آئیں، اونچے کمیونٹی سینٹر بنائیں


اونچی پختہ عمارتیں کیا کمال کرتی ہیں! بھلے وہ کسی قبرستان میں مقبرہ ہی کیوں نہ ہوں! بات عجیب ہے، لیکن ہے سچی۔ بدین کے لوگوں کے لیے تباہی اور اموات جو 1999 کا سمندری طوفان لایا تھا، وہ ابھی بھولے ہی نہیں تھے کہ 2003 کی بارشوں نے ان کو آن دبوچا اور ایک بار پھر تہس نہس کر دیا! بدین ضلع میں اک مکان روپاماڑی ہے جو کچھ تاریخی روایات کے مطابق سومروں کے دؤر میں سندھ کا دارالحکومت رہا تھا؛ وہاں پر سندھ کے حاکم شہید دو دو سومرو کا مقبرہ ہے۔

اس مقبرہ کی پکی عمارت شکارپور کے سومروں کی مرہون منت بنی۔ اس کی پکی چھت پر بیٹھ کر ڈھائی سو سے تین سو انسانوں کی جانیں 2003 کے سیلاب سے بچ گئی تھیں۔ یہ اس علاقے میں واحد اونچی اور پکی چھت تھی جس نے ڈوبے ہوئے لوگوں کو پناہ دی تھی۔ اس لیے عرض کیا کہ پکی عمارتیں کمال کرتی ہیں، بھلے وہ قبرستان میں ہی کیوں نہ ہوں!

برصغیر کی شاید ہر زبان میں شاعروں نے سیلاب اور بارشوں کی تباہیوں سے بچنے کے لیے اپنے کچے مکانوں کا ذکر کرتے ہوئے اپنے پالنہار سے ان مکانوں کو سلامت رکھنے کے لیے دعائیں اور پرارتھنا کی ہیں۔ 1885 میں لاڑکانہ میں پیدا ہونے والے کشن چند ’بیوس‘ جو جدید سندھی شاعری کی بنیاد رکھنے والوں میں سے ہے ہیں، اپنے اک مشہور گیت ”غریبوں کی جھونپڑی“ میں صدا لگائی تھی ”اے اللہ! غریب کی جھونپڑی گرنے نہ دینا!“ ۔ ’بیوس‘ کی اس دعا کے ساتھ، سندھ کی بیوسی بہت ستا رہی ہے۔ اور شاید کروڑوں لبوں پہ حالیہ بارشوں اور سیلاب کے دؤران یہی صدا تھی ”اے ہمارے مالک رحم! ہمارے کچے پکے مکانوں کو محفوظ رکھیو!“

2003 کی بارشوں میں اک مقبرہ کی چھت کی وجہ سے اگر اتنے لوگوں کا بچایا جا سکتا ہے، پھر کیوں نہ ایسے علاقوں میں، جہاں ہر پکے مکانات، اونچی عمارتیں نہیں ہیں، وہاں پر اونچی بنیاد (پلنتھ) والے مکانات، اونچے پلیٹ فارم (Raised platforms) بنائے جائیں! یہ خیال 2003 میں کئی این جی او/فلاحی تنظیموں کے درمیان بحث میں آیا۔ دنیا کے تجربے اور مشاہدے سنے اور سنائے گئے لیکن کچھ زیادہ کام نہیں ہوسکا! سندھ کے کافی دیہات ایسے ہیں، جہاں پر گر کوئی پکی جگہ ہوگی تو وہ سرکاری اسکول یا کوئی اور سرکاری عمارت ہوگی۔ اور اکثر یہ اسکول وغیرہ ہی سب سے پہلے پناہ گاہ بنتے ہیں۔ لیکن، ان میں سے کئی، نچلی سطح پر بنے ہوتے ہیں اور ان کو ڈوبنے میں دیر نہیں لگتی۔

اونچے پلیٹ فارم کا خیال کوئی نیا نہیں ہے۔ پورے سندھ کے پرانے شہر اور بستیاں دریائے سندھ کے سیلاب کے ڈر کی وجہ سے اونچے ٹیلوں پر بنائی گئی تھیں۔ لیکن وقت کے ساتھ، بڑھتی ہوئی آبادی اور پھیلتے ہوئے شہر سب پرانی سمجھ اور عقل کی روایات بہا کر لے گئے! دنیا نے سیلابوں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ بنگلادیش اور ڈیلٹا والے کئی ممالک میں اونچے پلیٹ فارم اور کمیونٹی سینٹر بنائے گئے ہیں۔ جب وہاں پانی بپھرتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو اور اپنے ساتھ اپنے مویشی اور ملکیت/اناج وغیرہ کو بھی بچا لیتے ہیں۔

ہمیں بھی اپنے اور دنیا کے تجربات سے سیکھنا چاہیے۔ کم از کم اپنے جیسے ممالک (جو، اب بہت تھوڑے سے رہ گئے ہیں ) سے تو سیکھنا بنتا ہے۔ 2010 کے سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد پاکستانی محقق/ماہرین نے بھی اہم تحقیقات کیں اور اپنے تحقیقی مقالہ جات میں بہت سی تجاویز دیں، جن میں اونچے پلیٹ فارم بنانے اور اس طرح کی عمارت سازی کرنے کے بارے میں واضح سفارشات شامل ہیں۔ یہ سفارشات لیہ کے سیلابی علاقے سے لے کر بدین کی ساحلی پٹی تک کے لیے تھیں!

لیکن یہ بڑے سی ایس ایس افسران، ٹیکنوکریٹس اور اپنی ہی ڈگر میں مست سیاست دان تحقیق کو کہاں اہمیت دیتے ہیں! بلکہ تحقیقی کاموں پر نہ اعتبار کرتے ہیں اور نہ ہی ایسے کاموں کو اچھا سمجھتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ تحقیق پر پیسا برباد نہیں کرنا چاہیے اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ ”ہم نے کئی فیزیبلٹی اور تحقیقی رپورٹس پر منوں مٹی دیکھی ہے“ ۔ گر ان سے یہ پوچھنے کی جسارت کی جائے کہ ان رپورٹس کو مٹی میں دبا کے کون رکھتا ہے، تو لینے کے دینے پڑ جائیں!

کوئی اک دہائی پہلے بنگلہ دیش نے فلاحی تنظیموں کے ساتھ مل کر ایسے کمیونٹی سینٹر اور گھر بنانے کا کام شروع کیا۔ دوبارہ بنتے ہوئے گھروں کو گاؤں /علاقہ میں سیلابی پانی کی پانچ سال کی بلند ترین سطح سے اوپر رکھا اور سرکاری سکولوں کو بیس سالہ بلند ترین سطح سے اوپر بنا لیا! بھارت میں بھی کئی صوبوں (اسٹیٹس) میں اس طرح کے کام ہوتے ہیں۔ ان کاموں میں بین الاقوامی فلاحی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے اداروں کا کام نظر آتا ہے۔ ہمارے ہاں بین الاقوامی این جو اوز کو تو چودھری نثار علی خان کی نظر کھا گئی؛ جس کی وزارت میں ان پہ کڑی پابندیاں لگ گئیں تھیں۔ لیکن جو حالات اب ہیں، ہمیں سب کچھ بھلا کے عالمی اداروں کو اپنی مدد کے لیے پکارنا ہو گا۔

یہ عوامی کمیونٹی سینٹر کتنا بڑا ہونا چاہیے، اس کی تعمیرات، آرکیٹیکچر اور ساتھ میں ہونے والا کام کیسے ہونے چاہیے، اس پر ماہرین کام کر سکتے ہیں اور بہتر ماڈل سامنے لا سکتے ہیں۔ عورتوں اور بچوں کے لئے علیحدہ اور مردوں کے لئے علیحدہ حصے ہونے کے ساتھ ساتھ، اس کو کم از کم 500 مربع گز ہونا چاہیے اور پھر ساتھ میں اتنا ہی اونچائی والا میدان! بس وہ سینٹر اس جگہ ہو جو سب کے لیے ہو؛ گاؤں میں رہنے والے ہر مذہب، فرقہ، ذات اور برادری کے لوگوں کے لئے۔

یہ سینٹر خاص کر دیہات میں بسنے والوں کے لیے ترقی کی کئی راہیں کھول سکتا ہے۔ یہاں پر شادیاں، تقریبات، تعلیمی، صنعتی، زرعی، ادبی، ثقافتی میلے، تہوار، صحت کی کیمپس، نوجوان بچوں اور بچیوں کے لئے تربیت کے مواقع ہونے چاہئیں۔ کئی کام اس کمیونٹی سینٹر کے طفیل ہو سکتے ہیں۔ جس طرح بڑے شہروں میں جدید ڈجیٹل لیبز ہیں، کاروباری اور اسٹارٹ اپ بحث کے لئے پلیٹ فارم بنے ہوئے ہیں، یہ کمیونٹی سینٹر اسی طرح کام کریں گے۔

یہ دؤر آفتوں کے ساتھ ساتھ سیاسی مایوسی، سماجی اور اقتصادی جمود کا بھی ہے، اس میں حوصلے کے ساتھ امیدوں کو بلند رکھنا ہے۔ ہماری نوجوان نسل انہونی کو ہونی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وہ ہم سے کئی گنا زیادہ سچی اور پرامید ہے۔ بس جو لوگ ملک چلا رہے ہیں، وہ ان نوجوانوں کی راہ میں روڑے نہ اٹکائیں، ان کو کھلا راستہ دیں۔ یہ سب کچھ کرنے کے لئے، خاص کر کے دیہی پاکستان اور دیہی سندھ میں یہ کمیونٹی سینٹر اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

اک سینٹر اوسطا ڈھائی کروڑ روپوں میں بن سکتا ہے۔ اگر اک سال میں اک ہزار سینٹر بنائے جائیں تو کل خرچہ پچیس ارب آئے گا! اور اگر اس کے نتیجے میں اک ہزار لوگ بھی بچ گئے ؛ اک لاکھ لوگوں کے لئے، اک سال میں، روزگار، صحت، تعلیم، تربیت و زراعت وغیرہ بہتر ہو گئے تو یہ خرچہ تو اک سال میں ہی وصول ہو جائے گا۔ سوچیں، کئی صوبائی محکمہ جات، جیسے دیہی ترقی، عورتوں کی ترقی، تعلیم، صحت، سماجی بہبود، ماحولیاتی تبدیلی، زراعت، مویشی، بہبود آبادی وغیرہ کے کئی ٹارگٹ پورا کرنے میں یہ سینٹر اہم کام کر سکتے ہیں اور ساتھ میں جب بھی سیلاب آئے گا تو لاکھوں لوگوں کو ڈوبنے سے بچنے کا آسرا مل جائے گا۔

اور وہ اپنی ملکیت، مویشی اور قیمتی اشیا بھی بچا سکتے ہیں۔ کمیونٹی سینٹر کو چلانا بھی اہم کام ہے۔ ہمارے ہاں رورل سپورٹ پروگرام، پنچائتی فورم اور کئی ماڈل موجود ہیں جن میں مقامی لوگ، تنظیمیں آپس میں مل کر کام چلاتے ہیں۔ بس یہ سینٹر کسی بھی صورت میں وڈیرے، سردار، ایم این اے، ایم پی اے کا ڈیرہ نہ بنے۔ اگر فعال مقامی سماجی اور سیاسی لوگ متحرک ہوں گے تو ان بڑے لوگوں کو عام لوگوں کی ملکیت پر ڈاکا ڈالنے کی جرات نہ ہوگی۔ اس اونچے سینٹر کے بنانے سے لے کر فعال کردار تک بہت سی چیزوں پر بحث ہو سکتا ہے لیکن سیلاب میں عام غریب عوام کی زندگی بچانے میں ان کا کردار بین الاقوامی طور پر ثابت شدہ ہے۔

Facebook Comments HS