دانشور شيخ عزيز کی انگريزی کتاب: ”چنگ: وادی مہران کا ساز“


سندھ کے معروف علمی و ادبی خانوادے سے متعلق شخصیت شیخ عزیز، تین زبانوں میں اپنی خدمات انجام دینے والے اس ملک کے باصلاحیت اور ہمہ جہت صحافی، صاحب قلم، محقق، ماہر موسیقی اور کئی کتب کے مصنف گزرے ہیں، جو 9 دسمبر 1938 ء کو حیدرآباد سندھ میں پیدا ہوئے اور 80 برس کی عمر میں 4 سال قبل، 7 اکتوبر 2018 ء کو، اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔ جو صحافی کی حیثیت سے روزنامہ ’کاروان‘ حیدرآباد کے سب ایڈیٹر ( 1957 ء) ، روزنامہ ’عبرت‘ حیدرآباد کے سب ایڈیٹر ( 1958 ء تا 1961 ء) ، روزنامہ ’عبرت‘ ہی کے ”سینیئر سب ایڈیٹر“ ( 1961 ء تا 1965 ء) ، اسی اخبار کے اسسٹنٹ ایڈیٹر اور میگزین ایڈیٹر ( 1965 ء تا 1975 ء) ، ’دی آبزرور‘ کے ایڈیٹر ( 1976 ء) ، روزنامہ ’سندھ نیوز‘ حیدرآباد کے مدیر ( 1977 ء تا 1980 ء) ، روزنامہ ’جنگ‘ کراچی کے اسسٹنٹ ایڈیٹر اور میگزین ایڈیٹر ( 1980 ء) ، روزنامہ ’حریت‘ کراچی کے میگزین ایڈیٹر ( 1982 ء تا 1987 ء) ، اسی اخبار کے نیوز ایڈیٹر ( 1987 ء تا 1989 ء) ، روزنامہ ’ڈان‘ کراچی کے ”سینیئر سب ایڈیٹر“ اور ”نائٹ ایڈیٹر“ ( 1989 ء تا 2000 ء) ، جبکہ ’ڈان‘ ہی کے ایڈیشن انچارج اور نائٹ انچارج ( 2000 ء تا 2008 ء) کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔

جبکہ ادب و تحقیق کے میدان میں 1956 ء تا 1957 ء، سندھی ادبی بورڈ جامشورو کی جانب سے مرتب کی جانے والی جامع سندھی لغت کی تدوینی ٹیم میں ”ریسرچ اسسٹنٹ“ کی حیثیت سے ”سندھی ڈکشنری اسکیم“ کا حصہ رہے۔ اسی عرصے کے دوران شیخ صاحب نے حکومت پاکستان کی جانب سے ترتیب دی جانے والی ”سندھی۔ اردو لغت“ کی ترتیب و تدوین میں بھی ”ریسرچ اسسٹنٹ“ کی حیثیت سے اپنی تحقیقی خدمات انجام دیں۔ 1957 ء تا 1960 ء وہ سندھی ادبی بورڈ جامشورو کی ایک اور انتہائی اہم ادبی اسکیم، ”سندھی لوک ادب پروجیکٹ“ میں بھی ”ریسرچ اسسٹنٹ“ رہے۔ 1978 ء میں انہوں نے ”رائیز اینڈ فال آف رائیٹنگ اسٹڈیز ان ہیومین کمیونیکیشنز“ (انسانی روابط میں تحریر تحقیقات کا عروج و زوال) کے موضوع پر انگریزی میں ایک بے مثال تحقیقی مقالہ (مونوگراف) تحریر کیا، جسے بے پناہ پذیرائی ملی۔

اس دیس کے اس معتبر مدبر صحافی و دانشور، شیخ عزیز کی چوتھی برسی کے موقع پر آئیے! ان کی بعد از مرگ شائع ہونے والی تحقیقی کتاب پر مختصر نظر ڈالتے ہیں۔

ویسے تو شیخ صاحب کی سندھ سمیت برصغیر کی ادبی و سیاسی تاریخ، صحافت، موسیقی، فکشن اور حالات حاضرہ جیسے موضوعات پر تصنیف و تالیف و ترتیب و ترجمے کے لحاظ سے ان کی حیات کے دوران کم و بیش 22 کتب شائع ہوئیں، جن میں ’سندھ جوں پراسرار کہانڑیوں‘ [سندھ کے پر اسرار افسانے ]، ’الحمرا جا داستان‘ [الحمرا کی داستانیں ]، ’انتخاب‘ (سندھی افسانوں کی ترتیب) ، ’نقش لطیف‘ (شاہ لطیف جی زندگی ائیں شاعریٔ تے لکھیل مقالا۔ ترتیب) [شاہ عبداللطیف بھٹائی کی حیات و پیغام کے حوالے سے لکھے گئے مقالا جات کی ترتیب]، ’پریفیس ٹو دی کیٹلاگ آف بکس‘ [کتب کی تفصیلی فہرست کا دیباچہ]، ’عالمی صحافت‘ ، ’موں لینن جو ڈیہہ ڈٹھو‘ [میں نے لینن کا دیس دیکھا]، ’بھٹو میمریز اینڈ رمیمبرنسز‘ [شہید ذوالفقار علی بھٹو کی یادیں اور باتیں ]، ’راگ ساگر‘ [راگ کا سمندر]، ’کھیرتھر‘ ، ’کمپینڈیم آف دی پوئٹری آف شاہ لطیف ان فور لینگویجز ود ایپروپری ایٹ میوزیکل نیریشنز‘ [موسیقی کے موزون بیانیے کے ساتھ، چار زبانوں میں حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری کا ایک مجموعہ]، ’ننڈھے کھنڈ میں ڈرامے جی تاریخ‘ [برصغیر میں ڈرامے کی تاریخ]، ’دی ٹریبوٹ‘ [خراج]، ’تقسیم کھاں تقسیم تائیں‘ (پاکستان جی سیاسی تاریخ) [تقسیم تا تقسیم۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ]، ’اے ہسٹری آف سندھی لٹریچر‘ [تاریخ سندھی ادب]، ’دی اوریجن اینڈ ایولیوشن آف سندھی میوزک‘ [سندھی موسیقی کی بنیاد اور اس کا ارتقا]، ’سندھ کی محلاتی داستانیں‘ ، ’نوٹس آن سندھ‘ [سندھ سے متعلق مضامین]، ’برصغیر میں موسیقی لکنڑ جی روایت‘ [بر صغیر میں موسیقی لکھنے کی روایت]، ’میوزیکل نوٹس‘ [باتیں موسیقی کی]، ’بھٹو کھاں ضیاء تائیں‘ [بھٹو سے ضیا تک]، ’داروں ائیں کاروں‘ [علاج اور حیلے ] جیسی کتب شامل ہیں۔

مگر چرواہوں کے ساز ”چنگ“ سے متعلق ان کی 23 ویں کتاب، بعنوان ”چنگ: اینشنٹ میوزیکل انسٹرومینٹ فرام انڈس ویلی“ ان کی رحلت کے 4 برس بعد ، گزشتہ برس ( 2021 ء میں ) محکمۂ ثقافت، حکومت سندھ کی جانب سے شائع کی گئی ہے، جو ایک انگریزی کتاب ہے، جس میں لوہے یا تانبے سے بنے ہوئے ”چنگ“ نامی، اس صدیوں قدیم ساز (انگریزی حرف ”یو“ یا ”او“ کی شکل کے ایک چھوٹے سے آلے، جسے دانتوں کے درمیان رکھنے پر انگلی سے ٹکرانے والی دھاتی زبان سے آواز نکلتی ہے۔

) کے حوالے سے تحقیق شامل ہے کہ اس کی بنیاد، ایجاد اور ارتقا کے نقوش قدم دنیا کے کس خطے کی جانب جا رہے ہیں۔ اس تحقیق میں شیخ صاحب نے اس ساز کی مختلف اقسام کے دنیا کے مختلف خطوں میں پائے جانے کے باوجود جدید تحقیقی اصولوں کی بنیاد پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، کہ اس ساز کی جڑیں اس خطے (وادیٔ مہران) میں پیوست ہیں۔

اس کتاب کو شیخ عزیز نے 11 ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ جن کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے (قارئین کی تفہیم کے لیے ابواب کے انگریزی نام اردو میں تحریر کیے جا رہے ہیں ) :

1۔ چنگ، ایک بین الاقوامی ساز
2۔ سازوں کا نقطۂ آغاز
3۔ تاریخ صوت
4۔ ثقافتی آثار
5۔ مشرقی موسیقی کا نظام
6۔ یہ ”جیوز ہارپ“ ( ”چنگ“ سے ملتا جلتا ایک اور مغربی ساز) نہیں ہے
7۔ سندھ کا ساز
8۔ وادیٔ سندھ کے میدانوں میں (چنگ)
9۔ (چنگ کے علاوہ) دیگر روایتی ساز
10۔ ایران اور بھارت سے (اس ساز کی بابت) اشارے
11۔ چین (کا ساز ہونے ) کا امکان
اپنی اس تحقیق کا خلاصہ دیتے ہوئے شیخ عزیز، کتاب کے دیباچے میں تحریر کرتے ہیں (ترجمہ) :

”چنگ، وادیٔ مہران کا ایک روایتی ساز ہے۔ جسے تھوڑی بہت ترمیم و تبدیلی و جدت کے بعد اب دنیا کے متعدد خطوں میں استعمال کیا (بجایا) جاتا ہے، اور اب سب نے اسے اپنی اپنی ثقافت کے حصے کے طور پر اپنا لیا ہے، مگر کوئی بھی اس سوال کا جواب نہیں دے پا رہا، کہ اس کی ابتدا کہاں سے ہوئی اور داگ بیل کس دیس میں ڈلی؟ اور یہ ساز، جو اب ہر خطے کی ملکیت بنا ہوا ہے، اس کا سفر شروع کہاں سے ہوا؟ سائنسی علوم کے نظم و ضبط کے وسیع دائرۂ کار کے باوجود اس سوال کے جواب کی تلاش میں تحقیق کے لیے اب تک ایک بھی ثبوت پیش کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

دنیا کے ہر علاقے کے پاس اس ساز کی بنیاد وہیں سے پڑنے کے حوالے سے اپنے اپنے دلائل موجود ہیں، جن میں سے کسی بھی دعوے کو حتمی نہیں سمجھا جا سکتا۔ یورپی براعظم میں بہت سے لوگ اسے“ جیوز ہارپ ” (“ چنگ ”سے ملتا جلتا ایک اور ساز) قرار دیتے ہیں، جو بہرحال ’چنگ‘ سے مختلف ہے۔ جس نظریے کی مختلف تحقیقی حلقوں کی جانب سے شدید مخالفت بھی کی گئی ہے۔ اس منفرد ساز کے حوالے سے اب تک تحقیق جاری ہے۔ بہت سے موسیقی کے اداروں نے کبھی بھی“ جیوز ہارپ ”سے متعلق اس نظریے کے حق یا مخالفت میں دلائل پیش نہیں کیے۔

وادیٔ سندھ (جو دنیا کی چار قدیم ثقافتوں میں سے ایک ہے۔ ) کے زرخیز ثقافتی ورثے پر غور کیا جائے، تو یہ سوال اور بھی دلچسپ بن جاتا ہے، کہ یہ ساز وادیٔ مہران کی تہذیب تک کیسے پہنچا۔ تحقیق ابھی بھی اس سوال کے مناسب جواب کی تلاش میں ہے۔ اس حوالے سے ایک اور دلچسپ سوال یہ بھی ہے، کہ یہ ساز اس خطے میں مقبول کیسے ہوا؟ اور یہ آلہ / ساز یہاں تک ہجرت کے ذریعے پہنچا؟ یا بذریعۂ تجارتی روابط یہاں آ کر، یہیں کا بن گیا؟“

عموماً مویشیوں کو ہانکنے کے لیے یا بھیڑ بکریوں کو چراتے وقت اپنا دل بہلانے کے لیے چرواہوں کے زیر استعمال اس بظاہر چھوٹے سے ساز کی اہمیت، تاریخی حیثیت، اس کی مختلف اشکال، اس کے مختلف استعمال وغیرہ کے حوالے سے یہ کتاب ایک بین الاقوامی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے، جسے شیخ عزیز جیسا دانشور مصنف ہی تحریر کر سکتا تھا، جسے بیک وقت تاریخ و ثقافت و اصول تحقیق کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان پر بھی عبور حاصل ہو۔ گویا شیخ عزیز نے اس اہم موضوع پر قلم اٹھا کر اپنی تخلیقی و تحقیقی و تحریری قدرت کا حق ادا کیا ہے۔

اس کتاب ”چنگ“ میں اس ساز کے حوالے سے محکمۂ تعلیم و ثقافت، حکومت سندھ کے صوبائی وزیر، سید سردار علی شاہ نے بھی ناشر ادارے کے سربراہ کے طور پر 4 صفحات پر مشتمل اپنی آراء قلمبند کی ہیں۔ 204 صفحات پر مشتمل ہارڈ بائنڈنگ سے سجی اس اہم تاریخی کتاب کی قیمت 800 روپے ہے، جو سندھ کے کم و بیش ہر اہم بک اسٹال پر اور ہر اہم لائبریری میں دستیاب ہے۔

Facebook Comments HS