ایاز امیر کا جرم کیا ہے؟


گزشتہ دنوں ایاز امیر کا ایک کالم نظروں سے گزرا جس میں انہوں نے انتہائی چالاکی و عیاری سے اپنی ناکامی و نا اہلی کو اپنے ماہرانہ الفاظ کے بوجھ تلے دبا نے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اپنے ”کمبخت“ اور دوسری طرف اپنی ذہین و فطین اور شاندار قسم کا تعلیمی کیریئر رکھنے والی مرحومہ بہو سارہ انعام کے معاملے کو ایک مختلف رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ ممکن ہے ان کا موقف بھی شاید وہی ہو جو ان کے موجودہ لیڈر عمران خان کا سائفر کے حوالہ سے ہے جو اپنی سازشی کہانی میں لقمہ دے رہے ہیں کہ ”عوام کو کیا پتا کہ سائفر یا مراسلہ کیا ہوتا ہے ہم نے تو امریکہ کا نام لیے بغیر صرف کھیلنا ہے“ بظاہر تو ان کا کالم ایک طرح سے اعتراف گناہ ہے مگر ”دانشورانہ گگلی“ کا منہ بولتا ثبوت ہے جس میں وہ اپنی دانشورانہ ساکھ کو ٹھیس پہنچائے بغیر سارا مدعا شاہنواز کے بدکردار، بد لحاظ اور بد تہذیب رویوں کے علاوہ شراب پی کر انٹرنیٹ کے بے دریغ استعمال کے کھاتے میں ڈال کر اور اپنی نا اہلی و سستی کو لفظوں کے مایا جال میں الجھا کر خود کو ایک سائیڈ کرنے میں کوشاں نظر آتے ہیں۔

اصل امتحان تو ان کا اس وقت شروع ہو گا جب شاہنواز کا ٹرائل شروع ہو گا دیکھنا ہو گا کہ وہ اپنے کمبخت کے پیچھے کھڑے نظر آتے ہیں یا اپنی سلیقہ مند اور معصوم مرحومہ بہو کے پیچھے کھڑے دکھائی دیتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا؟ کیونکہ امراء و ایلیٹ طبقے کے رنگ ہی نرالے ہوتے ہیں جیسے نور مقدم کا سفاک قاتل ظاہر جعفر جو کہ شاہ نواز کی طرح کا بگڑا نواب تھا جس کے والدین نے نور مقدم کے قتل پر اظہار افسوس کا ایک لمبا چوڑا اشتہار اخبار میں لگوایا تھا مگر عدالت میں اپنے سفاک بیٹے کی حمایت میں کھڑے تھے اور نور مقدم کی کردار کشی میں بھی مصروف رہا کرتے تھے اب دیکھنا یہ ہے کہ ایاز امیر عملی طور پر کیا رویہ اختیار کرتے ہیں؟

ویسے منافق معاشرہ بھی عجیب ہوتا ہے جس میں مختلف طرح کے گیٹ اپ اختیار کر کے یا پرسونا ماسک پہن کے لوگوں کو اداکاری کرنا پڑتی ہے، باپ خود کو ٹی وی اسکرین پر روشن خیال اور ترقی پسند بنا کر پیش کرتا نظر آتا ہے اور بیٹا صوفی منش بن کر مرحومہ سارہ انعام سے پیسے بٹورتا تھا اور روحانی رہنمائی کے طور پر اقوال زریں، تسبیحات، قاسم علی شاہ کے لیکچر اور ملنگ دوراں عمران خان کے کلپ بھیجا کرتا تھا تاکہ وہ بہکنے سے باز رہے خود کا کیا ہے ہم تو ٹھہرے بگڑے نواب اور تفریح ہمارا پیدائشی حق ہے اور موصوف اکثر جلسوں میں عمران خان کی برابر والی نشست پر بیٹھے بھی دکھائی دیتے تھے۔ اب ایاز امیر کا یہ کہنا کہ وہ شاہنواز سے لاتعلق تھے مگر آئیڈیالوجی کے حساب سے دیکھیں تو بیٹا باپ کے نقش قدم پر دکھائی دیتا ہے اب اس کی لوجک کیا بنتی ہے اس کی وضاحت تو وہ خود کر سکتے ہیں۔ ایاز امیر نے اپنے کالم میں ایک زبردست سوال اٹھایا ہے جس پر غور کرنا بہت ضروری ہے لکھتے ہیں کہ

”میں حیران ہوں کہ اتنے ویلے، بد سلیقہ و بد تہذیب شاہنواز کے چنگل میں اتنی خوبصورت بچیاں پھنس کیسے جاتی ہیں؟ تو جناب اس کا جواب بہت سادہ سا ہے کہ شاہنواز ابا حضور کے اسٹیٹس و حیثیت کو استعمال کر کے تعلقات استوار کیا کرتا تھا۔ دوسرا انٹرنیٹ کا بے دریغ استعمال جس کے پیکج کا پیٹ بھرنے کے لیے ایاز اخراجات برداشت کیا کرتے تھے اور وہ نشے میں دھت ہو کر بڑے دھڑلے سے صوفی بن کر امیر زادیوں کو پھنساتا تھا۔ دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ اگر وہ ویلا تھا تو نشہ کرنے کے لئے پیسے اس کے اوپر آسمان سے نازل ہوتے تھے یا زمین پر ہی سب بندوبست موجود تھا، ویسے حیرت نہیں کہ ابا حضور کو فرشتہ صفت عمران خان کی ہر ہر ادا کی خبر ہوتی ہے مگر اپنے خون سے اتنی بے نیازی بات کچھ ہضم نہیں ہوتی؟

اس پہلو کو کچھ اس نظر سے بھی دیکھ لیتے ہیں کہ عین ممکن ہے کہ جن خوبصورت اور ذہین خواتین نے شاہنواز کے ساتھ شادی کی تھی ان کا مقصد اسے اس قابل رحم حالت سے نکال کر ریہیب کرنا ہو جسے باپ بھی نظر انداز کر چکا ہو اور وہ اپنے تئیں کچھ کنٹری بیوٹ کرنا چاہتی ہوں کہ شاید بندے کا پتر بن جائے؟ باقی باپ ایاز امیر ہو اور بیٹا جلسوں کے دوران کبھی کبھار ہی سہی عمران خان کے ساتھ بیٹھا نظر آتا ہو تو کوئی بھی بہک سکتا ہے مگر یہاں معاملہ ذرا مختلف ہے بیٹا حضور خود مالدار خواتین پر ڈورے ڈالا کرتا تھا کہ دنیا ٹھاٹ سے جی سکے۔

اعتراف گناہ کی حیثیت سے اور اپنی بہو سارہ انعام کے لیے ہمدردی کے طور پر ایاز امیر نے جو اتنا لمبا مضمون لکھ مارا اور رونے دھونے کر ڈالے کیا ہی بہتر ہوتا کہ اپنے تئیں پوری کوشش کر کے سارہ کو اپنے کمبخت سے چھٹکارا دلانے کی کوئی ترغیب کر دیتے؟ آپ کے رونے اور دلخراش واقعے پر دل کو پکڑ لینے سے اب سارہ تو واپس نہیں آ سکتی تو پھر یہ درد کس کام کا اور ان الفاظ کو کیا پہناوہ دیں؟ اپنی آنکھوں کے سامنے دو ناکام شادیوں کا انجام دیکھ کر بھی شاہنواز کو لگام نہ ڈالنا کیا آپ موجودہ سفاکی کا انتظار فرما رہے تھے جو سارہ کے ساتھ رونما ہوئی؟

