ہیر آکھدی – ہیر وارث شاہ کا قصہ

ہیر آکھدی جوگیا جھوٹھ آکھیں ’کون رٹھڑے یار ملانودا ای۔
(ترجمہ: ہیر جوگی کو کہتی ہے کہ تم جھوٹ بولتے ہو ’ناراض ہوئے دوستوں کو بھلا کون ملاتا ہے )
یہ وہ یک سطری بیت ہے جو ہیر اور پھر ہیر کو کھوجتے کھوجتے پیر وارث شاہ سے پہلے تعارف کا باعث بنا۔ پنجاب کے دیہی علاقوں کی مقامی گاڑیوں پہ ’ریڈیو پہ یا اکثر کسی پروگرام میں یہ سننے کو مل جاتا تھا۔ لیکن کبھی بات اس سے آگے نہ بڑھ سکی۔ کیونکہ دونوں کے بارے ہی معلومات کم تھیں۔ پیر وارث شاہ سے دوسرا تعارف امرتا پریتم نے کچھ ایسے کروایا کہ
اج آکھاں وارث شاہ نوں ’کتھوں قبراں وچوں بول
تے اج کتاب عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول
(ترجمہ: آج وارث شاہ کو پھر سے کہہ رہی ہوں کہ کہیں قبروں سے بولو ’آج اسی کتاب عشق کا کوئی نیا صفحہ نکالو)
امرتا پریتم کی ہوک ہی دراصل ہیر اور اس کی داستاں تک پہنچنے کا محرک بنی۔ شیخوپورہ میں قیام کے دوران وارث شاہ کے مزار پہ جانے کی تانگ لگی رہی لیکن کبھی کوئی موقع نہ بن سکا۔ کبھی کام کی مصروفیت آڑے آتی رہی تو کبھی وسائل کی کمی۔ گرمیوں کے دنوں میں چھٹی والے دن کچھ فرصت ملی تو فوراً ادھر کی راہ پکڑی کہ کہیں پھر سے غم دنیا کے دام فریب میں نہ آ جائیں۔
شیخوپورہ کے مضافات میں جنڈیالہ شیر خان نامی قصبے کی طرف جانے والی سانپ کی طرح بل کھاتی سڑک پنجاب کی تہذیب اور ثقافت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پنجاب کی لہلہاتی فصلوں کی بات ہو ’ٹالی (شیشم) کے نیچے بچھی منجھیوں (چارپائیوں ) کا ذکر ہو‘ گھاگر اٹھائے چلتی الہڑ مٹیاروں کی کہانیاں ہوں یا کھیتوں میں اپنے کام کاج میں جتے سادے کسان ہوں ’یہ سب مناظر اسی سڑک کے دونوں اطراف دیکھنے کو عام مل جاتے ہیں۔ یوں گمان گزرا جیسے کسی اہم بات سے قبل تمہید باندھی جاتی ہے‘ ویسے ہی اس مزار تک پہنچنے سے پہلے اس راہ سے گزارنے میں بھی یہی رمز ہے ’ایسی خوش رنگ اور بسی بسائی دنیا کا انت کیسا ہی زبردست ہے اور آغاز سے انجام تک کے درمیانی وقفے کی ماہیت اور اس کی ضرورت کو سمجھنا ہی اصل موضوع داستاں ہے۔
دوپہر ابھی سہ پہر میں ڈھل رہی تھی جب جنڈیالہ شیر خان میں قدم رکھا۔ قصبے میں داخل ہوتے ہی پیر وارث شاہ کا ایک اور بیت کانوں میں گونجا:
وارث شاہ وسنیک جنڈیالڑے دا، شاگرد مخدوم قصور دا اے
(ترجمہ: وارث شاہ جنڈیالے کا رہنے والا ہے اور قصور والے مخدوم کا شاگرد ہے )
پوچھتے پوچھتے منزل پہ پہنچ گئے۔ چھوٹے سے داخلی دروازے سے ایک بڑی سے مستطیل نما چاردیواری میں داخل ہوئے اور بارہ دری کے جیسی بنی ہوئی وہ عمارت نظر آئی جہاں جنڈیالے کے وسینک پیر وارث شاہ کی آخری آرام گاہ ہے۔
حال احوال کیا ’سیس نوائی اور رب کے حضور دعا کی کہ اس ہیر کا کچھ بھید کھول دے کیونکہ اس جگہ سے بہتر اس بات کا راز کہیں اور نہیں مل سکے گا۔ کبھی کبھی کہی یا مانگی بات اس قدر جلد پوری ہو جاتی ہے کہ یوں لگتا کہ بخشنے والا منتظر تھا کہ ادھر مانگنے کے لئے الفاظ ادا ہوں اور ادھر گرہ کھول دی جائے۔ واپسی پہ بیرونی دیوار کے ساتھ کتب فروش کا ایک ٹھیلا نظر آیا۔ حسب عادت کچھ کتابیں دیکھیں اور ان میں ایک خرید لی۔ دینے والے نے اس عقیدت سے پیش کی کہ خود بھی اسی عقیدت سے کتاب وصول کرنی پڑی۔
شام ڈھلے اپنے مسکن پہنچے تو وہی دنیاداری کے کام منہ کھولے منتظر تھے اور چند گھنٹے قبل بیتنے والی داستاں سب ہوا ہو گئی۔ کتاب کا محض ابتدائیہ ہی پڑھا اور پھر اسے کسی اور فارغ دن پڑھنے پہ اٹھا رکھا۔ زیادہ دن نہ ہوئے کہ ایف ایم ریڈیو پہ آواز گونجی:
ہوٹھ سرخ یاقوت جیوں لعل چمکن، ٹھوڈی سیؤ ولائتی سار وچوں
نک الف حسینی دا پیپلا سی، زلف ناگ خزانے دی بار وچوں
دند چمبے دی لڑی کہ ہنس موتی، دانے نکلے حسن انار وچوں
لکھی چین کشمیر تصویر جٹی، قد سرو بہشت گلزار وچوں
ترجمہ: اس کے ہونٹ سرخ یاقوت کی طرح چمکتے ہوئے لعل ہیں۔ اس کی تھوڑی ولائتی سیبوں سے منتخب اک سیب ہے۔ اس کی زلفیں خزانے پہ بیٹھے ناگ جیسی ہیں۔ موتیوں کی مانند چمپا کے پھولوں کی لڑی جیسے پروئے ہوئے ’چینیوں کشمیریوں کی تصویر جیسی‘ جنت کے سرو جیسا قد
اس بیان کردہ تعریف نے پھر سے کتاب کی یاد دلائی تو ٹوٹا ہوا ربط وہیں سے جوڑا۔ پوری کتاب کا حاصل یہ نکلا کہ نہایت خوبصورتی اور منفرد انداز سے پیر وارث شاہ نے دنیاوی استعارے استعمال کرتے ہوئے رمز کی بات یوں بیان کی ہے کہ دنیا دار مجاز کا مزہ ڈھونڈ لیتے ہیں اور حقیقت کے سرگرداں کسی اور کھوج کو پا لیتے ہیں۔
خود ہی فرماتے ہیں کہ:
ہیر روح تے چاک قلبوت جانو ’بالناتھ ایہہ پیر بنایا ای
پنج پیر حواس ایہہ پنج تیرے ’جنہاں تھاپنا تدھ نوں لایا ای
قاضی حق جھبیل نے عمل تیرے ’عیال منکر نکیر ٹھہرایا ای
کوٹھا گور عزرائیل ہے ایہہ کھیڑا ’جہڑا لیندو ہی روح نوں دھایا ای
قیدو لنگا شیطان ملعون جانو ’جس نے وچ دیوان پھڑایا ای
سئیاں ہیر دیاں رن گھر بار تیرا ’جنہاں نال پیوند بنایا ای
وانگ ہیر دے بنھ لے جان تینوں ’کسے نال نہ ساتھ لدایا ای
جہڑا بولدا ناطقہ ونجھلی ہے ’جس ہوش دا راگ سنایا ای
سہتی موت تے جسم ہے یار رانجھا ’ایہناں دوہاں نے بھیڑ مچایا ای
شہوت بھابی تے بھکھ ربیل باندی ’جنہاں جنتوں مار کڈھایا ای
جوگی ہے عورت کن پاڑ جس نے ’سبھ انگ بھبوت رمایا ای
دنیاں جان ایویں جویں جھنگ پیکے ’گور کالڑا باغ بنایا ای
ترنجن ایہہ بد عملیاں تیریاں نے ’کڈھ قبر تھیں دوزخے پایا ای
اوہ مسیت ہے مانؤں دا شکم بندے ’جس وچ شب روز لنگھایا ای
عدلی راجا ایہہ نیک نیں عمل تیرے ’جس ہیر ایمان دوایا ای
وارث شاہ میاں بیڑی پار تنھاں ’کلمہ پاک زبان تے آیا ای
ترجمہ: ہیر کو روح اور چاک (نوکر) کو جسم سمجھا جائے۔ بالناتھ وہ خالق ہے جس نے یہ پیر بنایا ہے۔ پانچوں پیر ’تمہارے پانچوں حواس ہیں۔ قاضی حق کی علامت اور ملاح تمہارے اعمال ہیں جبکہ عیال تمہارے کندھوں پر سوار منر اور نکیر ہیں۔ کوٹھا‘ قبر اور کھیڑا عزرائیل ہے جو روح کو لیتے ہی چلتا بنا تھا۔ کیدو لنگڑا شیطان ملعون سمجھو جس نے بھری محفل میں پکڑوا دیا۔
ہیر کی سہیلیاں دراصل تمہارا گھر بار اور اہل و عیال ہیں جن کا تمہارے ساتھ پیوند لگایا گیا ہے۔
تمہیں ہیر کی طرح زبردستی باندھ کر لے جائیں گے اور کوئی تمہارا ساتھ نہیں نبھائے گا۔ اور یہ جو تمہارے اندر بول رہا ہے وہ بانسری ہے جس نے تمہیں ہوش کا راگ سنایا تھا۔ سہتی موت اور جسم رانجھا ہے جن کی وجہ سے یہ سب ہنگامہ برپا ہے۔
بھابھی شہوت اور بھوک رابیل باندی ہے جنہوں نے آدم کو جنت سے نکلوایا ’جوگی عورت کی علامت ہے جس نے کان پھڑوا کر تمہارے وجود کو خاک میں ملا دیا ہے۔ اس دنیا کو مائیکہ کی طرح جان اور کالے باغ کو قبر سمجھو۔ ترنجن تمہارے وہ برے اعمال ہیں جو تمہیں قبر سے سیدھے دوزخ میں پہنچائیں گے۔ ماں کا شکم وہ مسجد ہے جس میں تو دن رات گزارتا ہے۔ عدلی راجہ تیرے وہ نیک اعمال ہیں جنہوں نے ہیر کے روپ میں تجھے ایمان سے سرفراز کیا۔ وارث شاہ کلمہ توحید ہی کے باعث کشتی کنارے لگے گی۔
جب ”ہیر رانجھا“ کے قصہ کے متعلق وارث شاہ کے استاد محترم حضرت غلام مرتضٰی کو علم ہوا تو انہوں نے اس واقعے پر ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا: ”وارث شاہ ’بلھے شاہ نے علم حاصل کرنے کے بعد سارنگی بجائی اور تم نے ہیر لکھ ڈالی۔“ آپ نے کوئی جواب نہ دیا تو مولانا نے اپنے شاگردوں کو کہہ کر آپ کو ایک حجرے میں بند کروا دیا۔ دوسرے دن آپ کو باہر نکلوایا اور کتاب پڑھنے کا حکم دیا آپ نے پڑھنا شروع کیا تو مولانا صاحب کی حالت دیکھنے کے قابل تھی۔ سننے کے بعد فرمایا:
”وارثا! تم نے تو تمام جواہرات مونج کی رسی میں پرو دیے ہیں۔“
اس جملے کے بعد کسی اور تعریف کی ضرورت باقی نہیں ’یوں گماں ہوتا ہے کہ اس کے بعد دنیا داروں کا بولا ہوا ہر جملہ محض حملہ ہی تصور ہو گا۔


خوب لکھا ۔ مگر اوپر جو ھیر کے حُسن کی تعریف کی گئی ہے اس کے مذہبی اور روحانی معنی بھی بتا دیں تو کیا ہی اچھا ھو، خصوصاً ـ : دانے نکلے حسن انر وچوں سے کیا مراد ہے؟