عورت نے ارضی و سماجی زندگی کیسے تباہ کی؟


”آرٹ ایک جھوٹ ہے جو ہمیں سچ کو پانے میں مدد دیتا ہے“ پابلو پکاسو

کہا جاتا ہے کہ عورت کے قہقہے سے جنت کی مضبوط دیواروں میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں، اور انہی دراڑوں سے شیطانی مخلوق سانپ بن کر جنت میں داخل ہوتے ہیں۔ اندر داخل ہوتے ہی وہ سانپ حوروں کی صورت دھار کر وہاں پر موجود ان جنتی مردوں کو گمراہ کرتی ہیں جنہوں نے عورتوں کو دنیا کی ناپاکی سے بچانے کے لیے زندگی میں اپنے پابند سلاسل رکھا تھا۔ ان مردوں سے ان دنیا دار عورتوں کو اتنی نفرت ہے کہ جہنم کی آگ بھی اس کے سامنے کچھ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی عورتوں نے دنیا میں ہی شیطان کو اپنی روح بیج دی تھی تاکہ زن دشمن مردوں کو سزا دی جا سکے۔ اس شیطانی مخلوق سے پاکباز مردوں کو بچانے کے لیے لازمی ہے کہ عورتوں کو خاص جگہوں اور سرگرمیوں تک محدود رکھا جائے۔ اس لیے عورتوں کے لیے یہ لازم سے کہ وہ مردوں کی طرف سے ممانعت کو نعمت سمجھیں کیونکہ مردانہ امتناعات کے پیچھے ایک پدرسری حکمت ہے جس کو ضعیف دماغ عورتیں سمجھ نہیں سکتیں۔ اس علمی مقالے میں ہم ان امتناعات اور اس کے پیچھے پوشیدہ حکمتوں کو علمی مثالوں سے ثابت کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم پردے کے متعلق بات کرتے ہیں۔

عورتوں کا سر کو پردے سے ڈھانپنے کے پیچھے بہت گہری حکمت ہے۔ اس گہری حکمت کو ایک مچھلی بحیرہ اسود کی گہرائیوں سے ڈھونڈ لائی ہے۔ ابوالمرجان اپنی کتاب ”حکمتہ السمک“ (مچھلی کی حکمت) میں رقم طراز ہیں کہ دنیا میں عورت کے کھلے بال بنیادی طور پر جہنم میں سانپ بن جاتے ہیں۔ جتنے بال کھلے ہوں گے، اتنے ہی سانپ بنیں گے۔ یہ سانپ تین کام کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ ان جہنمی عورتوں کو ڈس لیں گے جنھوں نے اپنے بال دنیا میں کھلے رکھے تھے۔ دوم یہ کہ جہنمی عورتوں کو جب بھوک لگے گی تو یہ ان سانپوں کو ان کے حلق میں اتارا جائے گا اور پیٹ میں اتر کر اسے اپنا مسکن بنا کر انڈے دیں گے۔ یوں ابد تک یہ عورتیں سانپوں کو ہی جنم دیں گے۔ سوم یہ وہی سانپ ہیں جس کے روپ میں ڈھل کر جہنم سے شیطان کی عورتوں پر مشتمل فوج جنت کے دراڑوں میں سے سرک کر جنتیوں کو گمراہ کرنے پہنچ جائیں گے۔ اس لیے عورت کو بال کھولنے کی اجازت نہیں ہے۔

بے پردہ عورت شیطان کا وہ ہتھیار جسے وہ زمین کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اب اس تباہی کے پیچھے کارفرما عمل کو مستند حوالوں سے ثابت کرتے پیں۔ علامہ صعط بن مرجان اپنی مشہور کتاب ”مسبب الکارثة“ (تباہی کے اسباب) میں بے پردگی اور ارضی تباہی کے تعلق کو بہت منطقی انداز سے واضح کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب روئے زمیں پر عورت کی بغیر ڈھانپی ہوئی ٹانگیں نظر آتی ہے تو زمین کے عناصر میں ہیجان اور تلاطم بیدار ہوتا ہے، اور اس کے نتیجے میں زلزلے اور قدرتی آفات جنم لیتے ہیں۔ یہ کتاب اتنی مضبوط منطق پر مبنی ہے کہ علما نو سو سال گزرنے کے باوجود بھی اس کے سحر سے باہر نہیں نکل پائے ہیں۔

اس کتاب کے لکھنے کے دو سو سال بعد مراکش کے ابن تنجیر نے ان کے دعووں کو پرکھنے کے لیے زمین کے اندرونی حصوں کا سفر کیا اور اس کی روداد کو اپنی تحریر ”کتاب النفس لارض“ میں بیان کیا ہے۔ وہ دنیا کا پہلا شخص ہے جس نے زیر زمین سفر کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے زمین کے اندر لاکھوں قسم کی ارضی چیزیں دیکھیں۔ اس زمین کے مرکز میں ایک دماغ ہے جو بیکال جھیل جتنا وسیع ہے۔ اس پر ہر وقت ایک پرسکوت دھند کی ایک تہہ چھائی ہوئی ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے یہ دماغ ایک روحانی بجلی کے ذریعے چل ریا ہے۔ ایک دفعہ ابن تنجیر اس دماغ کے پاس خیمے میں سویا ہوا تھا۔ اس کو شدید گرمی محسوس ہوئی۔ وہ جاگتا ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ ارضی دماغ ایک لاوے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ زمین کے اندرونی پہاڑ لرز رہے ہیں۔ اس کے اندرجو بڑے بڑے پتھر ہیں وہ بے قراری کے عالم میں اچھل رہے ہیں۔ تحقیق کرنے پر پتہ چلا کے کچھ لڑکیاں زمین پر اپنی گھٹنوں تک شارٹز پہن کر فٹ بال کھیل رہی ہیں اور ان کے اردگرد تماشائیوں نے بھی ایسا لباس زیب تن کیا ہوا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں گھومتی ان ٹانگوں نے زمین میں جلد میں سنسنی طاری کر کے زمین کے اندر ایک ہیجان جنم دیا۔ اس سنسنی کو زمیں کے اندر پتھروں نے بھی محسوس کیا۔ زمین کے اندر سارے دھات ہیجان کی حدت سے پگھل رہے تھے۔ بڑے بڑے پتھر اور پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ کر ان ٹانگوں کی طرف جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ یوں لگتا تھا کہ زمین کے اندرونی انگوں میں شہوت سرایت کر گئی ہے۔ اس شہوانی بھونچال کے نتیجے میں ساری زمین ہلنے لگی۔ اس بھونچال اور لرزنے کو زلزلہ کہا جاتا ہے جو کرہ ارض کی تباہی کا موجب بنتا ہے۔ کیا آپ کو پتا ہے فٹ بال کو عربی زبان میں کرة قدم کہا جاتا ہے۔ لڑکیوں کی کچھے پہن کر گھٹنوں سے نیچے ننگی ٹانگوں سے فٹ بال کھیلنے اور ننگے گھومنے کی وجہ سے زلزلے پیدا ہوتے ہیں۔ ابن تنجیر نے ان مشاہدات علامہ صعط کے دعوے اور علما کی فحاشی اور قدرتی آفات کے درمیان تعلق کے متعلق دعووں کی مشاہدات کی روشنی میں تصدیق کی ہے۔

آج لڑکیوں کے کھیل کھیلنے کی جو حمایت کر رہے ہیں وہ بنیادی طور پر زمین کی تباہی کا سبب بن رہے ہیں۔ ان سب تعلیمات، سائنسی مشاہدات اور فتووں کا مقصد عورت کو قابو کرنا ہے تاکہ قدرتی آفات پر قابو پایا جا سکے۔ سننے میں آیا ہے کہ امریکہ نے اپنی ہارپ ٹیکنالوجی میں عورتوں کو شامل کیا ہے کیونکہ ان کو ننگا کر کے دشمن ملکوں میں تباہی لائی جا سکتی ہے۔ حال ہی میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد انجلینا جولی کا دورہ اسی سازش کا ایک حصہ ہے۔ انجلینا کی ٹانگیں دیکھ کر ہم پاکستانی مردوں کے اندر ویسے بھی ایک زلزلہ پیدا ہوتا ہے۔ اب اگر پاک سرزمین ان کی ناپاک ٹانگیں دیکھے گی تو پتہ نہیں کیا ہو گا۔

ان پدر شاہی تعبیروں اور مذہبی مثالوں سے ہٹ کر ہم کچھ تاریخی مثالیں دیکھ لیتے ہیں اور ان عمرانی عوامل کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آیا معاشرتی زوال کا باعث عورت کی بے حیائی اور بے پردگی ہے یا پدرسری اقدار و افکار۔ اس کا جواب ایک واقعہ سے لیتے ہیں جو ایک معاشرے میں رونما ہوا جہاں پر عورتیں اچانک غائب ہو گئیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ معاشرہ مع اپنی ذہنیت کے صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔ یہ واقعہ علم عمرانیات کے لیے بہت سبق آموز ہے۔ یہ واقعہ خراسان کے علاقے طاس میں رونما ہوا۔ ہوتا یوں ہے کہ طاس کی سرزمین بہت زرخیز تھی اس لئے وہاں کافی خوشحالی تھی۔ وہاں پر خاندانی اور غیرت مند مرد ہاتھ سے کام کرنا عار سمجھتا تھا۔ اس لیے زراعت کا سارا کام عورتیں ہی کیا کرتی تھیں۔ عورتیں چونکہ صدیوں سے زراعت اور متعلقہ کام کرتی آئی تھیں اس لئے انھیں مقامی معیشت، پشتینی علوم اور ہنر پر عبور حاصل تھا۔ چونکہ طاس کا سارا سیاسی نظام اور معاشرتی ڈھانچہ کٹر پدر شاہی تصورات پر مبنی تھا، اس لیے وہاں پر خواتین کی کوئی ذاتی و سماجی زندگی نہیں تھی۔ ان کی محنت سے بنائی دولت مرد ہی استعمال کرتے تھے۔ اوپر سے حکومت اور سماجی قوانین اتنے سخت تھے کہ عورت اپنے طور پر کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ چونکہ ثقافتی رویے اور معاشرتی ذہنیت پر غیرت کا بھوت سوار تھے، اس لئے خواتین کے معاملے پر آئے روز فسادات اور قتل زندگی کے معمول کا حصہ تھے۔ اس وجہ سے عورت کو فساد کی جڑ سمجھا جاتا تھا۔ عورت سے پیدا ہونے والے فتنوں سے بچنے کے لیے مردوں نے یہ فیصلہ کیا کہ عورتوں کو چار دیواری کے اندر مقید کیا جائے اور اگر عورت کھیت کا کام کرنے ہا پانی دینے جاتی تو مرد گھر کے مینارے سے اس کی نگرانی کرتا۔ عوامی مقامات اور بازار میں عورت کا ہونا شیطان مجسم کی موجودگی سمجھی جاتی تھی۔ اگرچہ بازار میں سارے مرد ہی ہوتے تھے اور ساری برائیوں کا ارتکاب بازار میں مرد ہی کرتے تھے، مگر اگر کوئی عورت بازار چلی جائے تو اسے بازاری عورت کا لقب دیا جاتا تھا۔

یہ پدرشاہی نظام اتنا سخت تھا کہ اس کے خلاف اظہار خیال کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ اس لئے عورتوں کے اندر آہستہ آہستہ ایک بیانیہ نمو پانے لگا جو رائج الوقت نظام اور نظریے کے ہر چیز کے خلاف تھا۔ ابتدا میں یہ رویہ خواتین کے درمیان صرف بات چیت کی حد تک رہا۔ پھر یہ عورتوں کے مزاج کا حصہ بننے لگا۔ اس مزاج کو مائیں اپنی بیٹیوں میں منتقل کرنے لگیں۔ اب جو لڑکیاں پیدا ہو رہی تھیں ان کی پرورش اس پدرشاہی نظام کے مخالف بیانیے پر ہو رہی تھی۔ وقت کے ساتھ یہ باتیں گھر سے باہر نکلنے لگیں۔ جس کی وجہ سے لاتعداد لڑکیوں کا قتل بھی ہوا کیونکہ جس گھر سے ایسے خیالات کا ظہور ہوتا تھی اسے شیطانی خیالات کا مسکن سمجھا جاتا تھا۔ جوں جوں خواتین کے خیالات پھیلنے لگے، توں توں مردوں کے خوف میں اضافہ ہونے لگا۔ اب مردوں کو اپنی بنائی ہوئی دنیا ان کے آنکھوں کے سامنے ان کے ہاتھوں سے نکلتی نظر آ رہی تھی۔ اس لیے ان کا ظلم مزید بڑھ گیا۔ اب ہنسنا، خوش رہنا، جھومنا، گنگنانا، خوش لباسی غرض خوشی اور مسرت کی ہر چیز لڑکیوں پر حرام کردی گئی۔ ان حرامی افعال کی بیخ کنی لے لئے غیرت کے نام پر برگیڈ تشکیل دیے گئے جو ان چڑیلوں کو تلاش کر کے جلا دیتے تھے۔ یوں مردوں کی غیرت کی آگ ہر سال ہزاروں عورتوں کو جلا رہی تھی۔

اس خون آشام انسانی صورتحال نے عورتوں کو شدید سطح کے خیالات کو سوچنے پر مجبور کر دیا اور یہ شدید خیالات بہت جلد شدید قسم کے اقدامات کو صورت میں نمودار ہوئے۔ اب طاس کی عورتوں نے مشترکہ طور پہ فیصلہ کیا کہ وہ زراعت یا کوئی دوسرا کام نہیں کریں گے۔ بعض نے تجویز دی کہ آنے والوں نسلوں کو پدر شاہی آدم خوری سے بچانے کے لیے مردوں کے اس معاشرے کو خیرباد کہہ کر ایک نئی بستی بنانی ہو گی جہاں پر وہ ایک نیا معاشرہ تشکیل دے پائیں گے، جہاں پر عورتوں کی زندگی کی تکریم ہو۔ عورتوں نے اس تجویز پر اتفاق کیا مگر ان کا کہنا تھا کہ وہ جائیں تو کہاں جائیں کیونکہ زمین کے ہر چپے پر مردوں کا قبضہ ہے۔ مردوں نے اپنے جابرانہ نظام کے تحفظ کے لیے مسلح فوج، مولوی، انتظامی ڈھانچے، نظام تعلیم اور اور اقدار بنائے ہوئے تھے۔ ذہنی اور جسمانی قبضے کی یہ صورتحال تھی کہ عورتوں نے مردوں کی اقدار کو اپنایا تھا۔ اس ساری صورتحال کو دیکھ کر ان کے دل و دماغ پر ایک مایوسی چھا گئی۔ اس مایوسی کے عالم میں خواتین نے ایک بوڑھی کاہن خاتون سے رابطہ کیا کہ آیا اس دنیا میں کہیں ایسی جگہ ہے جہاں پر مردوں کی پہنچ نہ ہو۔ بوڑھی کاہن نے ان کی عرض سن کر نوبری درخت کے پتے جلائے اور دھویں کو نگلنے لگی، اور پھر وجد میں آ کر رقص کرتے ہوئے وہ نغمہ گو ہوئی:

”میری موکل پریاں اب میری آنکھوں کے اوپر آ کر بیٹھ گئی ہیں اور میرے دل، آنکھوں، کانوں اور دماغ میں داخل ہو رہی ہیں اور ان کے ذریعے تمہیں محسوس، سن، سمجھ اور دیکھ رہی ہیں۔ میری جنگلوں اور چراگاہوں کی دیوی مرکم کہہ رہی ہے کہ کوہ قاف کے پہاڑوں کے درمیان ایک ایسے وادی ہے جہاں پر مردوں کے جسم تو دور ان کے خیالات کی بو بھی نہیں پہنچی ہے۔ میں وہ سرزمین اپنی بیٹیوں کے نام وقف کرتی ہوں۔ مگر شرط یہ ہے کہ وہ ایک سو سال تک باہر مردوں کی دنیا سے رابطہ نہیں کریں گی۔ وہ سب نابالغ بچوں کو لے کر وہاں آباد ہو کر اپنے بچوں کی سو سال تک تربیت کریں گی۔ اس طرح وہ پدر شاہی خیالات اور ان سے جنم لینے والی بیماریوں سے نجات پائیں گی۔“

اس کے بعد کاہن بے ہوش ہو گئی۔ ہوش آنے کے بعد کاہن نے کہا کہ دیوی اسے طاس کی ساری خواتین کو ایک نئی سرزمین میں لے جانے کا حکم دیا ہے۔ سننے میں آیا ہے کہ اس کے کچھ ہفتوں بعد ایک دن مردوں نے دیکھا کہ ان کی وادی سے ساری عورتیں اور بچے غائب ہو گئے ہیں۔ ایک راوی کا کہنا ہے کہ کاہن عورت ان عورتوں اور بچوں کو لے کر پہاڑوں کے درمیان ایک خاص مقام پر پہنچ کر جادو کا ایک دائرہ کھینچا۔ اس دائرے سے آگے کی سرزمیں جادو کے زیر اثر نظر نہیں آتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ پریوں کے دیس میں ایک سال انسانوں کے دس سال کے برابر ہوتا ہے۔

تاریخ دان لکھتے ہیں کہ عورتوں کے طاس کے معاشرے سے انخلا کے بعد معاشی بدحالی پھیلی کیونکہ مردوں کو کوئی بھی کام کرنا نہیں آتا تھا۔ مقامی ہنر اور علم سے ان کو آگاہی نہیں تھی۔ علم کے بجائے ان کے پاس یا فتوے تھا یا تعصبات۔ کہا جاتا ہے کہ عورتوں کے معاشرے سے غائب ہونے کے بعد اخلاقی بیماریاں حد سے زیادہ بڑھ گئیں۔ مردوں نے اپنی شہوانی جبلت کی تسکین کے لیے لواطت کے لت میں مبتلا ہو گئے۔ سننے میں آیا ہے کہ مندروں سے فتوی صادر ہوا کہ چکنے لڑکوں کا بازار میں جانا برائی کا سبب بنتا ہے۔ اس لیے لڑکوں کو باہر نکلنے پر پابندی لگادی گئی۔ باہر وہ لوگ رہ گئے جو درندے تھے۔ قتل و غارت میں مزید اضافہ ہوا۔ اور یوں ایک سو سال کے اندر سے طاس کے معاشرے کا ہی صفایا ہو گیا۔

اس تہذیبی تباہی کی خبر مرکم دیوی کو پہنچی تو اس نے عورتوں کو واپس طاس جاکر آباد ہونے کا اذن دے دیا اور طلسم کے دائرے ختم کر دیا۔ عورتیں نے اس خبر پر موسیقی کی دھن پر رقص کر کے جشن منایا۔ سننے میں آیا ہے کہ عورتیں موسیقی بجاتے ہوئے طاس میں داخل ہوئے اور اس کو دوبارہ آباد کر دیا۔ اس کے بعد طاس میں خوشحالی کے ایک نیا دور کی شروعات ہوتی ہے۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ کسی بھی تہذیب کی تباہی کا سبب عورتوں کے کپڑوں یا ان کی بے حیائی نہیں بلکہ مردوں کے رویے اور ان کے جبلی خواہشات ہوتی ہیں۔ وہ دبی شہوانی خواہشات ایک عفریت بن کر پدر شاہی خیالات کی صورت میں معاشرے میں نمودار ہو کر ہماری روحوں پر قبضہ کرتے ہیں۔ جب طاس دوبارہ سے آباد ہو رہا تھا تو کاہن نے سب کو مخاطب کرتے ہوئے یہ سنہرے الفاظ کہے ”تمھارا جسم تب سکھ کی سانس لے گا، جب تم اپنی روح کو آزاد کرو گے۔ اس سے پہلے تم پر مردوں کی بدروحیں قابض تھیں۔ آج تم نے اپنی روح پا لی ہے“۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments