استاد کا شکریہ ادا کرنے کے لیے چند تجاویز


دنیا کے بیش تر ممالک ہر سال پانچ اکتوبر کو یوم اساتذہ مناتے ہیں جس میں اساتذہ، اساتذہ کی تنظیموں اور اساتذہ کی تربیت کے اداروں کو مستقبل کے راہ نماؤں کی تعلیم و تربیت اور ترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے پر خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ یاد رہے! آج سے اٹھائیس برس قبل ( 1994) یونیسکو نے پانچ اکتوبر کو یوم اساتذہ منانے کا اعلان کیا تھا۔ تب سے ہر سال یہ دن بڑے اہتمام سے منایا جاتا ہے۔ سال 2022 کے لیے یوم اساتذہ کے موقع پر ’تعلیم کی بحالی کے مرکز میں اساتذہ‘ کا موضوع (تھیم) رکھا گیا ہے۔

اساتذہ ہر روز ہماری اور ہمارے بچوں کی حوصلہ افزائی، راہ نمائی، تعلیم اور تربیت کے لیے سخت محنت کرتے ہیں۔ ہم اپنی یادداشت پر زور دے کر اپنے آپ کو بچپن یا لڑکپن میں لے جائیں تو ہمیں کم از کم ایک ایسا معلم ضرور یاد آئے گا جس نے ہماری شخصیت کو نکھارنے، نئی مہارت سیکھنے، موزوں شعبے کا انتخاب کرنے، سخت محنت کرنے، عزت کرنے، ہار نہ مانتے ہوئے پر عزم رہنے، کسی خشک نظر آنے والے مضمون کو انتہائی دل چسپ بنانے اور بے شمار دوسرے کاموں میں مثبت راہ نمائی اور حوصلہ افزائی کی ہوگی۔

آپ کو کئی ایسے اساتذہ بھی یاد آئیں گے یا آج کل کے دور میں نظر آئیں گے جو اپنے بنیادی فرض ’پڑھانے اور سکھانے‘ کے علاوہ کئی اور کردار بہ خوبی نبھا رہے ہوتے ہیں۔ اساتذہ طلبہ کے لیے مشیر بھی ہیں اور دوست بھی۔ کئی اساتذہ تو اپنے طلبہ کے لیے سرپرست بھی ثابت ہوتے ہیں جو مشکل حالات سے طلبہ کو نکال کر روشن مستقبل کے راستے پر گامزن کرتے ہیں۔

اگرچہ تدریس ایک بہترین پیشہ ہے لیکن اتنا ہی مشکل اور پیچیدہ بھی ہے۔ آج کل کے اس ترقی یافتہ دور میں ایسا بھی لگتا ہے کہ اساتذہ پہلے سے کہیں زیادہ مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔ کچھ باتوں کا وہ ہر روز کمرۂ جماعت میں سامنا کرتے ہیں، جن میں خلل انگیز اور نامناسب ماحول، وسائل کی کمی، محدود وقت، مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کی کمی، اسکول انتظامیہ اور والدین کی طرف سے بے جا و بے تحاشا توقعات اور اخلاقی حمایت کا فقدان وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

کلاس میں طلبہ کا زیادہ تعداد میں ہونا بھی اساتذہ کے لیے انفرادی توجہ فراہم کرنے کو بہت محدود کرتا ہے۔ اساتذہ قوموں کی تشکیل کرتے ہیں لیکن اکثر ترقی پذیر ممالک میں ان کی تنخواہیں اور مراعات نہ ہونے کے برابر ہیں جس سے معاشرے میں انھیں وہ مقام نہیں ملتا جس کے وہ اصل حق دار ہیں۔ تاہم! ان تمام مشکلات کے باوجود تدریس کو بہ خوبی نبھاتے ہوئے تعلیم کی بحالی میں اساتذہ اپنا بہترین کردار نبھا رہے ہوتے ہیں۔

چوں کہ اساتذہ طلبہ کو مستقبل کے لیے تیار کرتے ہیں، اس لیے اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ وہ اپنے مشکل کام اور نازک فریضے کو پہچانیں، اپنے آپ کو ہر طرح کے چیلنج، بدلتے حالات کے ساتھ نئی مہارتیں اور جدید طریقۂ تدریس کے لیے تیار رکھیں تاکہ طلبہ کو زیور تعلیم سے بہتر طور پر آراستہ کرنے میں حائل مشکلات خود بہ خود آساں ہوتی چلی جائیں۔

یوم اساتذہ ایک ایسا موقع ہوتا ہے جس سے اساتذہ اور طلبہ جذباتی طور پر منسلک ہوتے ہیں۔ اساتذہ اس لیے کیوں کہ ان کی کاوشوں اور محنت کو طلبہ، اسکول انتظامیہ، والدین اور دوسرے کئی اداروں کی طرف سے بھی سراہا جاتا ہے اور طلبہ اس لیے کہ وہ اپنے اساتذہ کا شکریہ ادا کریں جنھوں نے ان کی زندگیوں میں مثبت اثر ڈالا ہے۔ نیز اس موقع پر والدین اپنے بچوں کے اساتذہ کی کارکردگی پر تعریف اور شکریہ ادا کرتے ہوئے اساتذہ کو تہنیتی خطوط بھیج سکتے ہیں۔

آج کل کے دور میں ہم سب سوشل میڈیا کے توسط سے مختلف اساتذہ کو ان کی بہترین خدمات کے عوض خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کر سکتے ہیں اور طلبہ اپنے اساتذہ کا گل دستہ، چاکلیٹ، تہنیتی کارڈ پیش کر کے، یا شخصیت نگاری، شاعری اور ڈرائنگ وغیرہ کے ذریعے شکریہ ادا کر سکتے ہیں۔ صاحب حیثیت طلبہ اپنے والدین کی اجازت سے اپنے اساتذہ کے لیے ظہرانے، عشائیے یا کسی اور پارٹی کا اہتمام کر کے ان کی خدمات کے اعتراف کا اظہار کر سکتے ہیں۔ نیز طلبا اپنے اساتذہ کی تصاویر سوشل میڈیا کی زینت بنا کر ان سے اپنی عقیدت کا اظہار کر سکتے ہیں۔

یوم اساتذہ پر اسکول انتظامیہ طلبہ کے ساتھ مل کر اسکول کو سجا کر اساتذہ کے لیے تقریب کا اہتمام کریں اور ان کی بے لوث خدمت پر ان کا شکریہ ادا کریں۔ اس موقع پر ہر معلم سے الگ الگ بات چیت کو یقینی بنائیں اور ان سے اپنی عقیدت کا اظہار کریں۔ ہو سکتا ہے کچھ اساتذہ مختلف مشکلات کا شکار ہوں، اس موقع پر ان کی ڈھارس بندھائیں۔ نیز اساتذہ میں اسناد، شیلڈ اور تحائف بانٹیں۔ ممکن ہو تو نقد انعام یا تنخواہ میں اضافہ کریں تاکہ وہ مزید دل جمعی، اعتماد اور شوق سے قوم کی تعمیر میں اپنا مثبت ادا کریں۔

اساتذہ طلبہ کو تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی پرورش بھی کرتے ہیں۔ وہ انھیں بہتر مستقبل کے لیے تیار کرتے ہیں کیوں کہ اساتذہ علم اور حکمت کے حقیقی مورت ہوتے ہیں۔ وہ طلبہ اور عام لوگوں میں بے داری پیدا کرتے ہیں۔ وہ دنیا میں روشنی کا سرچشمہ ہیں ان کے لیے جو جہالت کی وجہ سے تاریکی کی طرف گامزن ہیں۔ ہمارے اساتذہ ہی ہماری کامیابی کے اصل ستون ہیں۔ وہ علم حاصل کرنے، اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور ہمارا اعتماد بڑھانے کے ساتھ ساتھ کامیابی کا راستہ منتخب کرنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔

لیکن طلبہ کی زندگیوں اور قوم کی تعمیر میں اس قدر اہم کردار ادا کرنے کے باوجود انھیں شاذ و نادر ہی سراہا جاتا ہے جس کے وہ مستحق ہیں۔ لہٰذا ایک طالب علم، والدین، اسکول انتظامیہ اور ذمہ دار شہری کے طور پر ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ان کا شکریہ ادا کریں اور ان کی قربانیوں کی دل کھول کر تعریف کریں۔ یوم اساتذہ ہمیں یہ فرض ادا کرنے کا مثالی موقع عطا کرتا ہے۔ سلام استاد!

Facebook Comments HS