آفتاب اقبال کی بابر اعظم پر تنقید اور سوشل میڈیا پر بحث: ’کچھ لوگ بابر سے اتنا جلتے کیوں ہیں؟‘


بابر اعظم
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان اور بلے باز بابر اعظم ایک ایسا نام بن چکے ہیں جو کھیل کے میدان میں ہوں یا باہر، ہر لمحہ موضوع گفتگو رہتے ہیں۔

کبھی ان کی بطور بلے باز پرفارمنس تو کبھی کپتانی، کبھی ان کے اور دیگر بلے بازوں کے موازنے تو کبھی کچھ اور بحث۔۔۔ بابر اعظم یقیناً حالیہ دور میں کرکٹ کے ان ناموں میں شمار ہوتے ہیں جو کھیل کے میدان کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل دور میں ایک سوشل میڈیا سٹار بن چکے ہیں۔

کرکٹ کے تینوں فارمیٹس میں ٹاپ ٹین میں شامل بلے باز حالیہ سیریز کے دوران اپنی پرفارمنس اور کپتانی دونوں کی ہی وجہ سے زیر بحث رہے۔

پہلے انگلینڈ کے خلاف سیریز میں ان کی فارم پر سوال اٹھے تو انھوں نے ایک شاندار سنچری اور محمد رضوان کے ساتھ دو سو رنز کی ناقابل شکست شراکت داری سے اس کا جواب دیا، تو بعد میں ان کا رن ریٹ سوالیہ نشان بنا تاہم بابر اعظم ہر میدان میں الفاظ کی بجائے اپنی پرفارمنس سے ہی تنقید کا جواب دیتے رہے ہیں۔

تاہم پاکستان کے ٹی وی اینکر آفتاب اقبال کی جانب سے اپنے شو کے دوران جب بابر اعظم کو سٹار ماننے سے انکار کیا گیا تو سوشل میڈیا پر جیسے بھونچال آ گیا۔

بابر اعظم کے چاہنے والے میدان میں کودے اور سب کو یاد دلایا کہ بابر اعظم کون ہیں اور سٹار کیسے بنے۔

اس بحث میں کس نے کیا کہا، یہ جاننے سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ آفتاب اقبال نے کیا کہا۔

اپنے شو میں آفتاب اقبال نے کہا کہ ’بابر اعظم اب سٹار نہیں رہا۔ کم از کم میرے لیے تو وہ سٹار نہیں۔ اس لیے نہیں کہ اس نے کیچز ڈراپ کیے۔۔۔ اس لیے نہیں کہ وہ سکور نہیں کر رہا۔۔۔ اس کے ایگو (انا) کے مسائل ہیں۔‘

’وہ کڑ (جلن) رکھنے لگ گیا ہے کھلاڑیوں کے ساتھ۔ یہ کیا بات ہوئی۔ تم اپنے آپ کو بھول رہے ہوں، کہاں سے شروع کیا تم نے اور اللہ نے اتنی جلدی تمھیں وہ مقام عطا کیا۔ تمھیں تو چاہیے تھا تم اتنا ہی زمین میں دھنس جاتے۔ تم ایگو کے معاملات لے کر چل رہے ہو۔ بڑے ہی افسوس کی بات ہے۔ شرم کی بات ہے۔‘

بابر اعظم

یہ ایک انفرادی رائے کا اظہار تھا تاہم بابر اعظم کے فین کافی سیخ پا نظر آئے جن کا ماننا تھا کہ ایک ایسے کپتان پر، جن کا شمار دنیائے کرکٹ کے بہترین بلے بازوں میں کیا جاتا ہے، ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سے چند ہی دن قبل بے جا تنقید نہیں ہونی چاہیے تھی۔

مریم شیخ نے لکھا کہ ’سمجھ نہیں آتی کہ کچھ لوگ بابر سے اتنا جلتے کیوں ہیں؟ سب جانتے ہیں کہ وہ ایک سٹار ہیں، پوری دنیا ان سے محبت کرتی ہے۔‘

https://twitter.com/mariaaaa1011/status/1579219846801526784

محمد ہارون ایک قدم اور آگے بڑھے اور لکھا کہ ’پاکستان کرکٹ بورڈ کو کوئی پیمانہ طے کرنا چاہیے کہ ہمارے بین الاقوامی کھلاڑیوں کی عزت کو کیسے یقینی بنایا جائے۔‘

https://twitter.com/Haroon__3/status/1579217003092774913

چند سوشل میڈیا صارفین نے سابق آسٹریلوی کپتان این چیپل کی تازہ ترین تحریر کا حوالہ بھی دیا جس میں انھوں نے بابر کا شمار دنیا کے بہترین بلے بازوں کے ساتھ کیا اور لکھا کہ بابر ایک مکمل کھلاڑی بن چکے ہیں جن کی گیم تینوں فامیٹس پر فٹ بیٹھتی ہے۔

چند نے انڈین کھلاڑی وراٹ کوہلی کی وہ گفتگو یاد دلائی جس میں انھوں نے بابر اعظم کی منکسر المزاجی کی تعریف کی تھی تو کچھ نے سوال اٹھایا کہ ایک ایسے کھلاڑی کی انا کی بات کیسے کی جا سکتی ہے جس نے ٹیم کے اراکین کو کبھی کپتان بن کر دکھایا ہی نہیں بلکہ دوستوں جیسا ماحول بنا کر رکھا۔

یہ بھی پڑھیے

بابر اعظم کا کور ڈرائیو نویں جماعت کے نصاب میں شامل

بابر اعظم کے پیغام پر کوہلی کی دعائیں

بابر اعظم ریکارڈز کی بلندیوں پر کیسے پہنچے

اس تمام تر تنقید کے ساتھ چند آوازیں ایسی بھی تھیں جنھوں نے آفتاب اقبال کی ہاں میں ہاں ملائی۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ بلکل غلط بات نہیں، بابر اعظم کے کچھ مسائل ہیں۔ وہ میرٹ کے برخلاف اپنے چند دوستوں کو ناکام ہونے کے باوجود ترجیح دیتے ہیں۔‘

https://twitter.com/Rolllin_Stone/status/1579234579457921025

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp