پنجاب ایگزامینیشن کمیشن : ایک سفید ہاتھی
گزشتہ ماہ جب پنجاب کے تمام انٹر میڈیٹ بورڈز نے جماعت نہم کے نتائج کا اعلان کیا تو شعبہ تعلیم سے تعلق رکھنے والا ہر فرد انگشت بدنداں تھا کہ یہ کیا ہوا کہ پورے صوبے میں سب سے اچھے نتائج ڈیرہ غازی خان بورڈ کے 49.83 فیصد کے ساتھ پہلے نمبر پر اور بہاول پور بورڈ 42.1 فیصد کے ساتھ آخری نمبر پر تھے۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ جس دن نتائج کا اعلان ہوا، میرا بیٹا جو جماعت نہم میں پڑھتا تھا وہ دہم جماعت کی کچھ نئی کتابیں اور نوٹ بکس دکھاتے ہوئے بولا کہ یہ کتابیں ردی کی ٹوکری میں وہ طالب علم پھینک کے بھاگ گئے ہیں جو نہم میں فیل ہوئے ہیں اور کہہ رہے تھے کہ اب ہم نے سکول نہیں آنا، مزدوری کریں گے یا کوئی ہنر سیکھیں گے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے والے کون ہیں؟ ان کے مقاصد کیا ہیں؟ اور کیا یہ ممکن نہیں کہ کوئی ایسا نظام ہو جس کے اطلاق سے 60 فیصد بچے ناکام نہ ہوتے اور اگر وہ اس قابل نہیں تھے کہ جماعت نہم میں کامیاب ہو سکیں تو کیسے یہاں تک پہنچے۔ مجھے یاد ہے کہ جب کرونا کو ایک عالمی وبا قرار دیا گیا تو میرے جیسے ناقص العقل لوگ اسے عالمی سازش قرار دے رہے تھے۔ جب بچوں کے جماعت ہشتم اور پنجم کے امتحانات یکسر ختم کیے گئے تو قوم کا درد رکھنے والے اکثر اصحاب نے اعتراض کیا کہ امتحان نہ لینے سے طلباء میں آگے بڑھنے اور سامنے آنے کی لگن ختم ہو جائے گی۔
طلباء میں احساس ذمہ داری کا خاتمہ اور علم سے محبت کا فقدان ہو جائے گا۔ پنجم اور ہشتم کے امتحانات کے بارے میں سب سے کمزور اور نودی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اس امتحان کے اکثر پیپر پہلے ہی آؤٹ ہو جاتے ہیں لیکن دلیل دینے والے اس امتحان کے پرچہ جات کے بارے میں اس حد تک بے خبر ہیں کہ آخری امتحان میں پانچ مختلف پرچہ جات تیار کیے گئے تھے اور ہر پانچویں طالب علم کا پرچہ، پہلے والے طالب جیسا تھا تو کیا یہ ممکن ہے کہ پانچ پرچہ جات وقت سے پہلے آؤٹ ہو جائیں اور وہ طالب علم جس نے سارا سال کچھ بھی نہیں پڑھا وہ پانچ مختلف پرچہ جات تیار کر سکے؟
یاد رہے کہ جماعت پنجم اور ہشتم کا امتحان 2019 ء کے بعد نہیں ہو سکا لیکن اس امتحان کا بندوبست کرنے والا ادارہ یعنی پنجاب ایگزامینیشن کمیشن ابھی تک فعال ہے اور اس کے دفتر میں موجود اکثر افسران صبح سے لے کر شام تک مکھیاں مارنے کے سوا کچھ بھی کام نہیں کرتے۔ کافی تگ و دو اور بسیار کوشش کے بعد مجھے اس محکمے کے اغراض و مقاصد کے علاوہ کچھ بھی دستیاب نہیں ہو سکا۔ اس محکمے اغراض و مقاصد میں سوائے مقامی حکومت کے تعاون سے ڈیٹا اکٹھے کرنے اور ضلع کی سطح پر ایلیمنٹری لیول کے امتحانات کا انعقاد کروانے کے علاوہ کچھ بھی تحریر نہیں کیا گیا۔ سال 2020 ء اور 2021 ء کے دوران یہ محکمہ بھنگ پی کر کرونا تعطیلات کے مزے اڑانے کے سوا کچھ نہ کر سکا لیکن امسال 2022 ء میں پندرہ دنوں کے اندر اندر اس محکمے کے افسران نے کچھ مخصوص اساتذہ کی تربیت پر خرچ کیے گئے پیسے بٹورنے اور جماعت ہشتم تک ہر جماعت کے خود کار پرچہ جات کی تیاری کے لئے من پسند افراد کو کمیشن کے ذریعے ٹھیکہ دینے کے علاوہ کوئی بھی مثبت کام نہ کر سکے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ ماہ اپریل کے دوران ایک حکم نامے کے ذریعے تمام پرائمری اور ایلیمنٹری سطح کے سکول انچارج مدرسین کو خط جاری کیا گیا کہ آپ کے EMIS کوڈ کے مطابق آپ کی لاگ ان آئی ڈیز جاری کر دی گئی ہیں۔
آپ سب اپنے سکول کے ٹائٹل اور کوڈ کے ساتھ پنجاب ایگزامینیشن کمیشن کی ویب سائٹ سے پرچہ جات، رزلٹ کارڈ اور ہدایات ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد پرنٹ کروائیں اور اپنے سکول کے بچوں سے امتحان لیں، یہاں تک کہ ڈیٹ شیٹ بھی پنجاب ایگزامینیشن کمیشن نے جاری کی تاکہ وزیر تعلیم اور بقیہ افسران پہ اپنی کارکردگی کی دھاک بٹھانے کے ساتھ ساتھ اس کی گرتی ہوئی ساکھ اور اعتبار کی دیواروں کو سنبھالا مل سکے۔ لیکن اساتذہ کو پرنٹنگ اور فوٹو کاپی کے لئے کوئی فنڈ جاری نہ کیا گیا۔
بالائے ستم یہ کہ NSBفنڈز بھی اس وقت دستیاب نہ تھے۔ تمام سکولوں کے انچارج مدرسین بالخصوص خواتین نے فوٹو کاپی کی دکانوں سے منہ مانگے نرخ پر ادھار پر پرچے چھپوانے کے ساتھ ساتھ اپنے رشتہ داروں سے اس وعدے پر ادھار لے کر یہ پرچہ جات چھپوائے کہ جیسے ہی سکول کونسل کے فنڈ آتے ہیں، آپ کو یہ پیسے واپس کر دیں گے۔ یاد رہے کہ ایک پرائمری سکول کے پرچہ جات پہ کم از کم 10000 اور ایلیمنٹری سکول کے لئے 20000 روپے سکہ رائج الوقت میں پرچہ جات، نتائج کارڈز، ڈیٹ شیٹ اور امتحانی ہدایات تیار ہوئی تھیں۔
نتیجہ یہ کہ 12880 پرائمری اور 2670 کے قریب مڈل سکولوں پر کم از 10000 روپے فی سکول کے حساب سے 15 کروڑ کی خطیر رقم خرچ کی گئی تا کہ پنجاب ایگزامینیشن کمیشن مافیا کو تحفظ دیا جا سکے اور اس سفید ہاتھی کو کھلا پلا کر تندرست و توانا کیا جا سکے۔ حالت یہ ہے کہ اتنے بڑے امتحان کے لئے ضلع کی سطح پر ایک فوکل پرسن تعینات کیا گیا، جو پورے ضلع کی تربیت اور امتحان کے بندوبست کو یقینی بنا رہا تھا۔ یاد رہے کہ امتحانات کی دیکھ بھال کے لئے ممتحن حضرات کی ڈیوٹی بھی لگائی گئی اور قومی خزانے کو کم از فی ممتحن 5000 روپے کا ایک اور ٹیکہ بھی لگا یا گیا۔
میرے ناقص اندازے کے مطابق ان امتحانات سے قومی خزانے کو کم از کم 30 کروڑ کا جھٹکا لگا۔ جہاں تک ان پرچہ جات کا امتحان لینے اور نتائج دینے کی بات ہے تو یہ پرچہ جات خود اساتذہ نے اپنے ہاتھ سے حل کرنے کے بعد خود ساختہ نتائج دیتے ہوئے ردی کی ٹوکری میں ایسے ہی پھینکے جیسے ہمارے اہل اقتدار ہماری قوم کا مستقبل پھینک کر چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ جب ایک طالب علم سے امتحان نہیں لیا جائے گا تو وہ اپنی کتابوں کو ہاتھ نہیں لگائے گا، استاد جب بچے کی طرف غصے سے اشارہ بھی نہیں کر سکتا تو دوران امتحان بچے سے سختی سے کیسے امتحان لے گا؟
یہ ایک حقیقت ہے کہ مار نہیں پیار کے نعرے کے بعد ایلیمنٹری امتحانات کے خاتمے نے ہماری قوم کے مستقبل کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے۔ شنید تو یہ تھی کہ سیکنڈری لیول کا امتحان بھی ختم کیا جا رہا ہے تاکہ جس بھی بچے نے ناکام ہونا ہے وہ عین نوجوانی میں ہو نے کے بعد مزدور بنے یا کوئی چھوٹی موٹی ریڑھی لگا کر اپنے خاندان کا پیٹ پالے۔ دنیا کے مختلف تعلیمی نظام کا جائزہ لینے اور ماہرین تعلیم کی رائے پڑھنے اور سننے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جب تک ہمارا امتحانی نظام مضبوط و توانا نہیں ہو گا، اس وقت تک میرٹ اور انصاف کا قتل ہونے کے ساتھ ساتھ ذہنی طور پر ایک کمزور قوم ہی سامنے آئے گی جو مستقبل میں درپیش چیلنجز سے باآسانی نہیں نمٹ سکتی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ جماعت پنجم اور ہشتم کے امتحانات کے انعقاد کے لئے ضلعی سطح پر دوبارہ اقدامات کیے جائیں اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن دفاتر میں مو جود وہ ان تمام افسران کو فرائض سونپے جائیں جو سارا دن ملکی سیاست پر بات کرنے اور چائے کا لطف لینے کے علاوہ کوئی کام نہیں کرتے۔ ان افسران میں ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائرکٹر جیسے گریڈ 19 اور 20 کے بہت سے افسران شامل ہیں۔ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ محکمہ تعلیم میں ملازمین کی ایک فوج ظفر موج ہے جو اب کمرہ جماعت میں تدریسی فرائض سر انجام دینے کے قابل نہیں ہیں کیونکہ روزانہ سات سے آٹھ پیریڈ کھڑے ہو کر پڑھانا ان کے بس کی بات نہیں۔
لہذا، ایسے تمام افسران کو محکمہ امتحانات سے منسلک کر کے پنجم اور ہشتم کے امتحانات لئے جائیں تاکہ ناکام طلباء بر وقت امتحانات کی چھلنی سے گزر کر کوئی نہ کوئی ہنر سیکھ سکیں۔ ان امتحانات کا ایک اور فائدہ بھی ہے کہ نجی اور پبلک سکولوں میں مقابلے اور مسابقت کی فضاء پیدا ہوتی ہے اور والدین کو بھی ایک اچھے ادارے کے انتخاب میں کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
٭٭٭٭٭


