حفظ فروج کے گرد گھومتی جاوید احمد غامدی کی فکر


عورت کی شرمگاہ کے تحفظ کی عورت سے زیادہ مرد کو کیوں فکر لاحق رہتی ہے؟
 جو جس کے وجود کا جزوِ لاینفک ہے کیا وہ اس کے تحفظ و پاکیزگی سے بے نیاز ہوتا ہے؟
کیا عورت اس بات سے بے خبر ہوتی ہے کہ اس کی عزت و عصمت کس میں پنہاں ہے؟
کیا عورت ہر وقت اسی فکر میں الجھی رہتی ہے کہ وہ آج اپنی وجائنا کو تسکین کیسے اور کس سے پہنچائے؟
  کیا عورت کی زندگی کا محور محض جنسی تسکین ہوتا ہے؟ کیا عورت اپنی وجائنا کا تحفظ خود سے کرنے کی اہلیت و قابلیت نہیں رکھتی؟
 آخر ہماری سوچ حفظ فروج سے آگے ذرا سا بھی کھسکنے کا نام کیوں نہیں لیتی؟
 اگر ہم دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے اتنے خائف رہتے ہیں تو پھر کوئی اور نیا جہاں کیوں نہیں دریافت کر لیتے جہاں ہم ہی ہم ہوں کوئی دوسرا نہ ہو  اور ہم اپنی تہذیب و روایات کے مطابق زندگیاں بسر کر سکیں؟
  اس قسم کے سوالات غامدی صاحب کے کچھ فرمودات پڑھنے کے بعد ذہن میں پیدا ہوئے، سوچا کہ ان سوالات کو غامدی صاحب کے فرمودات کے ساتھ جوڑ کر پڑھنے والوں کے ساتھ بھی سانجھا کر لیا جائے تاکہ بات چیت آگے بڑھے اور فہیم ذہن اپنی اپنی آراء کا اظہار کرسکیں۔ غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ
 “ہماری تہذیب میں اور مغربی تہذیب میں تین بنیادی فرق ہیں ان پر ہمیں لڑنا ہے اور جنگ کرنی ہے پوری قوت کے ساتھ۔ پہلا فرق مراتب کا_ ہم رشتوں میں فرق کے قائل ہیں_ انسانیت برباد ہو جائے گی اگر رشتے قائم نہ رکھے گئے۔۔۔ دوسرا فرق خاندان کا ادارہ قائم رکھنے کے لیے حفظ فروج “شرمگاہوں” کی حفاظت کا ہے_ ہم بدکاری کو کسی حال میں گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔۔۔ تیسرا فرق یہ ہے کہ ہم اپنی سوسائٹی سے بیگانہ نہیں ہوتے ہم امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اصول کے تحت برائی کا خاتمہ چاہتے ہیں_ ان تینوں چیزوں کو مغربی ذہن قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے”
 غامدی صاحب آپ کو بڑی دور کی سوجھی وہ بھی سرزمین امریکہ پر جس کے متعلق آپ کے بھائی لوگ کوئی زیادہ اچھے خیالات نہیں رکھتے، وہ الگ بات ہے کہ ویزہ سب کو امریکہ کا چاہیے تاکہ زندگی کا لطف دوبالا ہو سکے مگر جو ذہنی طور پر جہاں اٹکے ہوتے ہیں وہیں اٹکے رہتے ہیں مہذب دنیا کی مختلف الخیالی کی فضا بھی انکا کچھ نہیں بگاڑ پاتی۔ جنہیں خوابوں کی حد تک بلندیاں چاہیے ہوتی ہیں وہ جاگنے سے ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ان کا خوابی جہاں نہ چھن جائے۔ ویسے اگر غامدی صاحب کو اس حقیقت کا ادراک ہو چکا ہے کہ مغربی ذہن ہمارے روشن خیالات سے متفق نہیں ہو سکتا تو پھر آپ امریکہ میں کیا کر رہے ہیں؟ اپنی سرزمین پر لوٹ آئیے تاکہ آپ کی قیادت میں ہم سب مل کر امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دیں۔ کیونکہ حقائق کا ادراک ہو جانے کے بعد آپ کا “کافرستان” میں قیام کرنا گناہ صغیرہ یا کبیرہ کے زمرے میں آسکتا ہے تو اس پر آپ کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ویسے جہاں تک ہم جانتے ہیں آپ اپنے ہی قبیلے یا بھائی بندوں کے شر سے بچنے کے لیے ہی تو یورپ گئے تھے؟ اپنوں میں بیگانے شخص کو شناخت ملی بھی تو کہاں ملی اور مکمل ذہنی اطمینان کے ساتھ غور و فکر کرنے کے تمام ذرائع اور آزادی اظہار کا بونس بھی ساتھ میں مل گیا۔ جو اپنوں میں اپنی بات پوری آزادی سے نہ کر سکا اور اب وہ غیروں میں اپنی بات مکمل آزادی و تحفظ کے ساتھ کرنے کے قابل ہو چکا ہے تو غنیمت ہے مگر کچھ تو سوچنا چاہیے؟
غامدی صاحب کی باتیں آئیڈیل ازم کی حد تک تو بہت مثالی ہو سکتی ہیں مگر آج کی دنیا میں ایڈجسٹ یا اپلائی کیسے ہو سکیں گی یہ غور کرنے والی بات ہے، کیونکہ انحراف اپنے ہی گھر سے شروع ہوتا ہے اور ہمیں بچپن سے آج تک صرف ایک ہی بات مختلف طرح سے بتائی گئی ہے کہ ہم بطور مسلمان اس کرہ ارض پر “چوزن ون”یا چنیدہ لوگ ہیں  اور ہمارے مذہب و تہذیب کے علاوہ دنیا کے سب تصورات گمراہی کا پلندہ ہیں مگر جب خود کو آج میں دیکھتے ہیں تو بالکل تنہا سے نظر آتے ہیں۔ ماضی میں کیا تھے وہ تو ماضی والے ہی جانتے ہوں گے ہم آج کیا ہیں ہمیں فقط اسی سے غرض ہے۔ اگر ہم ماضی میں کوئی توپ چیز تھے تو آج اتنے پست کیوں ہیں؟ پستی کا بھی کوئی تناسب نکالا جائے تو ہم پست ترین سطح پر کھڑے ہوں گے، جب حالت یہ ہو تو پھر ہم کیسے سینہ تان کے اپنے کلچر کے متعلق بڑی بڑی باتیں کر سکتے ہیں؟ جبکہ دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ مسلم دنیا نے کوئی کسر نہیں چھوڑی بڑے بڑے علماء پیدا کرنے میں جنہوں نے اپنے تئیں بہت سی خدمات سرانجام دیں مگر کیا یہ المیہ نہیں ہے کہ غامدی یا انجینئر جیسے لوگ آج بھی اپنے آباء کی کتابوں میں بڑی بڑی غلطیوں کی نشاندہی فرما رہے ہیں اور یہ سلسلہ ماضی کی طرح آج بھی جاری و ساری ہے،
مطلب کچھ تو ایسا ہے جسے ہم مسلسل نظر انداز کرتے چلے آرہے ہیں اور ہماری فکر ایک ایسے دائرے میں بند ہو کر رہ گئی ہے جس سے باہر نکلنے میں ہمیں ڈر لگتا ہے کہ ہماری فکر تیزی سے بدلتی دنیا میں کہیں کھو نہ جائے یا ٹکراؤ نہ ہو جائے؟ آخر  کب تک ایسا چلے گا چیلنجز کا سامنا تو کرنا پڑتا ہے اور گلوبل ولیج میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے ہم اپنی فکر کو بچا کر نہیں رکھ سکتے۔ایک ہی صورت میں بچائی جا سکتی ہے اگر ہم بھی مہذب دنیا کے تجربات سے کچھ سیکھتے ہوئے مذہب کو ہر انسان کا نجی معاملہ قرار دے دیں تاکہ ہر کوئی اپنے تئیں اور ریاکاری سے اجتناب برتتے ہوئے اپنے من کو تسکین دینے کے ساتھ ساتھ تزکیہ نفس بھی کرسکے، اگر آپ پبلک کرنا چاہتے ہیں تو پھر اسے وقت کے ساتھ ہم آہنگ کرنا بھی آپ کی ذمہ داری ہوگی جس میں آپ مسلسل ناکام رہے ہیں۔ کیا ویلنٹائن ڈے ہمارا تہوار ہے؟  بالکل نہیں مگر یورپ سے زیادہ چہل پہل اس دن ہمارے ہاں ہوتی ہے آخر کیوں؟ وجہ بالکل سادہ ہے کہ ہم غالب کلچر کے اثرات سے خود کو محفوظ کیسے رکھ سکتے ہیں؟ ظاہر ہے جب ہوا چلتی ہے تو سب کو لگتی ہے اس ہوا کے اثرات کو محسوس یا جذب کرنے کا پیمانہ یا مزاج ہر ایک کا اپنا اپنا ہوتا ہے۔ اچھائی برائی کے ضابطے و پیمانے ہر معاشرے کے اپنے ہوتے ہیں۔ مہذب دنیا میں ٹریفک کے اصولوں سے انحراف، کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ کرنا، تول میں خیانت کرنا، بجلی چوری کرنا، انسانی جان بچانے والی ادویات میں ہیرا پھیری کرنا اور چھوٹے بچے بچیوں کو ریپ کرنے جیسے عوامل کو وہ اپنے معاشرے کے لیے زہر قاتل یا مکروہ ترین اعمال سمجھتے ہیں مگر ہمارے معاشرے کی سروائول ہی ان عناصر پر ٹکی ہوئی ہے۔
ہمارے ہاں مرد اور خاتون کے سرعام تعلق کو بدکاری سمجھا جاتا ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہم نے نکاح کے نام پر مختلف صورتیں قائم کر رکھی ہیں جبکہ دوسری طرف یورپ میں ریلشن شپ یا ڈیٹ کو معیوب نہیں سمجھا جاتا جہاں مرد اور عورت خود اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ انہوں نے کیسے اور کس کے ساتھ زندگی گزارنی ہے۔ ہم گھوم پھر کے سیکس پر آ جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ عورت ہی سرچشمہ گناہ ہے جسے قید کیے بغیر کوئی چارہ نہیں اور طاقت کے زور پر سیکس جیسے مکروہ عمل پر پہرا بیٹھانا چاہتے ہیں کیا ایسا ممکن ہو سکتا ہے؟اپنے تئیں پورا زور لگانے کے باوجود بھی جو آ ؤ ٹ پٹ ہے وہ ہمارے سامنے ہے جس سے آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں۔ اس سے زیادہ حیرت والی بات یہ ہے کہ ان لوگوں کے پاس کون سی ایسی دور بین یا آ لات ہیں  جس سے استفادہ کرکے وہ مغرب میں ہونے والی ان تمام برائیوں کو بھی دیکھ لیتے ہیں جو وہاں کے رہنے والوں کو بھی نظر نہیں آتی۔
ہم سیکس ڈسپلن کے حوالے سے اخلاقیات کے نام پر جو بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں کیا ہم ان معیارات پر خود پورے اترتے ہیں؟ جنسی بھوک مٹانے کے لیے یہاں جانوروں تک کو نہیں چھوڑا جاتا، ہماری فکری سطح کا محور  اتنا چھوٹا کیوں ہے؟ وہ اپنے معاشرتی تضادات یا گند کو سرعام کرکے چوائس لوگوں پر چھوڑ دیتے ہیں اور گفت شنید کا عمل بھی جاری رہتا ہے جب کہ ہم اپنے گند کو بناوٹی تقوی کی آڑ میں چھپانے کے چکروں میں رہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کسی بھی طرح کا روحانی گیٹ اپ اختیار کر لینے سے حقائق بدل جاتے ہیں؟ وہ کم ازکم ہماری طرح ناڑے کھول کر بول و براز کی خاطر سر راہ تو نہیں بیٹھتے یا شلوار میں ہاتھ ڈال کر عضو تناسل کو رگڑنے کی مشق کرتے تو دکھائی نہیں دیتے، مقصد مذاق اڑانا بالکل نہیں ہے بلکہ نشاندہی کرنا ہے۔ اپنے کلچر و اخلاقی ڈھانچے کو بچانے کی کی باتیں کون کر رہے ہیں جو ایک عرصہ سے اپنے عصر سے کٹے ہوئے ہیں اور موجودہ منظر نامے میں غیر متعلقہ یا مس فٹ ہو چکے ہیں اور کمال یہ ہے کہ یہ سب باتیں انہی کی سر زمین پر بیٹھ کر ارشاد فرما رہے ہیں جن کی آزادیوں سے مستفید ہوکر مکمل ذہنی اطمینان کے ساتھ اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ ایک سٹوڈنٹ نے مجھ سے سوال پوچھا تھا کہ “ہمیں مسیحیوں میں سے ایک مخصوص طرح کی بدبو کیوں آتی ہے؟” اب یہ ایک سٹوڈنٹ کا سوال نہیں ہے بلکہ تقریبا ہماری مجموعی سوچ کا خلاصہ ہے۔ میں نے جواب دیا کہ بیٹا بدبو مسیحیوں میں سے نہیں آتی بلکہ یہ بد بو ہمارے ذہنوں میں رچائی گئی ہے اور اس کے پیچھے صدیوں کی کاوشیں ہیں۔ جنھیں بڑی محنت سے نرگسیت کا شکار بنایا گیا ہے اور جب ذہن میں یہ تصور پختہ ہو چکا ہو کہ ہم جیسا کوئی اور نہیں ہے تو پھر اوروں کی ہماری نظر میں کیا اوقات ہو سکتی ہے؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments