ہر دور کی عورت مظلوم ٹھہری
اللہ تعالٰی نے عورت کو نہ صرف اعلی مقام و درجہ عطا کیا بلکہ کئی خوبصورت روپ سے بھی نوازا ہے۔ جس میں سب سے مقدس روپ ماں کا ہے۔ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ اس کائنات میں رنگ ہی عورت کی موجودگی سے ہیں۔ لیکن یہ ہماری فرسودہ سوچ اور نظام ہے جس کی بدولت ہر بار ظلم کا نشانہ ایک عورت ہی بنتی ہے۔
اس بات پر عقل دنگ رہ جاتی ہے اور سوچ کے تمام دروازے بند ہو جاتے ہیں کہ ایک عورت کے بطن سے جنم لینے کے باوجود کیسے اسی عورت کو اپنے پیروں تلے روندنا اپنا فرض اور اولین حق سمجھا جاتا ہے۔
پھر عورت چاہے کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتی ہو ’چاہے عورت کا کوئی بھی روپ ہو‘ پڑھی لکھی ’اچھے اور با اثر خاندان سے ہو یا پھر ان پڑھ جاہل ہو اسے حالات کے چکر میں پستے ہی دیکھا گیا ہے اور اس کے مقدر میں ذلت و رسوائی لکھ دی جاتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا لکھنے والے کون ہیں؟
ہر موقع پر عورت کے حقوق غضب کیے جاتے ہیں چاہے وراثت میں حصہ ہو یا پھر اس کی خواہشات اور بنیادی حقوق ہوں۔ اس کی عزت کی سرعام دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ اپنی ہوس کا نشانہ بنایا جاتا ہے ’زد و کوب کیا جاتا ہے۔ عورت کو کسی کھلونے کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ جب دل چاہے‘ جیسے چاہے کھیل لو پھر جب دل بھر جائے یا غصہ آ جائے تو اس کھلونے پر اپنا غصہ نکال لو ’اس کو مارو‘ پیٹو ’چاہے تو جان سے مار دو کیونکہ وہ تمھاری ملکیت ہے۔ تم اس زمین پر اس کے خدا جو ٹھہرے لہذا جو فیصلہ کرو گے‘ جو مرضی سزا دو گے اس پر تمھارا پورا حق ہے۔
بے چارے ماں باپ جو نازوں سے اپنی بیٹی کو پالتے پوستے ہیں ’تربیت کرتے ہیں‘ پڑھاتے لکھاتے ہیں ’اس کے ناز نخرے اٹھاتے ہیں۔ پھر آخر میں اپنے جگر کا ٹکڑا‘ اپنی زندگی کی پوری کمائی تمھارے حوالے کر دیتے ہیں اب تم مالک ہو اپنے دل کی بھڑاس اس پر نکالنے کا تمھیں پورا حق حاصل ہے۔ عورت کو نوکرانی بنا لو تمھارے پورے خاندان کو ’بچوں کو سنبھالے پھر تمھاری خواہشات پوری کرے اور مار بھی کھائے پھر اف بھی نہ کرے۔
ایک وہ عورت ہے جو پڑھی لکھی نہیں ہے ’بے آسرا و بے یارومددگار ہے اس کی مجبوری ہے کہ وہ ہر تکلیف‘ دکھ طعنے ’مار کٹائی‘ تذلیل سب سہنے پر مجبور ہو جاتی ہے صرف اس لیے کہ اس کا اور اس کے بچوں کا کوئی اور ٹھکانہ نہیں ہوتا۔ وہ لوگوں کے نہ ختم ہونے والے زہر آلود سوالوں کے جواب نہیں دے سکتی۔ کیونکہ قصور تو صرف عورت کا ہی نکلتا ہے۔ پھر کہا جاتا ہے کہ بچوں کی خاطر کڑوا گھونٹ پی لو ورنہ ان کا کیا مستقبل رہ جائے گا۔ بس بچوں کی خاطر سب برداشت کرتی ہے اور اسی میں کئی بار اپنی جان تک گنوا دیتی ہے۔
پھر ایک وہ عورت ہے جو پڑھی لکھی ’با اعتماد اور باشعور ہے‘ اچھے خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور خود مختار بھی ہے لیکن پھر بھی سب سہنے پر مجبور ہے۔ اپنے بچوں کی خاطر یا خاندان کی عزت کی خاطر سب برداشت کرتی ہے۔ لیکن اسے صلہ کیا ملتا ہے؟
تعلیم یافتہ و باشعور اور ناخواندہ عورت میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ دونوں لاچار و مجبور ہیں۔ پڑھی لکھی عورت اگر اپنے حق کے لئے کھڑی ہوتی ہے تو اسے یہ سننے کو ملتا ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے اس لئے گھر نہیں بسا سکی۔ لیکن کوئی بھی اس مردوں کے معاشرے میں اپنے بیٹوں کی بہترین تربیت کرنے کی طرف توجہ نہیں دیتا۔
یہ ہر دور کا المیہ رہا ہے کہ بیٹیوں کے نصیب سے ڈر لگتا ہے کہ نہ جانے کس کے ہتھے چڑھیں اور اس کلی کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے۔ آج کل تو پڑھے لکھے گھرانوں کے بچے بھی بگڑے ہوئے ہیں جن سے کوئی بعید نہیں کہ وہ کب اور کیا کر گزریں۔
دماغی مریض ’بے کار‘ آوارہ لڑکوں کا واحد علاج یا حل یہ ڈھونڈا جاتا ہے کہ شادی کروا دو آنے والی خود ٹھیک کر لے گی۔ یہ نہیں سوچتے کہ اس آنے والی پر کیا گزرے گی۔ بے شک اس چکر میں وہ بے چاری اپنی جان دھو بیٹھے۔ لیکن اس کی کسی کو پرواہ نہیں ہوتی کیونکہ آنے والی اپنی بیٹی نہیں ہوتی۔
کم آمدنی اور کم آسائشوں میں گزارا ممکن ہے لیکن شکی ’اوباش اور دماغی بیمار شخص کے ساتھ زندگی گزارنا ناممکن بن جاتا ہے۔
دل خون کے آنسو روتا ہے جب آئے دن ایسے واقعات سننے اور دیکھنے میں آتے ہیں جہاں عورت پر ظلم ہوتا ہے اور اس کی انتہا یہ کہ اسے اس قدر بے دردی سے قتل کر دیا جاتا ہے۔ کیا کوئی بھی انسان اس طرح کی موت کا حقدار ہے؟
ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ اگر با اثر اور پڑھے لکھے خاندانوں کی بیٹیاں اس طرح تشدد کا نشانہ بنتی ہیں تو بے بس و مجبور اور بے سہارا بیٹیوں پر کیا گزرتی ہو گی۔ یہ تو چند واقعات ہیں جو ہماری نظر سے گزرتے ہیں نہ جانے اور کتنی بیٹیاں اس طرح کے ظلم سہتی ہیں جن کی آواز تک سنائی نہیں دیتی۔
آخر عورت کب مضبوط ہو گی؟ میں لبرل ویمن مارچ والی خواتین کے ساتھ نہیں نہ میں ایسی کوئی آزادی چاہتی ہوں۔ لیکن میں چاہتی ہوں کہ عورت کو عزت و مقام ملے۔ وہ احترام ملے جس کی وہ حقدار ہے۔ ایسے شوہر کا ساتھ ملے جو ہر قدم پر اس کے ساتھ کھڑا ہو۔ اس کی خواہشات کا احترام کرے صرف اپنا نہیں اس کے مستقبل اور خوابوں کو بھی اہمیت دے۔ عورت کم از کم اپنے گھر کی چار دیواری میں تو محفوظ ہو۔ مرد اور عورت قوس قزح کے وہ خوبصورت رنگ ہیں جن کے بغیر زندگی کے تمام رنگ پھیکے ہیں۔ پھر ایک دوسرے کو احترام و عزت دے کر اس زندگی کو مزید خوبصورت بنانے میں کیا حرج ہے۔
مزید یہ کی ہماری حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ ایسے واقعات کے ملزمان کو کسی اونچ نیچ کے فرق کے بغیر قرار واقعی سزا دیں تاکہ کسی کی ہمت نہ ہو کہ وہ عورت کی تذلیل کرے یا اس کا بے رحمانہ قتل کرنے کا سوچ بھی سکے۔ عزت پر ہاتھ ڈالنے والوں کو سرعام پھانسی دی جائے تاکہ ہماری بیٹیاں محفوظ ہو سکیں۔ والدین اپنی بیٹیوں کی تربیت اس طرز پر کریں کہ اگر کوئی ان پر بری نظر ڈالے تو آنکھیں نکال کر ان کے ہاتھ پر رکھ دیں۔ اگر کوئی ایک تھپڑ مارے تو وہ اسے دو تھپڑ لگا سکیں۔ انہیں رونے دھونے والی نہیں بلکہ مضبوط اعصاب کی بنائیں۔
مائیں اپنے بیٹوں کی اس طرح تربیت کریں کہ وہ کسی عورت کو میلی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ عزت و احترام دیں۔ معاشرہ ہم سے بنتا ہے۔ یہ ہماری سوچ پر منحصر ہے کہ ہم کیسے اپنے لئے بہتر اور محفوظ ماحول بناتے ہیں۔ ایسی جگہ جہاں ساری بیٹیاں سانجھی ہوں ان کی عزت اچھالنے کی بجائے ان کو تحفظ کی چادر اوڑھی جائے۔ ہمارے عمل سے ہی ہماری تربیت ظاہر ہوتی ہے۔ کچھ بھی سوچنے اور کرنے سے پہلے یہ سوچ لیں کہ اللہ تعالٰی ہمیں دیکھ رہا ہے تو کوئی بھی کسی بھی قسم کے گناہ کا مرتکب ہو ہی نہیں سکتا۔
سوشل و ڈیجیٹل اور الیکٹرانک میڈیا اپنا کردار ادا کریں اور ایسے ڈرامے بنائیں جس میں عورت کی قدر کرنا اور احترام دینا سکھایا جائے۔ لوگوں کی تربیت کی جائے اور ان کو بتایا جائے کہ عزت دینے سے عزت ملتی ہے۔ بہترین زندگی گزارنے کے طور طریقے سکھائے جائیں تاکہ ہم بہترین معاشرہ بنا سکیں جس کے باسی خوش ’مطمئن اور محفوظ ہوں۔
۔