ضروری تو نہیں کہ ہر انتہا کا اختتام علیحدگی کی صورت میں ہو؟ اس قسم کے بندوں کے لئے تو شادی محض تفریح ہوا کرتی ہے ذمے داری نہیں اور جب کوئی کان کھینچنے والا نہ ہو تو کوئی بھی سفاکی رونما ہو سکتی ہے۔ اگر آپ ٹی وی پر بیٹھ کر لوگوں کو شعور و گیان بانٹ کر جگانے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں تو جن کا رشتہ آپ کے ڈی این اے سے جڑا ہوا ہو ان کی اصلاح کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ اس سفاکی کے بعد آپ کے ذہن میں جو سوالات سر اٹھا رہے ہیں کہ“ اگر ایسا ہو جاتا تو ویسا نہ ہوتا ”اب ان باتوں کا کوئی مطلب نہیں بنتا مگر حیرت ہے کہ دانشور کی دانشوری دوسروں کے لیے ہوتی ہے اپنوں کے لیے نہیں۔ اب اتنی بڑی سفاکی کو اس مثل پر تو قربان نہیں کیا جا سکتا کہ

”چراغ تلے اندھیرا ہوتا ہے“

نشہ تو ہر اس بندے کا آخری سہارا بن جاتا ہے جو اپنوں میں بیگانہ ہو چکا ہو اور دنیا میں لانے کا سبب بننے والا دبک کر ایک طرف بیٹھ جائے اور وقوعہ ہونے کی صورت میں چند تعزیتی الفاظ لکھ مارے۔ ایاز صاحب نے سوال بڑا پرمغز اٹھایا ہے کہ آخر کوئی اس نہج تک کیسے پہنچتا ہے؟ مگر افسوس انہوں نے بہت دیر کردی اور ایک معصوم جان ان کی بے خبری کی نذر ہو گئی۔ ہر معاملے کا کوئی نہ کوئی محرک ضرور ہوتا ہے اس سفاکیت کا سرا کہاں سے نکل کر کہاں مل جاتا ہے جاننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اگر سارہ جیسی صاف گو اور معصوم کو شاہنواز کے سدھرنے کی کوئی امید تھی اور اسی امید پر اس نے اپنی جان داؤ پر لگادی تو جس کا وہ خون تھا وہ اس سے اتنا نا امید کیسے ہو سکتا ہے؟ اب لوگ سوال تو کریں گے کہ جن سے اپنے بچوں کی تربیت نہیں ہوتی وہ قوم کی تربیت کا بیڑا کیسے اٹھا سکتے ہیں؟ آپ اس حقیقت سے کیسے انحراف کر سکتے ہیں کہ شاہنواز کی مستیاں آپ کے ہی پیسوں کا فیضان تھیں۔ اگر طلب اور رسد میں توازن برقرار ہو تو کون پیچھے مڑ کے دیکھنا گوارا کرتا ہے؟

سارہ انعام کے والد کا انٹرویو آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے جنہوں نے شاہ نواز کو ”پری ڈیٹر“ کہا ہے جس کا واضح مفہوم کچھ اس طرح سے بنتا ہے کہ ایک ایسا شخص جو گھات لگا کے شکار کرنے والا ہو۔ وہ انٹرنیٹ کے ذریعہ سے اور اپنے دانشور والد کی دانشورانہ ساکھ کو استعمال کر کے من پرستیوں میں مصروف رہتا تھا۔ سارہ چونکہ دنیا گھومنے والی لڑکی تھی اور ایسے معاشرے میں پلی بڑھی تھی جہاں اس قسم کی وارداتوں کا کوئی نام و نشان نہیں ہوتا اور اپنی معصومیت اور صاف گوئی کے ہاتھوں ماری گئی۔ بدقسمتی سے اس قسم کا دوہرا چلن یا دروغ گوئی کا کلچر ایسے معاشروں میں عام پایا جاتا ہے جہاں گناہ و ثواب یا جائز و ناجائز کے نام پر لوگوں کو منافق بنایا جاتا ہے بظاہر صوفی دکھنے والے اندر سے شاہنواز ہی ہوتے ہیں۔

Facebook Comments HS