اور لاجک کس طرح پیدا کریں
عمران خان کے اس قسم کے طرز فکر سے اس کے بہت سارے سنجیدہ حامیوں کے ذہنوں میں مختلف سوالات کا پیدا ہونا فطری ہے۔
یقیناً عمران خان اپنے حامیوں میں فی الحال بوجوہ بہت مقبول ہے مگر اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب ایک رہنما سیاسی مقاصد کے لیے قومی مفاد سے متعلق اہم اور حساس معاملات میں بے بنیاد یا غیر ذمہ دار اپروچ اپنائے یا اپنے موقف کو تواتر سے تبدیل کرتا رہے یا متضاد توجیہ کرتا رہے تو وہ اپنی ساکھ اور یوں اپنی مقبولیت کو تا دیر برقرار نہیں رکھ سکتا ہے

